مسئلہ نمبر ۷۹۵ تا ۷۹۷:از شہر محلہ شاہ دانا مرسلہ جناب میر فداحسین صاحب مورخہ ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
(۱) نماز جماعت سُنّی حنفی اشخاص کی طالب علمان مدرسہ مداری دروازہ وسرائے خامن کے پیچھے ہوگی یا نہیں۔
(۲) اگر کسی مسجد میں پیش امام مقرر نہ ہو تو حاضرین مسجد کسی شخص کو اپنے میں سے منتخب کریں تو اس میں کس کس احترام والتزام اور کس کس بات کی ضرورت ہے ؟
(۳) امام ہر طبقہ کے لوگوں میں سے جو کہ اس وقت موجود ہوں کثرت رائے سے منتخب ہوسکتا ہے باوجود یکہ وہ منتخب شدہ شخص اپنے آپ کو امامت کا اہل نہ سمجھتا ہو مگر اجماع اس کی امامت پر ہوجائے تو وہ امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب :
(۱) جو مدرسہ خلافِ مذہب اہلسنت ہو اسکے طلباء کو امام نہیں بنا سکتے ۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۲) امام ایسا شخص کیا جائے جس کی طہارت صحیح ہو قرأت صحیح ہو سنّی صحیح العقیدہ ہو فاسق نہ ہو اس میں کوئی بات نفرت مقتدیان کی نہ ہو مسائلِ نماز و طہارت سے آگاہ ہو واﷲ تعالٰی اعلم
(۳) جوشخص شرائط ِمذکورہ کا جامع ہے اور وہ امام کیا جائے اگر چہ وہ اپنے آپ کو نااہل کہے، اور جوواقعی نااہل ہے وہ امام نہیں ہوسکتا اگرچہ سب کی رائے ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۹۸: مسئولہ مسلمانان شہر کہنہ روہیلی ٹولہ ۱۲ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کُرتا اس طرح کا پہنا کرتا ہے جس کی آستینیں کہنیوں کے برابر بلکہ کچھ اونچی ہوتی ہیں یعنی کہنیاں کھلی رہتی ہیں ایسا کُرتا پہنے ہُوئے پر زید کوامام بنایا جاسکتاہے یا نہیں اور کوئی نقص اس کے پیچھے نماز پڑھنے میںتو نہیں آتا؟ زید کو اس قدر مقدور بھی ہے کہ وہ پوری آستینوں کے کُرتے بنوا کر پہن سکتا ہے اورامامت کرنے کے وقت انگر کھا وغیرہا نہیں پہنتا، علاوہ اس کے زید کو علم بھی اچھا ہے اور ہر ایک مسائل سے واقفیت رکھتا ہے۔
الجواب: بیانِ مسائل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کُرتے ایسے ہی آدھے آستین کے بناتا ہے اور نماز کے وقت انگرکھا پہن سکتا ہے مگر نہیں پہنتا اور بازار کو انگرکھا پہن کر جاتا ہے ،اس صورت میں زید کے پیچھے نماز اگر چہ ہوجاتی ہے مگر کراہت سے خالی نہیں
فانہ اِذَنْ من ثیاب مھنۃ والصلاۃ فیھا مکروھۃ
(کیونکہ یہ اس کے کام کاج والے کپڑے ہوں گے اور ان کے ساتھ نماز ادا کرنا مکروہ ہے۔ت) جب وہ ذی علم ہے اور اسے سمجھایا جائے کہ دربار الہٰی بازار سے زیادہ قابلِ تعظیم و تذلّل ہے
قال اﷲ تعالٰی خذوازینتکم عند کل مسجد۱؎ وقال ابن عمر اﷲ احق تتزین لہ
(اﷲ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے: جب تم نماز کے لئے مسجد میں جاؤ اپنی زینت اختیار کرو ۔اور حضرت ابن عمر نے فرمایا: اﷲ تعالٰی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ تو اس کی بارگاہ میں زینت اختیار کرے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
( ا؎ القرآن ۷/۳۱ )
مسئلہ نمبر ۷۹۹تا ۸۰۷: ازقصبہ عمری ڈاک خانہ خاص ضلع مراد آباد مسئولہ غلام مصطفی اسرار الحق انصاری قادری ۱۲ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین صورت ہائے مفصلی ذیل میں کہ:
(۱) وہابی امام کے پیچھے اہلسنت وجماعت کی اقتداء ِ نماز خواہ پنجگانہ یا تراویح یا جمعہ یا عیدین یا نوافل یا نماز جنازہ میں درست حکم ہے یا کیاحکم ہے؟
