مسئلہ نمبر ۸۳۰: ۱۲صفر ۱۳۲۹ھ:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر استاد وہابی ہو تو شاگرد اُس کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب: وہابی کے پیچھے نماز جائز نہیں اگرچہ اپنا استاد ہو بلکہ اُسے استاد بتاناہی اُس کے حق میں زہر قاتل سے بدتر ہے فوراً پرہیز کرے کہ صحبت بد آدمی کو بد بنا دیتی ہے نہ کہ بد کی تعلیم۔رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۴؎۔
اُن سے دُور بھاگو اور اُن کو اپنے سے دُور کرو کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کر دیں کہیں وہ تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(۴؎ صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کرایچ ۱/ ۱۰)
مسئلہ نمبر ۸۳۱: از فیض آباد ڈاک خانہ شہزاد پور مرسلہ عبداﷲ طالب العلم ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین کہ آیا زانی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں،کیونکہ اس مسئلہ میں بہت جھگڑا پیدا ہے یہاں تک حالت گزر گئی کہ نماز جماعت میں تفرق ہوگیا ہے حدیث اور کتاب کی سند ہونا چاہئے ۔بینواتوجروا۔
الجواب: زانی فاسق اور فاسق معلن کے پیچھے نماز منع ہے اُسے امام بنانا گناہ ہے اُس کے پیچھے جو نمازیں پڑھی ہوں اُن کا پھیرنا واجب ہے، ردالمحتار میں ہے:
مشی فی شرح المنیۃ علی ان کراھۃ تقدیمہ (یعنی الفاسق ) کراھۃ تحریم ۱؎۔
شرح منیہ میں ہے کہ فاسق کی تقدیم (یعنی اس کو امام بنانا)کراہتِ تحریمی ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۱۴)
درمختار میں ہے :
کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا۲؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہر وُہ نمازجو کراہتِ تحریمی کےساتھ اداکی گئی ہو اس کا اعادہ واجب ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۴۱)
مسئلہ نمبر ۸۳۲: ازکاسگنج ضلع ایٹہ محلہ نواب مرسلہ عباداﷲ صاحب ویکسینیٹر ۶شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید بزعم امامت نماز فرض پنجگانہ ونماز جمعہ بجماعت کثیر معمولی جُوتا جوہر وقت پہنا کرتا ہے پہن کر پڑھاتا ہے وقتِ اعتراض بکر کو ترجمہ حدیث مشکوٰۃ شریف دکھاتا ہے کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے الدوام پڑھی ہے چونکہ یہاں نہ کوئی ذخیرہ کتبِ دینیہ ہے جو دیکھ کر اطمینان کرایا جائے اورنہ کوئی عالم ہے جس کے ذریعہ سے پایہ ثبوت کو پہنچیں لہذا آپ سے التجا کی جاتی ہے کہ براہ نوازش عالمانہ آپ مع حوالہ کتاب وباب وصفحہ و سطر حسبِ قاعدہ مرحمت فرمائیے۔
الجواب: تعظیم و توہین کا مدار عرف پر ہے عرب میں باپ کو کاف اور انت سے خطاب کرتے ہیں جس کا ترجمہ ''تو'' ہے اور یہاں باپ کو ''تو''کہے بیشک بے ادب گستاخ اوراس ایہ کریمہ کا مخالف ہے
لاتقل لھما اف ولا تنھرھما وقل لھماقولاً کریما۳؎
(ماں باپ کو ہُوں نہ کہہ نہ جھڑک اوران سے عزّت کی بات کہہ)
(۳؎ القرآن ۱۷/ ۲۳)
صد ہا سال سے عرف عام ہے کہ استعمالی جوتے پہن کر مسجد میں جانے کوبے ادبی سمجھتے ہیں ائمہ دین نے اُس کے بے ادبی ہونے کی تصریح فرمائی ،امام برہان الملّۃ والدّین صاحب ہدایہ کی کتاب التجنیس والمزید اورمحقق بحر زین ابن نجیم کی بحرالرائق اورفتاوٰی سراجیہ اورعالمگیریہ جلد پنجم ص۱۲۲ کتاب الکراہۃ باب خامس میں ہے:
دخول المسجد متنعلا مکروہ۴؎
(مسجد میں جوتا پہن کرداخل ہونا مکروہ ہے۔ت)
(۴؎ فتاوٰی ہندیۃ باب فی آداب المسجد والقبلۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۱)
آج اگر کسی نواب کے دربار میں آدمی جُوتا پہنے جائے تو بے ادب ٹھہرے، نماز اﷲ واحد قہار کا دربار ہے، مسلمانوں کی راہ کے خلاف چلنا اوراُن میں فتنہ وفساد پیدا کرنا اور انھیں نفرت دلانا قرآنِ عظیم واحادیث صحیحہ کے نصوص قاطعہ سے حرام اورسخت حرام ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۳۳: ازترپول سولول ڈاکخانہ ہرول ضلع دربھنگہ بلگر چرسہ مرسلہ عبدالحکیم صاحب ۲۱جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
