مسئلہ نمبر ۷۴۸: ازسہرام برتلہ ضلع آرہ مسئولہ قدرت اﷲ ۵شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اعلم بالسنۃ عالم باعمل سماع بالمزا میر سُنتا ہے اور اس کی امامت جائز ہے اور اس کی امامت میں کراہت ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب: مزامیر حرام ہیں ان کا سُننا عالم باعمل کا کام نہیں کما بیناہ فی اجل التحبیر فی حکم السماع بالمزامیر(جیسا کہ اسے اجل التحبیر فی حکم السماع بالمزامیر میں بیان کیا گیا ہے۔ت) اگر اعلانیہ اس کا مرتکب ہو اسے امام نہ کریں،اور کراہت سے کسی حال خالی نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
الجواب: مزامیر حرام ہیں ان کا سُننا عالم باعمل کا کام نہیں
کما بیناہ فی اجل التحبیر فی حکم السماع بالمزامیر
(جیسا کہ اسے اجل التحبیر فی حکم السماع بالمزامیر میں بیان کیا گیا ہے۔ت) اگر اعلانیہ اس کا مرتکب ہو اسے امام نہ کریں،اور کراہت سے کسی حال خالی نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۴۹:ازسرکار اجمیر مقدس لنگر گلی مسئولہ حکیم غلام علی ۶شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام جامع درگاہ شریف حضرت خواجہ غریب نوازرحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ بعد ہر نماز یہ کہتا ہے کہ اے خداوند کریم! غیر شرع داڑھی مُنڈے جھوٹے دعویدارانِ خلافت کو سچّا دعویدارِ خلافت بنادے۔ اور جب کبھی وہابیوں کاذکر آتا ہے تو اُن کے مولویوں کو جو مولوی خلافت کو اپنے پیٹ بھرنے کا پیشہ بناتے ہیں اور ان کے سب پیرؤوں کو خوب بُرا کہتا ہے اس کے پیچھے بموجب شریعت مطہرہ نماز پڑھنا جائز ہے اور جو مولوی اس کے پیچھے نماز پڑھنا حرام بتائے اُس کے لئے شرعاً کیا حکم ہے، اگر یہ بحث مسجد میں ہو تو مسجد کی توہین ہوتی ہے یا نہیں؟
بینوا بالتفصیل توجروا عندالرب الجلیل۔
الجواب: اس دُعا میں کوئی حرج نہیں اور وہابیہ کی بُرائی بیان کرنا فرض ہے، یونہی جھوٹے مدعیانِ خلافت اور اس نام سے شکم پروران پر آفت کی شناعت سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا ضرور ہے اور مسجد کہ مجمع مسلمانان ہو ان بیانوں کا بہتر موقع ہے اور اس میں مسجد کی کچھ توہین نہیں کہ مساجد ذکر اﷲ کے لئے بنائی گئی ہیں اور نہی عن المنکر اور بیان شناعت گمراہاں اعظم ِ طرق ذکراﷲ واجل احکام ِ شریعۃ اﷲ سے ہے۔
حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اَتَرِعُون عن ذکر الفاجرمتی یعرفہ الناس اذکروالفاجر بمافیہ یحذرہ الناس ۱؎۔
کیا فاجر کو بُرا کہنے سے پرہیز کرتے ہو لوگ اسے کب پہچانیں گے فاجر کی بُرائیاں بیان کرو کہ لوگ اُس سے بچیں
ف: اس حدیث کا پہلا لفظ نوادر الاصول میں''أتورعون'' ہے جبکہ دیگر متعدد کتابوں میں ''اترعون''مذکور ہے۔ نذیر احمد سعیدی
صحیح بخاری میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیی علیہ وسلم حضرت حسّان بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ کےلئے مسجد کریم مدینہ طیبہ میں منبر بچھاتے کہ وہ اس پر کھڑے ہوکر مشرکین کا رَد فرماتے۲؎
(۲؎ مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثالث ازباب البیان والشعر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی حصہ دوم ۲/۴۱۰)
(ف: یہ حدیث ترمذی ۲/۱۰۷،سنن ابی داؤد ۲/۳۲۸،مستدرک ۳/۴۷۸ ابن عساکر ۴/۱۲۹، شرع السنۃ ۱۲/۳۷۷)
وغیرہ متعدد کتابوں میں موجود ہے حدیث کا یہ حصہ صحیح بخاری سے مجھے نہیں مل سکااورصاحب تحفۃ الاحوذی اسی حدیث کے تحت لکھتے ہیں:
قال صاحب المشکٰوۃ بعد ذکر ھذاالحدیث اخرجہ البخاری وقال الحافظ فی الفتح بعد ذکرہ وعزوہ الی الترمذی مالفظہ وذکر المزی فی الاطراف ان البخاری اخرجہ تعلیقأ نحوہ واتم منہ لکنہ لم ارہ فیہ انتھی
(ا؎ تحفۃالاحوذی مطبوعہ بیروت ۴/۳۲)
نذیر احمد سعیدی
ان وجوہ امام مذکور کی امامت میںاصلاً کوئی خلل کیا کراہت بھی نہیں اورجو اس سبب سے اُس کے پیچھے نماز حرام بتاتا ہے اﷲ عزوجل ونبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و شریعت مطہرہ پر افترا کرتا ہے اُس پر توبہ فرض ہے ورنہ سخت عذاب ِنار وغضب جبّار کا مستحق ہوگا۔
قال اﷲ تعالٰی
ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون متاع قلیل ولھم عذاب الیم۱؎۔
وُہ جو اﷲ پر جھوٹا افترا اٹھاتے ہیں فلاح نہ پائیں گے دنیا کا تھوڑا برت لینا ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
وقال اﷲ تعالٰی
