Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
153 - 185
معلوم ہوا کہ یہ کبیرہ ہے کہ اُس پر وعید ِنار ہے اور کبیرہ کا علانیہ مرتکب فاسق معلن ،اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اوراس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔
فتاویٰ حجہ میں ہے:
لوقد موافاسقایاثمون۱؎
 (اگر انھوں نے فاسق کو مقدم کیا تو گنہ گا ر ہوں گے۔ت)
 (۱؎ غنیـۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الامامۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور         ص ۵۱۳)
تبیین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمۃ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا۲؎۔
کیونکہ امامت کے لئے فاسق کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ اس کی اہانت شرعاً واجب ہے(ت)
(۲؎تبیین الحقائق         باب الامامۃ        المطبعۃ الکبر ی الامیر یہ بولاق مصر    ۱/۱۳۴)
اور اس میں برابر ہیںوہ جن سے سیدصاحب نے قطع تعلق کیا اور وہ جن سے قطع نہ کیا سب کی نماز ان کے پیچھے مکروہ تحریمی ہوگی جب تک توبہ نہ کریں ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر۷۵۱ ،۷۵۲: از قصبہ رچھاروڈ ضلع بریلی    مسئولہ حکیم محمد احسن صاحب     ۹شوال ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:

(۱) فاسق فاجر کے پیچھے جب کوئی نماز پڑھانے والا نہ ہو نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں۔

(۲) ماہی گیر کے پیچھے نماز جائز ہے نہیں۔ بینوا تو جروا
الجواب: 

(۱)اگر علانیہ فسق وفجور کرتا ہے اور دوسرا کوئی امامت کے قابل نہ مل سکے تو تنہا نماز پڑھیں۔
فان تقدیم الفاسق اثم والصلاۃ خلفہ مکروہۃ تحریما والجماعۃ واجبۃ فھما فی درجۃ واحدۃ ودرء المفاسد اھم من جلب المصالح۔
کیونکہ تقدیم ِ فاسق گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور جماعت واجب ہے، پس دونوں کو درجہ ایک ہوا، لیکن مصالح کے حصول سے مفاسد کو ختم کرنا اہم اور ضروری ہوتا ہے۔(ت)

اور اگر کوئی گناہ چھپا کر کرتا ہے تو اس پیچھے نماز پڑھیں اور اس کے فسق کے سبب جماعت نہ چھوڑیں،
لان الجماعۃ واجبۃ والصلاۃ خلف فاسق غیر معلن لاتکرہ الاتنزیھا۔واﷲ تعالٰی اعلم
کیونکہ جماعت واجب ہے اور فاسق غیر معلن کے پیچھے نماز پڑھنا زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی ہے(ت)

(۲) جائز ہے ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۵۳، ۷۵۵: ازسینوٹوریم ضلع نینی تال    مسئولہ سراج علی خان صاحب رضوی بریلوی        ۱۶ شوال ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:

(۱)فاسق کی کیا تعریف ہے ؟ فاسق وفاجر میں کوئی فرق ہے؟فاسق کے پیچھے نماز کیسی ہے؟ فاسق معلن کب کہا جائے گا اور اس کے پیچھے نماز کیسی ہے ،اسے جان کر امام بنانے والے کا کیا حکم ہے؟

(۲) ہاتھ یا پیر میں انگوٹھی چھلّے پہننا یعنی ایک نگ کی ایک انگوٹھی موافق شریعت مطہرہ سے زائد پہننے والے کا کیا حکم ہے ،اُس کے پیچھے نماز کیسی ،اس پر اصرار کرنے والا کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آتی کس درجہ موردِ گناہ ہے۔

(۳) دو۲یا تین۳ شخص ایسے جمع ہوکر جماعت سے نماز پڑھنا چاہتے ہیں کہ ایک بالکل جاہل مگر صورت ہیئت لباس وغیرہ سب شریعت کے مطابق ہے اور نمازی بھی ہے مگر قرآن پاک کی تلاوت اس کو نہیں آتی اورتلفّظ بالکل ادا نہیں ہوتا، دوسرا خواندہ قرآن کی قرأت کرسکتا ہے ضروری مسائل بھی جانتا ہے مگر فاسق ہے،تیسرا مسافر ہے جس پر قصر واجب ہے بے علمی میں پہلے شخص کا درجہ رکھتا ہے مگر صرف ان سُورتوں میں معمولی طریقہ سے پڑھ سکتا ہے جو نماز میں بار بار آتی ہیں مثلاً الحمد شریف یا قل ھواﷲ شریف وغیرہ ،ان میں سے کس کو امام بنایا جائے ، اور اگر کوئی بھی امامت کے قابل نہیں تو کیا علیحدہ علیحدہ پڑھیں۔بینواتوجروا
الجواب:

(۱) فاسق وہ کہ کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اور وہی فاجر ہے، اور کبھی فاجر خاص زانی کو کہتے ہیں ، فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے پھر اگر معلن نہ ہو یعنی وہ گناہ چھُپ کر کرتا ہو معروف و مشہور نہ ہو تو کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ ،اگر فاسق معلن ہے کہ علانیہ کبیرہ کا ارتکاب یاصغیرہ پر اصرار کرتا ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کے پڑھنی گناہ اور پڑھ لی تو پھیرنی واجب ۔واﷲ تعالٰی اعلم

