Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
148 - 185
مسئلہ ۷۱۸: از اوپل ڈاکخانہ خاص ضلع کھیری مرسلہ مولوی خدابخش صاحب ۱۰ جمادی الاولیٰ    ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میں جہلاء لوگوں کو صوم وصلوٰۃ کی جانب رجوع کرتا ہوںاور انھوں نے خدا کے فضل سے اس جانب توجہ فرمائی ہے لیکن بعض اشخاص بے نمازی تعزیہ وار قبر پرست اور بعضے صرف جمعہ کے نمازی ، رمضان شریف کے نمازی ، عید کے نمازی ان لوگوں کو میری جانب سے بدظن کرتے ہیں اور ان کے سامنے یہ بات پیش کرے ہیں کہ میری آنکھوں میں پھلی ہی لیکن پتلی پر نہ ہونے کے سبب دکھائی دیتا ہے، دوسری تہمت لگاتے ہیں کہ ان کے والد کے دو نکاح ہوئے ایک عورت کا نکاح نہیں ہوا بلکہ انھوں نے ویسے ہی رکھا ہے حلانکہ یہ سب محض لغواور جھوٹ بیان ہے انھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ میرے والد کے کے نکاح ہوئے ، جناب والد صاحب مرحوم کے تین نکاح ہوئے ،ا گر یہ ثابت کردیں تو میرا حقہ ترک ورنہ تہمت لگانے والوں کا حقہ ترک ہوناچاہئے
الجواب: آنکھ میں پھلی ہونا جبکہ وہ پتلیوں سے الگ ہو اور دیکھنے کو مانع نہ ہو نمازمیں اصلاً کراہت کا بھی موجب نہیں اور سائل کے باپ پر یہ الزام لگانا کہ ان کے دو نکاح ہوئے اور ایک عورت بے نکاحی رکھی ، اول تو ایک مسلمان کی طرف نسبت زنا بلا تحقیق ہے اور یہ سخت حرام کبیرہ ہے اور تہمت رکھنے والے پر شرعاً اسی (۸۰)اسی (۸۰) کوڑے کا حکم ہے ۔

