Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
172 - 185
الشروع فی الجواب بتوفیق الملک الوہاب
بلا شبہہ غیر مقلد کے پیچھے نماز مکروہ وممنوع ولازم الاحتراز،اُنھیں بااختیار خود امام کرناہر گز کسی سنّی محبِ سنّت وکارہ بدعت کاکام نہیں،اور جہاں وہ امام ہوں اور منع پر قدرت نہ ہو سنّی کو چاہئے دوسری جگہ امام صحیح العقیدہ کی اقتدا کرے حتٰی کہ جمعہ میں بھی جبکہ اور جگہ مل سکے۔امام محقق ابن الہمام فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:
یکرہ فی الجمعۃ اذاتعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد وھوالمفتی بہ لانہ بسبیل من التحول۱؎۔
امام محمد کے مفتی بہ قول کے مطابق جمعہ میں فاسق و بدعتی کی اقتداء مکروہ ہے جبکہ شہر میں جمعہ متعدد مقامات پر قائم ہوتا ہو کیونکہ اس صورت میں دوسرے مقام پر منتقل ہونا ممکن ہے(ت)
 (۱؎ فتح القدیر         باب الامامۃ         مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر         ۱/ ۳۰۴)
اور اگر بمجبوری اُن کے پیچھے پڑھ لی یا پڑھنے کے بعد حال کھُلا تو نماز پھیر لے اگر چہ وقت جاتا رہا ہو اگر چہ مدّت گزر چکی ہو
کما حققہ المولی الفاضل سیّدی امین الدین محمد بن عابدین الشامی رحمہ اﷲ تعالٰی فی ردالمحتار
 (جیسا کہ ہمارے عظیم فاضل سیّدی امین الدین محمد بن عابدین شامی رحمہ اﷲ تعالٰی نے ردالمحتار میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)فقیر غفراﷲ تعالٰی اس حکم کو پانچ دلیلوں سے روشن کرتا ہے،وباﷲ التوفیق ۔
دلیل اوّل
یہ تو خود واضح اور ہماری تقریر سابق سے لائح کہ طائفہ مذکورہ بدعتی بلکہ بد ترین اہلِ بدعت سے ہے،اور فاضل علّامہ سیّدی احمد مصری طحطاوی رحمۃ اﷲ تعالٰی حاشیہ دُرمختار میں ناقل:
من شذّ عن جمھور اھل الفقہ والعلم والسواد الاعظم فقد شذّ فیما یدخلہ فی النار فعلیکم معاشرالمومنین باتباع الفرقۃ الناجیۃ المسماۃ باہل السنۃ والجماعۃ فان نصرۃ اﷲ تعالٰی وحفظہ وتوفیقہ فی موافقتھم وخذلانہ وسخطہ فی مخالفتھم وھذہ الطائفۃ الناجیۃ قد اجتمعت الیوم فی مذاھب اربعۃ وھم الحنفیون والمالکیون والشافعیون والحنبلیون رحمھم اﷲ تعالٰی ومن کان خارجاعن ھذہ الاربعۃ فی ھذاالزمان فھو من اھل البدعۃ والنار۱؎۔
یعنی جو شخص جمہور اہلِ علم وفقہ وسوادِاعظم سے جُدا ہو جائے وُہ ایسی چیز کے ساتھ تنہا ہوا جو  اُسے دوزخ میں لے جائےگی تو اے گروہ مسلمین ! تم پر فرقہ ناجیہ اہلسنّت وجماعت کی پیروی لازم ہے کہ خداکی مدد اوراُس کا حافظ وکارساز رہناموافقتِ اہلسنّت میں ہے اوراُس کو چھوڑ دینا اورغضب فرمانا اور دشمن بنانا سنیوں کی مخالفت میں ہے اورنجات والا گروہ اب چار مذاہب میں مجتمع ہے حنفی، مالکی، شافعی ، حنبلی اﷲ تعالٰی ان سب پر رحمت فرمائے اس زمانے میں ان چار سے باہر ہونے والا بدعتی جہنمی ہے۔
 (۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الذبائخ     مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت        ۴/ ۱۵۳)
علّامہ شامی کا ارشاد گزرا کہ انھوں نے ان کے اسلاف نجد کوخارجیوں میں شمار فرمایا۔ یہ خلاف کہ اصول میں اُن کے مقلد اور فروع میں اعلانِ بے لگامی سے اُن پر بھی زائد کہ وُہ بظاہر ادعائے حنبلیت رکھتے تھے یہ اس نام کو بھی سیمائے شرک اوراپنے حق میں دشنام سخت جانتے ہیں کیونکہ خوارج میں داخل اور اپنے اگلوں سے بڑھکر گمراہ ومبطل نہ ہوں گے۔ان صاحبوں سے پہلے بھی ایک فرقہ قیاس واجتہاد کامنکر تھا جنہیں ظاہریہ کہتے تھے جن کی نسبت شاہ عبدالعزیزصاحب دہلوی نے لکھا:
داؤد ظاہری ومتابعانش را از اہلسنت شمردن درچہ مرتبہ ازجہل وسفاہت است الخ۔
داؤد ظاہری اور اس کے متبعین کو اہل سنّت سے شمار کرنا بڑی جہالت و بیوقوفی ہے الخ(ت)
