مسئلہ نمبر ۸۳۵: از کانپور پرتھی ناتھ اسکول مسئولہ قاضی محمد شمس الدین ۲۱صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے بریلی اس بارہ میں کہ اگر کوئی شخص حنفی المذہب وکرامات اولیاء اﷲ کا قائل ،علمِ دین و فنِ تجوید سے بہرہ ور حالت پیری میں نابینا ہوگیا ہو توُ اُس کی امامت کیسی ہے،شرح وقایہ جلد اول، باب الجمعہ صفحہ ۲۴۲ میں مرقوم ہے کہ:
من صلح اماما فی غیرھا (فی غیرصلٰوۃ الجمعۃ ) صلح فیھا ای ان ام المسافر او العبد فی الجمعۃ صحت۱؎ الخ
جو اس (نماز جمعہ کے علاوہ) امام بننے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ اس میں بھی امام بن سکتا ہے ،یعنی اگر مسافر ، مریض یاغلام نے جمعہ کی امامت کرائی تو جمعہ صحیح ہوگا الخ(ت)
(ا؎ شرح وقایہ باب الجمعہ مطبوعہ المکتبۃ الرشید دہلی ۱/ ۲۴۲)
کیااس عبارت مختصرمختصر وقایہ وشرح وقایہ سے یہ تنقید متر شح ہوتی ہے کہ جو نابینا متصف بہمہ اوصاف مذکورہ بالاہو اُس کے امام بننے سے مقتدیوں کی نماز نہیں ہوتی ،نسخہ بحرالرائق جلد اول ص ۳۶۹ کی عبارت صاف دال ہے کہ ابن ام مکتوم جونابینا تھے امام بنائے گئے تھے بحوالہ کتب مرحمت فرمائیے۔
الجواب: نابینا سنّی صحیح العقیدہ صحیح الطہارۃ صحیح القرأۃ بلاشبہ امام ہوسکتا ہے صرف اس کا''غیر''اولٰی ہے کہ اگر یہ اُس سے مسائلِ نمازوطہارت میں علم زیادہ نہ رکھتا ہو ورنہ یہی اولٰی ہے
کما فی الدر۲؎ وغیرہ
(جیسا کہ دُرمختار وغیرہ میں نابینا کاحکم بیان کیا گیا ہے۔ت)
(۲؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۳)
عبارت مذکورہ سوال کو امامت نابینا کی نفی سے کوئی تعلق نہیں،ہاں جمعہ و عیدین میں بینا ہو یا نابینا وہی شخص امام ہوسکتا ہے جو خود سلطانِ اسلام ہو یا اُس کا ماذون یا وہاں کااعلم اہل بلد یا اُ س کا ماذون ہو ورنہ بضرورت جسے عام مسلمانوں نے ان نمازوں میں امام مقرر کیا نابینا اگر ان پانچ میں سے ہے تو جمعہ و عیدین اس کے پیچھے ہوسکیں گے اور بینا اگران میں سے نہیں تو اُس کے پیچھے نہ ہوں گے ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۸۳۶: ازبشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی رضاخان صاحب ۴رجب ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید قوم سادات سے ہے اورامامت بھی کرتا ہے وہابیہ اور سنّی عالم کو یکساں سمجھتا ہے ،مسئلہ علمِ غیب کا جب ذکر آتا ہے جواب میں کہتا ہے یہ مسئلہ جدید نہیں ہے قدیم سے اسی طرح جھگڑا ہوتا چلا آیا ہے اور عالم باہمی تقریر اور حجت کرتے چلے آئے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے اور سائل ایک مفتی سنّی عالم کے جو کہ واجبات سنّت و مستحب سے تعلق رکھتے ہیں اُن کے بارے میں کہتا ہے کہ کرے توثواب ہے نہ کرے تو حرج نہیں اور خلاف کمیٹی جو علمائے وہابیہ کررہے ہیں اُن کی امداد پہنچانے کی غرض سے نہایت کوشش سے چندہ فراہم کرکے پہنچاتا ہے اور جب یہ کہا جاتا ہے کہ سنّی عالم انکارکرتے ہیں تو جواب میں کہتا ہے کہ ہم کس کا منہ پکڑیں لوگ تو سنّی عالموں کو طرفدارِ انگریز وملازم کہتے ہیں عمرو ایک سنّی مفتی عالم کا مرید ہے۔ زید کی ان باتوں سے متنفر ہوکر نمازِ جمعہ ترک کرکے ظہر پڑھتا ہے آیا اس صورت میں زیدقابلِ امامت ہے یا نہیں،معتبر کتب سے ثبوت ہونا چاہئے ۔بینواتوجروا