ثانیاً سائل پر اس کاکیا الزام تک یہ ثبوت قطعی نہ دیں کہ اس کی ولادت بے نکاح ہے اب طعن کرنے والے مستحق سزائے شدید ے ہیں جب تک توبہ نہ کریں ان کا حقہ پانی بند کیا جائے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۱۹: از کوچین ـــ ضلع ملیبار محلہ مٹانچیرمکان سیٹھ سلیمان قاسم مرسلہ میمن حاجی طاہر محمد مولانا ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو خدا کو مجسم ٹھہرادے اس کی اقتداء کرکے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
الجواب: اس کی قتداء حرام ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل ہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۲۰: از دہلی چاندنی چوک متصل گھنٹہ گھر مسجد باغ والی مرسلہ مولوی عبدالمنان صاحب ۱۶ رجب المرجب ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید قدیم الایام سے ایک مسجد کا پیش امام تھا اب بعض اہل محلہ نے اس سے برخلاف ہوکر ایک دوسرے امام کو کھڑا کردیا ہے اور اس سے پہلے امام میں کوئی عیب شرعی جس سے معزول ہوسکے نہیں پایا گیا اور پہلا امام ثانی کے کھڑا کرنے پر ناراض ہے اور کہتا ہے کہ میری اجازت کے سوا اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے کیا اس امام اول کا کہنا ٹھیک ہے کہ امام ثانی کے پیچھے نماز مکروہ ہے یا نہیں؟
الجواب: اگر واقع میں امام اول نہ وہابی ہے نہ غیر مقلد نہ دیوبندی نہ کسی قسم کا بد مذہب ، نہ اس کی طہارت یا قرأت یا اعمال وغیرہ کی وجہ سے کوئی وجہ کراہت ، بلاوجہ اس کو معزول کرنا ممنوع ہے حتی کہ حاکم شرع کو اس کا اختیار نہیں دیا گیا ۔
ردالمختار میں ہے:
لیس للقاضی عزل صاحب وظیفۃ بغیر جنحۃ ۱؎۔
بغیر کسی وجہ کے قاضی مقرر امام کو معزول نہیں کرسکتا ۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الوقف مطلب لایصح عزل صاحب وظیفۃ     مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۳/۴۲۳)
ف:ردالمحتار میں یہ عبارت اختلاف الفاظ کے ساتھ متعدد جگہ پر موجود ہے معنی متحد ہے ۳/۴۲۲، ۴۵۲،۴۵۹ط نذیر احمد
اور اگر واقعی اس میں کوئی وجہ کراہت ہے تو اس کی امامت مکروہ ہے اور اس کی نماز نا مقبول۔ صحاح احادیث میں ہے:
ثلثۃ لاترفع صلا تھم فوق اذانھم شبرا
ثلثۃ لاترفع صلا تھم فوق اذانھم شبرا ( وعد منھم) من ام قوما وھم لہ کارھون ۲؎۔
تین اشخاص کی نماز ان کی کانوں سے ایک بالشت برابر بلند نہیں ہوتی(اور ان میں سے ایک وہ شخص ہے) جو کسی قوم کی امامت کروائے حالانکہ وہ لوگ اسے پسند نہ کرتے ہوں ۔ (ت)
 (۲؎ سنن ابن ماجہ    باب من ام قوماًوہم لہ کارھون    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص ۶۹)
ف: سنن ابن ماجہ میں '' فوق اذانھم '' کی جگہ '' فوق رؤسھم '' ہے نذیر احمد سعیدی
اور اگر اس میں کوئی وجہ فساد نماز ہے مثلاً غیر مقلد یا دیوبندی یا غیر صحیح الطہارۃ یا غیر صحیح القراۃ ہونا ، جب تو ظاہر ہے کہ اس کی امامت فاسد اور اس کے پیچھے نماز باطل ، محض اس کا معزول کرنا فرض ہے ۔واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۲۱: از باندی کوئی مرسلہ منشی عبدالرحمن ملازم ڈاک سفری ۸شعبان ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علماتے دین اس مسئلہ میں کہ زید بسبب ہونے حافظ قرآن ایک مسجد میں بخدمت پیش امامی وبرائے تعلیم قرآن طفلان اہل اسلام سنت وجماعت کے مقرر کیا گیا چند عرصہ بعد تک بظاہر کسی قسم کا فرق نہ معلوم، ہونے سے ایک گروہ جاہلوں کے معتقد ومطیع زید ہوگئے ۔ جب زید دو تین لڑکوں کا حافظہ ختم کراچکا اور اپنا رسوخ پورا پورا جما چکا تو اپنے منصب امامت پر فخر کرنے لگا اور مسجد کو اپنی میراث جان کر کہنے لگا کہ مجھ کو اس مسجد سے کوئی ہٹانہیں سکتا ، غرض زید کا ایک شاگرد رشید بکر نامی جس کا حافظہ ختم ہوچکا تھا اس کی شادی ہوجانے کے بعد اس کے والد نے زید ہی کو زوجہ بکر کی تعلیم قرآن کے لئے مقرر کیا چند ہی عرصہ میں انگشت نمائی ہونے لگی یہاں تک کہ برسوں کے بعد معاملہ طول ہو کر ظاہر ہوا تو بکر سے طلاق دلایاگیا اور زید نے مطلقہ کو خود نکاح میں لاکر فخر یہ کہتا ہے اب تو موافق شرع کے حرام نہیں ہے چونکہ عورت جو ان زید سن رسیدہ تھا زید کے دباؤ میں نہ رہ کر آزادانہ روش اختیار کرکے پردہ بھی بالا ئے طاق رکھا اور زید کے جو جو ان پرانے شاگرد تھے ان سے خلا ملا رہنے لگا ، چونکہ زید دیکھنے والا نواب صدیق حسن بھوپالی کا ہے ہر موقع پر حق کو ناحق اور ناحق کو حق بتا کر جاہلوں کی سیدھا کرلیا کرتا تھا اس پر تھوڑے لوگ حق شناس تھے ان سے الگ رہنے لگا اس کے درمیان ایک لڑکا ولد الزنا پیدا ہوا اس کا عقیقہ کیا گیا یہی زید پیش امام صاحب شریک عقیقہ ہو کر بکرے کی کھال کی غرض سے خوب پلاؤ پر ہاتھ مارکر پکارنے لگے کہ عقیقہ کھاناجائز تھا ہرگز