Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
175 - 185
اقول: المناظرۃ فی دقائقہ لایزید علی بدعۃ اوفسق وعلی کل یفید عدم الجواز خلف المبتدع کمالیس بخاف۔
  اقول(میں کہتا ہوں) علم کلام کے دقائق مناظرہ زیادہ سے زیادہ بدعت یا فسق کا سبب ہے اور ہر صورت میں یہ واضح کررہا ہے کہ بدعتی کے پیچھے نماز جائز نہیں، جیسا کہ مخفی نہیں(ت)
غیاث المفتی پھر مفتاح السعادۃ پھر شرح فقہ اکبر میں امام ثانی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے ہے:
لاتجوز خلف المبتدع ۴؎
 (بدعتی کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ت)
 (۴؎ شرح الفقہ الاکبر لملّا علی قاری   فصل علم التوحید علٰی سائر العلوم  مطبوعہ مصطفی البابی مصر   ص ۵)
اقول: وباﷲ التوفیق
جواز کبھی بمعنی صحت مستعمل ہوتا ہے
تقول البیع عند اذان الجمعۃ یجوز ویکرہ ای یصح ویمنع
 (جیسے تو کہے جمعہ کی اذان کے وقت خرید وفروخت جائز اور مکروہ ہے یعنی صحیح مگر منع ہے۔ت) اور گاہے
بمعنی حلّت لا تجوز الصلاۃ فی الارض المغصوبۃ ای لاتحل وان صحت
 ( جیسے کہ ارض مغصوبہ میں نماز جائز نہیں یعنی حلال نہیں اگر چہ صحیح ہے۔ت) اگر یہاں معنی اخیر مراد لیں لاسیما جبکہ افعال میں اکثر وہی ہے
کما ان الاکثر فی العقود الاول کما صرح بہ فی ردالمحتار وغیرہ
 ( جیسا کہ عقود میں اول معنی اکثر ہے ردالمحتار وغیرہ میں اس پر تصر یح ہے ۔ت) تو یہ روایات بھی سابق کے منافی نہ ہوں گی کہ مکروہ تحریمی بھی بایں معنی ناجائز ہے،
ومعلوم ان ابداء الوفاق اولی ابقاء الخلاف ولذا صرحوا بانہ یوفق بین الروایات مھما امکن کما فی الشامیۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
یہ بات مسلمہ ہے کہ اتفاق کااظہار اختلاف کو باقی رکھنے سے اولی ہے اسی لئے علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو روایات کے درمیان موافقت پیدا کی جائے جیسا کہ فتاوٰی شامی میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
دلیل دوم
غیر مقلد بد مذہبی کے علاوہ فاسق معلن بیباک مجاہر بھی ہیں اور فاسق متہتک کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ،
کما اثبتناہ فی تحریرنا ذلک اقول و بہ یحصل التوفیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق
 ( جیسا کہ ہم نے اپنی تحریر میں اسے ثابت کیا ہے اقول ( میں کہتا ہوں ) اﷲ تعالٰی سے توفیق حاصل ہوجاتی ہے اور اﷲ تعالٰی ہی توفیق کا مالک ہے ۔ت) دلیل اول میں اس مسئلے پر بعض کلام اور صغیری وطحطاوی کا نص گزرا اور اس طرف امام علامہ زیلعی نے تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق اور علامہ حسن شرنبلالی نے شرح نور الایضاح اور علامہ سید احمد مصری نے حاشیہ مراقی الفلاح میں ارشاد فرمایا اور یہی فتاوٰی حجہ کا مفاد اور تعلیل مشائخ کرام سے مستفاد یہاں تک کہ علمانے تصریح فرمائی اگر غلام یا گنوار یا حرامی یا اندھا علم میں افضل ہوں تو انھیں کو امام کیا چاہئے مگر فاسق اگر چہ سب سے زیادہ علم والاہو امام نہ کیا جائے کہ امامت میں اس کی عظمت اور وہ شرعاً مستحق اہانت ، ملخص امداد الفتاح میں ہے:
کرہ امامۃ الفاسق العالم لعدم اھتمامہ بالدین فتجب اھانتہ شرعا فلا یعظم بتقدیمہ للامامۃ واذاتعذر منعہ ینتقل عنہ الی غیر مسجدہ للجمعۃ وغیرھا ۱؎۔
فاسق عالم کی امامت مکروہ ہے کیونکہ وہ دین کا احترام نہیں کرتا تو شرعاً اس کی اہانت لازم ہے لہذا امامت کا منصب دے کر اس کی تعظیم نہ کی جائے اور اگر اس کو روکنا دشوار ہو تو جمعہ اور دیگر نمازوں کے لئے کسی دوسری مسجد چلاجانا چاہئے (ت)
 (۱؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی     فصل فی بیان الاحق بالا مامۃ     مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی        ص ۱۶۵)
سیدی احمد مصری اس کے حاشیہ میں فرماتے ہیں:
قولہ فتجب اھانتہ شرعا فلا یعظم بتقدیمہ للامامۃ تبع فیہ الزیلعی ومفادہ کون الکراھۃ فی الفساق تحریمیۃ ۱؎۔
اس کا قول ''پس اس کی اہانت واجب ہے تو امامت کا منصب دے کر اس کی تعظیم نہ کی جائے'' زیلعی نے اسی کی اتباع کی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فاسق کی تقدیم (امامت) مکروہ تحریمی ہے (ت)
 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح    فصل فی بیان الاحق بالامامۃ ،   مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی، ص ۱۶۵)
اور حاشیہ شرح علائی میں فرماتے ہیں:
اما الفاسق الا علم فلا یقدم لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقدوجب علیہم اھانتہ شرعا ومفاد ھذا کراھۃ التحریم فی تقدیمہ اھ ابوالسعود۲؎ انتھی
فاسق بڑے عالم کو مقدم نہ کیا جائے کیونکہ اس کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعاً لوگوں پر اس کی اہانت لازم ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ تعظیم فاسق مکروہ تحریمی ہے اھ ابو السعود انتہی (ت)
 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    باب الامامۃ             مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت            ۱/ ۲۴۳)
علامہ محقق حلبی غنیـہ میں فرماتے ہیں:
العالم اولٰی بالتقدیم اذکان یجتنب الفواحش وان کان غیرہ اورع منہ ذکرہ فی المحیط ولواستویا فی العلم والصلاح واحدھما اقرأ فقدموا الآخر اساءوا  ولایأثمون فالا ساءۃ لترک السنۃ وعدم الاثم لعدم ترک الواجب لا نھم قدموارجلا صالحا کذافی فتاوی الحجہ وفیہ اشارۃ الی انھم لوقدموا فاسقا یأثمون بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائۃ بامور دینہ وتساھلہ فی الاتیان بلوازمہ فلایبعدمنہ الاخلال ببعض شروط الصلاۃ وفعل ماینا فیھا بل ھوالغالب بالنظر الی فسقہ ولذالم تجزالصلاۃ خلفہ اصلاعند مالک و روایۃ عن احمد۱؎ الخ
عالم تقدیم ( امامت ) کے لئے بہتر اس وقت ہے جو وہ فاحش گناہوں سے بچنے والا ہو اگر چہ وہاں اس سے زیادہ کوئی صاحب تقوٰی موجود ہو، اس کا ذکر محیط میں ہے اور اگر دونوں علم وصلاح میں برابر ہوں مگر ایک اچھا قاری ہے اس صورت میں اگرلوگوں نے دوسرے کو مقدم کردیا تو برا کیا مگر گناہ گار نہ ہوں گے کہ ا ساءت ترک سنت کی وجہ سے اور عدم گناہ واجب کو ترک نہ کرنے کی وجہ سے ہے کیونکہ انھوں نے صالح شخص کو ہی امام بنایا ہے ، فتاوی حجہ میں اسی طرح ہے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر انھوں نے کسی فاسق کو مقدم کردیا تو گنہگار ہونگےاس بنا پر کہ اس کی تقدیم (امامت) مکروہ تحریمی ہے کیونکہ وہ امور دینی کی پروا نہیں کرتا اور لوازمات دین کو بجالانے میں کاہلی کرتا ہے لہٰذا یہ بھی بعید نہیں کہ وہ نماز کی کوئی شرط ہی چھوڑدے یا ایسا فعل کرے جو نماز کے منافی ہو بلکہ اس کے فسق کے پیش نظر ایسا کرنا اغلب ہے اسی وجہ سے امام مالک کے نزدیک اس کے پیچھے نماز جائز ہی نہیں، امام احمد بن حنبل سے بھی ایک روایت یہی ہے (ت)
 (۱؎ غیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی الامامۃ الخ           مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور         ص ۵۱۳)
رہا یہ کہ غیر مقلد فساق مجاہر کیونکہ ہیں یہ خود واضح وہین کون  نہیں جانتا کہ ان کے اصاغرعموماً دواماً ائمہ شریعت وعلمائے ملت واولیائے امت رحمہم اﷲ تعالٰی کی طعن وتوہین میں گزار تے ہیں اور عام مسلمین کی سب وشتم تو ان کا وظیفہ ہر ساعت ہے جس نے جانا اس نے جانا اور جس نے نہ جانا وہ اب ان کے رسائل دیکھے ، باتیں سنے خصوصاً اس وقت کے لچھے خدانہ سنوائے ۔ جب کہ باہم تنہا ہوتے ہیں اور اذاخلوا کا وقت پاکر آپس میں کھلتے ہیں یا بعض اہل حق نے جو اپنی تصانیف میں ان کے کلمات ان کی توالیف سے نقل کئے وہی دیکھے فقیر غفر اﷲ تعالٰی لہ ان ہفوات مغضوبہ کا زبان وقلم پرلانا پسند نہیں کرتا اور نہ نقل کرلاتا ہے تو ان میں فسق اول سب دشنام اہل اسلام ہے حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حدیث مشہور میں فرماتے ہیں:
سباب المسلم فسوق ۲؎۔ اخرجہ احمد و البخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ والحاکم عن ابن مسعود والطبرانی فی الکبیر عنہ وعن عبداﷲ بن مغفل وعن عمر و بن النعمان بن مقرن وابن ماجۃ وعن ابی ھریرۃ وعن سعد بن ابی وقاص والدارقطنی فی الافراد عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔
مسلمان کو سب وشتم کرنا فسق ہے ۔ اسے امام احمد بخاری، مسلم ،ترمذی ،نسائی ،ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے طبرانی نے کبیر میں ان سے اور حضرت عبداﷲ بن مغفل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور حضرت عمرو بن نعمان بن مقرن سے ابن ماجہ نے حضرت ا بوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور حضرت سعد بن ا بی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے دار قطنی نے افراد میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین سے روایت کیا ہے (ت)
 (۲؎ صحیح البخاری کتاب الادب باب ما ینھی عن السباب واللعن   مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۷۹۳)

(صحیح مسلم،باب بیان قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سباب المسلم فسوق الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی، ۱/ ۵۷)

 (  مسند احمد بن حنبل از مسند عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ  مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۱/ ۳۸۵،۴۱۱،۴۳۳)

( المعجم الکبیر            مروی از عمروبن نعمان بن مقرن             مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت        ۱۷/ ۳۹)
Flag Counter