الجواب : جو شخص وہابیہ اور اہلسنّت علماء کو یکساں سمجھتا ہے اسی قدربات اُس کے خارج از اسلام ہونے کو بہت ہے اُس کے پیچھے نماز باطل ہے جیسے کسی ہندو یا نصرانی کے پیچھے ۔جمعہ اگر اور جگہ نہ مل سکے نہ اُسے امامت سے جُدا کرسکے تو فرض ہے کہ ظہر پڑھے اُس کے پیچھے جمعہ پڑھے گا تو سخت شدید وکبیر گناہ کرے گا اگرچہ بعد کو ظُہر بھی پڑھ لے اور اگر نہ پڑھے تو جمعہ ہوگا نہ ظہر،فرض سرپر رہ جائے گا۔فتح القدیر میں ہے:
روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنھم ان الصلاۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز ۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم
امام محمد نے امام ابو حنیفہ اورامام ابو یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا کہ اہلِ بدعت وبدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۴)
مسئلہ نمبر ۸۳۷:از مارہرہ شریف ضلع ایٹہ مرسلہ جناب سیّد ظہورحیدر میاں صاحب ۴جمادی الاخری ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص ہمیشہ ہمیشہ بوجہ کثرتِ احتلام یا کسی اورمرض جسمی کے بجائے غسل تیمم سے نماز ادا کرتا ہے امامت کرنا اس کو تیمم سے بمقابلہ اور مقتدیوں کے جائز ہے یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب : کثرتِ احتلام تو خود کوئی وجہ جوازتیمم کی نہیں جب تک نہانے سے مضرت نہ ہو بے صحیح اندیشہ مضرت کے تیمم سے پڑھے تواس کی خود نماز نہ ہوگی دوسرے کی اُس کے پیچھے کیا ہو، ہاں جسے بالفعل ایسا مرض موجود ہو جس میں نہانا نقصان دے گا یا نہانے میں کسی مرض کے پیدا ہوجانے کا خوف ہے اوریہ نقصان وخوف تو اپنے تجربے سے معلوم ہوں یا طبیب حاذق مسلمان غیرفاسق کے بتائے سے، تو اُس وقت اُسے تیمم سے نماز جائز ہوگی اوراب اس کے پیچھے سب مقتدیوں کی نماز صحیح ہے، غرض امام کا تیمم اور مقتدیوں کا پانی سے طہارت سے ہونا صحت امامت میں خلل انداز نہیں ،ہاں امام نے تیمم ہی بے اجازت شرع کیا ہو تو آپ ہی نہ اس کی ہوگی نہ اُس کے پیچھے اوروں کی ۔تنویر میں ہے:
ترجیح المذہب بفعل عمروبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ حین صلی بقومہ بالتیمم لخوف البرد من غسل الجنابۃ وھم متوضؤن ولم یأمرھم علیہ الصلٰوۃ والسلام بالاعادۃ حین علم۱؎۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا عمل اس مذہب کی ترجیح کا سبب ہے کہ انہوں نے سردی کی وجہ سے غسل جنابت کی جگہ تیمم کرکے اپنی قوم کی امامت کی حالانکہ لوگوں نے وضو کیاہواتھا۔