Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
168 - 185
حدیث۹:انزل القراٰن علی سبعۃ احرف، لکل حرف منھا ظھروبطن ولکل حرف حدولکل حدمطلع۳؎۔اخرجہ الطبرانی فی اکبر معاجیمہ عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔
قرآن سات حروف (لغتوں) پر نازل ہوا ،ہر حرف کے لئے ظاہر اور باطن ہے ہر حرف کے لئے ایک حد(انتہائے معنی ) ہے اور ہر حد کے لئے ظاہر اور باطن سے اطلاع کا مقام ہے۔ اس کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے (ت)
 (۳؎ المعجم الکبیر مروی از عبداﷲ ابن مسعود    حدیث ۱۰۱۰۷    مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت            ۱۰/ ۱۳۰)

(المعجم الکبیر مروی از عبداﷲ ابن مسعود    حدیث ۸۶۶۷ و ۸۶۶۸ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت          ۹/ ۱۴۶)
ف: معجم کبیر میں مکمل حدیث ایک جگہ پر دستیاب نہیں ہوسکی بلکہ دو حصّوں میں مختلف مقامات سے ملی ہے جبکہ جامع صغیر مع فیض القدیر جلد ۳ مطبوعہ بیروت صفحہ ۵۴ پر یہ حدیث مکمل انہی الفاظ کے ساتھ موجود ہے اور حوالہ بھی طبرانی عن عبداﷲ بن مسعود کا دیا ہے ، ہوسکتا ہے اعلٰیحضرت رحمہ اﷲ نے جامع صغیر سے دیکھ کر یہ حدیث نقل کی ہو مجمع الزوائد جلد ۷ مطبوعہ بیروت ص ۵۳- ۱۵۲ پر بھی یہ حدیث ازعبداﷲ ابن مسعود منقول ہے۔ نذیر احمد
وحدیث۱۰: قولہ عزوجل اعطیھم من حلمی وعلمی ۱؎اخرجہ احمدوالطبرانی فی الکبیر والحاکم فی المستدرک والبیھقی فی شعب الایمان باسناد صحیح عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اﷲ عزوجل کا فرمان ہے میں انھیں اپنا حلم و علم عطا کرتاہوں ۔اس کو احمد وطبرانی نے کبیرمیں،حاکم نے مستدرک اوربیہقی نے شعب ایمان میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابو درداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
 (۱؎ مسند احمدبن حنبل    بقیہ حدیث ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ         مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۶/ ۴۵۰