اگر کسی مسلمان کا بستی سے باہر دوسرے محلہ میں مکان ہواور وُہ امام بھی ہو اور کبھی پنجوقتی نماز میں دھوکے سے آکر نماز پڑھے اور امامت کرے اور وہ ہمیشہ اپنے محلہ میں موجود رہتا ہے اور اپنی نماز پنجوقتی اورامامت کا خیال نہیں کرتا ہے اورمسجد میں ایک ہفتہ میں جمعہ کی نماز پڑھانے کے واسطے آیا کرتاہے اور ہمیشہ امامت کا جستجو(فخر) رکھتا ہے کہ ہم امام ہیں ایسے امام کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں اوراس امام کی شرکت کرنے والے جو لوگ ہیں اُن کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟
الجواب:جس شخص کو جمعہ کا امام مقرر کیاہے وہ اگر فقط جمعہ ہی کو آکر امامت کرتا ہے یا اور بھی کبھی کبھی آجاتا ہے یا نہیں آتا اور اپنے محلہ میں نماز باجماعت پابندی سے پڑھتا ہے تو اُس پر کوئی الزام نہیں ،نہ اُس کے شریکوں پر کوئی الزام ہے اور وہ ضرور جمعہ کا امام ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۳۴: از شہرفراشی محلہ مسئولہ اہلِ محلہ معرفت ہدایت اﷲ نجار ۱۲محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کہ جس کی نسبت تفضیلیہ ہونا کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ طوائفوں کے ساتھ علانیہ خلافِ شرع راہ ورسم وغیرہ رکھتا ہے نیز جسکے سر کے بال بھی مثل عورتوں کے شانوں سے نیچے لٹکتے ہوں وہ کسی جائے نماز پر بلا اجازت موقع کے پیش امام کے اگر نمازِجمعہ ادا کرنے کی غرض سے بحیثیت امام بن کر نمازِ جمعہ ادا کرکے مع اپنے ہمراہیوں کے چلا جائے بعد اس کے باقی انبوہ اسی موقع اور جگہ پر وہیں مجوز امام کی تقلید سے اس کے پیچھے دوسری بار نمازِ جمعہ ادا کریں توایسی صورت میں پہلے امام کی نمازجو اس نے ادا کی ہے جائز ہے یادوسرے امام کی یا دونوں نہ ہوئیں۔
الجواب : مسلمانو! نماز حکمِ شرعی ہے احکامِ شرع کے مطابق ہی ہوسکتی ہے کوئی خانگی معاملہ نہیں کہ جس نے جب چاہا کرلیا، حکمِ شرعی یہ ہے کہ اقامتِ جمعہ کے لئے سلطانِ اسلام یا اُس کا نائب یا اُس کا ماذون شرط ہے اور جہاں سلطانِ اسلام نہ ہو عالم دین فقیہ معتمد اعلم اہل بلد کے اذن سے امامِ جمعہ و عیدین مقررہوسکتا ہے اور جہاں یہ بھی نہ ہو تو بمجبوری جسے وہاں کے عامہ مسلمین انتخاب کرلیں وُہ امامت جمعہ یاعیدین کرسکتا ہے ہر شخص کو اختیار نہیں کہ بطورِ خود یا ایک دو یا دس بیس یاسو پچاس کے کہے سے امامِ جمعہ یا عیدین بن جائے ایسا شخص اگرچہ اس کا عقیدہ بھی صحیح ہو اور عمل میں بھی فسق وفجور نہ ہو جب بھی امامتِ جمعہ وعیدین نہیں کرسکتا اگر کرے گا نماز اُس کے پیچھے باطل محض ہوگی کہ اُن تین طریقوں میں سے ایک وجہ کا امام یہاں شرطِ صحت نماز تھا جب شرط مفقود مشروط مفقود ولہذا صورتِ مسئولہ میں پہلے لوگوں کا جمعہ باطل محض ہوا اوردوسرے لوگوں کا صحیح ۔دُرمختار میں ہے:
یشترط لصحتھا السلطان او مامورہ باقامتھا۱؎۔
جمعہ کی صحت کے لئے سلطان یااس شخص کا ہونا جس کو سلطان نے اقامتِ جمعہ کی اجازت دی ہو ضروری ہے(ت)
اذاخلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور موکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم ویصیرون ولاۃ فاذاعسر جمعھم علی واحداستقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم۲؎۔
جب زمانہ کامل سلطان سے خالی ہو جائے تومعاملات علماء کے سپرد ہوں گے اورامّت پر علماء کی طرف رجوع لازم ہوگا اور علماء والی بن جائیں گے اور جب علماء کاکسی ایک معاملہ پر اجماع واتفاق مشکل ہوجائے تو لوگ اپنے اپنے علاقے کے علماء کی اتباع کریں، اگر علاقے کے علماء کی کثرت ہو تو پھر ان میں سے بڑے عالم کی اتباع کریں(ت)
(۲؎ حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ النوع الثالث من انواع العلوم الثلاثۃ الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۳۵۱)
تنویرالابصار ودرمختار میں ہے:
(نصب العامۃ) الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر ۳؎۔واﷲ تعالٰی اعلم
(عام لوگوں کا مقرر کرنا ) خطیب کو معتبر نہیں جبکہ مذکورہ لوگوں میں سے کوئی ایک موجود ہو۔(ت)