مسئلہ نمبر ۸۴۰: ۲۸ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز کی پڑھائی معیّن کرکے لینا درست ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب: درست ہے مگر بچنا بہتر ہے اﷲ کے واسطے پڑھائے اور نمازی اسے حاجتمند دیکھ کر اﷲ کے لئے اس کی اعانت کریں یہ صاف کرلیاجائے کہ امامت کی اُجرت کچھ نہ لی دی جائے گی یُوں بلا دغدغہ حلال طیب ہے
لان النفی الصریح یزیل حکم دلالۃ الحال فان الصریح یفوق الدلالۃ کما فی قاضی خان ۱؎
(کیونکہ صراحۃً نفی ،دلالت کو زائل کردیتی ہے کیونکہ صراحت ، دلالت سے فوقیت رکھتی ہے قاضی خاں میں اسی طرح ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ درمختار کتاب الھبۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹)
ف: سعی بسیار کے باوجود یہ عبارت فتاوٰی قاضی خان سے نہیں مل سکی ،دُرمختار سے یہ عبارت مفہوماً ملی ہے اس لئے اس کا حوالہ دیا ہے۔ نذیر احمد سعیدی
مسئلہ نمبر ۸۴۱: از مرادآباد مرسلہ مولوی محمد عبدالباری صاحب ۷صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بعد فراغت نماز اگر مقتدی کو مجبور کرے کہ باتباع اُس کے ویسے ہی بیٹھے رہیں اور نہ اُٹھیں تاخیر میں مقتدیوں کا قریب نصف گھنٹہ کے ضائع ہوا اور درصورت عدمِ شرکت بوجہ مجبوری اُن پر اتہام مذکور کو بیجا لگا ئے تو یہ چیز کہاں ثابت، اس کے لئے کون سی حدیث ناطق، اوراُس چیز کا نام سنّتِ نبوی رکھنا اوراُن کومجبور کرنا حتٰی کہ اُن پر الزام توہب کا نہیں بلکہ تلہب کا لگانا شرع شریف میں کس مقام پر وارد ہے؟
الجواب: امام کو سلام کے بعد مقتدیوں پر کوئی جبر کا اختیار نہیں،سلام سے تو اس کی ولایت منقطع ہوچکی عین نماز میں جب تک وہ متبوع تھا اوراس کی پیروی مقتدیوں پر واجب تھی اُس وقت بھی اُسے حرام تھا کہ سنّت سے زیادہ کوئی بات ایسی کرے جو مقتدیوں پر ثقیل وگراں ہو،اس پرحضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے غضب شدید فرمایا اورایسا کرنےوالے کو فتان بتایا یعنی سخت فتنہ گر،تو بعد نماز بلاوجہ شرعی مجبوری کرنا اورنہ ماننے والے کو جھوٹا اتہام لگانا کیسا سخت حرامِ شدید اورظلم بعید ہے ۔ پھراس ظلم وحرام کانام معاذاﷲ سنّت رکھنا نہایت سخت اشد اورصریح گمراہی اور سنّت پر افترا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۴۲: مسئولہ مکرم احمداﷲ صاحب صدر بازار ہردوئی
تارکِ فرض وواجب نیز سنّت مؤکدہ اورتارک مستحب ومباح کس درجہ کا گنہگار ہے ۔تارک امور خمسہ یا تارک مستحب ومباح کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب: فرض کے ایک بار ترک سے فاسق ہے اور ترک واجب کی عادت سے ،سنّت موکدہ کا حکم میں قریب واجب ہے،فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے،اورفاسق بالاعلان ہو تو اسے امام بنانا گناہ اوراس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ،مستحب ومباح کے ترک میں کچھ گناہ نہیں،نہ ان کے تارک کی امامت میں کچھ نقص ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۴۳: از شہر کہنہ ۲۷رجب ۱۳۲۰ھ: ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی اس مسئلہ میں کہ امام ضم سورہ میں اس قدر دیر کرتا ہے کہ بعد آمین کہنے کے کلمہ طیّبہ پڑھ لیا اس قدر دیر کرنا امام کو جائز ہے یا نہیں۔اس کومنع کیا گیا کہ اس قدر دیر نہ کیا کرو ،وہ کہتاہے کہ سورۃ سوچنے میں دیر ہوجاتی ہے اور دیر کرنے کو نہیں چھوڑتا ہے۔پس اس امام کی اقتدا سے نماز میں کسی قسم کی کراہت ہوجاتی ہے یا نہیں؟
