Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
160 - 185
مسئلہ نمبر ۸۱۰: شہر کہنہ محلہ کانکر ٹولہ  مسئولہ ننھے خاں    ۱۵محرم الحرام ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دکاندار آدمی اُس کی امامت جائز ہے یا نہیں؟

الجواب: جائز چیز بیچنا اور جائز طور بیچنا کچھ حرج نہیں رکھتا، نہ اُسکے سبب امامت میں کوئی خلل آئے ،ہاں اگر ناجائز چیز بیچے یا مکروفریب کذب یا عقود فاسدہ مثل ربٰو وغیرہ کا ارتکاب کرے تو آپ بھی فاسق اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۱۱، ۸۱۲: ازصدر بازار بریلی    مسئولہ نعمت اﷲ خاں محرر پونڈ     ۱۶محرم ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) زید اہل سنت وجماعت ہے زید کی نماز وہابی کے پیچھے جائز ہے یا نہیں؟

(۲) بکر وہابی اور زید اہلسنت وجماعت ہے ،تو بکر کی نماز زید کے پیچھے ہوسکتی ہے یا نہیں؟
الجواب: سنّی کی نماز وہابی کے پیچھے نہیں ہوسکتی ،امام محمد وامام ابویوسف و امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی :
ان الصلٰوۃ خلف اھل الھواء لاتجوز ۱؎
 (اہل بدعت و بدمذہب کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ت)
 (۱؎ فتح القدیر         باب الامامۃ         مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱/ ۳۰۴)
بلکہ وہابی کی نماز نہ کسی کے پیچھے ہوسکتی ہے نہ خود تنہا، وہابی کے پیچھے کسی کی نماز ہوسکتی ہے اگر چہ اس کا ہم مذہب  ہو کہ صحتِ نماز کے لئے پہلی شرط اسلام ہے اور وہابیہ توہینِ خدا و رسول کے سبب اسلام سے خارج ہیں۔ فتاوٰی علمائے کرام حرمین شریفین میں ہے: من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر۲؎۔ جس نے اس کے کفر و عذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہو گیا۔(ت)
 (۲؎ درمختار        باب المرتد        مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۲۰۶)

(حسام الحرمین علی منحرالکفر والمین        مکتبہ نبویہ لاہور  )
مسئلہ نمبر۸۱۳: از موضع برتا پور ضلع بریلی    مسئولہ گلزار شاہ     ۲۱محرم الحرام ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند آدمی ناخواندہ قطعاً ہیں اوراُن آدمیوں میں ایک آدمی کچھ خواندہ عربی کا ہے لیکن پیشہ فقیری کا ہے اُس کی امامت جائز ہے یا نہیں؟

