Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
150 - 185
مسئلہ ۷۳۷: از شہر محلہ باغ احمد علی خاں مسئولہنیاز علی ۴ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ پانچ آدمی باوجود مسجد میں جماعت ہورہی ہے شامل نہیں ہوتے ،بعد ختم جماعت کثیر پانچوں آدمی علیحدہ جماعت پڑھتے ہیں یا مسجد میں پڑھنے آتے ہی نہیں۔ امام مسجد جو عرصہ سے امامت کررہا ہے اور اپنا عقیدہ ذیل بیان کرتا ہے اس کو وہ برا کہتے ہیں ایسے کے لئے کیا حکم ہے اور ان کے ساتھ کیا برتاؤ ہونا چاہے (عقیدہ پیش امام مسجد کایہ ہے )'' میں مذہب اہلسنت وجماعت پر عمل کرتا ہوں۔میرا یہی مذہب ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کا مقلد ہوں ،اﷲ عزوجل کی توحید اور جناب رسالتمآب صلی اﷲ علیہ وسلم کو بعد خدا کے تمام مخلوق سے افضل جانتا ہوں ،کرامات اولیاء و بزرگان دین کا قائل ہوں۔ ''ایسا امام اگر وہابی ( جو فی زمانہ مشہور کردئے گئے ہیں) کے مدرسہ میں پڑھنے کو چلا جائے اس کی امامت جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: صورت مسئولہ میں پیش امام موصوف کی امامت بلاشبہ صحیح و درست ہے جب پیش امام اپنا حنفی ہونا بیان کرتا ہے اور عقیدہ مطابق اہلسنت وجماعت رکھنے کا مدعی ہے اور اس کے کسی قول وفعل سے اس کا خلاف ثابت نہیں ہوتا تو محض کسی وہا بی کے مدرسہ میں پڑھنا یا بالفرض کسی پاٹ شالہ یا اسکول میں تعلیم حاصل کرنا ہرگز صحت امامت کےلئے قادح نہیں ہو سکتا کیونکہ احکام شرعیہ کا مدار ظاہر پر ہے ہم شق قلب پر مامور نہیں ، وہ اشخاص جومختلف عن الجماعۃ ہیں اگر کوئی عذر شرعی رکھتے ہوں تو معذور رہیں گے اور اگر محض عصبیت ونفسانیت کی جہت سے شریک جماعت نہیں ہوتے تو وہ فاسق مردود الشہادۃ قابل تعزیز ہیں اہل محلہ کو ان سے سلام وکلام ترک کردینا چاہئے ۔ العبد المجیب محمد عبداﷲ کان اﷲ لہ ۔ صحیح ہے محمد منور العلی غفرلہ۔ الجواب صحیح محمد واحد نور عفی عنہ ۔
الجواب:یہ فتویٰ محض غلط ہے اس میں اصل بحث سے پہلو تہی کی گئی ہے اور بے علاقہ روایتیں محض فضول نقل کردیں اس پر انہی لوگوں کے دستخط ہیں جو خود دیوبندی خیال کے ہیں یا کم از کم دیوبندیوں کو کافر نہیں کہتے وہ تو ایسا کہا ہی چاہیں حالانکہ علمائے حرمین شریفین باتفاق فتویٰ دے چکے کہ گنگوہی ونانوتوی وانبیٹھی وتھانوی سب مرتد ہیں اور بحوالہ بزازیہ ومجمع الانہر ودُرمختار تحریر فرمایا ہے کہ جوان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ عقائد اہلسنت کا مدعی ہونا یا اپنے آپ کو حنفی کہنا یا توحید ورسالت وافضلیت وکرامت کا اپنے آپ کو قائل بتانا،ان میں سے کون سی بات کا وہابیہ ودیوبندیہ اقرار نہیں کرتے اور پھر کافر ہیں ایسے کہ جوان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کاف ،بلکہ چاروں باتوں کے مقرقادیانی تک ہیں اور اپنے آپ کو مقلدِ امام ابوحنیفہ بھی کہتے ہیں کیا اس سے ان کا کفر اُٹھ گیا۔ شریعت بیشک ظاہر پر حکم فرماتی ہے اور ظاہر یہی ہے کہ آدمی جسے کافر مرتد جا نے گا اس سے علم دین نہ پڑھے گا، پاٹ شالہ اور اسکول کی مثال جہالت ہے،کیا کوئی پنڈتوں ،پادریوں سے قرآن عظیم وحدیث و فقہ پڑھنے جاتا ہے اور بفرض غلط اگر وہابیہ سے پڑھنے والا عقائد وہابیہ کی طرف مائل نہ بھی ہو اور انھیں کافر مرتد جانتا ہو جب بھی انہیں استاد بنانا اُ ن کی تعظیم کرناتو ہے،اور ائمہ دین نے فرمایا جو کسی مجوسی کو تعظیماً''یا استاذ'' کہے وہ کافر ہوجاتا ہے،فتاویٰ ظہیریہ و اشباہ والنظائر و تنویر الابصار و منح الغفارودُرمختار وغیرہا میں ہے:
ولو قال لمجوسی یا استاذ تبجیلا کفر۱؎
 (اگر کسی نے مجوسی کوتعظیماً ''یا استاذ'' کہا تو کافر ہوجائیگا ۔ت)
(۱؎ درمختار  ،  کتاب الحظر والا باحۃ    فصل فی البیع مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۲/۲۵۱)
جب صرف تعظیماً ''یا استاذ'' کہنے پر یہ حکم ہے تو مرتد حقیقۃً استاذ بنانا اور اقسامِ تعظیم بجالانا کیسا ہوگابلا شبہ ایسا شخص امام بنانے کے قابل نہیں جس کے دل میں دین کی عظمت ہے ہر گزاسے امام نہ بنائے گا نہ اس کے پیچھے نماز پڑھے گا ،ہاں جو شخص دین کوہنسی کھیل سمجھے وہ جو چاہے کرے ،اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت دے کہ اپنی نمازیں برباد نہ کریں ،ہم اس کی ایک آسان پہچان بتا دیتے ہیں اس فتویٰ میں جن جن لوگوں کے دستخظ ہیں ان سے سوال کرو کہ ''حسام الحرمین شریف'' میں تمام علمائے حرمین شریفین نے جن جن وہابیوں کونام بنام کافر و مرتد لکھا ہے اور فرمایا ہے جو ان کے کفر میں شک کرے وُہ بھی کافر،آیا تم لوگ بھی انھیں کافر و مرتد کہتے ہو، دیکھو ہر گز نہ کہیں گے، تو صاف معلوم ہوا کہ یہ بھی متہم ہیں تو ان سے فتوی لینا کس طرح حلال ہوا اور اس پر عمل کون سی شریعت نے جائز کیا۔واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ نمبر ۷۳۸: ازبالسک    مسئولہ قاضی محمد سلیم         ۲۷جمادی الاخری ۱۳۳۹ھ

اگر حنفی مذہب کا امام اس برات اورولیمہ میں شامل ہو جس میں مرزائی اوروہ شخص ہو جس نے کہ اپنے لڑکے کا نکاح اُس عورت سے پڑھا لیا جس کو طلاقِ ثلاثہ چھ سال دی رکھی اور بغیر حلالہ کے نکاح پڑھا لیا ہو ایسے امام کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟خلاصہ یہ کہ جو امام علم والا حنفی مذہب کا اس برات یا ولیمہ میں شامل ہو جائے جس میں کہ مرزائی وغیرہ کارکن ہو اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ،آیا اس کے لئے کوئی تعزیر وغیرہ ہے اور جس کے گھر شادی ہووہ بھی اپنے عقائد کا پورا لعین مرزائیوں کو اچھا مسلمان سمجھتا ہے ۔فقط