مگر وہ بیچارے بااینہمہ تقلید کو شرک اور مقلدان ائمہ کو مشرک نہ جانتے تھے جب بتصریح شاہ صاحب انھیں سنّی جاننا سخت جہالت و حماقت ہے تو استغفراﷲ یہ کہ ضلالت میں اُن سے ہزار قدم آگے کیونکر ممکن کہ بدعتی گمراہ نہ ٹھہریں ، بالجملہ ان کا مبتدع ہونا اظہر من الشمس وابین من الامس ہے اور اہلِ بدعت کی نسبت تمام کتب فقہ ومتون وشروح وفتاوٰی میں صریح تصریحیں موجود کہ ان کے پیچھے نماز مکروہ ،اور تحقیق یہ ہے کہ یہ کراہتِ تحریمی ہے یعنی حرام کی مقارب ،گناہ کی جالب ،اعادہ نماز کی موجب ،
کما اثبتنا علیہ عرش التحقیق بحول ربنا ولی التوفیق فی تحریرلنا مستقل انیق واجبنا فیہ عما یتراای من خلاف ھذا القول التحقیق بقبول اھل التدقیق ولنذکر طرفا من الکلام افادۃ لمزیدا لتوثیق۔
جیسا کہ اس پرہم نے اپنی مستقل تصنیف لطیف میں اپنے رب کے فضل وکرم سے خوب تحقیق کی ہے اور اس محقق قول کے خلاف شبہات کا جواب بڑی دقیق نظر سے دیا ہے ،مزید توثیق کے لئے کچھ گفتگو یہاں کردیتے ہیں۔ (ت)
علماء فرماتے ہیں نماز اعظم شعائر دین ہے اور مبتدع کی توہین شرعاً واجب ،اور امامت میں اُس کی توقیر وتعظیم مقصود شرع سے بالکل مجانب ۔طبرانی معجم کبیر میں عبداﷲ بن بسر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے موصولاً اور بیہقی شعب الایمان میں ابراہیم بن میسرہ مکّی سے مرسلاً راوی حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام۱؎۔
جو کسی بدعتی کی توقیر کرے اس نے دین اسلام کے ڈھانے پر مدد کی۔
 (۱؎ شعب الایمان     باب۲۶    فصل فی مجانبۃالفسقۃ والمبتدعۃ    مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت        ۷/ ۶۱)
اقول:  وباﷲ التوفیق
اوّلاً ظاہر ہے کہ امام سردار ہوتا ہے اورمقتدی اس کے پیرو ۔حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما جعل الامام لیؤتم بہ ۲؎۔رواہ الائمۃ واحمد والبخاری ومسلم وغیرھم عن ام المؤمنین الصدیقۃ وعن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
امام تو اسی لئے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ۔اس کو ائمہ کرام احمد،بخاری،مسلم وغیرہ نے ام المومنین عائشۃ صدیقہ اور انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔
 (۲؎ صحیح البخاری   کتاب الاذان    باب انماجعل الامام لیوتم بہ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۹۲،۹۵)
اورحدیث میں ہے حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذامُدح الفاسق غضب الرب واھتزلذلک العرش۳؎۔رواہ الامام ابوبکر ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ عن انس خادم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وابن عدی فی الکامل عن ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب تبارک وتعالٰی غضب فرماتا ہے اوراس کے سبب عرشِ الہٰی  ہل جاتا ہے ۔اسے امام ابو بکر بن ابی الدنیا نے کتاب ذم الغیبَت میں حضرت انس خادمِ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اورابن عدی نے الکامل میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔
 (۳؎ الکامل لابن عدی ترجمہ س ابن عبداﷲ الرقی            مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۳/ ۱۳۰۷ اور ۵/ ۱۹۱۷)

( شعب الایمان                   مطبوعہ بیروت        ۴/ ۲۳۰)

 (تاریخ ابن عساکر               مطبوعہ بیروت        ۶/ ۴۰)

(تاریخ بغداد                       مطبوعہ بیروت        ۷/ ۲۹۸ اور ۸/ ۴۲۸)
اور امام عبد العظیم منذری زکی الدین علیہ الرحمۃ الٰی یوم الدین نے کتاب الترغیب والترہیب میں ایک ترہیب اس بارے میں لکھی کہ فاسق یا بدعتی کو سردار وغیرہ کلماتِ تعظیم سے یاد نہ کیا جائے،
حیث قال الترھیب من قولہ لفاسق او مبتدع یا سیّدی اونحوھا من الکلمات الدالۃ علی التعظیم ۱؎۔
ان کے الفاظ یہ ہیں کہ فاسق یا بدعتی کو یا سیّد وغیرہ تعظیم کے الفاظ سے پکارنا منع ہے۔
 (۱؎الترغیب والترہیب     الترہیب من قولہ لفاسق الخ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۳/ ۵۷۹)
Flag Counter