الجواب: سورۃ سوچنے میں اتنی دیر جس میں تین بار سبحٰن اﷲکہہ لیاجائے ترک واجب وموجب سجدہ سہو ہے۱؎
کمانص علیہ فی التنویر والدر والغنیۃ وغیرھما
(تنویر ، در، غنیـہ وغیرہ میں اس پر نص کی جاتی ہے۔ت) تو یہ جس کی عادت ہے اس کے پیچھے نماز میں ضرور کراہت ہے۔
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل سجود السہو مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۶۵)
(درمختار باب سجود السہو مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۰۳)
عالمگیریہ ومحیط میں ہے:
من یقف فی غیر مواضعہ ولایقف فی مواضعہ لاینبغی لہ ان یؤم وکذا من یتنحنح عند القرأۃ کثیراً ۲؎۔
جو نہ ٹھہرنے کی جگہ وقف کرے اور وقف کی جگہ وقف نہ کرے اسے چاہئے کہ وہ امام نہ بنے ،اور اسی طرح اس شخص کا حکم ہے جو قرأت کرتے وقت کثرت سے کھانستا ہو۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثالث فی بیان من یصلح امامالغیرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۸۶)
جو وقف ووصل بے جاکرے یا پڑھتے وقت باربار کھنکارے جب اسے فرماتے ہیں کہ اس کی امامت سزاوار نہیں حالانکہ مراعات وقف ووصل واجبات نمازسے نہیں ۔تو جو واجب نماز یعنی وصل سورۃ و فاتحہ بے اجنبی کے ترک کا عادی ہو بدرجہ اولٰی لائق امامت نہیں ،ہاں فاتحہ کے بعد اتنی دیر کہ دم راست کرے آمین کہے، کوئی سورۃ ابتداء سے پڑھنی ہو تو
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
پڑھے کہ یہ دیر بھی تقریباً کلمہ طیّبہ پڑھنے کے برابر ہوجائے گی، بلاشبہ مباح وسنّت و مستحب ہے۔و اﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۴۴: از شہر کہنہ ۲۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ زید کہتا ہے کہ بعد کلمہ لا الٰہ الااﷲ کے محمد رسول اﷲکی کیا ضرورت ہے، اگر جنّت نہ جائے گا تو کیا اعراف میں بھی نہ جائے گا۔زیدقیام میں نماز کے بعد بقدر سات۷ بار اﷲ اکبرکہنے کے ٹھہرتا ہے۔کہتا ہے کہ صرف سبحٰن اﷲ وبحمدہ کہنے سے نماز ہوجاتی ہے ،بے کُرتا ٹوپی کے نماز ادا کرتا ہے کہتا ہے کہ صرف پائجامہ سے نماز ہوجاتی ہے ۔یوں بھی کہتا ہے کہ نماز میں الحمد وسورۃ کی کچھ حاجت نہیں ۔ایسے شخص کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ ایسے شخص کو مسلمان سمجھنا چاہئے یا نہیں؟ اہلِ اسلام کا سا برتاؤاس سے چاہئے یانہیں؟ جواب بدلیل قرآن وحدیث وفقہ سے تحریر فرمائیں۔بینواتوجروا
الجواب:صرف پائجامہ پہنے بالائی حصّہ بدن کا ننگارکھ کر نماز بایں معنٰی تو ہوجاتی ہے فرض ساقط ہوگیا،مگر مکروہ تحریمی ہوتی ہے۔واجب ترک ہوتا ہے فاعل گنہگار ہوتا ہے اس کاپھیرنا گردن پر واجب رہتا ہے نہ پھیرے تو دوسرا گناہ سر پر آتا ہے ،ہاں اگر اتنے ہی کپڑے کی قدرت ہے تو ایسی محتاجی میں مجبوری و معافی ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایصلّی احدکم فی الثوب الواحد لیس علی عاتقہ من شیئ ۱؎۔رواہ شیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ہرگز تم میں کوئی شخص ایک ہی کپڑا پہن کر نماز نہ پڑھے کہ کندھے پر اس کا کوئی حصہ نہ ہو ۔ اسے امام بخاری ومسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔
(۱؎ صحیح بخاری باب اذاصلی فی الثوب الواحدالخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۲
صحیح مسلم باب الصلٰوۃ فی ثوب واحد الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱/ ۱۹۸)