مسئلہ نمبر ۸۲۴ تا ۸۲۶: ازقصبہ سرواڑ علاقہ کشن گڑھ متصل اجمیر ہوشیاروں کی مسجد مسئولہ جناب قاضی اکبر صاحب ۲۰ ذی القعدہ ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) غیر مقلدین کے پیچھے ہماری نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
(۲) غیر مقلدین کو ہماری مقلدین کی مسجد میں آنے دینا درست ہے یا نہیں؟
(۳) جس کسی محلہ کی مسجدمیں محلہ دارانِ حنفیہ نے متفق ہو کر اپنے محلہ کی مسجد میں ایک تو مؤذن اور ایک پیش امام مقرر کر رکھا ہواور نماز کے وقت مؤذن کی راہ دیکھتا ہے کہ وقت ہوجائے تو اذان کہے اور پیش امام مذکور باوضو مسجد مذکور میں یاخاص مصلّے پر بیٹھاہُواہو اس حالت میں بلا رضامندی پیش امام مقررہ کے دوسرا کوئی مسجد مذکور میں اسی محلہ کا یا دوسرے محلہ کا یا دوسرے گاؤں کا اذان دے یا نماز پڑھائے تو جائز ہے یانہیں ،اگر بلا رضامندی اذان دینا یا نماز پڑھنا مقرر کے سوائے ناجائز ہو اور محلہ داران مذکور منع کرتے ہوں اوروُہ نہ مانے تو شرع شریف سے اُن کے لئے کیا حکم ؟فقط
الجواب:
(۱) ان کے پیچھے نماز محض باطل ہے جیسے کسی یہودی کے پیچھے ،فتح القدیر میں ہے:
ان الصلٰوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز ۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم
اہل بدعت و بدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۲)یہ تو معلوم ہوچکا کہ نماز میں اُن کا کوئی حق نہیں ،ان کی نماز نماز ہی نہیں،تو مسجد میں اُنھیں آنے کا حق نہیں اور ان کے آنے سے فتنہ ہوتا ہے اور فتنہ کا بند کرنا فرض ہے اوروہ قصداً مسلمانوں کو ایذا دیتے ہیں کم از کم اپنی آمین بالجہر کی آوازوں سے جو قصداً اعتدال سے بھی زائد نکالتے ہیں اور موذی کو مسجد سے روکے جانے کاحکم ہے ۔ درمختار میں ہے :
یمنع منہ وکذاکل موذ ولو بلسانہ ۲؎۔واﷲ تعالٰی اعلم
ایسے شخص کو دخولِ مسجد سے منع کیا جائے اور اسی طرح ہر تکلیف دینے والے کومنع کیا جائے گا اگرچہ وہ زبان ہی سے ایذا دے۔(ت)
(۲؎ دُرمختار باب ما یفسد الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴)
(۳)امام معیّن موجود وحاضر ہے تو بے اس کی مرضی کے دوسرا زبردستی بلاوجہ شرعی امام بن جانا ناجائز و گناہ ہے۔حدیث میں فرمایا:
الالایؤمن الرجل فی سلطانہ الا باذنہ۳؎۔
کوئی آدمی سلطان اورحاکم (مراد صاحبِ تصرف ہے صاحب خانہ ہو یا صاحب مجلس یا امام مسجد کوئی بھی ہو ) کی اجازت کے بغیر امامت نہ کروائے۔(ت)
(۳؎ صحیح مسلم باب من احق بالامامۃ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱/ ۲۳۶)
اور مؤذن مقرر کئے ہوئے کے خلاف مرضی بلاوجہ شرعی اذان دینا اس کے حق میں ناحق دست اندازی ،اور نفرت دلانا ہے اور صحیح حدیث میں اس سے منع فرمایا
بشروا ولا تنفروا ۱؎
(لوگوں کو خوش کرو اور نفرت نہ پھیلاؤ۔ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الادب باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یسروا الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۴)
