Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
173 - 185
پھر اس میں حدیث بریدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نقل کی کہ حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتقولو اللمنافق یاسیّد فانہ ان یکن سید اقد اسخطتم ربکم عزوجل ۲؎۔رواہ ابوداؤد والنسائی باسناد صحیح۳؎۔
منافق کو 'اے سردار' کہہ کر نہ پکارو کہ اگر وہ تمھارا سردار ہُوا تو بیشک تم نے اپنے رب عزّوجل کو ناراض کیا،اسکو ابو داؤد اورنسائی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
 (۲؎الترغیب والترہیب     الترہیب من قولہ لفاسق الخ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۳/ ۵۷۹)

(۳؎الترغیب والترہیب     الترہیب من قولہ لفاسق الخ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۳/ ۵۷۹)
اور حاکم کے لفظ یہ ہیں:
اذاقال الرجل للمنافق یاسید فقد اغضب ربہ عزوجل ۴؎۔قلت وھکذااخرجہ البیھقی فی شعب الایمان۔
جب کوئی شخص منافق کو سردار کہہ کر پکارے تو بیشک وُہ اپنے رب عزوجل کو غضب میں لایا میں کہتا ہوں اور یونہی اس کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
 (۴؎الترغیب والترہیب    الترہیب من قولہ لفاسق الخ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۳/ ۵۷۹)
سبحٰن اﷲ! جب فاسق وبدعتی کی زبانی تعریف اوراُنھیں صرف محل خطاب میں بلفظ سردار ندا کرنا موجبِ غضب  الہٰی ہوتا ہے تواُسے بحالتِ اختیار حقیقۃً امام وسردار بنانا اور آپ اُس کے تابع و پیرو بننا معاذ اﷲ کیونکر موجبِ غضب نہ ہوگا اور بے شک جوبات باعثِ غضبِ رحمن عزوجل ہو اُس کا ادنٰی درجہ کراہت تحریم ہے۔
ثانیاً ابونعیم حلیہ میں انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضورسید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اھل البدعۃ شرالخلق والخلیقۃ ۱؎۔
بدعتی لوگ تمام جہان سے بدتر ہیں۔
(۱؎ حلیۃ الاولیاء ،   مروی ازابوسعید موصلی ،  مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت    ۸/ ۲۸۹)
بیہقی کی حدیث میں ہےحضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایقبل اﷲ لصاحب بدعۃ صلوۃ ولا صوما ولا صدقۃ ولا حجا ولا عمرۃ ولاجہاد اولاصرفا ولا عدلا یخرج من الاسلام کما تخرج الشعرۃ من العجین۲؎۔
اﷲ کسی بدمذہب کی نماز قبول کرے نہ روزہ نہ زکوٰۃ نہ حج نہ جہاد نہ فرض نہ نفل ، بدمذہب اسلام سے یوں نکل جاتا ہے جیسے آٹے سے بال۔
 (۲؎ کنز العمال            فصل فی البدع        مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت        ۱/ ۲۳۰)

(الترغیب والترہیب         الترہیب من ترک السنۃ الخ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/ ۸۶)

(سنن ابن ماجہ             باب البدع والجدل        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ص۶)
امام دارقطنی وابوحاتم محمد بن عبدالواحد خزاعی اپنے جُزء حدیثی میں ابو امامہ باہلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اصحاب البدع کلاب اھل النار۳؎۔
اہلِ بدعت دوزخیوں کے کتے ہیں۔
 (۳؎ کنز العمال    فصل فی البدع    مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت        ۱/ ۲۱۸)

