مسئلہ نمبر ۷۶۳:از سہسوانی ٹولہ مسئولہ محمد یامین ۶شوال ۱۳۳۷ھ
عمرو بہت مسخرا ہے اور بہت فحش گالی کے ساتھ مذاق کرتا رہتا ہے اُس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں۔
الجواب
اُسے امام بنانا گناہ ہے اور اسکے پیچھے نماز مکرہ تحریمی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر۷۶۴: از مقام چھاؤنی میرٹھ قصبہ کنکر کڑہ مرسلہ پیر سخاوت حسین صاحب ممبر جامع مسجد ۹ شوال ۱۳۳۷
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص حافظ ِقرآن پاک ہے اور امامت جامع مسجد کی کرتا ہے اور پابند ِصوم صلوٰۃہے زوجہ اس کی پردہ نشین ہے مگر قوم سے شخص مذکور قصاب ہے کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: اگر اس کی طہارت ونماز صحیح ہے اور مذہب کا وہابی یا دیوبندی وغیرہ بے دین وبددین نہیں سنّی صحیح العقیدہ ہے اور فاسق ومعلن نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھنی بیشک جائز ہے،قصاب ہونا کوئی مانع امامت نہیں،متعدد اکابرِدین نے یہ پیشہ کیا ہے، ہاں اگر جماعت والے اس سے نفرت کرتے ہوں اور اس کی امامت کے باعث جماعت میں کمی پڑے اور دوسراامام سنّی صحیح العقیدہ قابلِ امامت موجود ہوتو اس دوسرے کی امامت اولیٰ ہے۔
فقدکرھواخلف ابرص شاع برصہ لاجل التنفیر مع انہ لا خطیئۃ لہ فیہ۔
فقہا نے نفرت کے پیش نظر ایسے صاحب ِبرص کے پیچھے نماز کو مکروہ قرار دیا ہے جس کا برص مشہور (پھیل گیا) ہو، باوجود اس بات کے کہ اس میں اس کا اپنا ذاتی کوئی گناہ نہیں(ت) واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۶۵تا ۷۶۸: ازمیونڈی بزرگ پرگنہ اجاؤں ڈاکخانہ شاہی ضلع بریلی مرسلہ سیّد امیر عالم حسن صاحب
۱۶ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) جو شخص زنا کرتا ہو اور اس کا ثبوت بھی ہوگیا ہو تو جو اُس کے پیچھے نماز پڑھیں وہ ہوئیں یا نہیں۔
(۲)جب زانی ایساشخص توبہ کرلے تو اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ۔
(۳) زانی اپنے افعال سے توبہ کرتا ہے اور گاؤں والے اُس کی توبہ کو نہیں مانتے تو وہ گاؤں والے کس جرم کے مستحق اور کس درجہ شمار ہیں
(۴) جس عورت نے اپنے شوہر سے سرکشی کی اور اُس کے حکم کو نہ مانا اور شوہر کا دل دکھایا اور شوہر پر زبان درازی کی تو ایسی عورت کو طلاق دینا واجب ہے یا نہیں،اور اگر شوہر اپنی بی بی کی زبان درازی اور سرکشی پر راضی ہے اور وُہ امامت کراتا ہے تو ایسے شخص کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں۔
الجواب:
(۱) زنا کا ثبوت سخت دشوارہے جسے عوام ثبوت سمجھتے ہیں وہ اوہام ہوتے ہیں ،جب تک اس کی یہ حالت نہ تھی اس وقت تک اُس کے پیچھے نماز میں کوئی حرج نہ تھا اُن کا اعادہ کی بھی کچھ حاجت نہیں
فانہ ان کان فاسقا غیر معلن فمالکراھۃ خلفہ الاتنزیہیۃ
(کیونکہ اگر وہ شخص فاسق غیرمعلن ہوتواسکی اقتداء میں نمازپڑھنا زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی ہے۔ت)
(۲) جب بعد توبہ صلاح حال ظاہر ہوااس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں اگر کوئی مانع شرعی نہ ہو ۔
