Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
158 - 185
مسئلہ نمبر ۷۸۷: از کلکتہ لورچت پور روڈ نمبر ۱۲۵    مرسلہحاجی جان محمد صاحب     ۱۴رمضان ۱۳۳۸ھ

(۱) ایک مسجد کے متولیوں نے زید کو پچاس روپے ماہوار تین سال کے لئے ملازم رکھا یہ شرط تھی کہ ہم تین سال بعد معزول کرسکتے ہیں اسے امام نے بذریعہ تحریری اقرار نامہ کے منظور کرکے اپنے دستخط کردئے ۔

(۲) باوجود متولیوں کے منع کرنے اورباضابطہ روکنے کے جب تک ہم کو کسی واعظ یا لیکچرار کے خیالات اور مذہب کا علم نہ ہوجائے کسی کو مسجد میں وعظ لیکچر دینے کی اجازت نہ دو بے اطلاع متولیوں کے خود اجازت دیتا ہے چنانچہ گزشتہ فساد کے موقع پر کلکتہ میں اس نے مسجد کے اندر ہندؤوں تک کو آنے دیا۔

(۳) امام مذکور اکثر مسجد کی امامت سے غیر حاضر ہوتا اور سیر یا دعوتوں میں بے اجازت متولیوں کے چلاجاتا ہے اور متولیوں کے منع کرنے کی بالکل پرواہ نہیں کرتا۔

(۴) متولیوں نے بعد گزرنے معیاد اقرار نامہ اور باضابطہ تحریری اطلاع دہی کے دوسرے امام کوجو مدینہ منورہ کا ساکن اور مسجد نبوی کے امام کے خاندان سے ہے اور مسجد نبوی میں امامت کرچکا ہے اب بجائے اس کے مقرر کیا ہے وہ مزاحم ومانع ہے اور آمادہ فتنہ وفساد ہے اور متولیوں پر خلاف واقعہ توہین آمیز الزام و بہتان مشتہر کرتا آیا ایسے کو امام شرعاًمتولیانِ مسجد معزول کرسکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب:ضرور معزول کرسکتے ہیں بلکہ ان حرکات پر اس کو معزول کرنا ہی چاہئے،
لایعزل صاحب وظیفۃ الا بجنحۃ وھذہ جنحۃ
 (صاحب وظیفہ کسی قصور کے بغیر  معزول نہیں کیا جاسکتا اور یہ قصور  ہے ۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۷۸۸:۱۰ شوال ۱۳۳۸ھ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں زید نے عمرو سے مثلاًبوستان گلستان کے بچپن میں دویا تین سبق پڑھے تھے اب ان میں رنج ہوگیا اور عمرو نے اسے ہاک(عاق) کردیا توزید کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟
الجواب: اگر شاگرد کا قصور تاحدِ فسق ہے اور بوجہ اعلان مشہور ومعروف ہے تواسے امام بنانا جائز نہیں اوراس کے پیچھے نماز گناہ، اور اگراس کا قصور نہیںیا حدِ فسق تک نہیں یا وہ بالاعلان اس کا مرتکب نہیں تو ان پہلی دو صورتوں میں اس کے پیچھے نماز میںاس وجہ سے کوئی کراہت نہیں اور پچھلی صورت میں مکروہ تنزیہی خلافِ اولیٰ ہے باقی عاق کردینا کوئی شے نہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۸۹: از راب گڈھ صدربازار بر دکان امیر بخش ٹیلر     مرسلہ شیخ طالب حسین  ۱۴ شوال بروز پنجشنبہ ۱۳۳۸ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان ِ شرع متین اس مسئلہ میںکہ راب گڈھ میں دومسجدیں ہیں جن میں سے ایک مسجد کا متولی جو روزہ نماز کا پابند نہیں ہے اُس نے ایک پیش امام جو قوم کاصدیقی اور علم کا حافظ مولوی حکیم مقرر تھا اس کو متولی نے بلاوجہ الگ کردیا اور بجائے اس کے بلارائے مقتدیوں کے دوسرا امام جوصرف حافظ وقوم کا قصاب ہے اور ہنوزان کے یہاں پیشہ جاری ہے مقرر کردیا جس پر میں نے متولی صاحب سے پُوچھا کہ سابق پیش امام کس قصور پر علیحدہ کئے گئے تو متولیعبدالصمد صاحب نے بہت غصہ ے ساتھ جواب دیا کہ ہماری مسجد ہم جو چاہیں سو کریں مقتدی پوچھ نہیں سکتے ،ایسے امام کے پیچھے اورایسی مسجد میں نماز جائز ہے یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب: اگرپہلا امام معاذاﷲ بدمذہب ہو تو اُس کا معزول کرنا اشد ضروری تھا اور اگردوسرا بدمذہب ہو تو اس کامقررکرنا حرام ہوا، اور معزول کرنا لازم ہے،یوں ہی اُن میں جو قرآن مجید غلط پڑھتا ہو یا طہارت صحیح نہ کرتا ہو اُس کا معزول کرنا فرض ہے، ایک ہو یا دونوں،اور اگرصحت مذہب وقرأت وطہارت میں بقدرجوازِ نماز ہیں اور امام وظیفہ پاتا ہے تو بلا قصور پہلے کو معزول کرنا گناہ ہوا کہ بلا وجہ ایذائے مسلم کہ
لایعزل صاحب وظیفۃ بغیرجنحۃ ۱؎
 ( کسی صاحب وظیفہ کو بغیر کسی گناہ کے معزول نہیں کیاجاسکتا۔ت)
 (۱؎ ردالمحتار ،  مطلب لایصح عزل صاحبِ وظیفہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر ،    ۳/۴۲۳)
اور متولی کا کہنا کہ مسجد ہماری ہے ہم جو چاہیں کریں محض باطل ہے،مسجدیں اﷲ عزوجل کی ہیں
ان المسٰجد ﷲ فلا تدعوامع اﷲاحدا۲؎
 (یقینا مسجدیں اﷲ تعالٰی کی ہیں تو اﷲ کے ساتھ کسی کی بندگی نہ کرو۔ت)
(۲؎ القرآن ، ۷۲/۱۸)
اُس میںوہی کیا جائے گا جوبحکم شرع ہے اور اس کا یہ زعم باطل ہے کہ مقتدی پُوچھ نہیں سکتے بلکہ امام ومؤذن مقرر کرنے میں متولی کا اختیار نہیں جبکہ خود بانی مسجد اس کے اقارب میں نہ ہو امام ومؤذن کے نصب میں پہلا اختیار بانی پھر اس کی اولاد واقارب کا ہے اور دوسرااختیار مقتدیوں کاہے یہ بھی جبکہ جس کو بانی مقرر کرنا چاہتا ہے اور جسے مقتدی چاہتے ہیں دونوں یکساں ہوں، اور اگر جسے یہ چاہتے ہیں وہی شرعاً اولیٰ ہے تو انھیں کا اختیار مانا جائے گا متولی اس بارے میں کوئی چیز نہیں۔
دُرمختار (میں ہے) :
البانی للمسجد اولی من القوم بنصب الامام والمؤذن فی المختار۱؎ (وکذاولدہ وعشیرتہ اولی من غیرھم اشباہ ۲؎اھ شامی)الااذاعین القوم اصلح ممن عینہ البانی ۳؎ (لان منفعۃ ذلک ترجع الیھم ،انفع الوسائل۴؎اھ ش)
مختار قول کے مطابق امام اور مؤذن مقرر کرنے کا حق دیگر لوگوں کی بنسبت بانی مسجد کو زیادہ ہے(اسی طرح اسکی اولاد اورخاندان بھی دیگر حضرات سے زیادہ حقدار ہیں اھ شامی) البتہ اس صورت میں کہ جب قوم بانی مسجد سے اعلیٰ و صالح امام مقرر کرے تو ہی بہتر ہوگا، (کیونکہ اس کا نفع قوم کو پہنچے گاانفع الوسائل اھ ش)(ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۳۹۰)

