یامعشر المسلمین یہ فرقہ غیر مقلدین کہ تقلید ائمہ دین کے دشمن اور بیچارہ عوام اہل اسلام کے رہزن ہیں،مذاہب اربعہ کو چوراہا بتائیں ائمہ وہدٰی کو احبار و رہبان ٹھہرائیں ،سچّے مسلمانوں کو کافر مشرک بنائیں،قرآن وحدیث کی آپ سمجھ رکھنا، ارشاداتِ ائمہ کو جانچنا پرکھنا ہر عامی جاہل کا کام کہیں، بے راہ چل کر ،بیگانہ مچل کر ،حرامِ خدا کو حلال کردیں حلال خدا کو حرام کہیں ،ان کا بدعتی بدمذہب گمراہ بے ادب ضال مضل غوی مبطل ہونا نہایت جلی واظہر بلکہ عن الانصاف یہ طائفہ تالفہ بہت فرق اہل بدعت سے
اشرّواضرّ واشنع وافجرکما یخفی علی ذی بصر
(جیسا کہ کسی بھی صاحب بصیرت پر مخفی نہیں۔ت) صحیح بخاری شریف میں تعلیقاً اورشرح السنۃ امام بغوی وتہذیب الآثار امام طبری میں موصولاً وارد:
کان ابن عمریراھم شرارخلق اﷲ وقال انّھم انطلقو الی اٰیاتٍ نزلت فی الکفار فجعلوھا علی المؤمنین ۱؎۔
یعنی عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما خوارج کو بدترین خلق اﷲ جانتے کہ انہوں نے وہ آیتیں جو کافروں کے حق میں اتریں اُٹھا کر مسلمانوں پر رکھ دیں۔
(۱؎الصحیح البخاری کتاب استتبابہ المعاندین باب قتال الخوارج والملحدین الخ ، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۵۱)
انھوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اﷲ تعالٰی کے سوا خدا بنا لیا۔(ت)
(۲؎ القرآن ۹/ ۳۱)
کہ کفار اہل کتاب اور اُن کے عمائد وارباب میں اُتری ہمیشہ یہ بیباک لوگ اہلسنت و ائمہ اہلسنت کو اس کا مصداق بتاتے ہیں۔علامہ طاہر پر رحمت غافر کہ مجمع بحارالانوار میں قول ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما نقل کرکے فرماتے ہیں:
قال المذنب تاب اﷲ علیہ واشرمنھم من یجعل اٰیات اﷲ فی شرارالیہود علی علماء الامۃ المعصومۃ المرحومۃ طھراﷲ الارض عن رجسھم ۔۳؎
مذنب کہتا ہے اﷲ تعالٰی س پر رحم فرمائے ،ان خارجیوں سے بدتر وُہ لوگ ہیں کہ اشرار یہود کے حق میں جو آیتیں اُتریں انھیں امّت محفوظہ مرحومہ کے علماء پرڈھالتے ہیں اﷲ تعالٰی زمین کو اُن کی خباثت سے پاک کرے(ت)
(۳؎ مجمع بحار الانوار تحت لفظِ حدیث مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/ ۶۴۲)
اصل اس گروہ ناحق پژدہ کی نجد سے نکلی، صحیح بخاری شریف میں ہے:
عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال ذکر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال اللّٰھم بارک لنا فی شامنا اللھم بارک لنا فی یمننا قالوا یارسول اﷲ وفی نجدنا قال اللّٰھم بارک لنا فی شامنا اللھم بارک لنا فی یمننا قالوا یارسول اﷲ وفی نجدنا فاظنّہ قال فی الثالثۃ ھناک الزلزال والفتن وبھا یطلع قرن الشیطان۔ ۴؎
نافع سے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ حضور پُر نور سیّدِ عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دُعا فرمائی الہٰی ! ہمارے لئے برکت دے ہمارے شام میں ، ہمارے لئے برکت رکھ ہمارے یمن میں، صحابہ نے عرض کی یارسول اﷲ ! ہمارے نجد میں حضور نے دوبارہ وہی دُعا کی الہٰی ! ہمارے لئے برکت کر ہمارے شام میں الہٰی! ہمارے لیے برکت بخش ہمارے یمن میں ،صحابہ نے پھر عرض کی یا رسول اﷲ ہمارے نجد میں۔عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں میرے گمان میں تیسری دفعہ حضور نے نجد کی نسبت فرمایا : وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہیں سے نکلے گا شیطان کا سینگ(ت)
