Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
155 - 185
مسئلہ نمبر ۷۷۱: ازشہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام     مسئولہ مولوی محمد ظہور الحق صاحب    ۳ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ایسے شخص کے واسطے کہ وُہ حافظ قرآن ہے مگر افیون کھاتا ہے اور رمضان المبارک کا روزہ نہیںرکھتا ہے، آیاوُہ امامت کرسکتا ہے یا نہیں اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں
بینوا بالکتاب وتوجروایوم الحساب۔
الجواب: افیونی اور بلاعذرشرعی تارکِ صومِ رمضان فاسق اور اُن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا گناہ اور پھیرنا واجب جبکہ اُن کا فسق ظاہر وآشکارا ہو، اور اگر مخفی ہو جب بھی کراہت سے خالی نہیں اورافیونی اگر پینک میں ہو جب تواس کے پیچھے نماز باطل محض ،
قال تعالٰی
حتی تعلمو ماتقولون ۲؎
 (اﷲ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے: حتی کہ تم جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۲؎ القرآن ۴ / ۴۳)
مسئلہ نمبر ۷۷۲: از     شہر مدرسہ اہلسنت    مسئولہ مولوی ظہور الحق صاحب طالب علم    ۱۲ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ

اس سوال میں جو اوپر مذکور خلاف واقعہ محض حسد پر کیا گیا ہے افیونی تارکِ صوم اور پھر محض اُس پر بلا عذر یہ تینوں لفظ اور ان کے مصداق تحقیق طلب ہیںکیونکہ نتیجہ جو اب انھیں پر مبنی ہے اس جواب سے یہ نہیں معلوم ہواکہ اطّباء نے امراض نزلہ وجریان وغیرہ میں افیون بقدر اصلاح تجویز فرمائی ہو وہ عذر شرعی کے اندر مجوز ہے یا نہیں ،اگر نہیں تو عذر شرعی کیا ہے ،دوسرے یہ کہ اگر کوئی شخص بباعثِ سفر یامرض روزہ رمضان قضاکرے تو تارکِ صوم ہوگا یا نہیں،اور عذر شرعی اس کے لئے ہے یا نہیں،اور حافظ کلام مجید امیوں میں امامت کے لئے شرعاً افضل ہے یا نہیں،اگر کوئی شخص ایک مدّت تک مقتدی رہ کر محض حسد سے الزام لگائے ایسے کبیرہ گناہ کے تو وہ عندالشرع مستوجب کس تعزیر کا ہے۔
الجواب: افیون اتنی کہ پینک لائے مطلقاً حرام ہے، نہ کسی مرض کے لئے حلال ہوسکتی ہے نہ کسی طبیب کی تجویز سے ۔اﷲ ورسول کے برابر حکیم کون ہے وہ منع فرماتے ہیں اُن کا منع فرمایا ہوا کسی کی تجویز سے جائز نہیں ہوسکتا ،یہ عذر شرعی ہے نہ عذر شرعی فتویٰ میں دربارہ افیون لکھا تھا بلکہ دبارہ صوم
درمختار میں ہے:
ظاہر المذھب المنع۱؎
 (یعنی حرام چیز سے علاج ظاہر مذہب پر منع ہے۔ت)
 (۱؎ دُرمختار ،  باب المیاہ ،  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱/۳۸)
ردالمحتار میں ہے:
اجاب الامام لان المرجع فیہ الاطباء وقولھم لیس بحجۃ حتی لوتعین الحرام مدفعاللھلاک یحل کالمیتۃ والخمر عند الضرورۃ ۲؎۔(ملخصا)
امام اعظم نے یہ جواب دیا کہ اس میں اطبّاء کی طرف رجوع کیا جائے گا اور ان کے قول حجّت نہیں، حتّی کہ اگر کوئی حرام چیز ہلاکت کو دُور کرنے کے لئے متعین ہوجائے تو وہ حلال ہوجائے گی جیسا کہ ضرورت کے وقت مردار اور شراب(ملخصاً)۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        باب المیاہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/۱۵۴)