الجواب: فقط اتنی بات کہ جس برات یاولیمہ میں یہ شریک ہوا اس میں قادیانی مرتد اپنی تین طلاق کی مطلقہ سے بے حلالہ نکاح کرنے والا فاسق بھی تھا ایسا نہیں کہ اس نے اس کی امامت ناجائز کر دی، ہاں اگر صاحب ِخانہ مرزائیوں کو مسلمان جانتا ہو تو وہ خود ہی مرتد ہے اور اس کے یہاں تقریب میں جانا حرام ،اگر امام جانتا تھا اور پھر اس کا مرتکب ہوا تو یہ اگر اس بنا پر ہوا کہ اما م خود بھی مرزائی کو کافر نہیں جانتا تو وہ آپ ہی کافر ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل،اور اگر اس کو کافر جان کر ہی شریک ہو اتو گنہ گار ہوا،اور اس سے توبہ لی جائے ، اگر توبہ سے انکار کرے یا بارہا ایسی شرکت کرچکا ہو تو اسے امام بنانا گناہ ہے ،امامت سے معزول کیا جائے۔واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ نمبر ۷۳۹: ازناگپور ممالک متوسطہ محلہ گانجہ کا کھیت  ، مسئولہ چاند  میاں لعل محمد سوداگر    ۱۷رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک شخص جو چوڑی پہنانے کا پیشہ کر تے ہیں اُن کو امام بنایا،ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ اُن کی اقتدا بوجہ چوڑی پہنانے کے ناجائز اور امامت مکروہ تحریمی ہے اور خود معترض پیشہ طبابت کرتے ہیں،بوجہ نباضی ومس دیگر اعضاء مستورات وہی اعتراض اس پر واقع ہوگا یا نہیں،بہت زیادہ حصہ جماعت کا اس امام کی اقتداء پر رضا مند ہے تو کوئی نقصان شرعی قائم رہتا ہے یا نہیں؟ بینوا وجروا۔
الجواب: جماعت کی رضا عدم رضا کو اُس وقت دیکھا جاتا جب شرعی نقصان نہ ہو،جہاں شرعی عدم جواز ہے مقتدیوں کی رضا کیا کام دے سکتی ہے ، بلاشُبہ اجنبیات کو چوڑی پہنانا اُ ن کی کلائی کا دیکھنا یا ہاتھ کا مس کرنا حرام ہے اور اس کا پیشہ رکھنے والا فاسق معلن،اور اسے امام بنانا گناہ اور اسے کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ،اور طبیب کا اس پر قیاس صحیح نہیں ،طبیب کا نبض دیکھنا حاجت کے لئے ہے اور ایسی حاجت وضرورت کہ دیگر اعضاء مس بھی جائزہے، رہا یہ کہ وہ نیت فاسدہ کرے یہ ضرور اسے حرام ہے مگر اس کا علم اﷲ عزوجل کو ہے، ہاں بلا حاجت مس و نظر جائز کرتا ہوتو و ہ بھی فاسق ہے اوراسی اعتراض کا مستحق ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۷۴۰:از بھنڈارامحلہ کھم تالاب    مسئولہ نجم الدین ریڈر ڈپٹی کلکٹر    ۱۹رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک حافظ نمازِ پنجگانہ و جمعہ کے امام ہیں جن کی جسمی حالت بسبب مرض حسب ذیل ہے،آیا اُن کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟

(۱) پیش امام صاحب ہر نماز میں سجدہ جاتے وقت نصف یا نصف سے کم جھک جانے پر اﷲ اکبرکی ابتدا کیا کرتے ہیں اور سجدہ سے اُٹھتے وقت نصف یا زائد اُٹھجانے پر اﷲ اکبرکی ابتداء کیا کرتے ہیں یہ ا س لئے کرتے ہیں کہ مقتدی اُ ن سے پہلے سجدے سے اُٹھنے یا سجدے میں جانے نہ پائیں۔

