Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
149 - 185
مسئلہ ۷۲۷تا ۷۲۸: از موضع سہاون پور گاؤں گوپال گنج متصل ڈروہ ڈاکخانہ ڈروہ تحصیل گنڈہ ضلع پرتاب گڈھ مسئولہ بیخودشاہ ۸ رمضان ۱۳۳۹ھ

(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ حنفی کی نماز شافعی کے پیچھے ہوسکتی ہے یا مکروہ ہوتی ہے؟

(۲) اور جو لوگ مولود شریف کو منع کرتے ہیں اور بدعت کہتے ہیں ان کے پیچھے حنفی کی نماز ہو سکتی ہے یامکروہ ہوتی ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: اگرمعلوم ہے کہ اس خاص نماز میں حنفی مذہب کے کسی فرض طہارت یا فرض نماز کا تارک ہے تو حنفی کی یہ نماز اس کے پیچھے نہیں ہوسکتی ، اور اگر معلوم ہے کہ وہ اس نماز فرض و شرط مذہب حنفی کا تارک نہیں تو یہ نماز اس کے پیچھے ضرور ہوسکتی ہے اگر چہ حنفی کے پیچھے اولیٰ ہے ،اور اگراس نماز کا حال معلوم نہیں مگر اس کی عادت معلوم ہے کہ فرض وشرائط میں مذہب حنفی کی رعایت کرتا ہے تو اس کی اقتداء میں حرج نہیں اگر چہ حنفی اولیٰ ہے اور اگر اس کی عادت معلوم ہے کہ فرائض وشرائط میں مذہب حنفی کی رعایت نہیں کرتا تو اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے اور کراہت شدیدہ ہے پھر اگر ان دونوں صورتوں میں بعدکو معلوم ہوکہ اس نماز میں اس نے رعایت نہ کی تھی وہ نماز پھر پڑھنی ہوگی کہ صحیح یہی ہے کہ مذہب مقتدی کا اعتبار ہے اور اگر بعد کو ثابت ہے کہ اس نماز خاص میں رعایت کی تھی تو نماز ہوگئی اعادہ کی کچھ حاجت نہیں ،اور اگر اس کی عادت ہی کچھ معلوم نہ ہو تو اس کی اقتداء مکروہ ہے، مگر حنفی امام کے پیچھے نماز نہ ملے تو جماعت نہ چھوڑے بعد کو ظہور حال کاحکم وہی ہے جو ابھی گزرا۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

(۲) اب مجلس میلاد مبارک مطلقاً ناجائز کہنے والے نہیں مگر وہابیہ، اور وہابیہ مرتدین ہیں اور مرتد کے پیچھے نماز باطل ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۲۹ تا ۷۳۴: از بھوساول ضلع خاندیس محلہ ستارہ مسئولہحافظ ایس محبوب ۷ رمضان ۱۹۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین:

(۱) زید نصارٰی کی تابعداری کرتا ہو وہ امامت کے لائق ہے یا نہیں؟

(۲) اگر ہے تو کن لوگوں کی نماز ہوتی ہے کن لوگوں کی نہیں؟

(۳) زید مسلمانوں میں نفاق ڈالے تو وہ قابل امامت ہے یا نہیں؟

(۴) زید حاکم وقت کی چوری میں گرفتار ہوا تو وہ قابل امامت ہے یا نہیں؟

(۵) زید باطنی غیر مقلد ہو اور اہلسنت کے دکھانے کو کہے کہ میں حنفی مذہب رکھتا ہوں اور اس پر یہ بھی ساتھ فخر کے کہے تو وہ امامت لائق یا نہیں؟

(۶) ایک مسلمان عزت دارامامت کرتا ہو مگر دوچار مسلمانوں کے منحرف کر دینے سے ایک شخص اس پر الزام لگائے کہ یہ شخص اما مت کے لائق نہیں اوروہ لوگ احادیث وغیرہ سے واقف نہ ہو ں اور مسلمانو ں میں نااتفاقی کرائیں تو ان کے لئے کیا حکم ہے آیا وہ استغفار کے حقدار ہیں یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:

(۱) سائل نے تابعداری کا گول اور مجمل لفظ لکھا تابعداری نصارٰی کی ہو یاہنود کی یا مسلم کی ، حلال میں حلال ہے ، حرام میں حرام ہے، کفر میں کفر۔جو کفر میں کسی کی تابعداری کرے وہ کافر ہے اور س کے پیچھے نماز باطل ،اور جو حرام میں اتباع کرتا ہو فاسق ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ ، اور جو حلال میں اطاعت کرے اس پر الزام نہیں ، نہ اس وجہ سے اس کی امامت میں حرج ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