(۲) زید مولویانِ فرقہ وہابیہ دیوبند کو عالم ِ دین سمجھتا ہے اور اُن کی تعظیم و تکریم بھی کرتا ہے لیکن خود عالم نہیں اب زید مذکوراہلسنت وجماعت کی امامت کرسکتا ہے یا نہیں اور اُس کی امامت سے نماز سنّی کی صحیح ہے یا کیا؟
(۳)زید فرقہ وہابیہ دیوبندیہ کو بُرا سمجھتا ہے اور کہتا ہے لیکن اُن کی امامت سے نماز بلا تکلف پڑھتا ہے اور عمروسُنی حنفی ہے اور وہابیہ کے پیچھے نماز پڑھنے سے احتزار کرتا ہے بخیال نہ ہونے نماز جائز کے ،لہذا زید مذکور کی امامت سے عمرو مذکورکی نماز صحیح ہوگی یا نہیںاور کیوں ؟
(۴)امامِ جمعہ وہابی عقائد کا ہے اور صرف ایک ہی مسجد میں جمعہ ہوتا ہے آیا سنّی اُس کی امامت میں نمازِ جمعہ پڑھ سکتا ہے یا نہیں اور اگر نہیں تو کیا نمازِ ظہر ادا کرے؟
(۵) اگر امامِ جمعہ نمبران(۲)یا (۳) مذکورہ میں سے کوئی ہو تو اہل سنّت وجماعت اُس کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں اورنماز صحیح ہوگی یا کیا ۔نیز نمازِ عیدین کے بارے میں ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟
(۶) اما م سنّی المذہب ہے اور چار مقتدی جن میں سے ایک سنّی کامل ہے باقی تین صورتہائے متذکرہ نمبر (۲) اور (۳) کے ہیں ایسی حالت میں جمعہ قائم کرسکتے ہیں یا نہیں؟
(۷) نمازِ مغرب یا کسی وقت کی بہ جماعت نماز ساتھ امام صورتہائے متذکرہ ان (۱) یا (۲) یا (۳) کے ہورہی ہے توکیا سنّی المذہب شریک جماعت ہوسکتا ہے یا نہیں اور تنہا پڑھنے کی حالت میں نماز صحیح ہوگی یا نہیں؟
(۸) حافظ نا بینا کی امامت جائز ہے یا نہیں نماز پنجگانہ یا تراویح میں بشرطیکہ سوائے اس کے اورکوئی حافظِ قرآن موجود نہیں ہے البتہ ناظرہ خواں چند ہیں؟
(۹) صورت ہائے مذکورۃ الصدر نمبران (۲) یا (۳) میں سے اگر امام ہوتونماز تراویح میںاُس کی اقتداء جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
(۱) وہابی کے پیچھے کوئی نماز فرض خواہ نفل کسی کی نہیں ہوسکتی نہ اُ س کے پڑھنے سے نماز جنازہ ادا پو اگرچہ نمازِ جنارہ میں جماعت و امامت شرط نہیں ولہذا اگر عورت امام اور مقتدی ہے نماز جنازہ کا فرض ادا ہو جائے گاکہ اگ رچہ مقتدیوں کی اُس کے پیچھے نہ ہوئی خود اُس کی ہوگئی ،اور اسی قدر فرض کفایہ کی ادا کافی ہے مگر وہابی تو نماز خود باطل ہے لانہ لا دین لہ ولا صلٰوۃ لن لا دین لہ(کیونکہ اس کا تو کوئی دین نہیں اور جس کا دین نہیں اس کی نماز نہیں۔ت) نہ تو اُس کی اپنی ہوسکتی ہے نہ اُس کے پیچھے کسی کی اگر چہ اس کا ہم مذہب ہو یا اور کسی قسم بدمذہب ہو سنّی ہو تو سنّی ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲) دیوبندیہ کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق فرمایا کہ وُہ مرتد ہیں۔اور شفائے قاضی عیاض وبزازیہ و مجمع الانہر ودُرمختار وغیرہا کے حوالے سے فرمایا
منشک فہ کفرہ وعذابہ فقد کفر۱؎
(جس نے اس کے کفر وعذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہوگیا۔ت)
(۱؎ دُرمختار باب المرتد مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶)
