ف: ان حوالوں میں مذکور الفاظ مختلف ہیںلیکن مفہوم ایک ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ ۲؎
(خاوند پر فاجرہ عورت کو طلاق دینا واجب نہیں۔ت)
(۲؎ دُرمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/۲۵۴)
بکر جس نے وُہ ناپاک کلمات کہے اُن سے صراحۃً شریعت مطہرہ سے عناد ٹپکتا ہے اُس پر توبہ فرض ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۷۵: ازریاست جے پور گھاٹ، دروازہ مدرسہ قادریہ تکیہ اعظم شاہ ، مرسلہ حاجی عبدالجبار صاحب رضوی
کیا حکم ہے شریعت ِمطہر کا اس مسئلہ میں کہ زید امامت کرتا ہے اور اس کے سر کے بال لمبے یعنی دوش سے نیچے قریب سینہ تک ہیں،عمروکہتا کہ دوش سے نیچے بال بڑھانا حرام ہیں اور ایسے شخص کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے،زید کہتا ہے کہ اتنے لمبے بال رکھنا یعنی دوش سے نیچے جائز ہے اور مشائخ سادات کا یہ شعار ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی مدظلہ نے اپنے رسالہ الحرف الحسن فی للکتابۃ علی الکفن کے صفحہ ۱۹ سطرامیں حضرت سیّدنا امام علی رضا رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے متعلق لکھا ہے کہ ان کے دو۲گیسو شانہ پر لٹک رہے تھے لہذا سوال یہ ہے کہ زید کا کہنا صحیح یا عمروکا ،اگر قول عمرو کا صحیح ہے تو جتنی نمازیں ہم مقتدیوں نے زید کے پیچھے پڑھی ہیں حساب کرکے سب کا اعادہ کریں یا نہیں؟
الجواب:مسلمانوں کو اتباعِ شریعت چاہئے ۔حکم نہیںن مگر اﷲ ورسول کے لئے ۔سینہ تک بال رکھنا شرعاً مرد کو حرام، اور عورتوں سے تشبّہ اور بحکم احادیث صحیحہ کثیرہ معاذاﷲ باعث لعنت ہے۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لعن اﷲ المشتھبین من الرجال بالنساء ۳؎الخ
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:اﷲ تعالٰی کی لعنت ان مردوں پر جو عورتوں کے ساتھ مشابہت کریں(ت) الخ
(۳؎ المعجم الکبیر ماروی ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ مطبوعہ المتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۱/۲۵۲)
اُمّ المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے ایک عورت کو مردانہ جوتا پہنے دیکھا اُسے لعنت کی خبر دی۔نبی اکرمصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک عورت کو کمان لٹکائے ملاحظہ فرمایا ،ارشاد فرمایا: ''اﷲ کی لعنت ہو اُن عورتوں پر کہ مردوں سے تشبّہ کریں اوران مردوں پر کہ عورتوں سے مشابہت کریں''۱؎۔
(۱؎ صحیح البخاری ، باب المتشبہین بالنساء مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۸۷۴)
حالانکہ جُوتا کوئی جزو بدن نہیں جزولباس ہے اور کمان جزو لباس بھی نہیں ایک خارج شےَ ہے جب ان مشابہت پر لعنت فرمائی تو بال جزوِبدن ہیں ان میں مشابہت کس درجہ حرام اور باعثِ لعنت ہوگی۔ الحرف الحسن میں یہ ہے کہ شانہ پر لٹک رہے تھے یا یہ کہ شانہ سے اُتر کر سینہ تک پہنچے تھے ۔شانہ تک لمبے گیسووں کا ہونا کہ آگے اصلانہ بڑھےں ضرور جائز بلکہ سنن زوائد سے ہے حساب کرکے نمازوں کا اعادہ چاہئے اورامام صاحب سے امید ہے کہ حکم شرع قبول فرماکر خود معصیت سے بچیں گے اور اپنی اور،مقتدیوں کی نماز کراہت سے بچائیں گے ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۷۶: ازمانیا والا ڈاکخانہ قاسم پورگڈھی ضلع بجنور مرسلہ سیّد کفایت علی صاحب ۳ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام اور ایک مقتدی نماز پڑھتے ہوں دوسرامقتدی آگیاتو امام کو وہیں رہنا چاہئے یا آگے چلا جائے یا نہیں(اور آگے بڑھنے کی جگہ ہو) بینواتوجروا
الجواب: اگر پہلا مقتدی مسئلہ دان ہے اوراسے پیچھے ہٹنے کی جگہ ہے تو وہ ہٹ آئے دوسرامقتدی اس کی برابر کھڑا ہوجائے اور اگر یہ مسئلہ دان نہیں یا اسے پیچھے ہٹنے کو جگہ نہیں تو امام آگے بڑھ جائے،اوراگر امام کو بھی آگے بڑھنے کی جگہ نہیں تو دوسرا مقتدی بائیںہاتھ کو کھڑاہوجائے مگر اب تیسرامقتدی آکر نہ ملے ورنہ سب کی نماز مکروہ تحریمی اور سب کا پھیرنا واجب۔واﷲ تعالٰی اعلم۔