الجواب: فقیری کا پیشہ کہ تندرست ہوتے ہوئے بھیک مانگتے  پھرتے ہیں حرام ہے اور اس کی کمائی خبیث اور اُسے امام بنانا گناہ ، اس کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ، اس میں سے کسی پرہیز گار جو سنّی صحیح العقیدہ ہو وضو غسل ٹھیک کرتا ہو نماز صحیح پڑھتا ہو امام بنائیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۸۱۴: ازضلع سیونی چھپارہ محلہ قاضی ممالک متوسط     مسئولہ محمد ظہور الحسن صاحب ۲۳محرم الحرام ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ مندرجہ ذیل حدیث شریف کو جھوٹا کہتے ہیں وہ یہ ہے:
عن عمرو بن سلمۃ قال لماکانت وقعۃ الفتح بادر کل قوم باسلامھم وبدرابی قومی باسلامھم فلما قدم قال جئتکم واﷲ من عندالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حقا فقال صلواصلاۃ کذا فی حین کذا وصلاۃ کذافی حین کذافاذاحضرت الصلاۃ فلیؤذن احدکم ویؤمکم اکثرکم قرانا فنظر وافلم یکن احدااکثر قرانامنی لما کنت اتلقی من الرکبان فقد مونی بین ایدیھم وانا ابن ست اوسبع سنین وکانت علی بردۃ کنت اذا سجدت تقصلت عنی فقالت امرأۃ من الحی الا تغطوا عنااست قارئکم فاشتروافقطعو ا لی قمیصافمافرحت بشیئ فرحی بذلک القمیص۱؎ رواہ البخاری وفی روایۃ النسائی کنت اومھم وانا ابن ثمان سنین۲؎وفی روایۃ لابی داؤد وانا ابن سبع سنین اوثمان سنین ۳؎ وفی روایۃ لاحمد وابی داؤد فما شھدت مجمعا من جرم الاکنت امامھم الی یوم ھذا۴؎۔
عمرو بن سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ جب مکّہ فتح ہوا تو ہر ایک قوم نے اسلام لانے میں جلدی کی اورمیرے والد نے اپنی قوم سے اسلام لانے میں جلدی کی پس جب وہ آں حضرت صلی اﷲ تعالٰی کی خدمت سے واپس آئے تو انھوں نے فرمایا واﷲ میں تمہارے پاس اس سچّے نبی اورحق کے پاس سے آیاہوں پس تم لوگ نماز ایسے ایسے وقت میں پڑھا کرو پس جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایک اذان کہے اور تم میں سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا تمھاری امامت کرائے پس انھوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ قرآن خواں کسی کو نہ پایا کیونکہ میں سواروں سے( جو ہمارے پاس سے گزرتے تھے ) سیکھ لیا کرتا تھا انہوں نے مجھ کو اپنا امام بنالیا اور میں چھوٹا سات برس کا لڑکا تھا اور مجھ پر ایک چادر ہوتی تھی جب میں سجدہ کرتا تھا تو وہ چادر مجھ سے سکڑ جاتی تھی پس قبیلہ کی ایک عورت نے کہا تم ہم سے اپنے قاری کے سرین نہیں ڈھانکتے پس انھوں نے کپڑا خریدا اور انھوں نے میرے لئے کُرتا بنایا پس میں جیسا اُس کپڑے سے خوش ہوا اور کسی چیز سے خوش نہیں ہوا بخاری ونسائی کی روایت بھی ہے کہ میں ان کی امامت کراتا تھا اور میں آٹھ برس کا تھا ۔اورابی داؤد کی روایت میں زیادہ ہے کہ سات یا آٹھ برس کا لڑکا تھا اور احمد اور ابوداؤدکی ایک روایت میں زیادہ ہے کہ میں جرم قبیلہ کے کسی مجمع میں نہیں حاضر ہوا مگر وہ آج کے دن تک وہاں مجھ کو امام بناتے ہیں۔
 (۱؎ صحیح بخاری         کتاب المغازی        ۲/ ۶۱۶)

(۲؎ سنن نسائی         کتاب الامامۃ        ۱/ ۹۱)

(۳؎ سنن ابو داؤد     باب من احق بالامامۃ        ۱/ ۸۶)

(۴؎ مسند احمد بن حنبل     حدیث عمرو بن سلمہ        ۵/ ۷۱)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بچّہ نابالغ کی امامت جائز ہے اور امام حسن بصری اوراسحاق اورامام شافعی اورامام یحیٰی کا بھی مذہب ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ بچے کی امامت کے منع میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔دریافت طلب امر یہ ہےکہ آیا یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں ،اور کوئی شخص اس حدیث شریف کو جھوٹا کہے تو اس کے واسطے شریعت کی طرف سے کیاحکم ہے ،اور ایک لڑکا ہے جو دیکھنے میں بالغ معلوم ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں بالغ ہوں اور بالغ کی علامت پائی جاتی ہے اور اُس کی عمر ۱۴برس کی ہے اور وہ قرآن شریف کو ٹھیک طور سے حروف کی ادائیگی کے ساتھ پڑھتا ہے لیکن بعض لوگ اس کو نابالغ کہتے ہیں اس کی بات کا یقین نہیں کرتے ،دریافت طلب یہ بات ہے کہ وہ نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں اور اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ ہر دو سوالوں کے جواب باصواب سے مشرف فرمایا جائے۔
الجواب: چودہ برس کی عمر کا لڑکا جب کہے کہ میں بالغ ہوں اُس کا قول واجب القبول ہے اور اسے بالغ مانا جائے گا اور اس کے پیچھے نماز جائز ہوگی جبکہ ظاہر حال اس کی تکذیب نہ کرتاہو ،اورنابالغ ہمارے ائمہ کے نزدیک بالغ کا امام نہیں ہوسکتا کہ وہ متنفل ہے یہ مفترض ،اور نفل متضمن فرض نہیں ہوسکتا ۔حدیث مذکور کو صحیح ہے اور جھوٹا کہنا جہل یا عناد ،اور اس کے جوابات فتح القدیر وعینی شرح ہدایہ میں مذکور ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۱۵: ازشہر محلہ قراولان    مسئولہ عبدالکریم خیاط قادری رضوی    ۲۳محرم الحرام ۱۳۳۹ھ

کیا ارشاد ہے شریعت مقدسہ کا اس مسئلہ میں کہ زید بد مذہبوں کے یہاں علانیہ کھاتا ہے بد مذہبوں سے میل جول رکھتا ہے مگر خود سُنّی ہے اُس کے پیچھے نماز کیسی اور اسکے تراویح سننا کیسا ہے؟بینوا تو جروا۔