نوادرالاصول      الاصل الحادی والعشرون فی خصوصیۃ ھذہ الامۃ    مطبوعہ دارصادر بیروت        ص ۲۹ و ۳۳)
و حدیث ۱۱:من زھد فی الدنیا علمہ اﷲ بلا تعلم و ھداہ بلاھدایۃ وجعلہ بصیرا وکشف عنہ العمی۲؎۔اخرجہ ابو نعیم فی الحلیۃ الاولیاء عن سید الاولیاء امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ۔
جو دنیا سے محفوظ رہا اسے اﷲ بغیر حصولِ علم کے علم اور بغیر حصولِ ہدایت ہدایت دیتا ہے۔ اسے صاحب بصیرت بناتا ہے اور اس کی گمراہی اور تاریکی دور کردیتا ہے۔اسے امام ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں سیّد الاولیاءامیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
 (۲؎ حلیۃ الاولیاء فصائل ومناقب علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ  مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت    ۱/ ۷۲)
وحدیث ۱۲: دع عنک قول معاذفان اﷲ یباھی بہ الملئکۃ قالہ لرجل قال لہ معاذبن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ تعال حتی نؤمن ساعۃ فشکاہ الرجل الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ،وقال اومانحن بمؤمنین ،فقال لہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ذلک۱؎۔اخرجہ سیدی محمد بن علی الترمذی عن معاذ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
قولِ معاذ کو چھوڑو (یعنی قولِ معاذ کو برا نہ جانو) کیونکہ اﷲ تعالٰی ملائکہ میں اس کے ساتھ فخر فرماتا ہے۔ یہ بات آپ نے اس شخص سے فرمائی جسےمعاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کہا تھا کہ آؤ ہم ایک گھڑی ایمان لائیں اس شخص نے حضور علیہ السلام کی خدمت اقدس میں شکایت کرتے ہوئے عرض کیا کیا ہم اہلِ ایمان نہیں؟ اس موقعہ پر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مذکورہ جملہ فرمایا تھا۔اس کوسیّدی محمد بن علی ترمذی نے حضرت معاذ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
 (۱؎ نوادرالاصول    الاصل الثانی والسبعون فی الذکر الخفی        مطبوعہ دارصادر بیروت        ص۱۱۰)
وحدیث ۱۳: کان عبداﷲ بن رواحۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اذالقی الرجل من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلّم یقول تعال نؤمن بربناساعۃ فقال ذات یوم لرجل فغضب الرجل فجاء الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال یا رسول اﷲ الاتری الی ابن رواحۃ یرغب عن ایمانک الی ایمان ساعۃ فقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یرحم اﷲ ابن رواحۃ انہ یحب المجالس التی تباھی بھا الملٰئکۃ ۲؎ علیھم السلام۔ رواہ احمد بسند حسن عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
حضرت عبداﷲ بن رواحہ رضی اﷲ تعالٰی کا معمول تھا جب بھی کسی صحابی رسول سے ملاقات ہوتی تو کہتے آؤ ہم اپنے رب کے ساتھ ایک گھڑی ایمان لائیں، ایک دن آپ نے یہی بات ایک شخص سے کہی تو وہ ناراض ہوگیا اوربارگاہِ نبوی میں حاضر ہوکر عرض کیا یارسول اﷲ! آپ نے عبداﷲ بن رواحہ کے بارے میں نہیں سنا وہ تو آپ پر ایمان لانے کے بجائے ایک گھڑی ایمان کی طرف رغبت دلاتا ہے۔نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا عبداﷲ بن رواحہ پر اﷲ تعالٰی رحم فرمائے وہ ایسی مجالس کو پسند کرتا ہے جس پر ملائکہ بھی فخر کرتے ہیں۔اسے امام احمد نے سندِ حسن کےساتھ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
 (۲؎مسند احمد بن حنبل     از مسند انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ         مطبوعہ دارالفکر بیروت        ۳/ ۲۶۵)
وحدیث۱۴ :ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ: حفظت عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعائین فاما احدھما فبثثتہ، واماالاٰخر فلو بثثتہ قطع ھذا البُلعُومُ ۱؎۔  اخرجہ البخاری۔
میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے علم کے دو ۲ برتن حاصل کئے ہیں ایک کو بیان کرتا ہو ں اگردوسرا بیان کروں تو میرا یہ گلا کاٹ دیا جائے گا۔اس کو بخاری نےروایت کیا ہے(ت)
 (۱؎ صحیح بخاری کتاب العلم    باب حفظ العلم    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ اصح المطابع کراچی        ۱/ ۲۳)
وآیت : یَدُاﷲِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ۔۲؎
ان کے ہاتھ پر اﷲ کا ہاتھ ہے۔(ت)
وآیت : وَمَارَمَیْتَ اِذْرَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اﷲ َرَمٰی۳؎۔
اور اے محبوب! وہ خاک جو تم نے پھینکی تھی تم نے نہ پھینکی بلکہ اﷲ تعالٰی نے پھینکی تھی۔(ت)
وآیت : اَیْنَمَا تُوَلَّوْا وُجُوْھَکُمْ فَثَمَّ وَجْہُ اﷲ۔۴؎
تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اﷲ (خدا کی رحمت تمھاری طرف متوجہ )ہے(ت)
وآیت : قُلِ الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِرَبِّیْ وَمَااُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلاً۔۵؎
تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے اورتمھیں اس کا علم نہ ملا مگر تھوڑا۔(ت)
وآیت : اٰتَٰینہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وعَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْماً۶؎۔
 (تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا) جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا۔(ت)
وآیت : قَالَ اِنَّکَ لن تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْراً ۷؎ وَکَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰی مَا لم تُحِطْ بِہٖ خُبْراً ۸؎
کہا آپ میرے ساتھ ہر گز نہ ٹھہر سکیں گے، اور اس بات پر کیونکر صبر کرینگے جسے آپ کا علم محیط نہیں۔(ت)
 (۲؎ القرآن        ۴۸/ ۱۰)    (۳؎القرآن        ۸/ ۱۷)

 (۴؎ القرآن        ۲/ ۱۱۵)   (۵؎ القرآن   ۱۷/ ۸۵)    

(۶؎ القرآن        ۱۸/ ۶۵)    (۷؎ القرآن        ۱۸/ ۶۷) 

