ہاں جائز ہے بشرطیکہ کوئی مانع شرعی موجود نہ ہو کیونکہ وُہ شرعی طور پر بالغ ہے اگر بلوغ کے آثار ظاہر نہ ہوئے ہوں البتّہ اگر وہ امرد خوبصورت ہے تو پھر نماز مکروہ ہوگی کیونکہ وہ محلِ فتنہ ہوتا ہے۔ردالمحتار میںشیخ رحمتی سے یوُں ہی ذکر ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار مطلب فی امامۃ الامرد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۱۵)
مسئلہ نمبر ۷۷۸،۷۸۴ :ازکوٹ ڈسکہ مرسلہ محمد حیات صاحب مدرس ہائی اسکول ۱۶جمادی الاخری۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام ایسے امام مسجد کے بارے میں جس میں مفصلہ ذیل نقص صریحاً ہوں،
(۱)غسال وذابح ہے اگر کسی صاحب میّت سے کچھ نہ ملے تو شاکی رہتا ہے۔
(۲)سامانِ مسجد کے مطلق حفاظت نہیں کرتا اور نہ ان کی مرمّت وغیرہ کی لوگوںکو ترغیب دیتاہے اس لئے اشیاء مسجد بگڑتی اور خراب ہوتی رہتی ہیں اور ضائع اور غبن ہوتی رہتی ہیںاور مسجدکے متعلقہ مکان میں رہائش رکھتے ہیں جو کہ مسجد سے علیحدہ متصل مسجد ہے اگر حفاظت ِ سامان مسجد کو کہیں تو برافروختہ ہوجاتے ہیں۔
(۳) جماعتِ نماز صرف مغرب کی کرتے ہیں باقی نمازیں متفرق طور پر لوگ خود بخود پڑھتے ہیں ،اگر کہیں تو ناراض۔
(۴) مرض بواسیر عرصہ سے ہے تقاطر بول اور پیپ اورخون سے محفوظ رہنے کے لئے نیچے لنگوٹی رکھتے ہیں پُورے طور پر شکایت مرضِ بواسیر نہیں گئی اور نہ یہ جانے والی ہے۔
(۵) میونسپل کمیٹی قصبہ کوٹ ڈسکہ میں ایک ادنیٰ آسامی جمعداری خاکروبان ۸ روپے ماہوار پر ملازم ہیں ،کام اچھا نہ ہونے پر مقامی افسر اور ممبرانِ کمیٹی اکثر ناراض رہتے ہیںجو کہ مسلمانوں کو ناگوار گزرتا ہے۔
(۶) میاں جی کے اندرون شہر میں جو مکانات ہیں ان کے بالکل متصل ایک پرانی مسجد ہے انقلابِ زمانہ سے اس محلہ میں مسلمانوں کے گھر نہ رہے اور مسجد غیر آباد ہوگئی ،اب میاں جی اس مسجد کو مال مویشی خانہ اور گوبر بھینس خانہ بنارکھاہے، طرفہ یہ کہ حق اس مسجد کا برابر لے رہے ہیں۔
(۷) روزہ ماہ رمضان المبارک اگر معمر ہونے کی وجہ سے بھی رکھتے ہوں تو نمازِتراویح پڑھانے کےلئے آتے ہیں کیونکہ تراویح پڑھانے والے کی خدمت ہوتی ہے مگر نماز فرض کی جماعت سوائے مغرب ندارد، ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنی کیسی ہے؟
الجواب: اگر یہ بیانات صحیح ہوں تو صرف نمبر ۳ ونمبر۶اُس کے فاسق معلن ہونے کے لئے کافی ہیں کہ چاروں نمازوں میں روزانہ تارکِ جماعت ہے اور مسجد کو ناپاک وملوث کرنےوالا اور فاسق معلن کو امام بنانا اوراسکے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔
فتاویٰ الحجہ وغنیـہ میں ہے:
(اگر انھوں نے فاسق کو امامت کے لئے مقدم کیاتو گناہگار ہوں گے۔ت)
(۱؎ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳)
اور تقاطر بول اور جریانِ خون اگر لنگوٹ سے بند نہیں ہوتے تو سخت شدید فاسق ہے بہر حال اُسے امامت سے معزول کرنا چاہئے ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۸۵: از شہر مرسلہ غلام محمد صاحب درزی مورخہ ۲۱رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان ِشرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا قمیص چوری ہوا اوربکر چند قرائن کی وجہ سے بطور شُبہ کے چوری ثابت کیا گیا اورجس روز سے بکر پر چوری ثابت ہُوئی اس روز سے تمام محلہ والوں نے بکر کے پیچھے نماز پڑھنا قطعی چھوڑ دی اور بوجہ شک کے اور اسی شک کو لے کربکر کے پیچھے نماز پڑھنا بلاتو بہ جائز ہے یا نہیں ، دیگر گزارش یہ ہے کہ بکر کے باپ نے کہا کہزید اگر قسم کھائے تو مال مسروقہ ہم دیں گے اورزید نے کہا ہم قسم کھائیں گے لیکن قسم نہیں کھائی اورزید کے پیچھے بلاتوبہ نماز جائز ہوگی یا نہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب: زید پر کوئی الزام نہیں اور خالی شُبہ کے سبب بکر پر چوری ثابت نہیں ہوسکتی نہ اس کے پیچھے نماز منع نہ ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۸۶: از کلکتہ نارکل ڈانگار لنڈوگودام مرسلہ شیخ عرفان علی صاحب ۲۱رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی ہندہ کو طلاق مغلظہ دی ومطلقہ مدّت ایک سال تک بیٹھی رہی پھر اس کے شوہر نے اس کو بلا عقد شرعیہ اپنی زوجیت میں رکھ لیا اور اس سے ایک لڑکی پیدا ہوئی یہاں تک کہ لڑکی مذکور بالغ ہوئی پس اس لڑکی سے کسی مسلمان نے اگرعقدِ شادی کرلی اور اس نسل سے اولاد جوپیدا ہووہ امامت کرسکتاہے یانہیں اور اسکے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب: اس کی ماں ولدالزنا ہُوئی وُہ خود ولدالزنا نہیں ،اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں جبکہ مذہب واعمال و قرأت وطہارت وغیرہا میں قابل ہو ،ہاں اگر عوام اس کی امامت سے نفرت کریں اور یہ امر باعثِ قلتِ جماعت ہو تو اسے امام نہ کریں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