(۴؎ الصحیح البخاری کتاب الفتن باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الفتنہ من قبل المشرق مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۵۰)
الصحیح البخاری باب ماقیل فی الزلزال والآیات الفتنہ من قبل المشرک مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۴۱)
اس خبرِصادق مخبر صادق صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے مطابق عبدالوہاب نجدی کے پسرواتباع نے بحکم آنکہ ع
پدر اگر نتواند پسر تمام کند (باپ اگر نہ کرسکا تو بیٹا تمام( مکمل)کردے گا)
تیرھویں صدی میں حرمین شریفین پر خروج کیا اور ناکردنی کاموں ناگفتنی باتوں سے کوئی دقیقہ زلزلہ وفتنہ کا اُٹھا نہ رکھا،
وسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبون ۱؎۔
اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔(ت)
(۱؎ القرآن ، ۷/۱۲۷)
حاصل اُن کے عقائد زائغہ کا یہ تھا کہ عالم میں وہی مشت ذلیل موحد مسلمان ہیں باقی تمام مومنین معاذاﷲ مشرک۔ اسی بناء پر انھوں نے حرمِ خداوحریمِ مصطفی علیہ افضل الصلوٰۃ والثناء کو عیاذاً باﷲ دارالحرب اور وہاں کے سُکّانِ کرام ہمسائیگانِ خدا و رسول کو (خاکم بدہانِ گستاخاں) کافر ومشرک ٹھہرایا اور بنامِ جہاد وخروج کرکے لوائے فتنہ عظمٰے پر شیطنت کبرٰی کا پرچم اُڑایا ۔ علّامہ فہامہ خاتمۃ المحققین مولٰنا امین الدین محمد بن عابدین شامی قدس سرہ السامی نے کچھ تذکرہ اس واقعہ ہائلہ کافر مایا ردالمحتار حاشیہ درمختارکی جلدثالث کتاب الجہاد باب البغاۃ میں زیر بیانِ خوارج فرماتے ہیں :
کماوقع فی زماننا فی اتباع بن عبدالوہاب الذین خرجو امن نجد وتغلبوا علی الحرمین وکانواینتحلون مذھب الحنابلۃ لکنھم اعتقدواانھم ھم المسلمون وان من خالف اعتقاد ھم مشرکون واستباحوا بذلک قتل اھل السنۃ وقتل علمائھم حتی کسر اﷲ تعالٰی شوکتھم وخرب بلادھم وظفربھم عساکر المسلمین عام ثلث وثلثین ومائتین والف۲؎۔والحمدﷲ رب العٰلمین۔
یعنی خارجی ایسے ہوتے ہیں جیسا ہمارے زمانے میں پیروانِ عبدالوہاب سے واقع ہوا جنہوں نے نجد سے خروج کرکے حرمین محترمین پر تغلب کیا اور وہ اپنے آپ کو کہتے تو حنبلی تھے مگر اُن کا عقیدہ یہ تھا کہ بس وہی مسلمان اور جو اُن کے مذہب پر نہیں وہ مشرک ہیں اس وجہ سے انھوں نے اہلسنّت وعلمائے اہلسنت کا قتل مباح ٹھہرالیا یہاں تک کہ اﷲ تعالٰی نے اُنکی شوکت توڑ دی اوراُن کے شہر ویران کئے اور لشکرِ مسلمین کو اُن پر فتح بخشی۱۲۳۳ھ میں۔
(۲؎ ردالمحتار کتاب الجہاد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳/ ۳۳۹)
غرض یہ فتنہ شنیعہ وہاں سے مطرود اور خدا و رسول کے پاک شہروں سے مدفوع و مردود ہوکر اپنے لئے جگہ ڈھونڈتا ہی تھا کہ نجد کے ٹیلوں سے اس دارالفتن ہندوستان کی نرم زمین اسے نظر پڑی ،آتے ہی یہاں قدم جمائے ، بانی فتنہ نے کہ اس مذہب نامہذب کا معلم ثانی ہوا وہی رنگ آہنگ کفر وشرک پکڑا کہ ان معدودے چند کے سوا تمام مسلمان مشرک ،یہاں یہ طائفہ بحکم
(وُہ لوگ جنہوں نے اپنے دین میں جُداجُدا راہیں نکالیں اور کئی گروہ ہوگئے ۔ت)
(۱؎ القرآن ۶/ ۱۵۹)
خود متفرق ہوگیا ایک فرقہ بظاہر مسائل فرعیہ میں تقلید ائمہ کا نام لیتا رہا دوسرے نے ع
قدمِ عشق پیشتر بہتر
(عشق کا قدم آگے بڑھانا ہی بہتر ہے)
کہہ کر اسے بھی بالائے طاق رکھا ، چلئے آپس میں چل گئی وہ انھیں گمراہ یہ اُنھیں مشرک کہنے لگے مگر مخالفتِ ہلسنت وعداوت اہلِ حق میں پھر ملت واحدہ رہے،ہر چندان اتباع نے بھی تکفیر مسلمین میں اپنی چلتی گئی نہ کی لیکن پھر کلام الامام امام الکلام (امام کا کلام ، کلام کاامام ہوتا ہے۔ت) ان کے امام وبانی وثانی کو شرک وکفر کی وہ تیز وتند چڑھی کہ مسلمانوں کے مشرک کافر بنانے کوحدیث صحیح مسلم:
لا یذھب اللیل والنھار حتی یعبد اللات والعزّی(الٰی قولہ) یبعث اﷲ ریحاطیبۃ فتوفی کل من کان فی قلبہ مثقال حبۃ من خردل من ایمان فیبقی من لاخیر فیہ فیرجعون الٰی دین اٰبائھم ۲؎
مشکوٰۃ کے باب
لا تقوم الساعۃ شرارالناس۳؎
سے نقل کرکے بے دھڑک زمانہ موجودہ پر جمادی جس میں حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ''زمانہ فنا نہ ہوگا جب تک لات و عزّٰی کی پھر سے پرستش نہ ہو اور وُہ یوں ہوگی کہ اﷲ تعالٰی ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں کو اُٹھالے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا انتقال کرے گا جب زمین میں نرے کافر رہ جائیں گے پھر بتوں کی پوجا بدستور جاری ہوجائے گی''۔ اس حدیث کو نقل کرکے صاف لکھ دیا سو پیغمبرِ خدا کے فرمانے کے موافق ہوا،
انّا ﷲ وانّا الیہ راجعون ۔
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الفتن واشتراط الساعۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۲/ ۳۹۴)
(۳؎ مشکوٰۃ المصابیح کتاب الفتن باب لاتقوم الساعۃ الاعلی شرارالناس مطبوعہ مجتبع مجتبائی دہلی ص ۴۸۰)
ہوشمند نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ اگر یہ وہی زمانہ ہے جس کی خبر حدیث میں دی تو واجب ہُوا کہ روئے زمین پر مسلمان کا نام و نشان باقی نہ ہو بھلے مانس اب تُو اور تیرے ساتھی کدھر بچ کرجاتے ہیں، کیا تمھارا طائفہ دنیا کے پردے سے کہیں الگ بستا ہے، تم سب بھی انہیں شرارالناس وبدترین خلق میں ہوئے جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابرایمان کا نام نہیں اوردین کفارکی طرف پھر کر بتوں کی پوجا میں مصروف ہیں،سچ آیاحدیث مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد کہ
حبک الشیئ یعمی ویصم ۱؎
(شیئ کی محبت تجھے اندھااور بہرا کر دے گی۔ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل باقی حدیث ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵/ ۱۹۴)
شرک کی محبت نے اس ذی ہوش کو ایسا اندھا بہرا کردیا کہ خود اپنے کفر کا اقرار کر بیٹھا ،غرض تو یہ ہے کہ کسی طرح تمام مسلمان معاذ اﷲ مشرک ٹھہریں اگرچہ پرائے شگون کواپنا ہی چہرہ ہموار ہوجائے ،اور اس بیباک چالاک کی نہایت عیاری یہ ہے کہ اُسی مشکوٰۃ کے اُسی باب لاتقوم الساعۃ الاعلی شرارالناس۲؎ میں اسی حدیث مسلم کے برابر متصل بلافصل دوسری حدیث مفصل۔ اسی صحیح مسلم کی عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے وُہ موجود تھی جس سے اس حدیث کے معنٰی واضح ہوتے اوراُس میں صراحۃً ارشاد ہوا تھا کہ یہ وقت کب آئے گا اور کیونکر آئے گا اور آغازِبُت پرستی کا منشا کیا ہوگا،
(۲؎ مشکوٰۃ المصابیح کتاب الفتن باب لا تقوم الساعۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ۴۸۰)
وہ حدیث مختصراً یہ ہے :