(۲) بقاعدہ مذہب حنفی دونوں زانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے پہلے زمین پر گھٹنے بعد ازاں ہاتھ وغیرہ سجدے کے لئے مطلق نہیں رکھ سکتے اور اسی طرح کھڑے بھی نہیں ہوسکتے ۔

(۳) سجدہ میں جاتے وقت ایک دم لمبے ہوکر دونوں ہاتھ زمین پر رکھتے ہیں اور پیروں کو برابر کیا کرتے اور اسی طرح سجدے سے اُٹھتے وقت بھی لمبا ہوکر اُٹھا کرتے ہیں کیونکہ ان کے دونوں پیر مَرض سے بیکار ہوگئے ہیں۔

(۴)بایاں پَیر گھٹنے کے نیچے زیادہ تر بیکار ہے اس لئے ہر جلسہ میں پَیر بچھانے کے لئے انھیں دقت ہوتی ہے اکثر ہاتھ سے پَیر اُٹھا کر بچھاتے ہیں تب بیٹھتے ہیں یا بعض موقع پر اونٹ کی بیٹھک کی مانند بیٹھ کر دوسرا سجدہ کرلیتے ہیں۔

(۵) قرأت میں دم پُھولتا ہے دم بدم منہ سے سانس خارج کرتے ہیں بے محل وقف ہوجایا کرتا ہے،ایسے امام کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب: یہ پانچوں باتیں کہ سوال میں لکھی ان میں سے کوئی مانع صحت نماز نہیں، نہ ان میں کہیں فعلِ کثیرہے،یہ محض گمان غلط ہے، ان میں کہیں ترک واجب بھی نہیں سوائے صورت چہارم کی اس شق کے کہ بعض وقت دو سجدوں کے درمیان سیدھے نہیں بیٹھتے صرف یہ صورت ترکِ واجب کی ہے اس سے اُسے ممانعت کی جائے ،اگر وہی علم وتقویٰ میں زائد ہے تو اسی کی امامت رکھیں ،ہاں اگر اسی کا کوئی استحقاق نہیں اور دوسرے اس سے احق موجود ہیں تو جو احق ہے اُسی کی امامت اولیٰ ہے۔
ففی الحدیث عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اجعلو اائمتکم خیارکم فانھم وفد کم فیما بینکم و بین ربکم۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: اپنے امام اپنے سے بہتر لوگوں کو بناؤ کیونکہ وہ تمھارے اور تمھارے رب کے درمیان نمائیندہ ہوتے ہیں(ت)
 (۱؎ سنن الدارقطنی ، ب تخفیف القراء ۃ الحا جۃ ،مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ،  ۲/۸۸)
اور اسے چاہئے کہ سجدہ کو جاتے یا سجدہ سے اُٹھتے وقت اﷲ اکبر کی ابتداء کرے اور ختم انتقال پر ختم کرے مقتدیوں کی رعایت جو وہ کرتا ہے عکسِ مقصود ِشرع ہے:
حدیث میں فرمایا:
انما جعل الاما لیوتم بہ ۲؎
 (امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے ۔ت)
 (۲؎ صحیح البخاری    باب الصلوٰۃ فی السطوح الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۵۵)
یہ بات کہ ایسا نہ کرے تو مقتدی اُس سے پہلے سجدہ کرلیں گے اس کا لحاظ مقدیوں پر ضرور ہے جب اسے سجدہ تک پہنچنے میں دیر ہوتی تو یہ انتظارکریں اور ایسے وقت سجدہ کو جھکیں کہ اس کے ساتھ سجدہ میں پہنچیں
بذلک امرالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اصحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنھم
(نبی اکرم صلی اﷲ تعالیی علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اﷲ تعالٰی عنہم کویہی حکم دیا ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter