Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
147 - 185
مسئلہ ۷۱۳: از ترسائی کاٹھیاواڑ مرسلہ احمد داؤد صاحب ۲ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۶ھ

(۱) ائمہ اربعہ میںسے کسی ایک امام کے مقلد کی امامت یا متابعت خواہ چار اماموں میں سے کوئی ایک امام کا مقلد ہو یعنی شافعی حنفی امام کے پیچھے یا حنفی شافعی امام کے پیچھے یا حنبلی حنفی کے یا حنفی حنبلی کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

(۲) اگر حنفی کا شافعی امام بنے تو کیا یہ ضرور ہے کہ حنفی کی خاطر رفع یدین یا آمین بالجہر ترک کردے یا یہ کہ ہر شخص امام ہو یا مقتدی اپنے اپنے امام کی پیروی کرے؟
الجواب:

(۱) اگر معلوم ہے کہ اس وقت امام میں وہ بات ہے جس کے سبب میرے مذہب میں اس کی طہارت یا نماز فاسد ہے تو اقتداء حرام اور نماز باطل ، اور اگر اس وقت خاص کا حال معلوم نہیں مگر یہ معلوم ہے کہ یہ امام میرے مذہب کے فرائض وشرائط کی احتیاط نہیں کرتا تو اس کی اقتداء ممنوع اور اس کے پیچھے نماز سخت مکروہ اور اگر معلوم ہے کہ میرے مذہب کی بھی رعایت واحتیاط کرتاہے یا معلوم ہو کہ اس نماز خاص میں رعایت کئے ہوئے ہے تو اس کے پیچھے نماز بلا کراہت جائز ہے جبکہ سنی صحیح العقیدہ ہو نہ غیر مقلد کہ اپنے آپ کو شافعی ظاہر کرے اور اگر کچھ نہیں معلوم تو اس کی اقتداء مکروہ تنزیہی۔ واﷲ تعالیٰ اعلم



(۲) ہر شخص اپنے امام کی پیروی کرے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۱۴: از بریلی

زید امام مسجد ہے اور اس نے جھوٹ بولا اس پر ایک شخص نے ان کے پیچھے نماز پڑھنا ترک کردی او رکسی وقت کی نماز وہ شخص قبل پڑھ لیتے ہیں اور مؤذن بھی وہی شخص ہیں اور تکبیر بھی کہتے ہیں تو آیا یہ تکبیر صحیح ہوگی یا نہیں؟ اور نماز ایسے امام کے پیچھے جائز ہے یا نہیں؟ اور اس وقت تک جتنی نمازیں ان کے پیچھے پڑھی گئیں جس وقت سے انھوں نے جھوٹ بولا تو نمازیں ہوگئیں یا نہیں؟
الجواب: سائل نے یہ بیان کیا کہ امام کے ذمّے یہ جھوٹ رکھا جاتا ہے کہ اس سے پوچھا گیا کیا بجا ہے؟ کہا سوا آٹھ بجے ہیں ، اور بجے تھے سوا نو۔ یہ کوئی جھوٹ ایسا نہیں جس کے سبب اس کے پیچھے نماز چھوڑدی جائے ۔ سوا نو بجے ہیں تو ضرور سواآٹھ بھی بج چکے ۔ عالمگیری میں ہے کہ اگر کوئی دس روپیہ کو خریدی اور پوچھنے پر کہا پانچ کو لی ہے تو یہ کوئی جھوٹ قابل مواخذہ نہیں۔ یونہی سوا نو میں سواآٹھ داخل داخل ہیں۔ مؤذن کہ اتنی سی بات پر ترک جماعت کرتا ہے دُہرا گنہگار ہے ایک جماعت چھوڑنے کا گناہ ادوسرا سخت گناہ یہ کہ اوروں کو اذن دے کر بلانا اور خود باز رہنا
قال اﷲ تعالیٰ
یایھاالذین امنوا لم تقولون مالا تفعلون کبر مقتا عند اﷲ ان تقولوا مالا تفعلون ۱؎ ۔
واﷲ تعالیٰ اعلم
اﷲ تعالیٰ نے فرمایا اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو وہ جو (خود) نہیں کرتے اﷲ کو سخت ناپسند ہے یہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو
 (۱؎ ا لقرآن         ۶۱/ ۲)
مسئلہ ۷۱۵: از قصبہ نرنگ لاہور مسئولہ ابو رشید محمد عبدالعزیز 