ایسے لوگ مفسد ہیں اگر نہ مانیں تو مسجد سے باہر کر دینے کاحکم ہے،ہاں اگر امام ناقابلِ امامت ہے مثلاً غلط خواں یا وہابی وغیرہ تو نہ وہ امام ہے نہ اُ سکا پڑھانا امامت ۔ یونہی اگر موذن ایسی حالت پر جس کی اذان کے لئے شرعاًحکم اعادہ ہے تو ایسوں کواذان وامامت سے باز رکھنا بجا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۲۷:از شہر جامع مسجد مولوی محمد افضل صاحب
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ شخص اما م راخوب نمی داند باعتقادخودو درخانہ نما ز میگذارد روا ہست یانہ؟
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ ایک شخص اپنے عقائد کے مطابق امام کو اچھا نہیں سمجھتا اورنماز گھر میں پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب : اگر فی الواقع امام بدمذہب یافاسق معلن یافاسق القرأۃ است وتبدیلش نتواند نہ جماعت دیگر درمسجد می تواں کرد آنگاہ بخانہ بااہل خود اقامت جماعت باید کردیا تنہا گزارد اگردیگرے ندارد۔
اگر واقعی امام بدمذہب یافاسق معلن یا فاسق القرأۃ ہو اور اس کو تبدیل نہ کرسکتا ہو، نہ مسجد میں دوسری جماعت کرواسکتاہو تو اس صورت میں گھر میں اپنے اہل کے ساتھ جماعت قائم کرکے یا تنہا ادا کرے اگر کوئی دوسرا گھر نہ ہو۔(ت)
مسئلہ نمبر ۸۲۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر مقتدی عمامہ باندھے ہوں اور امام فقط ٹوپی پہنے تو مکروہ ہوگی یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب :اس میں شک نہیں کہ نماز عمامہ کے ساتھ نماز بے عمامہ سے افضل کہ وُہ اسباب تجمل ہے ہی اور یہاں تجمل محبوب اور مقام ادب کے مناسب اس لئے تلاوت قرآن کے وقت تعمم مندوب ہوا
کما فی فتاوی قاضیخاں
(جیساکہ فتاوٰی قاضی خان میں ہے۔ت) اور نماز میں کہ گویہ دربار عظیم الشان حضرت ملک السمٰوٰات والارض جل جلا لہ کی حاضری ہے رعایتِ آداب بہ نسبت تلاوت کے اہم اور امام کہ سردار مطاعِ قوم ہے اُس کے ساتھ احق والیق ،لہذا نظافتِ ثوب و پاکیزگیِ لباس وجوہ تقدیم استحقاقِ امامت سے قرار پائی
کما فی الدرالمختار
(جیساکہ دُرمختار میں ہے۔ت) مگر باایں ہمہ صورت مستفسرہ میں صرف ترکِ اولٰی ہوا تو اُس سے کراہت لازم نہیں آتی تاوقتیکہ اس کا ثبوت کسی خاص دلیل شرعی سے نہ ہو ورنہ نمازِ چاشت واشراق وغیرہما ہر مستحب کاترک مکروہ ٹھہرے اور یہ صحیح نہیں،حاشیہ شامیہ میں بحرالرائق سے نقل کیا:
لایلزم من ترک المستحب ثبوت الکراھۃ اذبدلھا من دلیل خاص ، وفیھا عن تحریر الاصول ،خلاف اولٰی مالیس فیہ صیغۃ نھی کترک صلاۃ الضحٰی بخلاف المکروہ تنزیھا۱؎انتھی وتمامہ فیھا۔
ترکِ مستحب سے ثبوت کراہت لازم نہیں آتا اس کے لئے خاص اور مستقل دلیل کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی میں تحریر الاصول کے حوالے سے ہے،خلافِ اولٰی یہ ہے کہ جس میں صیغہ نہی نہ ہو مثلاً نمازِ چاشت کا ترک کرنا بخلاف مکروہ تنزیہی کے اھ اس کی پوری تفصیل وہاں ملاحظہ کیجئے۔(ت)
بالجملہ جب تک اس بارہ میں نہی ثابت نہ ہوگی کراہت مانی جائے گی ،
واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
(۱؎ ردالمحتار مطلب ترک المندوب ھل تکرہ تنزیہا الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۹۱)
مسئلہ نمبر ۸۲۹: ازسرکار مارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ درگاہ کلاں مسئولہ حضرت صاحبزادہ والامرتبت بالامنقبت حضرت سیّد شاہ محمد میاں صاحب زید مجدہم ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۳۰ھ
جامع کمالات منبع برکات مولٰنا المعظم زادت برکاتہم ، پس از سلام مسنون عارض ہوں فساق کی امامت علی المذہب مفتی بہ مکروہ تحریمی قابلِ اعادہ یا مکروہ ِتنزیہی یا کچھ تفصیل ،اگر فساق کی امامت سے صلحا بھی اور فساق دونوں نمازیں پڑھیں برتقدیر اعادہ صرف صلحا کے لئے نماز مکروہ تحریمی قابلِ اعادہ ہے یا صلحاوفساق دونوں کے لئے ،اور صلحا اگر منع فساق عن الامامۃ سے عاجز ہوں تو صلوٰتِ خمسہ بے جماعت پڑھنا یا فساق کی امامت سے پڑھنا اولٰی ،درمختار میں ہے کہ فساق واعمی وعبد و ولدالزناوغیرہ کی امامت تب مکروہ ہے جب دوسرے ان سے اچھے موجود ہوں ورنہ نہیں،اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ جو لوگ مکروہ کہتے ہیں ان کے نزدیک بھی یہی حکم ہے یا کچھ اور ؟ بینواتوجروا۔
الجواب:امامتِ فساق کی نسبت علما کے دونوں قول ہیں کراہت تنزیہی کما فی الدر اورکراہت تحریمی کما فی الغنیۃ وفتاوی الحجۃ و التبیین وابی السعود والطحطاوی علی مراقی الفلاح وغیرہا ،اور ان میں توفیق یہ ہے کہ فاسق غیرمعلن کے پیچھے مکروہ تنزیہی اور معلن کے پیچھے تحریمی ،مبتدع کی بدعت اگر حدِ کفر کو پہنچی ہو اگر عندالفقہا یعنی منکرِقطعیات ہو اگر چہ منکرِ ضروریات نہ ہو ،توصحیح یہ ہے کہ اس کے پیچھے نماز باطل ہے
کما فی فتح القدیر ومفتاح السعادۃ والغیاثیۃ وغیرہا
(فتح القدیر، مفتاح السعادۃاورغیاثیہ وغیرہ میں اسی طرح ہے۔ت)کہ وہی احتیاط جو متکلمین کو اُس کی تکفیر سے باز رکھے گی اُس کے پیچھے نماز کے فساد کا حکم دے گی
فان الصلاۃ اذاصحت من وجوہ وفسدت من وجہ حکم بفسادھا۱؎
(نماز جب کئی وجوہات کی بنا پر صحیح مگر ایک وجہ سے فاسد تو اس کو فاسد قرار دیا جائے گا۔ت) ورنہ مکروہ تحریمی ،
(۱؎ فتح القدیر باب صلٰوۃ المسافر ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۴)
جن صورتوں میں کراہت تحریم کا حکم ہے صلحاء وفساق سب پر اعادہ واجب ہے ،جب مبتدع یافاسق معلن کے سوا کوئی امام نہ مل سکے تو منفرداً پڑھیں کہ جماعت واجب ہے اوراس کی تقدیم بکراہت تحریم اور واجب و مکروہ تحریم دونوں ایک مرتبہ میں ہیں
ودرء المفاسد اھم من جلب المصالح۲؎
(مفاسد کا دُور کرنا مصالح کے حصول سے اہم اور ضروری ہوتا ہے۔ت) ہاں اگر جمعہ میں دوسرا امام نہ مل سکے تو جمعہ پڑھیں کہ وُہ فرض ہے اور فرض اہم ۔
(۲؎ الاشباہ والنظائر الخامسۃ درء المفاسد اولٰی من جلب المصالح مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ۱/ ۱۲۵)
اسی طرح اگر اُس کے پیچھے نہ پڑھنے میں فتنہ ہوتو پڑھیں اوراعادہ کریں کہ