(۲) ایک آدھ بار پہننا گناہ صغیرہ اور اگر پہنی اور اتار ڈالی تو اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں اور اگر نماز میں پہنے ہو تو اسے امام بنانا ممنوع اور اس کے پیچھے نماز مکروہ ،یوں ہی جو پہنا کرتا ہے اُس کا عادی ہے فاسق معلن ہے اور اس کا امام بنانا گناہ اگراس وقت نماز میں نہ بھی پہنے ہو۔گناہ اگر چہ صغیرہ ہواُسے چھوٹی بات کہنا بہت سخت جرم ہے ،اس شخص پر توبہ فرض ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۳) صورت مذکور میں اس مسافر کو امام کیاجائے کہ فاسق کو امام بنانا گناہ ہے اور غلط خواں کے پیچھے نماز باطل۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۵۶،۷۵۷: ازمیڑتہ سٹی ضلع جودہ پور    مسئولہ فخرالدین شاہ        ۱۹ذیقعد ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ :

(۱) یتیموں کو تکلیف دینا اورغیبت کرنا اور جھوٹی قسم کھانا مسلمانوں میں نفاق ڈلوانے والے کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں۔

(۲) ایک شخص یہاں میڑتہ میں پیرزادہ کہلاتے ہیں اُس نے اپنی عورت کو طلاق دی تین روز برابر اس کو سمجھایا پر نہیں مانا ، کہا کہ مہر دے ،کہاکہ مہر میں نے معاف کروایا،پھر ہم نے اس لڑکی سے تلاش کیا،جواب دیا کہ مہر تو میں نے معاف کردیا ،اور پھر اس کے چچا وغیرہ نے اس لڑکی کو اس کے گھر بھجوادیا بغیر نکاح کرے،طلاق ہوئی یا نہیں،اس کے بچّہ پیدا ہُوا وہ حرام کا ہے یانہیں،اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں،یتیم سے بہت عداوت رکھتا ہے۔بینواتوجروا
الجواب: 

(۱) یتیموں کو بلاوجہ شرعی تکلف دینا سخت حرام ہے ، یونہی غیبت زنا سے سخت تر ہے جبکہ شرعاً غیبت ہو مثلاً فاسق معلن کی غیبت غیبت نہیں،اور بدمذہب کی برائیاں بیان کرنے کا خود شرعاً حکم ہے،جھوٹی قسم گھروں کو ویران کر چھوڑتی ہے ،اور مسلمانوں میں بلاوجہ شرعی تفرقہ ڈالنا شیطان کا کام ہے،اور فتنہ قتل سے سخت تر ہے ،فتنہ سو رہا ہے اس کے جگانے والے پر اﷲ کی لعنت ہے،جو ان افعال کا علانیہ مرتکب ہو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کی پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۲) طلاق ہوگئی اور مہر عورت معاف کردیا ہے معاف ہوگیا۔بچّہ اگر طلاق سے دو۲ برس کے اندر پیدا ہوا حلالی ہے اُسی شوہر کا ہے۔طلاق دینے سے نمازکی امامت میں کوئی خلل نہیں آتا ۔یتیم سے بلاوجہ عداوت سخت گناہ ہے ،اگر اس کی بلاوجہ عداوت علانیہ مشہور ہے تو امام بنانے کے قابل نہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۵۸: ازچھاؤنی فیروز پور کباڑی بازار    مسئولہ حاجی خواج الدین ٹیلر ماسٹر     ۲۹ذیقعد ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیںعلمائے دین کہ زناکار اور شرابی کے پیچھے نماز کسی وقت جائز ہے یا نہیں جب امام مقیم ہو وُہ ہرایک کو امام مقرر کردیتا ہے یہ جائز ہےکہ نہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب: زانی اور شرابی کے پیچھے کسی وقت نماز پڑھنے کی اجازت نہیں مگر جہاں جمعہ و عیدین ایک ہی جگہ ہوتے ہوں اور امام فاسق ہو اُس کے پیچھے پڑھ لئے جائیں اور جمعہ کا اعادہ کو چار رکعت ظہر پڑھیں ، امام غیر جمعہ وعیدین میں اگر دوسرے کو کہ صالح امامت ہے اور امام کردیتا ہے حرج نہیں بلکہ وہ اگر اس سے علم وفضل میں زائد ہو تو اسے یہی بہتر ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۵۹:ازعلی پور ٹپرا    مسئولہ منصب علی     ۱۲شعبان ۱۳۳۷ھ

قاری مکہ معظمہ کا قرأت سیکھا ہوا ور وہاں پر چند سال رہ کر معلمی کیا لیکن داڑھی ترشواتا ہے آیا اس کے پیچھے نماز پنجگانہ اورجمعہ جائز ہے یا نہیں۔بینواتوجروا
الجواب: داڑھی ترشوانے والے کوامام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب، اور مکہ معظّمہ میں رہ کر قرأت سیکھنا فاسق کو غیرفاسق نہ کردے گا،واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter