مسئلہ نمبر ۸۱۷: از ٹھہریاموہن پورضلع بریلی مسئولہ حافظ ابراہیم خاں ۲۸محرم الحرام۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امامت کا مصلّٰی اگر در میں ڈالا جائے توکون سے در میں ڈالا جائے اگر بائیں در میں ڈالا جائے تو جائز ہے یانہیں؟
الجواب: سنّت یہ ہے کہ امام مسجد کے وسط میں کھڑا ہو، اگر مثلاً اندر کی مسجدچھوٹی ہو اور باہر کی مسجد جنوب یا شمال کی طرف زیادہ وسیع ہو تو جب اندر پڑھائیں اُس حصہ کے وسط میں امام کھڑا ہو اور جب باہر پڑھائیں تو اس حصہ کے وسط میں خواہ وہ کسی در کے مقابل ہو یا سب دروں سے باہر ہوجائے ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۱۸: شہر کہنہ محلہ لودھی ٹولہ مسئولہ حبیب اﷲ خاں صاحب ۲۹محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جوشخص جھوٹے مسئلے ظاہر کرے اُس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:اگر قصداً جھوٹا فتوٰی دیا قابل امامت نہیں کہ سخت کبیرہ کا مرتکب ہوا اور جہالت سے ایک آدھ بار فتوٰی میں دخل دیا اُسے سمجھایا جائے تائب ہو اور آئندہ باز رہے تو اس کی امامت میں حرج نہیں اوراگر عادی ہے اور نہیں چھوڑتا تو فاسق ہے اور لائقِ امامت نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۱۹: از شہر محلہ بھوڑ مسئولہ حشمت علی ۲۱صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدوہابیہ کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اہلسنت وجماعت کا زید کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب: جو وہابی کو وہابی جان کر اُس کے پیچھے نماز پڑھے اگر وہابی کو قابلِ امامت جانتا ہے خود وہابی ہے اور اس کے پیچھےنماز باطل محض ،ورنہ اپنی نماز کا باطل کرنے والا اور کم از کم فاسق معلن ہے ۔اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۸۲۰: بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضا خان صاحب ۲۸صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ داڑھی منڈانے والے کواوّل صف میں جماعت میں شریک ہونا چاہئے یا پچھلی صف میں۔ زید کہتا ہے کہ اس کی ممانعت کسی جگہ شرع میں نہیں ہے اور داڑھی منڈانے والا جماعت بھی پڑھا سکتا ہے کیونکہ نمازفاسق کے پیچھے بھی جائز ہے،اور یہ بھی تحریر فامائیے گا کہ امام کی داڑھی کتنی بڑی ہونی چاہئے اور داڑھی منڈانے والے کی نماز میں تنہا پڑھنے میں کچھ فرق آتا ہے کہ نہیں؟
الجواب: داڑھی منڈانا فسق ہے اور فسق سے متلبس ہوکر بلا توبہ نماز پڑھنا باعث کراہت نماز ہے جیسے ریشمی کپڑے پہن کر یاصرف پائجامہ پہن کر ،اور داڑھی منڈانے والا فاسق معلن ہے ،نماز ہوجانا بایں معنٰی ہے ،کہ فرض ساقط ہوجائے گا ورنہ گناہگار ہوگا اسے امام بنانا اور اس کے پیچھے نماز مکرہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ،باقی اگر وُہ صف اول میں آئے تو اسے ہٹانے کا حکم نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۲۱: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں جو شخص تارک الجماعۃ بھی ہو اور نماز پنجوقتہ پڑھانے کی اُجرت یا تنخواہ بطور چندہ مسلمانوں سے طلب کرے اُس کے پیچھے نماز جمعہ جائز ہے یا نہیں، اور وہ قبر کی نوکری بھی کرتاہے۔
الجواب: بیانِ سائل سے واضح ہوا کہ یہ شخص باوصفِ قدرت اصلاً جماعت میں نہیں آتا اور اپنا آنا اس شرط پر مشروط کرتا ہے کہ مجھے تنخواہ دو تو امامت کروں ،اور قبر پر قرآن مجید پڑھنے کی نوکری کیا کرتا ہے، تلاوت قرآن مجیدکی نوکری تو ناجائز حرام ہے
کما حققہ العلامۃ الشامی فی اجارۃ ردالمحتار
(جیسا کہ علّامہ شامی نےردالمحتار کے باب الاجارہ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) اور امامت کی نوکری اگرچہ اب جائز ہے
کما صرح بہ فی المتون
(جیساکہ متون میں اس پر تصریح ہے ۔ت) مگراس طرح کہ نوکری نہ ہو جماعت ہی کو نہ آئے ایساتارک جماعت باوصف قدرت بیشک فاسق مردود الشہادۃ ہے
نص علیہ العلماء الکبار وشھدت بھاالحدیث والاثار
(اس پر اکابر علما نے تصریح کی اور احادیث وآثار اس پر شاہد ہیں ۔ت) اُس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی قریب بحرام ہے
کما حققہ المولی المحقق ابراہیم الحلبی فی الغنیۃ شرح المنیۃ
(جیسا کہ فاضل محقق ابراہیم حلبی نے غنیـہ شرح منیہ میں تحقیق کی ہے۔ت) جہاں کہ جمعہ متعدد مساجد میں ہوتا ہے نمازِجمعہ بھی ہرگز نہ پڑھی جائے ،
لانہ بسبیل من التحول ۱ ؎ کما فی فتح القدیر و غیرہ
(کیونکہ وہاں سے منتقل ہونا ممکن ہے۔ فتح القدیر میں ایسا ہی ہے۔ت)
ایسے شخص کو امام بنانا گناہ ہے
کما افادہ فی فتاوی الحجۃ
(جیسا کہ فتاوی الحجہ سے مستفاد ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۸۲۲: ازپیلی بھیت محلہ بھینسا بھاڑ مکان عبدالکریم صاحب رنگریز مرسلہ عبدالحکیم صاحب
۳ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں ایک شخص کو قطرہ کا عارضہ ہے مگر ہر وقت نہیں آتا جس وقت پیشاب پھرتا ہے اس کے بعد میں برابر آتا رہتا ہے اور ڈھیلے سے استنجا نہیں سوکھتا مگر پانی سے استنجا کرکے نصف گھنٹہ لنگوٹ باندھ لیتا ہے سوکھ جاتا ہے پھر جب تک پیشاب نہیں پھرتا ہے نہیں آتا ہے مگر کبھی دوسرے تیسرے دن پیشاب پھرے ،غیروقت بھی آجاتا ہے ، ہرروز نہیں آتا ہے ایسے شخص کے پیچھے فرض پڑھنا درست ہے یا نہیں اور یہ شخص حافظِ قرآن بھی ہے اس کے پیچھے تراویح بھی درست ہے یا نہیں۔
الجواب:اس کے پیچھے فرض وتراویح وغیرہا سب درست ہیں۔درمختار میں ہے:
معذورپر عذر کا روکنا یاکم کردینا اس کی اپنی قدرت کے مطابق واجب ہے خواہ اشارہ کرکے نماز پڑھنے سے عذر موقوف ہوسکے ،عذر ہٹانے کی صورت میں وہ شخص معذور نہ رہے گا۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ درمختار، باب الحیض، مطبوعہ مجتبائی دہلی ،۱/ ۵۳)
مسئلہ نمبر ۸۲۳: کیا فرماتے ہیں علماء اس مسئلہ میں کہ امام مصلّٰی پر کھڑاہو اورمقتدی بغیر مصلّٰے یعنی فقط صحن میں کھڑا ہو اس صورت میں نماز مکروہ ہے یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب:نماز میں کچھ کراہت نہیں کہ حدیث وفقہ میں کہیں اس کی ممانعت نہیں،نہ امام کی تعظیم شرعاً ممنوع ہے نہ یہ انفراد علی الدکان کی قبیل سے ہے،بحرالرائق میں ہے: