Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
151 - 185
مسئلہ نمبر ۷۴۱: ازہوڑہ ڈاک خانہ سلکھیا گھڑی محلہ بھوٹے بگان اصغرچائے والے کا باڑا     مسئولہ شیخ سمن    ۲۳رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو لوگ علمائے حرمین طیبین کو بدعتی بتائیں ان کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟بینوا تو جروا
الجواب

مطلقاً علمائے حرمین شریفین کو بدعتی وہی بتائے گا جو وہابی ہو اور وہابی کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۴۲: از مطبع شمس المطابع فرخ نگرضلع گوڑگانواں    مسئولہ حکیم شمس الدین مالک مطبع    ۲۸رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امور ذیل کرنے والے کی امامت جائز ہے یا نہیںاور اس کی بابت کیاحکم ہے باوجود نہ یاد ہونے قرآن کے کریم کے درمیان کلام مجید سے کچّی پکّی یاد پر نماز ِجمعہ میں قرأت شروع کردیتا ہے جس کی وجہ سے اکثر بلکہ عموماً نمازِ جمعہ میں بھول جانے کی وجہ سے نماز دہرائی جاتی ہے خطبہ بھی صحت ِلفظی کے ساتھ نہیں پڑھتا ہے سمجھانے پر لوگوں کو مغلظات بکنا شطرنج سے باہر ہونے کے سبب کھیلنے والوں کو اُن کے پاس بیٹھ کر چال بتانا ہمچو قسم کے لوگوں کے ساتھ کوئلے وغیرہ کی لکیروں سے طرح طرح کے پانسے بناکر کنکریوں کے ذریعہ سے مثل قمار بازان بغیر کسی شرط قائم کے کھیل کا کھیلنا ، ایسے شخص کےساتھ میل جول نشست برخاست رازداری رکھنی جو اپنے حقیقی پسرہ کی بیوہ سے اپنی زوجہ کی زندگی میں زنا کرتا ہے اور آئیندہ خواہش نکاح رکھتا ہے جس کو حالاتِ مذکورہ کی وجہ سے اہلِ برادری نے بھی خارج کردیا ہے مسجد میں بیٹھ کر اپنے خانگی معاملات میں یا ناصح آدمیوں کو فحش اور مغلظات سنانا شخص مندرج صدر کی اعانت کرنےوالے کی بابت کیا حکم ہے جبکہ اُس کی اعانت محض نفسانیت سے کرتے ہوں بصورت حالات مندرجہ صدرنمازِجمعہ دوسری مسجد میں جائز ہے یا نہیں جبکہ ایک پُرانا قصبہ مثل شہر کے ہو جس کی بنیاد شہر اور فرودگاہ افواج تواریخی حساب سے صدہا سال سے مع آبادی اہل اسلام ثابت ہے اورنمازی بھی تعداد شرعی سے زیادہ ہوجاتے ہوں۔روزہ کی حالت میں ایسے شخص کا آٹھ دس دفعہ غل کرنا جو بے صبری پر دال ہے۔ اصلی معاملہ پوشیدہ رکھ کر اپنے مطلب کی تائید میں سے فتویٰ حاصل کرنا ۔بینواتو جروا
الجواب

