Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
174 - 185
بلکہ ابن شاہین نے کتاب الافراد میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تقربواالی اﷲ ببغض اھل المعاصی ولقوھم بوجوہ مکفھرۃ والتمسوا رضا اﷲ بسخطھم وتقربواالی اﷲ بالتباعد منھم۳؎۔
اﷲ کی طرف تقرب کرو فاسقوں کے بغض سے اور اُن سے تُرش رُو ہوکر ملو اور اﷲ کی رضامندی اُن کی خفگی میں ڈھونڈو اور اﷲ کی نزدیکی اُ ن کی دُوری سے چاہو۔
 (۳؎ الفردوس بماثور الخطاب     حدیث ۱۳۲۰ باب التاء        مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۲/ ۵۶   )

( کنز العمال         حدیث ۵۵۱۸  و  ۵۵۸۵      بحوالہ ابن شاہین       مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت        ۳/ ۶۷-۸۱)
جب فساق کی نسبت یہ احکام ہیں تو مبتدعین کا کیا پُوچھنا ہے کہ یہ تو فساق سے ہزاردرجہ بدتر ہیں اُن کی نافرمانی فروع میں ہے انکی اصول میں وہ گناہ کرتے اور اُسے برا جانتے ہیں یہ اس اشدواعظم میں مبتلا ہیں اوراُسے عین حق وہُدٰی جانتے ہیں،وہ گاہ گاہ نادم ومستغفر ،یہ گاہ وبےگاہ مصر ومستکبر ،وہ جب اپنے دل کی طرف رجوع لاتے ہیں اپنے آپ کو حقیر وبدکار اورصلحا کو عزیز ومقرب دربار بتاتے ہیں،یہ جتنا غلو وتوغل بڑھاتے ہیں اُتنا ہی اپنے نفس مغرور کو اعلٰی وبالا اور اہل حق و ہدایت کو ذلیل وپُرخطا ٹھہراتے ہیں ولہذا حدیث میں ان کی نسبت بدترین خلق وارد ہواکمار وینا(جیسا کہ اس سے متعلق روایت میں ذکر کر آئے ہیں۔ت) اور غنیـہ شرح منیہ میں ہے:
المبتدع نفاسق من حیث الاعتقاد وھواشد من الفسق من حیث العمل لان الفاسق من حیث العمل یعترف بانہ فاسق ویخاف ویستغفر بخلاف المبتدع ۱؎۔
بدعتی ، اعتقاد کے لحاظ سے فاسق ہوتا ہے جو عمل کے اعتبار سے فسق سے کہیں بد تر ہے کیونکہ فاسق اپنے فاسق ہونے کا معترف ہوتا ہے اوراﷲ تعالٰی سے ڈرتا اور معافی مانگتا ہے بخلاف بدعتی کے(ت)
 (۱؎ غنیۃالمستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الامامۃ        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۵۱۴)
بالجملہ بد مذہبی فی نفسہٖ ایسی ہی چیز ہے جسے امامت دینی سے مباینت یقینی ہے اور اُسکے بعد منع پر دوسری دلیل کی چنداں حاجت نہیں ،کس کا دل گوارا کرے گا کہ جہنم کے کتّوں سے ایک کتّا مناجاتِ الہٰی میں اس کا مقتداء ہو۔علامہ یوسف چلپی ذخیرہ العقبٰی فی شرح صدر الشریعۃ العظمٰی میں فرماتے ہیں:
بدعۃ المبتدع یفضی الٰی عدم الاقتداء بہ سیمافی اھم امور الدین ۲؎۔
بدعتی کی بدعت اسکی عدم اقتدا کاتقاضا کرتی ہے خصوصاً اہم امورِ دین میں (یعنی نماز میں)۔(ت)
ردالمحتار میں ہے :
المبتدع تکرہ امامتہ بکل حال۳؎۔
بدعتی کی امامت ہر حال میں مکروہ ہے(ت)
 (۲؎ ذخیرہ العقبٰی  ،    فصل فی الجماعۃ         مطبوعہ مطبع اسلامیہ لاہور        ۱/ ۲۹۸)