ہاں سفر اور مرض جس میں روزہ کا مضر ہونا ثابت ومحقق ہو روزہ قضا کرنے کے لئے عذر شرعی ہیں،حافظ امیوں سے جب افضل ہے کہ فاسق نہ ہو اورفاسق تو عالم بھی افضل نہیں چہ جائے حافظ۔
درمختار میں ہے:
الا ان یکون غیرالفاسق اعلم القوم فھواولی۔۳؎
مگر اس صورت میں کہ جب فاسق کے علاوہ (یعنی مذکورہ افراد میں سے) کوئی شخص قوم سے زیادہ صاحبِ علم ہو وہی امامت کے لئے اولیٰ ہوگا۔(ت)
 (۳؎ درمختار        باب الامامۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۸۳)
اگر الزام جھوٹا لگائے تو سخت کبیرہ ہے اور اس کی سخت سزا ہے اوراگر الزام سچّا ہے تو مدت تک خاموش رہنے کا اس مقتدی پر الزام ہے اور وہ اس وجہ سے سزا وار سزا ہے مگر وہ امام اس بنا پر الزام سے بری نہیںہوسکتا کہ اب تک مقتدی کیوں خاموش رہے۔واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۷۳: ازاورنگ آبادضلع گیا    مرسلہ محمد اسمٰعیل مدرس مدرسہ اسلامیہ         ۱۴صفر المظفر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کی عمرو تعزیہ کی نہایت عظمت کرتا ہے اور اکھاڑے میں شریک ہوتا ہے اورحضرت سیّد الشہداء حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ وحضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ، کی مجلسِ میلاد منعقد کرتا ہے اور اس میں یاحسین سلام علیک ،یاذکی سلام علیک،یاعلی سلام علیک وغیرہ بحالت قیام پڑھواتا ہے اور مجلس سماع میں ہر قسم کے مزامیر یعنی انگریزی باجا روشن چوکی خروک شہنائی مشکی باجا وغیرہ بجواتا ہے اور نماز پنجگانہ و جمعہ کے لئے مسجد میں نہیں آتا صرف عیدین کی امامت کرتا ہے مقتدی اس سے بسبب ان افعال کے سخت نفرت رکھتے ہیں تو عمرو قابلِ امامت ہے یا نہیں ،اور عمرو کے یہ افعال شرع شریف میں کیا حکم رکھتے ہیں۔
الجواب : مزامیر حرام ہیں ،صحیح بخاری شریف)'ف'( کی حدیث میں ہے:
یستحلون الخمر والخنزیر والمعازف۱؎۔
وُہ لوگ شراب ،خنزیر اور مزامیر کو حلال جانیں گے۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری    کتاب الاشربہ باب ماجاء فیمن یستحل الخمرالخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۲/۸۳۷)
ہدایہ میں ہے:
لان الابتلاء المحرم یکون۲؎۔
 (امتحان وابتلاء حرام ہی سے ہوتا ہے۔ت)
 (۲؎ الہدایہ         کتاب الکراہیت، مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ،  ۴/۴۵۳)
تو مجلس مزامیر منعقد کرنا فسق ،اور نماز ِعید کوان شیطانی باجوں کے ساتھ آنا فسق اور جماعت کے لئے بلا عذر شرعی حاضر نہ ہواکرنا فسق اور جمعہ میںبلا مجبوری نہ آنا سخت تر فسق اور تعزیہ کی تعظیم بدعت ،عمرو ہر گز قابلِ امامت نہیں۔
تبیین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیم وقد وجب علیھم اھانۃ شرعا۳؎۔
کیونکہ امامت کے لئے اس کی تقدیم میں تعظیم ہے حالانکہ ان پر شرعاً اس کی اہانت لازم ہے۔(ت)