(۳)اﷲ عزوجل اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اورگناہ بخشتا ہے ھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعفوعن السیأت۱؎(وُہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہ معاف کرتا ہے۔ت) جولوگ توبہ نہیں مانتے ہیں گنہگار ہیں ،ہاں اگر اس کی حالت تجربہ سے قابل اطمینان نہ ہو اور یہ کہیں کہ تونے توبہ کی اﷲ توبہ قبول کرے۔ہم تجھے امام اس وقت بنائیں جب تیری صلاح حال ظاہر ہو تو یہ بجاہے۔
(۴) اسے جرما طلاق دینا واجب نہیں اوراس پر صبر کرنے والا نہایت نیک کام کرتا ہے اگر نیت اﷲ کے لئے ہو بہرحال یہ امر امامت میں خلل انداز نہیں کہ یہ اپنے حق سے درگزر ہے اوراس میں حرج نہیں اور یہاں راضی ہونا بایں معنی نہیں تھا کہ اس کے افعال خلاف ِشرع کو پسند کرتا ہے جس سے وہ قابل امامت نہ رہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۶۹، ۷۷۰:از میونڈی ازسید صاحب۔
(۱) زید اپنی سوتیلی ساس سے زنا کرتا ہے اور زید کے سسر کو بھی یہ معلوم ہے لیکن اس کو منع نہیں کرتا اس خوف سے کہ میرے گھر سے نکل جائے گی ، تو وہ کس جُرم کا مستحق ہے اور زید جو اپنی ساس سے زنا کررہا ہے وہی امامت بھی کرتاہے تو یہ زید کس درجہ کامستحق ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا یا میل جول رکھنا کیسا ہے؟
(۲) جس کا پیر ایسا ہوکہ جملہ افعال حرام ہوں جیسے زنا وغیرہ کرنا اورسُلفہ وغیرہ پینا اور اکثر محافل ناچ رنگ میں شامل ہونا وغیرہ وغیرہ ہوں اور علمائے دین اس سے بیعت کرناحرام فرما دیں اور جو بیعت حاصل کرچکا ہواس کو فسخ کرنے کاحکم دیں تو اب علمائے دین فرمائیں کہ جوایسے پیر سے بیعت کئے ہوئے ہو اور ایسے پیر پر اعتقاد رکھتا ہو اور علمائے دین کے حکم کے خلاف کرتا ہو کہ علما تو ایسے پیر سے بچنے کا حکم فرمائیں اوروہ نہ مانے او ر وہ متبع ہو اور امامت کرتا ہو اُس کے پیچھے نماز پڑھنا اور میلاد پڑھوانا اور شریکِ حال ہونا کیسا ہے،درست یا غیر درست ،اوربعض کہتے ہیں کہ جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہیں وہ نادرست ہیں ان کا بھی پھیرنا واجب ہے کیونکہ اس نے اتباعِ علماء نہیں کیا۔بینواتو جروا
الجواب: جوباوصف قدرت اپنی عورت کو اس بیحیائی سے منع نہیں کرتانہیں روکتا وہ دیّوث ہے ،اور وہ جو زنا کرتا ہے اگر کسی کا یہ حال صحیح مشہور ہے تو اُ س کے پیچھے نماز مکروہ ہے اس سے میل جول نہ چاہئے اگر عوام کے اوہام کی افواہ ہے کہ خواہی نخواہی عیب لگاتے ہیں تواسکا اعتبار نہیں پھر بھی اگر اس کے سبب لوگوں کو اس کی امامت سے نفرت اور اسکے پیچھے جماعت کی قلت ہو تو اسے امام نہ کریں اگرچہ وہ الزام سے بری ہے ،
(جیسے اس شخص کا حکم ہے جس کا برص پھیل گیا ہو، درمختار میں ایسا ہی ہے۔ت)
(۲) ایسا شخص ہو تو وہ فاسق ہے اُ کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے اس سے میلاد شریف نہ پڑھوایا جائے
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانۃ شرعا۱؎
(کیونکہ امامت کے لئے فاسق کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعی طور پر اس کی اہانت لازم ہے۔ت)
تبیین الحقائق وغیرہ
(۱؎ تبیین الحقائق باب الامامۃ ، مطبوعہ المطبعۃ الکبریٰ الامیریہ بولاق مصر ، ۱/۱۳۴)
جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہیںضرور اعادہ کی جائیں اس کا شریک حال مذکور ہوناحرام ہے اس سے میل جول نہ چاہئے۔واﷲ تعالٰی اعلم