وعن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یخرج الدجال فی اُمتی فیمکث اربعین فیبعث اﷲ عیسی بن مریم فیھلکہ ثم یمکث فی الناس سبع سنین لیس بین اثنین عداوۃ ثم یرسل اﷲ ریحاباردۃ من قبل الشام فلا یبقی علی وجہ الارض احد فی قلبہ مثقال ذرّۃ من خیر اوایمان الاقبضتہ حتی لوان واحدکم دخل فی کبد جبل لدخلتہ علیہ حتی تقبضہ قال فیبقی شرارالناس فی خفۃ الطیر واحلام السباع لا یعرفون معروفا ولاینکرون منکرا فیتمثل لہم الشیطان فیقول الاتستحیون فیقولون فما تأمرنا فیامرھم بعبادۃ الاوثان ثم ینفخ فی الصور۱؎(ملخصا)۔(رواہ مسلم)
یعنی عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ حضور پُرنور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امّت میں دجّال نکل کر چالیس(عہ) تک ٹھہرے گا پھر اﷲ تعالٰی عیسٰی بن مریم علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھیجے گا وُہ اُس کو ہلاک کریں گے پھر سات برس تک لوگوں میں اس طرح تشریف رکھیں گے کہ کوئی دو۲ دل آپس میں عداوت نہ رکھتے ہوں گے اس کے بعد اﷲ تعالٰی شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا کہ روئے زمین پرجس دل میں ذرّہ برابر بھی ایمان ہوگا اس کی روح قبض کرلے گی یہاں تک کہ اگر تم میں کوئی پہاڑ کے جگر میں چلاجائے گا تو وہ ہوا وہاں جاکربھی اُس کی جان نکال لے گی اب بد ترین خلق باقی رہ جائیں گے فسق وشہوت میں پرندوں کی طرح ہلکے سُبک اور ظلم وشدّت میں درندوں کی طرح گراں و سخت جواصلانہ کبھی بھلائی سے آگاہ ہوں گے نہ کسی بدی پرانکار کریں گے شیطان ان کے پاس آدمی کی شکل بن کر آئے گا اور کہے گا تمہیں شرم نہیں آتی یہ کہیں گے تم ہمیں کیا حکم کرتا ہے وہ اُنھیں بُت پرستی کا حکم دے گا اس کے بعد نفخ صور ہو گا۔(ملخصاً)۔
عہ: راوی نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ چالیس۴۰ دن فرمایا یا برس انتہی ،اور دوسری حدیث میں چالیس دن کی تصریح ہے کہ پہلا دن سال بھر کا، دوسرا ایک مہینہ کا،تیسرا ایک ہفتہ کا،باقی دن عام دنوں کی طرح رواہ مسلم عن النواس بن سمعان رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی حدیث طویل ۱۲ منہ(م)(اسے امام مسلم نے حدیث طویل میں حضرت نواس بن سمعان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الفتن باب الدجال مطبوعہ نور محمداصح المطابع کراچی ۲/ ۴۰۳)
عیارہوشیار اس حدیث کو الگ بچاگیا کہ یہاں تو سارے مکر کی قلعی کھُلتی اورصاف ظاہر ہوتا کہ حدیث میں جس زمانے کی خبر دی ہے وُہ بعد خروج وہلاک دجال وانتقال عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آئے گا اُس وقت کے لئے حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ روئے زمین پر کوئی مسلمان نہ رہے گاجس طرح احمد ومسلم وترمذی کی حدیث میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے آیا سیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتقوم الساعۃ حتی لایقال فی الارض اﷲ اﷲ ۲؎۔
قیامت نہ آئے گی جب تک زمین میں کوئی اﷲ اﷲ کہنے والا رہے۔
(۲؎صحیح مسلم باب ذہاب الایمان آخر الزمان مطبوعہ نور محمداصح المطابع کراچی ۱/ ۸۴)
(مسند احمد بن حنبل ازمسند انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۰۷،۲۰۱،۲۶۸)