ویلکم لاتفتروا علی اﷲ کذبا فیسحتکم بعذاب۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تمھاری خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو کہ تمھیں عذاب میں بھون ڈالے گا۔
(۲؎ القرآن ۲۰/۶۱)
والعیاذ باﷲ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۷۵۰: ازتلوندی رائے ضلع لودھیانہ پنجاب مسئولہ اقبال محمد ۷ شوال۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے یہاںایک سیّد صاحب ہیں قرآن کریم کو کافی درست پڑھتے ہیں ایک نہایت ہی اعلیٰ بزرگ کے مرید ہیں ان بزرگ سے ان کوخلافت کا رتبہ مل گیا ہے قرآن مجید اچھا پڑھنے کی وجہ سے اکثر مسجد میں امامت کرتے ہیں لیکن سیّد موصوف نے ایک شغل اختیار کیا ہے وُہ یہ کہ ایک باعزت نمازی تہجّد خواں پرہیز گار نوجواں کا پیر بھائی ہے اور دو چار یوم پہلے سید صاحب نامعلوم ظاہری و باطنی اس کو دوست سمجھتے تھے مگر اب لوگوں کو ان کے چند آدمیوں کے خلاف قطع تعلق کی ترغیب دیتے ہیں حالانکہ وہ بے قصور ہیں اور بلاوجہ سید صاحب وغیرہ نے ان کو ذلیل کرنے کے لئے یہ حرکت کی ہے کہ ایک بڑے مجمع میں سیّد صاحب نے بیٹھ کر قرآن شریف درمیان رکھ کر اہلِ مجلس کو علانیہ کہا کہ ان چند آدمیوں سے قطع تعلق کی قسم کھاؤ اور قرآن عظیم کو ہاتھ لگاؤ کہ ہمارا یہ قول تا زندگی رہے گا۔آیا سید صاحب موصوف امامت کے قابل ہیں یا نہیں،اگر ہیں تو کیا وُہ بھی ان کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں جن کے ساتھ خواہ مخواہ بلاوجہ ایسا سلوک کیا گیا ہے۔بینوا توجروا
الجواب: اگر یہ واقعی بات ہے کہ سیّد صاحب مذکور نے ان مسلمانوں سے بلاوجہ شرعی محض کسی خصوصیت دنیوی کے سبب اپنے پیر بھائی اور مسلمانوں سے قطع تعلق کیا اور ہمیشہ کے لئے کیا اور علانیہ برسرِ مجلس کیا تو قابلِ امامت نہ رہے اوران کو امام بنانا منع ہے جب تک اس حرکت سے علانیہ توبہ نہ کریں کہ بلاوجہ شرعی تین دن سے زیادہ مسلمانوں سے قطع تعلق حرام ہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لا یحل لرجل یھجر اخاہ فوق ثلث لیال یلتقیان فیعرض ھذا ویعرض ھذا وخیرھماالذی یبدأ بالسلام ۱؎۔ رواہ الشیخان عن ابی ایّوب انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
آدمی کو حلال نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کو تین رات سے زیادہ چھوڑے راہ میں ملیں تو یہ ادھر منہ پھیر لے وہ اُدھر منہ پھیر لے اور ان میں بہتر وُہ ہے جو پہلے سلام کرے یعنی ملنے کی پہل کرے۔
(۱؎ صحیح بخاری باب الہجرۃ از کتاب الادب مطبوعہ قدیمی کتب خانہ اصح المطابع کراچی ۲/۸۹۷)
(صحیح مسلم باب تخریج الہجرۃ فوق ثلاثۃ ایام مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۲/۳۱۶)
بخاری و مسلم نے اسے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ دوسری حدیث میں فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
لایحل لمؤمن ان یھجرمؤمنا فوق ثلث فان مرت بہ ثلث فلیلقہ فلیسلم علیہ وان ردعلیہ السلام فقد اشترکا فی الاجر فان لم یرد علیہ فقد باء بالاثم وخرج السلم من الھجرۃ ۲؎۔ رواہ ابوداؤد عن ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ کسی مسلمان سے تین رات سے زیادہ قطع کرے،جب تین راتین گزر جائی ں تو لازم ہے کہ اس سے ملے اوراسے سلام کرے، اگر سلام کا جواب دے تو دونوں ثواب میں شریک ہوں گے اور وُہ جواب نہ دے گا تو سارا گناہ اسی کے سر رہا یہ سلام کرنے والا قطع کے وبال سے نکلے گا۔ اسے ابو داؤد نے حضرت ابو حریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔
(۲؎ سنن ابی داؤد باب فی ہجرۃ الرجل اخاہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۱۷)
تیسری حدیث میں فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
لایحل لمسلم ان یجھر اخاہ فوق ثلث فمن ھجر فوق ثلث فمات دخل النار ۳؎۔رواہ احمد و ابو داؤدعنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
مسلمان کو حرام ہے کہ مسلمان بھائی کو تین رات سے زیادہ چھوڑے ،جو تین رات سے زیادہ چھوڑے اوراسی حالت میں مرے وُہ جہنم میں جائے گا۔ امام احمد بن حنبل اور ابوداؤد نے اسے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
(۳؎ مسند احمد بن حنبل ازمسند ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲/۳۹۲)
(سنن ابوداؤد باب ہجرۃ الرجل اخاہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۱۷)
ف: مسند احمد بن حنبل کے الفاظ اس طرح ہیں لا ھجرۃ فوق فمن ھجراخاہ فوق ثلاث فمات دخل النار۔ نذیر احمد