پھر مدینہ امینہ کا کہنا ہی کیا کہ وُہ تو خاصوں کا خاص اور دینِ متین کا اول وآخر ملجا ومناص ہے
صلی اﷲ تعالٰی علی من جعلھا ھکذا وبارک وسلم
( اﷲتعالٰی اس ذاتِ اقدس پر رحمتیں برکتیں اور سلام نازل فرمائے جس نے شہر مدینہ کو یہ شرف بخشا۔ت) اُس کی نسبت بالتخصیص ارشاد ہوا۔
ان الایمان لیأرز الی المدینۃ کماتأرز الحیۃ الی جحرھا۲؎۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ وفی الباب عن سعد بن ابی وقاص وغیرہ رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
بیشک ایمان مدینے کی طرف یُوں سمٹے گا جیسے سانپ اپنی بِل کی طرف ۔اسے ائمہ کرام احمد،بخاری،مسلم اور ابن ماجہ نےحضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔اس معاملہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص اور دیگر صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے بھی حدیث مروی ہے۔
انصاف کیجئے تو صرف یہی حدیثیں اور اُن کی مثال ان سفہاکے ابطال مذہب میں کافی ووافی وبرہان شافی کہ اگر ان کامذہب حق ہے تو اہل مدینہ واہلِ مکّہ واہلِ حجاز واہل عرب اہل بلاد دارالاسلام سب کے سب معاذ اﷲ مشرکین بے دین ہیں اورمسلمان یہی ہند کے چند بے لجام کثیر الحیف یانجد کے بعض بے مہار بقیۃ السیف
انّا ﷲ وانّاالیہ راجعون۔
اسی طرح وُہ متواتر حدیثیں ان کی مبطل مذہب جن میں ارشاد ہُواکہ اس امّتِ مرحومہ کا بڑا حصہ ہرگز گمراہی پر مجتمع نہ ہوگا ،میں اُن کی وفور کثرت وکمال شہرت کے سبب یہاں اُن کی نقل سے دست کشی کرتاہوں ان شاء اﷲ تعالٰی تحریر جداگانہ میں اُن کی شوکتِ قاہرہ کو جلوہ دیاجائے گا ،ہر مسلمان اور یہ حضرات خود بھی جانتے ہیں کہ تمام بلادِ اسلامیہ میں اُمّتِ مرحومہ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے کروڑوں اربوں آدمی بارک اﷲ تعالٰی
فیھم وعلیھم
(اﷲ تعالٰی ان میں اور ان پر برکت نازل کرے۔ت) اس نئے مذہب سے منزّہ و بری ہیں اس کے نام لیوا فقط یہی ذلیل وقلیل مشتے چندہندی ونجدی ہیں طرفہ یہ کہ اُن کے بعض مکلبین اپنی اس شذوذو قلّت ومخالفت جماعت پر ناز کرتے اور احادیث جماعت وسواد اعظم کے مقابل آیہ
ولواعجبک کثرۃ الخبیث۱؎
(اگر تجھے خبیث کی کثرت تعجب میں نہ ڈال دے۔ت) پڑھتے ہیں ۔
(۱؎ القرآن ۵/ ۱۰۰)
یہ کیدان صاحبوں نے کہ تمام مذاہب باطلہ کے عطر مجموعہ میں حضرات روافض سے اڑایا وہ اپنی ذلّت و قلّت کواپنی حقانیت کی حجت ٹھہراتے اور آیاتِ قرآنیہ میں یونہی تحریفیں کرکے خواہی نخواہی مدعاپر جماتے ہیں ۔شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثناء عشیریہ میں فرماتے ہیں :
کیدیاز دہم آنکہ گویند مذہب اثنا عشریہ حق ست زیرا کہ اثنا عشریہ قلیل وذلیل اند واہل سنّت کثیر وعزیز وخدائے تعالٰی درحق اہل حق می فرماید وَقَلِیْل مَاھُمْ ودریں تقریر تحریف کلام اﷲ است زیر ا کہ حق تعالٰی درحق اصحاب الیمین فرمودہ است ثُلَّۃ مِّنَ الاَوَّلِیْنَ وَثُلَّۃ مِّنَ الاٰخَرِیْنَ واگرقلت وذلت موجب حقیقت شود باید کہ نواصب وخوارج احق واولے بحق باشند کہ بسیار قلیل وذلیل اند بلکہ حق تعالٰی جابجا ظہور وغلبہ وتسلّط درشان اہلِ حق می فرماید ودراحادیث جابجا باتباع سوادِ اعظم ازامت وموافقت باجماعت تاکید فرمودہ اند ۲؎ اھ ملتقطا
گیارھواں فریب ان کا یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں مذہب اثنا عشریہ حق ہے کیونکہ اثنا عشریہ تھوڑے اور کمزور ،اور اہلسنت کثیر و غالب ،اﷲ تعالٰی نے اہل حق کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا وہ بہت تھوڑے ہیں۔اس گفتگو میں اﷲ تعالٰی کے کلام میں تحریف ہے کیونکہ اﷲ تعالٰی نے اصحاب یمین کے بارے میں فرمایا: اگلوں میں ایک بڑا گروہ اور پچھلوں میں سے ایک گروہ ۔اگر قلت وذلت حق ہونے کے زیادہ لائق ہیں کہ وہ بہت ہی تھوڑے اور نہایت ہی کمزور ہیں، بلکہ خود اﷲ تعالٰی نے جابجا اہل حق کے غلبہ ،تسلط اور ظہور کا ذکر کیا ہے اوراحادیث میں جابجا امّت کے سوادِ اعظم کی اتباع اورموافقت باجماعت کی تاکید کی گئی ہے اھ تلخیصاً(ت)
(۲؎ تحفہِ اثناعشریہ فصل دوم درمکائد جزئیہ روافض الخ کیدیا زدہم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۷)
لطف یہ ہے کہ اس کے بعد جو شاہ صاحب نے روافض کے حالات اوراُن کی بدمذہبی کے ثمرات لکھے کہ:
ہیچ ملک ناحیہ رااز کفار بدست نیاوردہ و دارالاسلام نساختہ بلکہ اگرگا ہے ایشاں راریاست ناحیہ بدست آمدہ باکفار مداہنتہ نمودہ ودارالاسلام رادارالکفر ساختہ اندہرگاہ درملکے تشیّع رائج شد فتنہ وفسادونفاق فیما بین فوج فوج باریدہ، حالت ہندوستان باید دید وحالت ملک عرب وشام وروم رابادے باید سنجید ۱؎ اھ ملخصاً
انھوں نے کسی ملک کو کفار سے چھڑاکر دارالاسلام نہیں بنایا اگر کبھی ان کے قبضہ میں کوئی ریاست آئی بھی تو
انھوں نے مداہنت بالکفّار سے کام لیتے ہوئے دارالاسلام کو دارالکفر بنادیا ،جہاں کسی ملک میں اہلِ تشیع کا غلبہ ہُوا فتنہ وفساد اورنفاق کے باعث لوگ آپس میں گروہوں میں بٹ گئے ،ہندوستان کی حالت دیکھ لو اور ملک عرب، شام اور روم کو اس پر قیاس کرلو اھ ملخصاً(ت)
(۱؎ تحفہ اثنا عشریہ فصل دوم درمکائد جزئیہ روافض الخ کیدیازدہم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۳۷)
یہ سب باتیں بھی حروف بحرف اس طائفہ جدیدہ پر منطبق ، اول تو انھیں نکلے ایسے کے دن ہوئے تاہم جب سے سراُبھارا ساراغصّہ مسلمانوں ہی پر اتارا ہمیشہ مسلمانوں کو مشرک کہامسلمانوں ہی کے قتل و غارت کا حوصلہ رہا ، آخر کچھ دنوں شوکت بھی پائی ۔فوج و جمعیت بھی ہاتھ آئی ،پھر کون سا ملک کافروں سے لیا کون سا حملہ مشرکوں پر کیا ہاں خداومصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے شہروں کو دارالحرب بتایا،
لا الٰہ الاّ اﷲ محمد رسول اﷲ
ماننے والوں کا خون بہایا،آدمی کوجب قوّت ملتی ہے دل کی دبی بھڑک کر جلتی ہے جن سے غیظ تھا اُنھیں پر ٹوٹے،خداومصطفٰی کے شہر لوٹے
صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وسیعلم الظالم این المثوی
(عنقریب ظالم جان لے گاکہ اس کا ٹھکانہ کہاں ہے۔ت) جب وہاں ان کا ستارہ لشکر سلطانی نے گرفتار بیت الوبال کیاان آزاد بلاد نے جہاں نہ کوئی پُرسان سنّت نہ خبرگانِ ملّت اُنھیں
حبلک علی غاربک
(تیری رسّی تیرے کاندھے پر ہے۔ت) کہہ کر لیا قدموں کی برکت کہاں جائے ۔جب نجد اجاڑکر ہند میں آئے یہاں اُن کے دم سے جو فتنہ وفساد پھیلے ،باہم مسلمانوں میں نفاق وشقاق کے چشمے ابلے، ظاہر وعیاں ہیں ،کس پر نہاں ہیں ،خصوصاً اُن شہروں کو تو پوری شامت جن میں اُن کے عمائد کی کثرت کچھ دین قدیم پر جھگڑ رہے ہیں کچھ بگڑگئے کچھ بگڑ رہے ہیں ،باپ سنّی ذریّت وہابی ،شوہر سنّی عورت وہابی ، گھر گھر فتنے آئے دن فساد ،عیش منغص چین برباد ،ابتداءً بانی ثانی نے بھی وہی رنگ جمائے ،بلاد اسلام دارالکفر ٹھہرائے ،جس سال نجد میں ان کے اکابر کا قلع قمع ہُوا اوپر سُن چکے کہ ۱۲۳۳ھ تھا اُسی سال انھوں نے یہاں کے شہروں پر یہ فتوٰی دیا،امام الطائفہ نے ترغیب جہاد کے ضمن میں لکھا :
ہندوستان را دریں جز و ضمان کہ۱۲۳۳ دوصدوسی وسوم اکثرش دریں ایام دارالحرب گردیدہ۲؎۔
ہندوستان کواس وقت یعنی۱۲۳۳ میں کہ اس کا اکثر حصہ دارالحرب قرار دیاجاچکا ہے۔(ت)
(۲؎ صراطِ مستقیم فصل چہارم افادہ ۵ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۶۵)
مگر زمانے نے زیادہ مہلت نہ دی ،دل کی حسرت دل ہی میں رہی ،اتباع میں کوئی نہ ہوا کہ ٹوٹے جگ کو جوڑے ،ناچار زبانِ قلم وقلمِ زبان سے چلے دل کے پھپھولے پھوڑے ،تکفیر مسلمین اصل مذہب ہے ،کفر شرک تو پہلا لقب ہے، ان کے بعض دلاوروں نے تصریحیں کی ہیں کہ اہلسنت کفار حربی ہیں اُن کے خون ومال حلال بلکہ اس سے زائد شیطانی اقوال ،موقع پائیں تو کیا کچھ نہ کر دکھائیں،
بُغض وبیر اُن کی باتوں سے جھلک اُٹھا اور وہ (غیظ وعناد) جو سینوں میں چھپائے ہیں اور بڑاہے(ت)
(۱؎ القرآن ۳/ ۱۱۸)
ولا حول ولاقوۃ الّا باﷲ ھوالمستعان علٰی کل ذی شر۔
اس اﷲ کے سوا کوئی طاقت وقوت نہیں رکھتا جو ہر شر کے خلاف مددگار ہے۔(ت)
غرض کہیں خوارج کی ہمسنگی کہیں روافض سے ہمرنگی ع : مذہب معلوم واہلِ مذہب معلوم
اور شاہ صاحب کے اخیر فقرے تو موتیوں میں تولنے کے قابل کہ:
حالت ایران ودکن وہندوستان باید دید وحالت ملک عرب وشام وروم وتوران وترکستان را باوے باید سنجید ۲؎۔
ایران و دکن اورہندوستان کی حالت دیکھ لیجئے اور ملک عرب و شام اورروم وتوران و ترکستان کو ان پر قیاس کر لینا چاہئے ۔(ت)
(۲؎ تحفہ اثنا عشریہ فصل دوم مکائد جزئیہ روافض الخ کید نمبر ۱۱ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۳۷)
واقعی دیکھیے یہاں ان کی آزادی وبے قیدی سے مذہبِ حق پر کتنا ضرر ہے اور وہاں جو عام بلاد میں ان کا نشان نہیں اورنجد میں جو بقیۃ السیف رہے اُن میں سراُٹھانے کی جان نہیں دین متین کس قوت پر ہے
ماشاء اﷲ لا قوۃ الاّ باﷲ
ان صاحبوں سے پوچھیئے آپ بھی شاہ صاحب کی طرح یہ عرب و روم و شام کا ہندوستان سے موازنہ مانیں گے یا ان برکت والے ملکوں کو اس سے بھی بد تر حال میں جانیں گے کہ یہاں آپ کے مذہب کو اشتہار بھی ہے اعلان مشرب کا اختیار بھی ہے اور وہاں تو یہ اعزازِمذہب جدید کا نام لیا اور آفت رسید والحمد ﷲ العلی المجید،غرض کہاں تک کہئے کلام طویل اورفرصت قلیل عرب وعجم کے علمائے اہلسنت شکراﷲ تعالٰی مساعیہم الجمیلہ نے بکّرات ومرّات اس طائفہ تالفہ کے ردبلیغ فرمائے ،اور فقیر غفراﷲ تعالٰی کے بھی متعدد فتاوٰی میں ہر بار کلام تازہ وفوائد جدیدہ بیان میں آئے ،یہاں سائل کا جس قدر سے سوال ہےاُ س کی طرف توجہ کا خیال ہے
فاقول مستعینا بالقریب المجیب وما توفیقی الاّ باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب۔