امام کو لازم ہے کہ نماز میں وُہ سورت یا آیات پڑھے جو اُسے پختہ طور پر یاد ہوں کچّے یاد ہونے کی وجہ سے اگر غلطی کرتا ہے تو یہ دیکھا جائے کہ وہ غلطی کس قسم کی ہے اُس سے فساد ِ معنی یا کسی واجب کا ترک لازم آتا ہے یا نہیں،اگر نہیں تو نماز دہرانا بے معنی ہے اور اس کا الزام جہالت پر ہے نہ کہ قرأت پر، اور اگر ہاں تو بے شک ایسا شخص قابلِ امامت نہیں،خطبہ میں صحتِ لفظی ہونا نماز کی طرح شرط نہیں۔ہاں ایسا خطبہ خلافِ سنّت ہے ۔مغلظات بکنا فسق ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا کہ فحش بکا کرنا مسلمان کی شان نہیں۱؎۔ایسے شخص کی امامت مکروہ ہے ۔شطرنج کھیلنے والوں کو چال بتانا اگر گوشہ تنہائی میں نہیں بلکہ برملا عام نطر گاہ میں ہے یا اس پر مداوت ہے تو یہ بھی فسق ہے،قمار بازوں کی طرح پانسے بناکر اُن سے کھیلنا بھی گناہ ہے اگرچہ کوئی شرط نہ لگائی جائے ۔علمائے کرام نے فرمایا کہ شراب کے دور کی طرح پانی پینا حرام ہے،
 (۱؎ جامع الترمذی         باب ماجاء فی الفحش    مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی        ۲/۱۹)
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
من تشبہ بقوم فھو منھم ۲؎
 (جو کسی قوم سے مشاہبت پیدا کرے وہ انہیں میں سے ہے۔ت)
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل        از مسند عبداﷲا بن عمر    مطبوعہ دارالفکر بیروت            ۲/۵۰،۹۲)
بیوہ پسر کا جو واقعہ لکھا اگر واقعی ہے اور حسب ِ عادت زمانہ لوگوں کی بدگمانی نہیں جس پر وہ تہمت لگانے والے خود اسی۸۰اسی۸۰ کوڑوں کے مستحق ہوں بلکہ ثبوت صحیح شرعی سے ثابت ہے تو ایسا شخص ہر گز میل جول کے قابل نہیں، مسلمانوں کو اُس کے پاس بیٹھنا منع ہے:
قال ﷲ تعالٰی
واما ینسینک الشیطان فلاتقعد بعد الذکری مع القوم الظّٰلمین۔۳؎
اﷲ تعالٰی کا ارشاد مبارک ہے: اور اے سننے والے جب کہیں تجھے شیطان بھُلا دے تو یاد کر آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔(ت)
 (۳؎ القرآن             ۶/۶۸)
اوراسے امام بنانا حرام ،

فتاوٰی حجہ میں ہے:
لوقدمو فاسقایاثمون۔۱؎
اگر لوگوں نے فاسق کو امامت کے لئے مقدم کیا تو وہ گناہ گار ہوں گے۔(ت)
 (۴؎ غنیـہ المستملی شرح منیہ المصلی     فصل فی الامامۃ    ،مطوعہ سہیل اکیڈمی لاہور            ص ۵۱۳)
مسجدمیں گالیا دینا سخت حرام اور بیت اﷲ کی بے ادبی ہے،ان ناصحوں کی نصیحت پر گالیاں دینا اوربھی زیادہ خبیث اور شریعت مطہرہ سے سرتابی ہے باطل پر اعانت حرام ہے
قال اﷲ تعالٰی
ولا تعاونواعلی الاثم والعدوان۱؎۔
اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے: گُناہ اور زیادتی پر باہم تعاون نہ کرو۔(ت)
 (۱؎ القرآن        ۵/۲)
ایسا شخص جس کی امامت شرعاً ممنوع ہے اگر جمعہ پڑھاتا ہو تو دوسری جگہ جمعہ پڑھیں جبکہ وہ قصبہ مصر شرعی ہو جہاں جمعہ صحیح وجائز ہے۔
فتح القدیر میں ہے:
لانہ بسبیل من التحول؎
۲(کیونکہ دوسری جگہ منتقل ہونا ممکن ہے۔ت)
 (۲؎ فتح القدیر        باب الامامۃ        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱/۳۰۴)
اور روزہ میں غل مچانا اور اظہارِ بے صبری کرنا مکروہ ہے ،حقیقت واقعہ چھپاکر علماء سے غلط فتویٰ لینا شریعت کو دھوکا دینا اور سخت حرام ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر۷۴۳،۷۴۴: ازمنصور پور ضلع مظفر نگر مسئولہ عبدالصمد صاحب سُنّی حنفی صوفی    ۲۸رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) جس شخص میں بوجہ حرص کے طمع ہو اور ذلّت کے ساتھ سوال کرنے کا عادی ہو باوجود معقول تنخواہ پانے کے ایسے بے حرمت آدمی کے پیچھے شرفا کی نماز کامل ہوسکتی ہے یا نہیں۔