حرام نہیں جب اس پر بھی لوگ ان کی پیش امامی پر معترض ہوئے تو خودہی زید صاحب غیظ وغضب میں آکر چلاّ اٹھے کہ پیش امامی کرنے پر لعنت ہے میں تو ہرگز نماز نہیں پڑھاؤں گا جو مجھ پر اعتراض کرتے ہیں وہی پڑھائیں قہر درویش برجان درویش ایک ہفتہ تک نماز پڑھانے سے رکے رہے آخر جھک مارکر خود ہی نماز پڑھانے لگے اور لوگوں نے نماز پڑھی، پس ان سب باتوں پر نظر ڈالتے ہوئے معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: اگر چہ لوگوں کی انگشت نمائی کا اعتبارنہیں اکثر محض باطل بدگمانی پر ہوتی ہے مگر زید کا بعد نکاح کہنا اب تو حرام نہیں ظاہراً اس پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے حرام تھا تو یہ اقرار حرام ہوا ، اگر چہ یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کے پہلے تم مجھ پر ناحق بدگمانی حرام کرتے تھے اب تو حرام نہیں۔ زن زید کی نسبت جو لکھا گیا ہے اگر برضائے زید ہے یا زید بقدر قدرت بندوبست نہیں کرتا تو دیوث ہے اور دیّوث سخت اخبث فاسق ، اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ۔ اسے امام بنانا حلال نہیں اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ ،اور پڑھی تو پھیرنا واجب ، سائل نے کچھ نہ لکھا کہ زنا سے لڑکا کس کے پیدا ہوا ، اگر کسی دوسرے کے یہاں کایہ واقعہ ہے اور وہ عورت شوہردار ہے ، شوہر نے اسے اپنا بچہ ٹھہراکر عقیقہ کیا توبیشک اس میں کوئی حرج نہ تھا، نہ اس کے کھانے میں کوئی حرج ۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الولد للفراش وللعاھر الحجر۱؎۔
صاحب نکاح کیلئے ولد (نسب) اور زانی کےلئے پتھر ہے (ت)
 (۱؎ صحیح مسلم        باب الولد للفراش        مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی    ۱/۴۷۰)
اور اگر عورت بے شوہر تھی اور اس نے عقیقہ کیا تو ازانجا کہ اس سے نسب قطعاً ثابت ہے اور نسب فی نفسہٖ نعمت ہے
جعلہ نسبا وصھرا۲ ؎
 ( اﷲ تعالیٰ نے آدمی کےلئے رشتے اور سسرال بنائے)
( ۲ ؎ القرآن ،   ۲۵/۵۴)
اگر چہ جہت سبب سے یہ صورت سخت بلا ہے، اس عقیقہ کی تحریم یا اس کے کھانے کی حرمت ظاہر نہیں ہوتی خصوصاً جبکہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ شراب پینے پر بسم اﷲ کہے توکافر ہے اور پی کر الحمداﷲ کہے تو نہیں کہ شراب اگر چہ بلا ہے مگر اس کا حلق سے اتر جانا اور اسی وقت گلے میں پھنس کر دم نہ نکال دینا، اس شدید عصیان کی حالت میں رب عزوجل کی نعمت ہے۔
فصول عمادی و فتاوی ہندیہ میں ہے:
من اکل طعاماحراما وقال عند الاکل بسم اﷲ حکم الامام المعروف بمشتملی ( ھندیہ) انہ یکفر ولوقال عند الفراغ الحمدﷲ قال بعض المتاخرین لایکفر ۳
جس نے حرام کھایا اور کھانے کے وقت ''بسم اﷲ ''پڑھی امام معروف مشتملی( ہندیہ) نے کہا کہ وہ کافر ہے اور فراغت کے بعد اگر ''الحمد ﷲ'' کہا تو بعض متاخرین نے کہا کہ اس سے وہ کافر نہیں ہوگا۔ (ت)
 (۳؎ فتاوی ہندیہ    الباب التاسع فی احکام المرتدین         مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/۲۷۳؎۔)
البتہ اگرزانی نے عقیقہ کیا تو وجہ نعمت اصلاً منتفی ہے پھر بھی زنا پر شکر اس سے مفہوم نہیں ہوتا بلکہ بہت جہال یہ جانتے بھی نہیں کہ عقیقہ سے شکر مقصود ہے ایک رسم سمجھ کر کرتے ہیں اس صورت میں شرکت اور اس کا کھانا ضرور معیوب و شینع تھا۔ امامت پر لعنت توصریح کفر ہے مگر اس سے یہ مقصود ہوسکتا ہے کہ اگر یہ شخص امامت کرے تو اس شخص پر لعنت ہے یہ کیا تھوڑا ناپاک لفظ ہے ، زید کی امامت نامناسب ، خصوصا اگر صدیق حسن خاں کے مذہب پر ہو کہ ان حالات میں ضرور بددین ہے اور اسے امام بنانا حرام ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۲۲: زید کچہر ی میں جاکر مقدمہ دائر کرتا ہے اور اس کی کوشش اور پیروی میں مصروف رہتا ہے اس کے لڑکے کی منکوحہ بیوی یتیم ہے اور کوئی دوسرا ذریعہ معاش کا بھی نہیں ہے اور اس کا لڑکا باہم کھاتے پیتے ہیں اور لڑکے کی منکوحہ بیوی کو اپنے یہاں بلاتے نہیں جس کی وجہ سے وہ سخت تکلیف میں ہے ، زید نے لڑکے کا نکاح ثانی بھی کرلیا آیا اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ اس کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہے؟
الجواب : عورت کو بلانا، نان و نفقہ دینا، اچھا برتاؤ کرنا شوہر کے ذمہ ہے اس کے باپ کے ذمہ نہیں۔ اﷲ تعالیٰ ایک کا گناہ دوسرے پر نہیں رکھتا۔ ہاں اگر بلاوجہ شرعی باپ اسے بلانے سے منع کرتا ہے یاا س کے اس ظلم پر راضی ہے تو خود شریک ظلم ہے ۔ اگر وہ بات با علان کرتا ہے لوگوں میں اس کے ارتکاب سے مشہور ہے تو اسے امام نہ بنایا جائے گا کہ فاسق معلن ہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۲۳: از قطب پور ڈاکخانہ پیر گنج ضلع رنگ پور مسئولہ محمد رحمت اﷲ ۵ رمضان المبارک ۱۳۳۹ھ

