Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
170 - 185
بااینہمہ ارشاد فرمایا:
ویقرئون القراٰن لایجاوز حناجرھم یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ ۲؎۔رواہ البخاری ومسلم عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ان اعمال پر ان کا یہ حال ہوگا کہ قرآن پڑھیں گے پر گلوں سے تجاوز نہ کرے گا دین سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے ۔اسے بخاری ومسلم دونوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
 (۲؎ صحیح البخاری    کتاب الفضائل باب من رایابقرأۃ القرآن   مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲/ ۷۵۶)
پھر شانِ خداکہ ان مذہبی باتوں میں خارجیوں کے قدم بقدم ہونا درکنا خارجی بالائی باتوں میں بھی بالکل یک رنگی ہے انھیں ابو سعید رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث میں ہے:
قیل ماسیماھم قال سیماھم التحلیق ۳؎۔رواہ البخاری ولیس بعدہ فی الجامع الصحیح الاحدیث واحد۔
عرض کی گئی ؛یارسول اﷲ! اُن کی علامت کیا ہوگی ؟ فرمایا سر منڈانا۔ یعنی اُن کے اکثر سرمُنڈے ہونگے (عہ) ۔ اسے بخاری نے روایت کیا، اس کے بعد جامع صحیح میں فقط ایک حدیث ہے یعنی یہ حدیث صحیح البخاری کی آخری حدیث سے پہلے والی حدیث ہے۔
 (۳؎صحیح البخاری    کتاب الفضائل باب من رایابقرأۃ القرآن   مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲/ ۵۸،۷۵۶ )
عہ : ظاہر ہے علامت قوم سے ہے وہ جو تمام قوم یا اکثر میں ہو ۱۲منہ(م)
بعض احادیث میں یہ بھی آیا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اُن کا پتا بتایا
مشمّری الازار۴؎"ف"۔
 (گھٹنی ازار والے)
اوکما وردعنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
 (یا جیسا کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مروی ہوا ہے ۔ ت)
 (۴؎ صحیح البخاری   کتاب التوحید  باب قرأۃ الفاجر والمنافق الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۱۱۲۸)
ف: بلکہ ۶۲۴ پر دیگر چند علامات کا بھی ذکر ہے پوری عبارت یوں ہے:غائر العنین مشرف الوجنتین ناشز الجبھۃ کث اللحیۃ محلوق الرأس مشمر الازار۔اس حدیث میں گستاخ رسو ل کی علامتوں کا ذکر ہے ۔نذیر احمد
اﷲ تعالٰی کے بے شمار درودیں حضور عالم ماکان ومایکون پر،صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔

بالجملہ یہ حضرات خوارج نہروان کے رشیدپس ماندے بلکہ غلو و بیباکی میں اُن سے بھی آگے ہیں یہ انھیں بھی نہ سوجھی تھی کہ شرک وکفر تمام مسلمین کا دعوٰی اس حدیث سے ثابت کر دکھاتے جس سے ذی ہوش مذکور نے استدلال کیا ع
طرفہ شاگردے کہ میگوید سبق استادرا
(کتنا اچھا شاگرد کہ استاد کو بھی سبق سکھاتا ہے)
مگر حضرتِ حق عزوجل کا حسنِ انتقام لائق عبرت ہے چاہ کن راچاہ درپیش
من حفر بیرالا خیہ فقد وقع فیہ
 (جوشخص کسی کے لئے کنواں کھودتا ہے خود اسی میں گرتا ہے۔ت) حدیث سے سند لائے تھے مسلمانوں کے کافر ومشرک بنانے کو اور بحمداﷲ خود اپنے مشرک وکافر ہونے کا اقرار کرلیا کہ جب یہ وقت وہی ہے کہ روئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں تو یہ مستدل بھی انھیں کافروں میں کا ایک ہے
قضی الرجل علی نفسہ
 (آدمی نے اپنے خلاف فیصلہ کیا۔ت)
اقرار مرد آزار مرد، المرء مواخذباقرارہ
 (آدمی اپنے اقرار پر گرفتار ہوتا ہے۔ت) مدہوش بیچارہ خود کردہ راعلاجے نیست میں گرفتار ہُوا،اور مسلمانوں کو تو خدا کی امان ہے اُن کے لئے اُن کے سچے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے سچی بشارت آئی ہے کہ یہ امّتِ مرحومہ ہرگز شرک اورغیر خدا کی پرستش نہ کرے گی۔ امام احمد مسند اور ابن ماجہ سنن اور حاکم مستدرک اور بیہقی شعب الایمان میں حضرت شداد بن اوس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضور پُرنور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اپنی امّت کی نسبت فرماتے ہیں:
اماانھم لایعبدون شمساولاقمرا ولاحجرا ولاوثناولکن یراؤن باعمالھم۔۱؎
خبر دار ہو بیشک وُہ نہ سورج کو پوجیں گے نہ چاند کو نہ پتھر کو نہ بُت کو ،ہاں یہ ہوگا کہ دکھاوے کے لئے اعمال کریں گے۔
 (۱؎ المسند لامام احمد بن حنبل         حدیث شداد بن اوس رضی اﷲ عنہ         مطبوعہ دارلفکر بیروت         ۴/ ۱۲۴)
اسی لئے جب قیامت آنے کو ہوگی اور شرک محض کاوقت آیئگا ہوا بھیج کر مسلمانوں کو اٹھالیں گے والحمد ﷲ رب العٰلمین۔پھراہلِ عرب کے لئے خاص مژدہ ارشاد ہوا ہے کہ وہ ہرگز شیطانی پرستش میں مبتلا نہ ہوں گے۔احمدو مسلم حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الشیطٰن قد یئس ان یعبدہ المصلون فی جزیرۃ العرب ولکن فی التحریش بینھم۲؎۔
بیشک شیطان اس سے ناامید ہوگیا کہ جزیرہ عرب کے نمازی اُسے پوجیں، ہاں اُن میں جھگڑے اُٹھانے کی طمع رکھتا ہے۔
 (۲؎المسند لامام احمد بن حنبل  از مسند جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ  مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ ۳/ ۳۵۴)