(۲؎ ردالمحتارکتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ / مصطفی البابی مصر     ۳/۴۵۴)

(۳؎ درمختار    کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ /مطبع مجتبائی دہلی     ۱/۳۹۰)

(۴؎ ردالمحتار    کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ /مصطفی البابی مصر    ۳/۴۵۴)
ور اگر امامت بلا وظیفہ ہے اور پہلا امام شرعاً اس دوسرے امام سے اولیٰ تھا تو متوفی نے دوہرا ظلم کیا راجح کو ہٹانا اور مرجوح ک وبڑھانا،اور دونوں برابر ہیں جب بھی بلاوجہ پہلے کو ایذا دہی کا مرتکب ہوا اور اگریہ دوسرا اولیٰ بایں معنی پہلے کے پیچھے نماز میں کچھ کراہت تھی اس کے پیچھے نہیںتو متولی نے اچھا کیا مقتدیوں کا اس پر اعتراض بے جا ہے نماز اس کے پیچھے ہی مطلقاً جائز ہے جبکہ مذہب وقرأت وطہارت واعمال صحیح ہوں، اورمسجد کو تو کوئی جرم ہی نہیں اس میں بہر حال جائز ہے ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۷۹۰ :ازناتھ دوار ریاست ادیپور ملک میواڑ سراج الدین صاحب    ۲۲جون ۱۹۲۰ء

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایک شخص مسائل نماز روزہ کے تھوڑابہت واقفیت ہے مگر چند عرصہ سے اس کے کانوں میں سماعت کم ہوگئی ہے یعنی اونچا سنتے ہیں، توایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھناجائز ہے یا نہیں ، ہونے کو سبب خلاصہ تحریر فرمائیں ،اور اگر بہرے پیش امام نے نماز میں غلطی کی اور اپنے مقتدی کا لقمہ نہ سُنا تو نماز میں کوئی خلل تو نہیں آتا ہے یا آتا ہے؟اس کا جواب باصواب مع فقہ و حدیث اور کتب فقہ وحدیث کا حوالہ بھی ضرور تحریر فرمائیں، اﷲ تعالٰی آپ کو اجزِعظیم عطا فرمائے گا۔    ۲۲جون ۱۹۲۰ء از ناتھ دوار ریاستاودے پور ملک میوڑا سراج الدین ۔
الجواب : بہرے کے پیچھے نماز جائز ہے مگر اس کا غیر اولیٰ ہے جبکہ علم مسائل نماز و طہارت میںاُس سے کم نہ ہو اورغلطی جس پر لقمہ نہ لیا اگر مفسدِ نماز تھی نماز جاتی رہی ورنہ نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۹۱:از حسن پور مراد آباد مدرسہ مرسلہ مولوی عبدالرحمن مدرس    ۸ ذی قعدہ ۱۳۳۸ھ