سود کھانے والے اور دینے والے دونوں کے پیچھے نماز درست ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:  سود خور کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے اور سوددینے والا اگر حقیقۃ صحیح شرعی مجبوری کے سبب دیتا ہے اس پر الزام نہیں ۔
درمختار میں ہے:
یجوزللمحتاج الاستقراض بالربح۱؎۔
ضرورت مند کے لئے نفع کی بنیاد پر قرض حاصل کرنا جائز ہے۔ (ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر    قاعدہ خامسہ درء المفاسد    مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی  ۱/۱۲۶)
اور اگر بلامجبوری شرعی سود دیتا ہے مثلاً تجارت بڑھانے یا جائداد میں اضافہ کرنے یا اونچا محل بنوانے یا اولاد کی شادی میں بہت کچھ لگا نے کے واسطے سودی قرض لیتا ہے تو وہ بھی سود کھانے والے کے مثل ہے اور اسے امام بنانا بھی گناہ ، اور نماز کا وہی حال ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۲۴ تا ۷۲۶: از ڈونگر پور ملک میواڑراجپوتانہ مکان سمندر خاں جمعدار مسئولہعبدالرؤف خاں ۵ رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:

(۱) کوئی آدمی عالم کے آنے سے مسجد میں آنا چھوڑدے اور حسد کرے اور وہ پیش امام بھی ہو اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟

(۲) کوئی عالم ہو اور پیش امام وقاضی شہر ہو خود سب سے مسائل بیان کرے اور سب کو سنائے اور سب کے پہلے جاکر بوہروں کے یہاں کا ذبح کیا ہو گوشت کھائے اور اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟

(۳) جو شخص ہمیشہ مسجد میں دنیا کی باتیں کرتا ہو اور وہ پیش امام ہو اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب :

(۱) ایسی اجمالی باتوں پر حکم نہیں ہوسکتا وہ کیسا عالم اور وجہ حسد کیا تاوقتیکہ تفصیل نہ معلوم ہواجمالی بات کا جواب نہیں دیا جاسکتا عالم علمائے دین ہیں اور وہابیہ وغیر ہم مرتدین بھی عالم کہلاتے ہیں اور وجو ہ منازعت بھی مختلف ہوتی ہیں ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

(۲) جو شخص دانستہ بوہروں کا ذبیحہ کھاتا ہے مردار کھاتا ہے اسے امام بنانا جائز نہیں اور اس کے پیچھے نماز منع۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

(۳) فقط اتنا کہ دنیا کی بات مسجد میں کرتا ہے علی الاطلاق ممانعت امامت کا موجب نہیں جب تک علانیہ حد فسق کو پہنچنا ثابت نہ ہو اگر دنیا کی بات کرنے کےلئے بالمقصدمسجد نہیں جاتا نماز کےلئے بیٹھا ہے اور کوئی دنیا کی باتیں بھی کرلیں جن میں فحش وغیرہ معاصی نہ ہوں اگر چہ ایسابھی نہ چاہئے مگراس سے امامت پر کوئی اثرنہیں پڑتا۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
Flag Counter