اور جب حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خدمت میں یہ معاملہ پیش ہوا تو آپ نے نماز لوٹانے کاحکم نہیں فرمایا(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۳۸: ۲۷ شوال ۱۳۱۸ھ: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک امام فقط نمازِ جمعہ پڑھاتا ہے دیگر اوقات پنجگانہ نماز میں کبھی امامت نہیں کرتا اور اس امامتِ جمعہ کے عوض میں سال بھر کے بعد رمضان المبارک کے آخری جمعہ میں اورنیز عیدین کی نماز کے بعد اجرت امامت جمعہ وامامت عیدین مصلیین سے طلب کرتا ہے یہ اُجرت اُس کو حلال ہے یا حرام، اور باوجود منع بھی اخذاُجرت سے باز نہیں آتا ایسے شخص کے پیچھے نمازِ جمعہ و عیدین مکروہ ہے یا ناجائز ؟ بینواتوجروا۔
الجواب: اُجرت امامت اگر اس شخص سے قرار پاگئی ہے کہ فی جمعہ یا ماہوار یا سالانہ اس قدر دیں گے یا خاص اس سے قرار داد نہ ہومگر اس امامت کی تنخواہ معیّن ہے اسے بھی معلوم تھی یہ اُسی کے لئے امام بنا اورامام بنانے والوں نے بھی جانا اورمقبول رکھا غرض صراحۃً یادلالۃً تعین اجرت ہو لیا تو یہ اُجرت اُسے حلال ہے اوراس وجہ سے اُس کے پیچھے نماز میں کچھ کراہت نہیں کہ امامت و اذان و تعلیم فقہ وتعلیمِ قرآن پراُجرت لینے کو ائمہ نے بضرورتِ زمانہ جائز قرار دیا ہے
کما نصوا علیہ فی الکتب قاطبۃ
(جیسا کہ اس پر کتب میں نصوص قاطعہ موجود ہیں۔ت)اور جب تعیّن ہولیا تو اجارہ صحیحہ ہُوا جس میں کوئی مضائقہ نہیں اوراگر اجارہ صراحۃً خواہ دلالۃً واقع تو ہُوا یعنی اس نے اُجرت کے لئے امامت کی اور قوم نے بھی اسے اجیر سمجھا مگر تعین اجرت نہ بیان میں آیا نہ قرائن سے واضح ہوا تو اجارہ فاسدہ ہے وہ اُجرت اُس کے حق میں خبیث ہے اُسے تصدق کردینے کاحکم ہے مگر اصل اجارہ اب بھی باطل نہیں، نہ طلبِ اُجرت ظلم ہے، ایسااجارہ اگر متعدد بار کرے گا فاسق ہوگا اوراُس کے پیچھے نماز مکروہ، اوراگر سرے سے اجارہ ہی نہ ہو صراحۃً نہ دلالۃً اوراب اُجرت مانگتا ہے تو صریح ظلم وفسق و کبیرہ ہے یہاں مطلقاً اُس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۳۹: ۲ذی قعدہ۱۳۱۸ھ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام مسجد یہ کہتے ہیں کہ نماز کے بعد مصافحہ بہ تخصیص نماز فجر درست نہیں اوراہل محلہ کہتے ہیں درست ہے اور کہتے ہیں کہ اگر تم اس کے جواز کے قائل نہ ہوگے تم ہم تمھارے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے اس لئے کہ تمھارا مذہب ہمارے مذہب کےخلاف ہے لہذا فرمائیے کہ شرع شریف میں کس طرح ہے اور کیا حکم ہے؟ بینواتوجروا
الجواب: صحیح یہ ہے کہ مصافحہ بعد نماز مباح ہے
نص علی تصحیحہ العلامۃ الخفاجی فی نسیم الریاض
(علامہ خفاجی نے نسیم الریاض میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔ت) امام اگر سنّی المذہب ہے صرف اس مسئلہ میں اس کا خیال بنظر بعض عبارات فقہیہ یہ ہے تو اُسے سمجھا دینا چاہئے کہ تصحیح وترجیح جانبِ جواز ہے صرف اتنی بات پر وُہ ترکِ اقتدا کا مستحق نہیں ،اوراگر بر بنائے وہابیت اس کا انکا ر کرتا ہے تو وہابی بلاشبہ لائق امامت نہیں اہل محلہ کو چاہئے ہرگز اُس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔واﷲ تعالٰی اعلم