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سفر میں امام کے عقائد کی تصدیق کی ضرورت ہے یا نہیں۔
الجواب: ضرورت ہے اگر محلِ شُبہ ہو مثلاً کسی سے سنا کہ یہ امام وہابی ہے وُہ کہنے والا اگر چہ عادل نہ ہو صرف مستور ہو تحقیق ضرور ہے۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کیف وقد قیل۱؎۔
حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :کیسے نہیں ہوسکتا ،حالانکہ یہ کہا گیاہے۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری        باب الرحلۃ فی المسألۃ النازلۃ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۹)
یا وہ بستی وہابیہ کی ہو تو تحقیق کرو اور اگر کوئی وجہِ شُبہ نہیںتونماز پڑھے پھر اگر بعد کوئی ثابت ہو کہ مثلاً وہابی تھا اعادہ فرض ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۷۹۲ تا ۷۹۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان ِ شرع متین کہ:

(۱) ایک مسجد فرقہ غیر مقلد نے سنّی حنفی اشخاص کے محلہ میںکسی طرح پر اراضی کا بیعنامہ کراکے تعمیر کرائی اور اس کے دروازے پر ایک پتھرجس پر لفظ اہل حدیث کندہ ہے نصب کرادیااور نماز پڑھنے لگے اس مسجد میں بعض ناواقف لوگ سنّی حنفی ہوکر بھی اکثراوقات انکی جماعت میں شریک ہوکر نماز پڑھ لیتے ہیںان کی نماز غیر مقلد امام کے پیچھے ہوگی یا نہیں ؟

(۲) اگر اس مسجد سنّی حنفی امام کے پیچھے لوگ حنفی غیر مقلدوں کی جماعت کے بعد یااول ہر روز یا جمعہ کے روز ادا کریں تو نماز ہوگی یا نہیں؟

(۳) اور اگر سنّی حنفی امام کے پیچھے غیر مقلد شخص اسی مسجد میں جماعت میں شریک ہو کر نماز اپنے طریقہ پر پڑھے یعنی آمین بالجہر کرے اور رفع یدین کرے تو حنفیوں کی نماز میں کوئی نقص عائد ہوگا یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:

(۱) غیر مقلد کے پیچھے نماز باطل محض ہرگزنہ ہوگی اورپڑھنے والے کے سر پر گناہ ِ عظیم ہوگا ۔

فتح القدیر میں امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے:
ان الصلٰوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز ۲؎۔
ۤاہل ہواء و بدعت کے پیچھے نماز جائز نہیں ۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ فتح القدیر ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ کّھر ، ۱/۳۰۴)
 (۲) سنّی امام کے پیچھے نمازہوجائےگی مگراس مسجد میںپڑھنے سے مسجد کا ثواب نہ ملے گا کہ شرعاًمسجد نہیں اور بلاعذر ِشرعی ترکِ مسجد گناہ ہے،
حدیث میں ہے:
لاصلاۃ لجار المسجد الّا فی المسجد ۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد ہی میں ہوسکتی ہے۔(ت)
 (۱؎ المستدرک علی الصحیحین    کتاب الصلوٰۃ لا صلوٰۃ لجار المسجدالخ        مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۱/۲۴۶)
 (۳) جماعت میں غیر مقلد کے شریک ہونے ضرور نماز میں نقص پیدا ہوتا ہے اول تو اُس کے آمین بالجہر سے طبیعت مشوش ہوگی ،اور دوسرا عظیم نقص یہ ہے کہ اس کی شرکت سے صف قطع ہوگی کہ اس کی نماز نمازنہیں ایک بے نمازی شخص صف میں کھڑا ہوگا اور یہ صف کا قطع ہے اور صف کا قطع ناجائز ہے صحیح حدیث میں فرمایا:
من قطع صفا قطعہ اﷲ ۲؎۔
جس نے صف قطع کی اُسے اﷲ تعالٰی (اپنی رحمت سے)قطع کردے(ت)
 (۲؎ سُنن ابوداؤد     باب تسویۃ الصفوف                مطبوعہ آفتا ب عالم پریس لاہور        ۱/۹۷)
معہذا بد مذہبوں کےساتھ نماز پڑھنے سے بھی حدیث میں منع فرمایا ہے :
لا تصلوا معھم ۳؎
 (اُن کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۳؎ کنز العمال، الباب الثالث فی ذکر الصحابہ حدیث(۳۲۵۲۸،۳۲۵۲۹)     مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت    ۱۱/۵۴۰)
Flag Counter