الجواب: اس صورت میں وہ فاسق معلن ہے اورامامت کے لائق نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۱۶: ازشہر محلہ ذخیرہ مسئولہ منشی شوکت علی صاحب محرر چونگی    ۲۴محرم ۱۳۳۹ھ

کیا حکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ امامت کن کن شخصوں کی جائز ہے اور کن کن کی ناجائز اور مکروہ، اورسب سے بہتر امامت کس شخص کی ہے؟
الجواب جو قرأت غلط پڑھتا ہو جس سے معنی مفسد ہوں وضو یا غسل صحیح نہ کرتا ہو یا ضروریاتِ دین سے کسی چیز کا منکر ہو جیسے وہابی ،رافضی ،غیر مقلد،نیچری،قادیانی،چکڑالوی وغیرہم یا وہ جوان میں سے کسی کے عقائد پرمطلع ہوکر اس کے کفر میں شک کرے یا اسکے کافر کہنے میں تامل کرے اُن کے پیچھے نماز محض باطل ہے ، اور جس کی گمراہی حدِ کفر تک نہ پہنچی ہو جیسے تفضیلیہ :مولٰی علی کوشیخین سے افضل بتاتے ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہم یا تفسیقیہ کہ بعض صحابہ کرام مثل امیر معاویہ وعمروبن عاص وابوموسٰی اشعری و مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو بُرا کہتے ہیں ان کے پیچھے نماز بکراہت شدیدہ تحریمیہ مکروہ ہے کہ انھیں امام بنانا حرام ان کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ اور جتنی پڑھی ہوں سب کا پھیرنا واجب ،اورانھیں کے قریب ہے فاسق معلن مثلاً داڑھی منڈایا خشخاشی رکھنے والا یا کتر واکر حدِ شرع سے کم کرنے والا یا کندھوں سے نیچے عورتوں کے سے بال رکھنے والا خصوصاً وہ جو چوٹی گُندھوائے اور اس میں موباف ڈالے یا ریشمی کپڑے یامغرق ٹوپی یا ساڑھے چار ماشے زائدکی انگوٹھی یاکئی نگ کی انگوٹھی یا ایک نگ کی دو۲انگوٹھی اگر چہ مل کر ساڑھے چار ماشےسے کم وزن کی ہوں یا سُود خور یا ناچ دیکھنے والا اُن کے پیچھے بھی نماز مکروہ تحریمی ہے اور جو فاسق معلن نہیں یا قرآن میں وُہ غلطیاں کرتا ہے جن سے نماز فاسد نہیں ہوتی یا نابینا یا جاہل یا غلام یا ولد الزنا یاخوبصورت امرد یا جذامی یا برص والا جس سے لوگ کراہت ونفرت کرتے ہوں اس قسم کے لوگوں کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ہے کہ پڑھنی خلافِ اولٰی اور پڑھ لیں تو کوئی حرج نہیں، اور اگر یہی قسم اخیر کے لوگ حاضرین میں سب سے زائد مسائلِ نماز و طہارت کا علم رکھتے ہوں تو انھیں کی امامت اولٰی ہے بخلاف ان سے پہلی دوقسم والوں سے کہ اگر چہ عالم متبحر ہو وہی حکم کراہت رکھتا ہے مگر جہاں جمعہ یا عیدین ایک ہی جگہ ہوتے ہوں اور ان کا امام بدعتی یا فاسق معلن ہے اور دوسرا امام نہ مل سکتا ہو وہاں ان کے پیچھے جمعہ و عیدین پڑھ لئے جائیں بخلاف قسم اول مثل دیوبندی وغیرہم ،نہ ان کی نماز نماز ہے نہ اُن کے پیچھے نماز نماز ، الغرض وہی جمعہ یا عیدین کا امام ہو اور کوئی مسلمان امامت کے لئے نہ مل سکے تو جمعہ و عیدین کا ترک فرض ہے جمعہ کے بدلے ظہر پڑھیں اورعیدین کا کچھ عوض نہیں ،امام اُسے کیا جائے جو سنّی العقیدہ صحیح الطہارۃ صحیح القرأۃ مسائلِ نماز و طہارت کا عالم غیر فاسق ہو نہ اُس میں کوئی ایسا جسمانی یا روحانی عیب ہو جس سے لوگوں کو تنفر ہو یہ ہے اس مسئلہ کا اجمالی جواب اور تفصیل موجب تطویل واطناب واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب۔
Flag Counter