 (۳؎ ردالمحتار            باب الامامۃ       مطبوعہ مصطفٰی البابی مصر         ۱/ ۴۱۴)
علامہ ابراہیم حلبی نے تصریح فرمائی کہ فاسق ومبتدع دونوں کی امامت مکروہ تحریمی ہے اور امام مالک کے مذہب اور امام احمد کی  ایک روایت میں اُن کے پیچھے نماز اصلاً ہوتی  ہی نہیں جیسے کسی کافر کے  پیچھے ۔ شرح صغیر منیہ میں فرمایا:
یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم وعند مالک لا یجوز تقدیمہ وھو روایۃ عن احمد وکذا المبتدع ۴؎۔
فاسق کی تقدیم (امامت) مکروہ تحریمی ہے اور امام مالک کے نزدیک اس کی تقدیم (امامت) جائز نہیں اورامام احمد سے بھی ایک روایت یہی ہے اور یہی حال بدعتی کا ہے۔(ت)
 (۴؎ صغیری شرح منیۃ المصلی        مباحث الامامۃ      مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ص ۲۶۴)
علامہ طحطاوی حاشیہ دُرمختار میں فاسق وبدمذہب کے پیچھے نماز کے باب میں فرماتے ہیں :
الکراھۃ فیہ تحریمیۃ علی ما سبق۱؎
 (اس میں کراہتِ تحریمی ہے جیسا کہ پہلے گزرا ۔ت)
 (۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار    باب الامامۃ             مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۱/ ۲۴۴)
بحرالعلوم عبدالعلی لکھنوی نے ارکانِ اربعہ میں دربارہ تفضیلیہ فرمایا :
اماالشیعۃ الذین یفضلون علیا علی الشیخین ولا یطعنون فیھما اصلا کالزیدیۃ فیجوز خلفھم الصلاۃ لکن تکرہ کراھۃ شدیدۃ ۲؎۔
ایسے شیعہ لوگ جو حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو شیخین پر فضیلت دیتے ہوں اور ان دونوں پر طعن بھی نہ کرتے ہوں مثلاً فرقہ زیدیہ ،تو ان کے پیچھے نماز جائز ہے لیکن شدید کراہت ہے(ت)
 (۲؎ رسائل الارکان        فصل فی الجماعۃ         مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ        ص۹۹)
جب تفضیلیہ کہ صرف جناب مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کو حضرات شیخین پر افضل کہنے سے مخالف اہلسنت ہوئے باقی اُن کی سرکار میں معاذاﷲ گستاخی نہیں کرتے اُن کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہوگی یہ تواشد مبتدعین جن کی اہلسنت سے مخالفتیں غیر محصور اورمحبوبانِ خدا پر طعن و تشنیع اُن کا دائمی دستور ان کے پیچھے کس عظیم درجہ کی کراہت چاہئے ،ہمارے امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے دو۲ شخصوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا اوراس کی وجہ یہی فرمائی کہ یہ بدعتی ہیں:
فی شرح الفقہ الاکبر عن مفتاح السعادۃ عن تلخیص الزاھدی عن الامام ابی یوسف عن الامام ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما انہ قال فی رجلین یتنازعان فی خلق القراٰن لاتصلوا خلفھما، قال ابویوسف فقلت اما الاول فنعم فانہ لایقول بقدم القراٰن واما الاٰخر فما بالہ لایصلی خلفہ فقال انھما ینازعان فی الدین والمنازعۃ فی الدین بدعۃ قال القاری ولعل وجہ ذم الاخر حیث اطلق ، فانہ محدث انزالہ ۳؎ اھ اقول لعل الامام اطلع منہ علی انہ یرید المراء لیخجل صاحبہ لااظہارالحق واﷲ تعالٰی اعلم۔
شرح فقہ اکبر میں مفتاح السعادۃ سے تلخیص زاہدی کے حوالے سے امام ابویوسف سے منقول ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ان دو ۲ اشخاص (جوخلق قرآن کے بارے میں تنازع کرتے تھے) کے بارے میں فرمایا ان کی اقتداء میں نماز ادا نہ کرو۔ ابو یوسف فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ایک کے بارے میں تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن کو قدیم نہیں مانتا،لیکن دوسرے میں کیا وجہ ہے کہ اس کی اقتدا میں نماز نہ ہوگی تو امام صاحب نے فرمایا وہ دونوں دین میں تنازعہ کررہے ہیں حالانکہ دین میں تنازعہ بدعت ہے۔علی قاری نے فرمایا دوسرے کی مذمت میں شاید یہ حکمت ہوکہ اُس نے مطلقاً اسے قدیم کہاحالانکہ اس کا انزال حادث ہے اھ اقول (میں کہتا ہوں) شاید امام صاحب رحمۃ اﷲ علیہ اس کے ارادے سے آگاہ ہوں کہ اس کا مقصد اظہار نہیں بلکہ ریاکاری کے طور پر دوسرے ساتھی کو شرمندہ کرنا ہو واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۳؎ شرح الفقہ الاکبر لملّا علی قاری    فصل علم التوحید علی سائر العلوم    مطبوعہ مصطفی البابی مصر  ص۵)
بلکہ محرر المذہب امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نےحضرت امام اعظم وامام ابو یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ بد مذہب کے پیچھے نماز اصلاً جائز نہیں۔محقق علامہ کمال الدین بن الہمام فتح میں فرماتے ہیں:
روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف ان الصلاۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز ۱؎۔
امام احمدنے امام ابو حنیفہ اور امام ابویوسف دونوں سے روایت کیا کہ بدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں(ت) `
 (۱؎ فتح القدیر                 باب الامامۃ             مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر         ۱/ ۳۰۴)
اسی میں روایت امام ابو یوسف
لایجوز الاقتداء بالمتکلم وان تکلم بحق۲؎
 (کلامی کے پیچھے نماز جائز نہیں اگر چہ وُہ حق کے ساتھ متکلم ہو۔ ت)کی شرح میں امام ابو جعفر ہندوانی سے نقل کیا :
یجوزا ن یکون مراد ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی من یناظر فی دقائق علم الکلام انتھی ۳؎۔
اس سے امام ابو یوسف کی مراد وہ شخص ہے جو علم کلا م کے دقائق میں مناظرہ کرے انتہی۔
 (۲؎فتح القدیر                 باب الامامۃ             مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر         ۱/ ۳۰۴)

(۳؎ فتح القدیر                 باب الامامۃ             مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر         ۱/ ۳۰۴)
Flag Counter