اﷲ اﷲ یہ حدیث بھی مشکوٰۃ بحوالہ مسلم اسی باب کے شروع میں ہے مزوّر چالاک دلدادہ اشراک برابر کی حدیثیں نقل کرتا تو مسلمانوں کو کافر مشرک کیونکر بناتا اور اس جھوٹے دعوے کی گنجائش کہاں سے پاتا اپنے زمانے کی نسبت کہہ دیا: سو پیغمبر خدا کے فرمانے کے موافق ہوا۔ مسلمان دیکھیں کہ جو عیار صریح واضح متداول حدیثوں میں ایسی معنوی تحریفیں کریں بے پرکی اڑانے میں اپنے باطنی معلم کے بھی کان کتیریں جھوٹے مطلب دل سے بنائیں اور انھیں مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا مقصود ٹھہرائیں حالانکہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم متواتر حدیث میں ارشاد فرمائیں :
من کذب علیّ متعمدافلیتبوامقعدہ من النّار۔۱؎
جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔(ت)
(۱؎ جامع الترمذی باب ماجاء فی تعظیم الکذب علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۰)
ایسوں کا مذہب معلوم اور عمل بالحدیث کا مشرب معلوم ع:
قیاس کُن زگلستان شان بہارِ شاں
جب اصول میں یہ حال ہے تو ظاہر ہے کہ فروع مسائل فقہیہ میں حدیثوں کی کیا کچھ گت نہ بناتے ہوں گے ۔پھر دعوی یہ ہے کہ ہم تو خیر البریہ یعنی قرآن اورقولِ خیر البریہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یعنی حدیث پر چلتے ہیں ،سبحٰن اﷲ یہ منہ اور یہ دعوی۔
سچ فرمایا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے:
یأتی فی اٰخرالزمان قوم حدثاء الاسنان سفھاء الاحلام یقولون من خیر قول البریۃ یمرقون من الاسلام کما یمرق السھم من الرمیۃ لایجاوز ایمانھم حناجرھم ۲؎۔اخرجہ البخاری ومسلم وغیرھما عن امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ واللفظ للبخاری فی فضائل القراٰن من الجامع الصحیح۔
آخر زمانہ میں کچھ لوگ حدیث السن سفیہ العقل آئیں گے کہ اپنے زعم میں قرآن یاحدیث سے سند پکڑیں گے وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے ایمان ان کے گلوں سے نیچے نہ اُترے گا۔اسےبخاری ومسلم اور دیگر محدثین نے امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سے روایت کیا اور مذکورہ الفاظ حدیث جامع صحیح للبخاری کے باب فضائل القرآن سے لئے گئے ہیں۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن باب من رایا بقرأۃ القرآن الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۵۶)
واقعی یہ لوگ اُن پُرانے خوارج کے ٹھیک ٹھیک بقیہ و یادگار ہیں وہی مسئلے وہی دعوے وہی انداز وہی وتیرے ، خارجیوں کا داب تھا ،اپنا ظاہر اس قدر متشرع بناتے کہ عوام مسلمین انہیں نہایت پابندِ شرع جانتے پھر بات پر عمل بالقرآن کا دعوٰی عجب دام درسبزہ تھا مسلک وہی کہ ہمیں مسلمان ہیں باقی سب مشرک۔ یہی رنگ ان حضرات کے ہیں آپ موحد اور سب مشرکین ،آپ محمدی اور سب بددین ،آپ عامل بالقرآن والحدیث اور سب چنیں وچناں بزم خبیث ، پھر ان کے اکثر مکلبین ظاہری پابندی شرع میں خوارج سے کیا کم ہیں اہلسنّت کان کھول کر سُن لیں دھوکے کی پٹّی میں شکار نہ ہوجائیں، ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا:
تحقرون صلاتکم مع صلاتھم وصیامکم مع صیامھم وعملکم مع عملھم۔۱؎
تم حقیر جانو گے اپنی نمازوں کوان کی نمازوں کے سامنے اوراپنے روزے ان کے روزوں کے سامنے اوراپنے اعمال کو اُن کے اعمال کے مقابل۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الفضائل باب من رایابقرأۃ القرآن مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۵۶)