(۲) جو امامت کے لائق ہے اس کے پیچھے سب کی نماز ہوسکتی ہے اس صورت میں خاصہ کو یہاں دخل نہیں کہ ۤادمی ایک خاص قسم کے لوگوں کی امامت کرسکتا ہودوسرے لوگوں کی اس کے پیچھے نماز جائز نہ ہو جیسے معذور کہ اپنے مثل معذور کی امامت کرسکتا اوروں کی نہیں۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

(۳) مجمل سوال ہے بارہا مسئلہ حق بیا ن کرنے سے جاہلوں میں اختلاف پڑتا ہے اور احمق یا بددین لوگ اسے نفاق ڈالنا کہتے ہیں یہ وجہ الزام نہیں ہوسکتا ، سائل مفصل لکھے کہ کیا کہتا اور کیا نفاق ڈالتا ہے واﷲ تعالیٰ اعلم

(۴) اگر توبہ کرچکا اور اس سے نفرت قلوب میں نہ رہی اور کوئی وجہ مانع امامت نہ ہو تو اس کی امامت میں حرج نہیں، واﷲ تعالیٰ اعلم

(۵) غیر مقلد کی امامت باطل ہے اور اس کے پیچھے نماز محض ناجائز ، اور جب اس کا غیر مقلد ہونا ثابت و تحقیق ہے تو اس کا براہ تقیہ اپنے آپ کو حنفی کہنا کچھ مفید نہیں۔
قال اﷲ تعالٰی
اذاجائک المنفقون قالوانشھدانک لرسول اﷲ واﷲیعلم انک لرسولہ واﷲ یشھد ان المنفقین لکٰذبون ۱؎ ۔
واﷲ تعالیٰ اعلم
اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: جب منافق تمھارے حضور حاضر ہوتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں بیشک حضور ضرور اﷲ کے رسول ہیں ،اور اﷲ جانتا ہے کہ بیشک تم اس کے رسول ہو اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ بیشک منافق ضرور جھوٹے ہیں۔
 (۱؎ القرآن        ۶۳/۱)
 (۶) استغفار کا حقدار ہر مسلمان ہے۔ :
قال اﷲ تعالیٰ
واستغفر لذنبک وللمؤمنین والمؤمنات۲؎۔
اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: اور اے محبوب ! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو۔ (ت)
 (۲؎ القرآن      ۴۷/۱۹)
اگر انھوں نے بیجاالزام لگایا ہے سخت گنہگار حق العبد میں گرفتار ، نفاق ڈالنے کا جواب نمبر۳میں ہوچکا مجمل باتوں پر قطعی حکم دے کر فتوی کو کسی غرض نفسانی کا مؤید نہیں کرسکتے
ومن لم یعرف اھل زمانہ فھوجاھل
 (جواپنے زمانے کے احوال سے واقف نہیں وہ جاہل ہے ۔ ت) واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۳۵: از تحصیل سکندرہ راؤ ضلع علی گڑھ مسئولہمحمد لطیف قرق امین ۱۰ رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی غیر صحیح النسل یعنی کسبی زادہ کے پیچھے جو حافظ قرآن ہو نماز پڑھنا اور خاص کر تراویح ادا کرنا درست ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب: مکروہ تزیہی ہے اگر وہ سب حاضرین سے علم مسائل طہارت وصلاۃ میں زائد نہ ہو، ورنہ وہی اولیٰ اگر جملہ شرائط امامت کا جامع ہو
کما فی الدرالمختار وغیرہ
 ( جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے ت)واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۳۶: از بریلی کانکر ٹولہ متصل چوکی پولیس پرانا شہر مسئولہ عبدالغنی صاحب ۱۷ رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ کس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے اور کس کس کے نہیں ، دیگر یہ کہ گاؤں کے کارندے کے پیچھے جو حال میں کارندگی کررہا ہو نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور حضور کو خوب روشن ہو گا کہ جس طرح کارندہ اپنی گزراوقات کے ذرائع نکالتے ہیں۔ بینواتوجروا
الجواب: ہر سنی صحیح العقیدہ صحیح القراۃ صحیح الطہارۃ غیر فاسق معلن جس میں کوئی بات ایسی نہ ہو کہ لوگوں کے لئے باعث نفرت اور جماعت کے لئے وجہ قلت ہو اس کے پیچھے نماز بلا کراہت جائز ہے ۔ گاؤں کے کارندے جن کا غبن اور اسامی وغیر ہم سے ناجائز  پیسہ لینا ظاہر ومعروف ہو ان کو امام بنانا گناہ ہے اور ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ،ورنہ کارندگی خود کوئی گناہ نہیں ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
Flag Counter