جو اُن کے اقوال پر مطلع ہوکر ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافرا ور ان کی حالت کفر وضلال اور ان کے کفری وملعون اقوال طشت ازبام ہوگئے ہر شخص کہ نرا جنگلی نہ ہو اُن کی حالت سے آگاہ ہے پھر انہیں عالم ِدین جانے تو ضرور متہم ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل محض ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳) ابھی گزرا کہ دیو بندیہ کے کافر ہونے میں جو شک کرے وُہ بھی کافر ہے صرف انھیں بُرا جاننا کافی نہیں تو جو انھیں قابل امامت سمجھتا ہے اُس کے پیچھے نماز بیشک باطل محض ہے فانہ منھم (کیونکہ وہ بھی انہی میں سے ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۴) اہلسنت پر فرض ہے کہ اپنا امام سنّی صحیح العقیدہ جمعہ و عیدین کے لئے مقرر کریں وہابی کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور شہروں میں جمعہ کا ترک حرام ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۵) اس کا جواب انھیں نمبروں میں گزرا۔
(۶) ایسی صورت میں جمعہ قائم نہیں ہوسکتا کہ اس کے لئے امام کے سوا کم از کم تین مقتدی درکار ہیں اور یہاں ایک ہی ہے باقی تین نہیں اینٹ پتھر کی مورتیں ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۷) بار ہا بتا دیا گیا کہ انکے پیچھے نماز باطل اور خود ان کی نماز باطل وہ نماز ہی نہیں لغو حرکات ہیں مسلمان اُسی وقت اپنی جماعت قائم کریں اور جماعت نہ ملے تو اپنی تنہا پڑھے۔
(۸) نابینا کی امامت جائزہے ،ہاںاگر اُس سے افضل موجود ہو تو خلاف ِ اولیٰ ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۹) کتنی بار کہا جائے کہ کسی نماز میں اصلاًجائز نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۸۰۸: از شہرڈونگر پور ملک میوڑاراجپوتانہ برمکان جمعدار سکندر خان مسئولہ عبدالرؤف خان
۱۳ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص نجومی یا رمّال یافال دیکھنے والا اُس پر اُجرت لینے والا ہو اور امامت کرتا ہو اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟
الجواب: نجومی ورمّال قابل ِامامت نہیں ،یونہی جھوٹے فالناموں والے، ہاں اگر جائز طور پر فال دیکھے اور نہ اس پر یقین کرے نہ یقین دلائے تو حرج نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۸۰۹: از شہر کہنہ مسئولہ سید ممتاز علی صاحب رضوی ۱۴محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
اہلسنت وجماعت کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ بعد انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام افضل البشر ہیں،زید وخالد دونوں اہل سادات ہیں،زید کہتا ہے کہ جو شخص حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کوحضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ پر فضیلت دیتا ہے اُس کے پیچھے نماز مکروہ ہوتی ہے۔خالد کہتا ہے کہ میں علی الاعلان کہتا ہوں کہحضرت ابا بکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ پر حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو فضیلت ہے اور ہر سید تفضیلیہ ہے اور تفضیلیہ کے پیچھے نماز مکروہ نہیں ہوتی بلکہ جو تفضیلیہ کے پیچھے نماز مکروہ بتائے خود اس کے پیچھے مکروہ ہوتی ہے۔
الجواب
تمام اہلسنت کا عقیدہ اجماعیہ ہے کہ صدیق اکبروفاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ مولیٰ علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے افضل ہیں،ائمہ دین کی تصریح ہے جو مولیٰ علی کو اُن پر فضیلت دے مبتدع بدمذہب ہے، اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔فتاویٰ خلاصہ وفتح القدیرو بحرالرائق وفتاویٰ عالگیریہ وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے:
ان فضل علیا علیھما فمبتدع۱؎
(اگر کوئی حضرت علیکوصدیق وفاروق ،پرفضیلت دےتا ہے تو وہ بدعتی ہے ۔ت)