 (صحیح مسلم             باب تحریش الشیطان الخ            مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی    ۲/ ۳۷۶)

(جامع الترمذی        باب ماجاء فی التباعض            مطبوعہ امین کمپنی دہلی        ۲/ ۱۶)
ابو یعلٰی حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الشیطان قد یئس ان تعبد الاصنام فی ارض العرب ولکنہ سیرضی منکم بدون ذلک بالمحقرات ۱؎الحدیث۔ واصلہ عنہ عنداحمد والطبرانی بسند حسن۔
یعنی شیطان یہ امید نہیں رکھتا کہ ا ب زمین عرب میں بُت پوجے جائیں مگر وہ اس سے کم درجہ گناہ تم سے کرادینے کو غنیمت جانے گا جوحقیر وآسان سمجھے جاتے ہیں(الحدیث)اسے امام احمد اور طبرانی نے انھیں سے سندحسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
 (۱؎ مسند ابویعلی از مسند عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ     حدیث ۵۱۰۰        مطبوعہ دارالقبلۃ جدہ موسسۃ علوم القرآن بیروت    ۵/ ۶۹)
بیہقی حضرت معاذبن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے تذکیراً اور حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے تقریراً راوی حضور سیّد المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے وداع کرتے وقت ارشاد فرمایا:
ان الشیطان قدیئس ان یعبدفی جزیرتکم ھذہ ولکن یطاع فیما تحتقرون من اعمالکم فقد رضی بذلک۲؎۔
یعنی شیطان کو یہ اُمید نہیں کہ اب تمھارے جزیرے میں اس کی عبادت ہوگی ہاں اُن اعمال میں اُس کی اطاعت کروگے جنھیں تم حقیر جانو گے وہ اسی قدر کو غنیمت سمجھتا ہے۔
 (۲؎ شعب الایمان وہوباب فی اخلاص العمل الخ حدیث ۶۸۵۲        مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت        ۵/ ۳۴۰)
امام احمد حضرت عبادہ بن صامت وابودرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے معاًراوی حضور سید الکونین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان الشیطان قد یئس ان یعبد فی جزیرۃ العرب ۳؎۔
بیشک شیطان اس سے مایوس ہے کہ جزیرہ عرب میں اس کی پرستش ہو۔
 (۳؎ مسند احمد بن حنبل ،   حدیث شداد بن اوس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ،  مطبوعہ دارالفکر بیروت،  ۴/ ۱۲۶)
یہ چھ صحابیوں کی حدیثیں ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین ۔ہاں انھیں سن کر مسلمان کہے کہ دیکھو پیغمبر خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے فرمانے کے مطابق ہوا ،کفر وشرک جب سے جزیرہ عرب سے نکلے ، وہ دن اور آج کا دن پھر ادھر کا منہ کرنا نصیب نہ ہواوالحمدﷲ رب العٰلمین۔پھر خطہ مبارکہ حجاز یعنی حرمین طیبین اور ان کے مضافات کے لئے اس سے اجل واعظم بشارت آئی جامع ترمذی میں عمرو بن عوف رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی حضور پُرنور سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الدین لیأر ز  الی الحجاز کماتأرز الحیۃ الی جحرھا ولیعقلن الدین من الحجاز معقل الارویّۃ من الجبل۱؎۔
بیشک دین حجاز کی طرف ایسا سمٹے گا جیسے سانپ اپنی بِل کی طرف،اوربیشک دین حرمین طیّبین کو ایسا اپنا مسکن ومامن بنائے گا جیسے پہاڑی بکری پہاڑ کی چوٹی کو۔
 (۱؎ جامع الترمذی    باب ماجاء ان الاسلام بدأغریباً الخ    مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی         ۲/ ۸۷)
Flag Counter