  (۸؎ القرآن        ۱۸/ ۶۸)
وآیت : قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلاَ تَسْئَلْنِیْ عَنْ شِیْ ءٍ حتَّی اُحدِث لک مِنْہُ ذِکْراً ۱؎۔
کہا تواگرآپ میرے ساتھ رہتے تو مجھ سے کسی بات کو نہ پُوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں (ت)
 (۱؎القرآن         ۱۸/ ۷۰)
وآیت : فاَنْطَلَقَا حَتَّی اِذَارَکِبَافِی السَّفِیْنَۃِ خَرقَھَا قَالَ اَخْرَقْتَھَا لِتَغْرَقَ اَھْلَھَا لَقَدْ جِئتَ شَیْئًا اِمْرًا۲؎ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا ۳؎
اب دونوں چلے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو اس بندہ نے اسے چیر ڈالا موسی علیہ السلام نے کہا کیا تم نے اسے اس لیے چیرا ہے کہ اس کے سواروں کو ڈبو دوں بے شک یہ تم نے بہت بری بات کی کہا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہر گز نہ ٹھہر سکیں گے ۔(ت)
وآیت:فَانۡطَلَقَا حَتّٰی اِذَا لَقِیَا غُلاَماً فَقَتَلَہ قَالَ اَقَتَلۡتَ نَفۡساً زَکِیَّۃً بِغَیۡرِ نَفۡسٍ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئاً نُکۡراً ۴؂ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَکَ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا ۵؎
پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک لڑکا ملا اس بندہ نےاسے قتل کردیا ۔موسٰی علیہ السلام نے کہا کیا تم نے ایک سُتھری جان بے کسی جان کے بدلے قتل کردی ،بیشک تم نے بہت بُری بات کی ،کہا میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہر سکیں گے(ت)
 (۲؎ القرآن        ۱۸/ ۷۱) (۳؎ القرآن      ۱۸/ ۷۲)

 (۴؎ القرآن         ۱۸/ ۷۴) (۵؎ القرآن         ۱۸/ ۷۵)
وآیت: قَالَ ھٰذَا فرَاقُ بَیْنِیْ وَبَیْنِکَ سَأنَبِّئُکَ بِتَاْوِیْلِ مَالَمْ تسْتَطِعْ عَلَیْہِ صَبْرًا ۶؎
کہا یہ (وقت) میری اور آپ کی جدائی کاہے اب میں آپ کو ان باتوں کا پھیر (یعنی علت ووجہ) بتاؤں گا جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا۔(ت)
وآیت : وَمَافَعَلْتُہ عَنْ اَمْرِیْ ذٰلِکَ تَاْوِیْلُ مَالَمْ تَسْطِعْ عَلَیْہِ صَبْرًا ۱؎۔
اور یہ کچھ مین نے اپنے حکم سے نہ کیا ، یہ پھیر (علت و وجہ) ہے ان باتوں کاجس پر آپ سے صبر نہ ہوسکا (ت)
(۶؎القرآن        ۱۸/ ۷۸)   (۱؎ القرآن        ۱۸/ ۸۲)
وغیرہ ذلک آیت واحادیث سمجھ والوں کے لئے علمِ باطن اوراُس کے رجال ومضائق مجال و حقائق ،اقوال و دقائق افعال کا پتا دینے کو بہت ہیں،
ومن لم یجعل اﷲ لہ نوراً فمالہ من نور۲؎
اور جسے اﷲ تعالٰی نورنہ دے اُس کے لئے کہیں نور نہیں(ت)
 (۲ ؎ القرآن ۲۴/ ۴۰)
یا نہ اس بحر عمیق کے لئے ساحل ،نہ یہ حضرات اُس کی سیر کے قابل ،نہ اس  معنی سے اصل غرض سائل، لہذا فقیر این وآں سے قطع نظر کرکے نفس مرام مسئول عنہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے یعنی نماز میں حضرات غیر مقلدین کی اقتداء کا حکم کیا ہے ، اور ازانجا کہ اسکی تنقیح اُن کی کشف بعض بد عات پر موقوف ،لہذا اس بارے میں ایک اجمالی مقدمہ لکھ کر عنانِ قلم جانب جواب مصروف ،ہرچند اس باب میں علماء متعدد تحریریں کرچکے مگر میں امید کرتا ہوں کہ بحول اﷲ تعالٰی یہ موجز تحریر کافی و کافل وافی وکامل شافی ونافع صافی و ناصع واقع ہو
وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الٰی ذری التحقیق انہ نعم المولٰی ونعم المعین وَالحمد ﷲ رب العٰلمین۔
Flag Counter