(الجامع الصغیر مع فیض القدیر      حدیث ۱۰۷۹      مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت     ۱/ ۵۲۸)
اور ان کے سوا بہت حدیثیں بدمذہبوں کی مذمّت شدیدہ میں وارد ہوئیں اور پُر ظاہر کہ نماز مقام مناجات وراز اور تمام اعمال صالحہ میں معزز و ممتاز ہے کیا نظافت ایمانی گواراکرسکتی ہے کہ ایسی جگہ ایسے اشرار کو بلاعذر اپنا پیشوا وسردار کیاجائےجن کے حق میں سگانِ جہنم وارد ہوا عقلِ سلیم تو یہی کہتی ہے کہ اگر اہلِ بدعت وا ہوأ زمانہ حضور اقدس سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں ظاہر ہوتے اُن کے پیچھے نماز سے ممانعت آتی نہ یہ کہ صرف خلافِ اولٰی ہے پڑھ لو تو کچھ مضائقہ نہیں۔
ثالثاًبدعتی مبغوضِ خدا ہے اورمبغوضِ خدا سے نفرت ودُوری واجب ، ولہذا قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
وَاِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُد بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْن ۱؎۔
اور اگر شیطان تجھے بھُلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
 (۱؎ القرآن            ۶/ ۶۸)
اور اسی لئے احادیث میں فرق باطلہ سے قُرب واختلاط کا منع آیا احمدوابوداؤد وحاکم حضرت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتجالسوااھل القدر ولا تفاتحوھم۲؎۔
قدریوں کے پاس نہ بیٹھو نہ اُن سے سلام کلام کی ابتدا کرو ۔
 (۲؎ سنن ابو داؤد        باب ذراری المشرکین        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور        ۲/ ۲۹۳)

(مسند احمد بن حنبل        ازمسند عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ    مطبوعہ دارالفکر بیروت     ۱/ ۳۰)

(المستدرک علی الصحیحین        آخر کتاب الایمان        مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۱/ ۸۵)
عقیلی وابن حبان انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضور سرورِعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ اختارنی واختارلی اصحابا واصھارا وسیاتی قوم یسبونھم وینتقصونہم فلا تجالسوھم  ولاتشاربوھم ولاتؤاکلوھم ولاتناکحوھم۳؎۔
بیشک اﷲ تعالٰی نے مجھے پسند فرمایا اور میرے لئے اصحاب واصہار چُن لئے اور قریب ایک قوم آئے گی کہ انہیں بُراکہے گی اور ان کی شان گھٹائے گی تم اُن کے پاس نہ بیٹھنا نہ ان کے ساتھ پانی پینا نہ کھانا کھانا نہ شادی بیاہ کرنا۔
 (۳؎ کتاب الضعفاء الکبیر   (۱۲۳)    احمد بن عمران الاخنسی        مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت            ۱/ ۱۲۶)
جن ے پاس بیٹھنا خداورسول کو ناپسند ہو جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اُنھیں امام بنانا شرع کیونکر گوارا فرمائےگی
والمکروہ تنزیھا سائغ مشروع یجامع الاباحۃ کمانص علیہ العلماء الکرام وذکرنا تحقیقہ فی رسالتنا'' جُمل مجلّیۃ ان المکروہ تنزیھا لیس بمعصیۃ''۔
مکروہ تنزیہی مشروع اور اباحت کو جامع ہے جیسا کہ علمائے کرام نے اس پرتصریح کی ہے۔اس کی تحقیق ہم نے اپنے رسالہ ــ
''جمل مجلیۃ ان المکـروہ تنزیہاً لیس بمعصیۃ''
میں کی ہے(ت)
بلکہ اس حدیث میں روایت ابن حبان ان لفظوں سے ہے:
فلا تواکلو ھم ولاتشاربو ھم ولاتصلواعلیہم ولاتصلوامعھم۱؎۔
یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا نہ ان کے کھانا کھاؤ نہ پانی پیو نہ اُن کے جنازے کی نماز پڑھو نہ اُن کے ساتھ نماز پڑھو۔
 (۱؎ کنز العمال         الباب الثالث فی ذکر الصحابۃ الخ    حدیث ۳۲۶۲۹    مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت    ۱۱/ ۵۴۰)
ف: صاحب کنز العمال نے''ابن النجار عن انس''کا حوالہ دیا ہے۔
رابعاً ابن ماجہ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایؤم فاجر مؤمنا الاان یقھرہ بسلطان یخاف سیفہ اوسوطہ۲؎۔
ہر گز کوئی فاسق کسی مسلمان کی امامت نہ کرے مگر یہ کہ وہ اُس کوبزور سلطنت مجبور کردے کہ اُس کی تلوار یا کوڑے کا ڈر ہو۔
 (۲؎ سنن ابن ماجہ     باب فرض الجمعۃ                مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور     ص ۷۷)
Flag Counter