(۲) جو شخص یہ کہے کہ میں فلاں آدمی کا معین صورت میں محض نماز پڑھانے کے واسطے ملازم ہوں نماز جنازہ پأڑھانے سے یا کسی مقتدی کی اطاعت سے مجھے کیا کام ایسا آدمی قابلِ امامت ہے یا نہیں۔ بینواتو جروا
الجواب

(۱) بے ضرورت سوال حرام ہے ایسا شخص فاسق معلن ہے اُسے امام بنانا گناہ ہے اس کے پیچھے عالم و جاہل سب کی نماز مکروہ تحریمی کی پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔واﷲ تعالٰی اعلم

(۲) اما م پر بلاوجہ مقتدی کی اطاعت لازم نہیں ،نہ اُسے نمازِجنازہ پڑھانا ضرور ،اس کے کہنے سے اس کی قابلیت امامت میں کوئی خلل نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۴۵،۷۴۷: از مدرسہ اہلسنت منظر اسلام    مسئولہ مولوی عبداﷲ صاحب مدرس مذکورہ ۳ شوال ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں:

(۱) کسی مسجد میں جماعت تیار ہے لیکن اتنا وقت نہیں کہ دریافت کیا جائے کہ امام سُنّی ہے یا وہابی، تو جماعت سے نماز پڑھنا چاہئے یا اپنی علیحدہ۔

(۲)مسجد میں جماعت ہو رہی ہے اور امام میں نقص شرعی ہے تو جماعت چھوڑ کر فوراً ہی اپنے فرض پڑھ سکتا ہے یا نہیں۔

(۳) عاق شدہ کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں۔بینوا تو جروا
الجواب

(۱) جبکہ شُبہ کی کوئی وجہ قوی نہ ہو جماعت سے پڑھے ،پھر اگر تحقیق ہو کہ امام وہابی تھا نماز پھیرے واﷲ تعالٰی اعلم

(۲) اگر امام میں ایسا نقص ہے کہ ا سکے پیچھے نماز باطل ہے مثلاًوہابی ہے یا قرآن عظیم غلط پڑھتا ہے یا طہارت صحیح نہیں جب تو وہ نماز نماز ہی نہیں اگر صحیح جماعت کرسکتا ہو تو اس جماعت کے ہوتے ہوئے اپنی جماعت قائم کرے اگر فتنہ نہ ہو،اور اپنی جماعت نہ مل سکے تو تنہا پڑھے، اور اگر نقص ایسا ہے کہ اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے جیسے فاسق معلن ،تو دوسری جگہ جماعت کو چلا جائے ورنہ نہیں، اس جماعت کے بعد دوسری جماعت کرے یا تنہا پڑھے ،اور اگر صرف کراہت ِ تنزیہہ ہے تو اس جماعت کا ترک جائز نہیں شامل ہوجائے ۔واﷲ تعالٰی اعلم

(۳) شرعاً عاق وُہ ہے جو بلاوجہ شرعی ماں باپ کو ایذا دے، ان کی نافرمانی کرے۔ایسا شخص فاسق ہے ۔پھر اگر وہ یہ گناہ علانیہ کرتا ہے فاسق معلن ہے اُس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ،اور اگر علانیہ نہیں کرتا تو اس کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ہے کہ پڑھنی جائز اور پھیرنی مستحب، اور اگر یہ ان کو ایذا نہیں دیتا غیر معصیت میں ان کی نافرمانی نہیں کرتا اگر چہ معصیت میں ان کا کہنا نہ مانتا ہواگر چہ اس سے ایذا ہوتا وُہ عاق نہیں اگرچہ وُہ سو بار کہیں کے ہم نے تجھے عاق کیا،جب اس کے ذمہ مواخذہ شرعی نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں اگر چہ جاہل اسے عاق شدہ سمجھیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter