نماز میں فرضیت قرأت کا انکار احادیث کثیرہ صحیحہ صریحہ حضور پُرنور سیّدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا رداور اجماعِ ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا خرق بلکہ بعد انقطاع اقوال شاذہ اجماع مستقر کاخلاف اور اب گمراہی و ضلالت صاف صاف ہے۔امام عبدالوہاب شعرانی میزان الشریعۃ الکبرٰی میں فرماتے ہیں :
اجمع الائمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم علی ان الصلٰوۃ لاتصح الامع العلم بدخول الوقت وعلی ان للصلٰوۃ ارکاناً داخلۃً فیھا وعلی ان النیۃ فرض وکذلک تکبیرۃ الاحرام والقیام مع القدرۃ والقرأۃ والرکوع والسجود والجلوس فی التشھد الاخیر (الی ان قال) ھذا ماوجدتہ من مسائل الاجماع التی لایصح دخولھا فی مرتبتی المیزان ۱؎۔
تمام ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا اتفاق ہے کہ صحتِ نماز کے لئے نمازی کو اس بات کاعلم ہوناضروری ہے کہ نماز کا وقت شروع ہوچکا ہے ،اس پر بھی اتفاق ہے کہ نماز کے ارکان نماز میں داخل ہیں ،اسپر بھی اتفاق ہے کہ نیت فرض ہے ،اسی طرح تکبیر تحریمہ اور قدرت کے ساتھ قیام،قرأت ،رکوع ، سجود ،اخیری تشہد میں بیٹھنا (آگے چل کر کہا) یہ وہ مسائل ہیں جن پر میں نے اجماع پایا ان کو میری مرتب کردہ کتاب المیزان میں داخل کرنا صحیح نہیں۔(ت)
(۱؎ المیزان الکبرٰی باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۴۶)
رحمۃ الامہ فی اختلاف الائمہ میں ہے:
اتفقوا علی ان القرأۃ فرض علی الامام والمنفرد فی رکعتی الفجر وفی الرکعتین الاولین من غیرھا۲؎۔
فقہا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام اور منفرد پر فجر کی دونوں رکعات اوراس کے علاوہ دیگر نمازوں کی پہلی دو رکعت میں قرأت فرض ہے۔(ت)
نسب صاحب غایۃ البیان الاصم الی خرق الاجماع وھو یفید سبق الاجماع علی الافتراض قبل ذھابہ الی عدمہ ۳؎۔
صاحبِ غایۃ البیان نے اصم کی خرق اجماع کی طرف نسبت کی ہے اور یہ بات واضح کررہی ہے کہ اصم کے عدمِ فرضیت کا قول کرنے سے پہلے اس کی فرضیت پر اجماع ہو چکا ہے۔(ت)
(۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
عالمگیری میں ہے:
من انکر خبرالواحد لا یکفر غیرانہ یاثم بترک القبول ھکذا فی الظہیریۃ ۴؎۔
خبر واحد کا منکر کافر نہیں البتہ ترک قبول کی وجہ سے گنہگار ہوگا۔ظہیریہ میں اسی طرح ہے۔(ت)
من کان خارجاً عن ھذہ الاربعۃ فی ھذا الزمان فھو من اھل البدعۃ والنار۵؎۔
یعنی جوان چاروںمذہب سے اس زمانہ میں باہر ہے وہ بدعتی اور جہنمی ہے(ت)
(۵؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الذبائح مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۵۳)
نماز میں الحمد و سورۃ کی حاجت نہ ماننا بھی جہلِ قبیح اورارشادات حضور پُرنور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا انکار صریح ہے ۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاصلٰوۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب۱؎۔
یعنی بے سورہ فاتحہ کے نماز ناقص ہے رواہ الائمۃ احمد والستۃ عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ(اسے امام احمد اوراصحابِ صحاح ستہ نےحضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
(دوسری حدیث میں فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
من صلی صلاۃ لم یقرأ فیھا بفاتحۃ الکتاب فھی خداج۲؎۔رواہ احمد ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی عن ابی ھریرۃ واحمد وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
یعنی جونماز بے سورہ فاتحہ کے ہو وہُ ناقص ہے ۔اس کوامام احمد،مسلم،ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اورامام احمد اورابن ماجہ نے حضرت ام المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا ہے۔
(۲؎ صحیح مسلم باب وجوب قرأۃ الفاتحہ فی کل رکعۃ الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱/ ۱۷۰)
تیسری حدیث میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے۔
ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امرہ ان یخرج فینادی ان لاصلٰوۃ الابقرأۃ فاتحۃ الکتاب فمازاد ۳؎۔ رواہ احمد و ابوداؤد۔
یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ باہرجاکر منادی کردیں کہ بے سورۃ فاتحہ اور کچھ زائد قرأت کی نماز ناقص ہے۔اس کو امام احمد اورابوداؤد نے روایت کیا ہے۔
چوتھی حدیث میں ہے، فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
لاتجزئ صلاۃ الا بفاتحۃ الکتاب ومعھاغیرھا۴؎۔رواہ الامام الاعظم ابو حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن سیدنا ابی سعیدن الخدری رضوان اﷲ تعالٰی علیہ ومعناہ نحوہ عندالترمذی وابن ماجۃ۔
نمازکام نہیں دیتی بے فاتحہ اوراس کے ساتھ اور قرأت کے ۔اس کوامام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نےسیّدنا ابو سعید الخدری رضوان اﷲ تعالٰی علیہ سے روایت کیا اور معناً اسی طرح ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
(۴؎ مسند الامام اعظم مع تنسیق النظام کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ص۵۸)
اور ان سب سے سخت تروناپاک تراُس کا وہ قول مردود ہے کہ کلمہ طیّبہ میں(خاکش بدہن) محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہنے کی کیا ضرورت ! اگر اس سے یہ مراد لیتا ہے کہ اسلام لانے کو صرف لا الٰہ الا اﷲ ماننا کافی ہے محمد رسول اﷲکی حاجت نہیں جب تو قطعاً یقینا نرا کافر مرتد ہے۔عورت اُس کی اُس کے نکاح سے نکل گئی پاس جائے گا تو زنا ہوگا ،اولاد ہوتو ولدالزنا ہوگی۔عورت کواختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرے۔ اور اگر یہ مراد نہیں تاہم ناپاک کلام کی طرز سوق سخت گستاخی وبے باکی سے خبر دے رہی ہے۔ اور وہ لفظ ''جنّت میں نہ جائے گا توکیا اعراف میں نہ جائے گا '' دین متین کےساتھ استہزا کا پتا دیتا ہے۔ بہرحال اس قدر میں شک نہیں کہ شخص مذکور فاسق فاجر گمراہ بد مذہب ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز و ممنوع ہے
(اس کی تفصیل ہم نے اپنے رسالہ النہی الاکیداور اپنے فتاوی میں متعدد جگہ پر کی ہے۔ت) مسلمان اس سے توبہ لیں اگر توبہ کرلے فبہا ورنہ اس کے ساتھ وُہ معاملہ برتیں جو بددینوں کے ساتھ چاہئے