Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
167 - 185
النّھی الاکید عن الصّلاۃ وراء عدی التقلید(۱۳۰۵ھ)

(دشمنِ تقلید کے پیچھے نماز ادا کرنا سخت منع ہے)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمدﷲ الذی ھدانا السنن ÷ ووقانا المحن  ÷ وجعل فینا کل امام حسن ÷  بہ یُتَأشی وعلیہ یؤتمن  ÷  واغنانا ان نقتدی باھل الفتن ÷  والصلاۃ  والسلام الاحَنّ  ÷  علی الامام الامین الامان الامنّ  ÷ محمد مربی الروح والبدن  ÷  واٰلہ وصحبہ فی السرّوالعلن ÷  والائمۃ المجتھدین مصابیح الزمن  ÷  کاشفی ماخفی ومظھری مابطن ÷  الثقات السرّاۃ ھداۃ السنن  ÷  السقاۃ الفراۃ  من فراۃ السنن وعلینا بھم یاعظیم المنن ÷  واشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ صلی اللہ علیہ ربھم وسلم ومن ÷
تمام خوبیاں اُس ذاتِ اقدس کے لئے جس نے ہمیں صحیح راہ کی ہدایت عطاکی اور ہمیں محنت ومشقت سے بچالیا ، ہم میں اچھے واعلٰی امام بنائے جن کی اقتدا کی جاتی ہے اور ان پراعتماد کیاجاتا ہے ، ہمیں اہل فتن کی اقتداء سے محفوظ کیا۔ نہایت ہی عاجزانہ طور پر صلاۃ وسلام ہو اس امام و مقتدا پر جو امین ،جائے پناہ اور سب سے بڑے محسن ہیں جن کا اسم مبارک محمد ہے جو روح وبدن کے مربّی ہیں ، ان کی آل واصحاب پر بھی سراً و جہراً ،ان ائمہ مجتہدین پر بھی جو اپنے زمانے کے لئے چراغ ہیں ،مخفی امور کھولنے اور باطنی معاملات کو ظاہر کرنے والے، رازوں کے پختہ محافظ ،سنن نبی کی طرف ہادی ،سنن کی نہر فرات سے مشکیزے بھر بھر کر پلانے والے، اے احسان فرمانے والے ان کے ساتھ ہم پر بھی رحمتوں کا نزول ہو۔میں گواہی دیتا ہو ں اس بات کی کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں ، ذات وصفات میں اس کا کوئی شریک نہیں ،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کے برگزیدہ بند ے اور رسول ہیں ،ان پر ان کے رب کی طرف سے صلوۃ وسلام اور کرم ولطف ہو ۔(ت)
اما بعد یہ چند سطور کا شفۃ السطور جلیلۃ الفائدۃ جمیلۃ العائدہ ہیں اظہا ر صواب میں اس سوال کے جواب میں جو فقیر ناسزا عبدالمصطفی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی غفراللہ لہ وحقق املہ واصلح عملہ کے پاس مولوی فضل الرحمن صاحب حفظ عن الشرور امام جامع مسجد فیروز پور کا بھیجا کیمپ فیروز پور ملک پنجاب سے آیا ،فقیر ان دنوں ایک مبارک رسالہ بجواب سوال مونگیر بنگالہ مسمی بہ تجلی الیقین بان نبینا سیدالمرسلین لکھنے میں مشتغل ،اور اس کے اور چند مسائل دیگر بلاد کو مسئلہ پنجاب پرحق تقدم حاصل جب ان سے فراغت پائی اس کی نوبت آئی
النھی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلید (۱۳۰۵ھ)
اس تحریر کا نام اور یہی اس کی تا ریخ آغاز وانجام ، اس رسالہ میں اصل مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ غیر مقلدوں کے پیچھے نماز ناروا ہے اس کے ضمن میں ان کے بعض عقائد واحوال ومکائد ودیگر فوائد بنہایت اجمال تحریر میں آئے ،مولی سے مسئول کہ قبول فرمائے اہل اسلام وسنت کو نفع پہنچائے ،ازانجا کہ موضوع رسالہ رد مخالف نہیں ، لہذا لحاظ مجادل سے کنا رہ گزیں کہ وہ تو ایک فتوی ہے جو اب مسئلہ کی حد پر مقتصر اور اپنے موافقوں پر ایک حکم کا مظہر جسے اس رنگ کا کلام مشتاق بنائے تصانیف افاضل یا فقیر حقیر کے دیگر رسائل مندرجہ مجموعہ
"البارقۃ الشارقۃ علی ما رقۃ المشارقۃ "
کی طرف رجوع لائے
وحسبنا اللہ ونعم الوکیل وافضل الصلوۃ علی الحبیب الجمیل والہ وصحبہ بالوف التبجیل امین امین یا عزیز یا جلیل ۔