(۳؎ تبیین الحقائق    باب الامامۃ ، مطبوعہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ بولاق مصر  ، ۱/۳۴)
ف: بخاری کے الفاظ اس طرح ہیں :یستحلون الحروالحریروالخمروالمعازف الخ۔اس حدیث کو مختلف الفاظ کے ساتھ دیگر متعدد کتابوں نے ۱بھی ذکر کیا ہے سنن ابوداؤ۲/۲۰۴، سنن الکبریٰ للبیہقی ۱۰/۲۲۱، کنزالعمال۱۱/۱۳۴،المعجم الکبیر ۳/۲۸۲،اتحاف السادۃ المتقین ۶/۴۷۲،الترغیب والترتیب ۳/۱۰۲۔    نذیر احمد
حضرت سیّد الشہداء اور حضرت مولی ٰ مشکلکشا رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی مجلس ذکر شریف منعقد کرنا اور یاعلی سلام علیک ویاذکی سلام علیک کہنا کچھ حرج نہیں رکھتا جبکہ منکراتِ شرعیہ سے خالی ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر۷۷۴: ازگونا سنٹرل انڈیا     ریاستگوالیار  مرسلہ محمد صدیق سیکریٹری انجمن اسلامیہ     ۱۷صفر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہزید کی زوجہ ثانی ایک دوسرے شخص کے ساتھ فرار ہوگئی اور فسق و فجور کرتی ہے اورزیداُس کو رکھے ہوئے ہے اور وہ زوجہ زید،زید پرحاوی ہے،زید دوسروں سے کہتا ہے کہ تم فلاں شخص جس کو میری زوجہ بلاتی ہے میرے گھرآنے سے روکو۔جب زید سے کہا جائے تم اس کو طلاق دیدو تو بہتر ہے ۔اس پر زید غصہ کرے اور کلمات سخت کہے اور کہے کہ میری زوجہ اولیٰ بھی تو لوگوں کو بلواتی ہے کیا اس کو بھی طلاق دیدوں ایسا ہرگز نہیں کروں گا ۔تو ایسے اصرار سے زید دیّوث ہے یا نہیں اور مسلمانوں کو ،زید کو اگر وہ پیش امامی کرتا ہو معزول کرنا چاہئے یا نہیں۔زید جو پیش امام مسجد ہے اس نے چند جاہلوں کو اپنا طرفدار بنالیا ہے اُن میں سے ایک شخص بکر نے کہا کہ ہمارا پیش امام دو دو بوتلیں شراب کی پئے گاا ورچار رنڈیاں رکھے گا اور وہی پیش امام رہے گا۔پسبکر کی بابت شرعاً کیا حکم ہے اور جولوگ ایسے امام کی طرفداری کریں اوراس کو پیش امام رکھنے پر اصرار کریں ان کی بابت کیا حکم ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب: زید اپنی زوجہ کے ایسے افعال پر اگر راضی ہے یا بقدرِ قدرت بندوبست نہیں کرتا تو بلاشبہ دیّوث ہے اوراسے امامت سے معذول کرنا واجب ،اور اسکے پیچھے نماز پڑھنا گناہ ،اور اس کا پھیرنا لازم ،اور اس کے حامی گنہ گار۔

قال اﷲ تعالٰی ولاتعاونوعلی الاثم والعدوان ۱؎۔ اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے: گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے سے رتعاون نہ کیا کرو۔(ت)
 (۱؎ القرآن        ۵/۲)
اور اگر وہ ان افعال پر راضی نہیں اور جہاں تک اسکا امکان ہے بندوبست کرتا ہے تو عورت کے افعال پر اسکا الزام نہیں۔
قال اﷲ تعالٰی
لاتزروازرۃ وزراٰخری۲؎ ۔
اﷲ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے: کوئی بوجھ اٹھانے والاکسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔(ت)
 (۲؎ القرآن        ۶/۶۴)
نہ اس پر طلاق دینا لازم ۔
Flag Counter