نقل عبارت استفتاء
مسئلہ ۸۴۵: باسمہ سبحانہ ،بخدمت بابرکت حضرت مولینا وبالفضل والکمال اولٰنا مخدوم مکرم معظم حضرت مولینا احمد رضا خاں صاحب سلمہ الرحمن ۔سلام مسنون بہ نیاز مقرون کے بعد عرض ہے کہ للہ اس استفتاء کا جواب مرحمت فرمائیں کہ عند اللہ ماجور وعند الناس مشکور ہوں ۔مولوی غلام نبی صاحب امام مسجد قصابان خورد جو شاگردمولویان لکھنؤ کے علاقہ فیروز پورکے ہیں اول انھوں نے رسالہ شاہ طیور جس میں حضرت ابن عربی اور مولینا روم ومولانا عبدالرحمن جامی علیھم الرحمۃ کی تکفیر درج تھی اور وہ رسالہ مطبع فیروز پور میں حافظ محمد صاحب لکھنؤی نے چھاپا تھا اس کی تصدیق پر اپنے دستخط کردیے تھے جس کے شاہد بہت لوگ موجود ہیں اور اس کا کسی قدر ذکر رسالہ تصریح ابحاث فرید کوٹ کے صفحہ ۴۱ کے متن وحاشیہ میں مندرج ہے ۔ پھر جب ریاست فرید کوٹ میں علمائے مقلدین کا مناظرہ ہوا تھا تب بھی یہ مولوی صاحب بشمول علما ء غیر مقلدین کے تھے اور ان کے زمرہ میں ریا ست سے رخصت نامہ لےکر واپس آئے تھے جیسا کہ اشتہار ۱۱ فروری ۱۸۸۳ ء مطبوعہ ریاست فرید کوٹ اس پر شاہد ہے اور رسالہ کے صفحہ ۱۷ میں بھی اس کا نام بزمرہ غیر مقلدین شامل ہے ۔پھر مسائل اور واقعات اس کے بھی صریح غیر مقلدی کی دلیل ہیں جس کا نمونہ ایک یہ ہے کہ مسماۃ فاطمہ بنت امام الدین خاں کو جب اس کے شوہر نے مطلقہ کیا اور طلاق نامہ تحریر ہو ا تو بائیس روز بعد ازاں عدت کے اندر ہی مولوی مشار الیہ نے اس مطلقہ کا نکاح بابو مین ملازم مسکوٹ لال کرتی سے منعقد کردیا اور اس کی دلیل مولوی جمال الدین امام مسجد بوچڑاں کلاں کو دکھلائی کہ حدیث ترمذی سے ثابت ہے کہ خلع کی عدت ایک حیض ہوتا  ہے ،اس پر جواب دیا گیا کہ دینی کتابوں میں مثل فتح القدیر وغیرہ کے صریح لکھا ہے کہ خلع طلاق ہے بسند حدیث بخاری وغیرہ کے اور جمہور امامان سلف وخلف کا یہی مذہب ہے
کما فصل فی باب الخلع
 (جیسا کہ باب خلع میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔ت) اور باب عدت میں بھی مذکور ہے اور طلاق اور خلع اور لعان سب کی عدت تین حیض ہیں اھ مترجماً،پس یہ نکاح عدت کے اندر حنفی مالکی شافعی سب کے نزدیک نارواہے جو شخص غیر مقلد ایسے اطوار کا طور رکھے اور حرام کو حلال بتا دینے تک نوبت پہنچائے تو اس کے پیچھے اقتدا روا ہے یا نہیں ؟بینواتؤجروا ۔حررہ محمد فضل الرحمن امام جامع مسجد صدربازار فیروز پور پنجاب ۱۰ شوال ۱۳۰۵ھ   محمد فضل الرحمن
اللھم ھدایۃ الحق والصواب
الجواب

فقیر غفر اللہ تعالی لہ کو زید وعمرو کی ذات سے غرض نہیں اور حضرات اولیا ئے کرام قدست اسرارہم کی شان عظیم میں بعد وضوح حق اس کلمہ ملعونہ کہنے کا جواب جو روز قیا مت ملے گا بس ہے ،وہ حضرات جرات شعار جسارت وثار جن کا مسلک عامہ ائمہ وعلمائے کبار کو عیاذاً باللہ مشرک بتائے ان سے مدارک دقیقہ حقائق اولیا ءتک نہ پہنچنے کی کیا شکا یت کی جائے علاوہ بریں یہ مسئلہ خود اس قابل کہ اس میں ایک رسالہ مستقلہ تصنیف میں آئے اور خدا انصاف دے تو حدیث بخاری :
حتی احببتہ فکنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصر ہ الذی یبصر بہ ویدہ التی یبطش بھا ورجلہ التی یمشی بھا(الٰی قولہ تعالٰی ) وما ترددت عن شیئ انافاعلہ ترددی عن قبض'ف۱' نفس المؤمن یکرہ الموت واناکرہ مساء تہ۱؎۔
جب میں بندے کو محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کی سمع (کان ) بن جا تا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ،اس کی آنکھ بنتا ہو ں جس سے وہ دیکھتا ہے ،اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ گرفت کرتا ہے۔اس کے پاؤں بنتا ہوں جس سے چلتا ہے(آخر میں اﷲ تعالٰی کایہ بھی فرمان ہے) میں کسی شیئ کے بجالانے میں کبھی اس طرح تردّد نہیں کرتا جس طرح جانِ مومن قبض کرتے وقت تردّد کرتا ہوں وُہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کے مکروہ سمجھنے کو برا جانتا ہوں۔(ت)
 (۱؎ صحیح بخاری         کتاب الرقاق باب التواضع        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲/ ۹۶۳)
ف۱: بخاری شریف کی روایت میں''عن نفس المؤمن''ہے ''قبض''کالفظ بخاری شریف میں موجود نہیں البتہ فتح الباری مطبوعہ مصر جلد ۱۴ص ۱۳۱ پر یہ عبارت ہے''او قع فی الحلیۃ''آخر میں''عن قبض روح المؤمن الخ''نذیراحمد
و ۲ حدیثِ مسلم:یا ابن اٰدم مرضت فلم تعدنی،یاابن اٰدم استطعمتک فلم تطعمنی،یاابن اٰدم ! استستقیتک فلم تسقنی۲؎ اخرجاھما عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اے ابن آدم !میں بیمار ہُوا، تونے میری عیادت  نہیں کی، اےابن آدم! میں نے تجھ سے کھانامانگا تو نے مجھے کھانا نہیں دیا، اےابن آدم! میں نے تجھ سے پانی طلب کیا ،تونے مجھے پانی نہیں دیاان دونوں کو بخاری ومسلم دونوں نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے(ت)
 (۲؎ صحیح مسلم ،  باب فضل عیادۃ المریض،  مطبوعہ نور محمد اصح المطابع، ۲/ ۳۱۸)
و ۳ حدیث مشہور: قم الیّ امش الیک وامش الیّ اھرول الیک۳؎۔ اخرجہ احمد ف۲ عن رجل من الصحابۃ والبخاری بمعناہ عن انس۴ وعن ابی ھریرۃ ۵ والطبرانی فی الکبیر عن سلمان ۶رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
اے بندے! تو میری طرف اُٹھ مَیں تیری طرف چل پڑوں گا ،تو میری طرف چل میں تیری طرف دوڑ پڑوں گا۔اس کو امام احمد نے ایک صحابی سے اور امام بخاری نے معناً اسے حضرت انس اور حضرت ابو ہریرہ سے اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت سلمان رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے(ت)
 (۳؎ مسند لاحمد بن حنبل    حدیث من اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم    مطبوعہ دارالفکر بیروت   ،    ۳/ ۴۷۸)
ف۲:مسند احمد بن حنبل میں آغازِ حدیث یوُں ہے: قال اﷲ تعالٰی یا ابن اٰدم قم الٰی الخ۔نذیر احمد
وحدیث ۷: واذا احب اﷲ عبداً لم یضرہ ذنب۱؎اخرجہ الدیلمی والامام الاجل القشیری وابن النجار فی التاریخ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جب اﷲ تعالٰی کسی بندے کو محبوب بنالیتا ہے تو اسے کوئی گناہ ضرر نہیں دیتا ۔اسےدیلمی،امام اجل قشیری اور ابن نجار نے تاریخ میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
 (۱؎ الرسالۃ القشیریۃ         باب التوبہ        مطبوعہ دارالکتب العربیہ الکبرٰی مصطفی البابی مصر        ص۴۵)

(الفردوس بما ثور الخطاب         حدیث ۲۴۳۲    مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت            ۲/ ۷۷)
وحدیث۸: الدنیا والاٰخرۃ حرام علی اھل اﷲ ۲؎۔اخرجہ فی مسندالفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
دنیا و آخرت اہل اﷲ پر حرام ہیں۔اسےمسند الفردوس میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے(ت)
 (۲؎الفردوس بما ثور الخطاب         حدیث ۳۱۱۰        مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت            ۲/ ۲۳۰)
Flag Counter