کیا فرماتے ہے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی امام گاہے گاہے مردہ شوئی کرے تو کیا اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب :میّت مسلم کو نہلانا فرض ہے اور فرض کے ادا کرنے میں اجر ہے، اور اگر وہاں اور بھی کوئی اس قابل ہو کہ نہلاسکے تو اس کے نہلانے پر اجرت لینا بھی جائز ہے بہر حال اس سے امامت میں کوئی خلل نہیں آتا اور اگر وہاں کوئی دوسرا ایسا نہ ہو کہ نہلا سکے تو اب اس پر نہلانا فرض عین ہے اور اس پر اجرت لینا حرام ، ایسا کرے گا تو فاسق ہوگا اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور اس کا امام بنانا گناہ ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۱۶: از روپٹی ڈیہہ ضلع بہرائچ بازار نیپال گنج مرسلہ سید علی ناریل فروش ۸ محرم الحرام ۱۳۳۶ھ

زید نے بکر کی زوجہ سے زنا کیا ، بکر نے یہ حالات کماحقہ معلوم کرکے زوجہ مذکور کو طلاق بائن دی اورخود بھی تائب ہوا۔ بکر یہاں کی جامع مسجد کا پیش امام بھی ہے، اب بکر کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
الجواب: صورت مذکورہ میں زنائے زوجہ کے سبب بکر کی امامت میں کوئی خلل نہیں جبکہ وہ بوجہ صحت مذہب و طہارۃ وصحت قراء ۃ وغیرہا شرعاً قابل امامت ہو۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۱۷ : ازموضع کوتانہ ضلع میرٹھ مرسلہ شیخ وجیہ الدین احمد ومحمد عبد اﷲ خاں ومحمد واسمٰعیل خاں ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین محمدی ومفیتان شرع احمدی حنفی المذہب اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ایک شخص وہابی فرقہ کا حنفی المذہب اہل سنت وجماعت کے محلہ کی مسجد کا ایک ماہ و چند روزسے پیش امام ہے اور اس کے باپ دادا بھی اسی فرقہ وہابیہ میں مرگئے ۔ حسن اتفاق سے اس مسجد میں دو عالم واعظ تشریف لائے اور وعظ میں حضرت رسول مقبول محبوب رب العالمین شفیع المذنبین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی حمد وثنا بیان فرمائی اور امام مسجد نے ان کے پیچھے نماز پڑھنی ترک کردی اسی روز شب کو ایک شخص باشندہ محلہ نے اپنے مکان پر مولوی صاحبان نووارد سے مجلس مولود شریف کرائی۔ امام مسجد شامل نہ ہوا ، صبح کو بوقت ظہر دریافت کیا کہ تم مجلس مولود شریف کی نسبت کیا کہتے ہو؟ جواب دیا کہ اچھا کہتا ہوں، پھر کہا گیا تم اچھا کہتے ہو تو تم کیوں نہیں کرتے ہو؟ امام نے جواب دیا کہ میرے باپ دادا نے اس فعل کو نہیں کیا میں بھی نہیں کرتا، پھر کہا گیا کہ شب کو جو مجلس ہوئی تھی اس میں شامل کیوں نہ ہوئے؟ جواب دیا کہ وہاں پر قیام ونعت ہوتی ہے اس لئے میں شامل نہیں ہوا۔ پھر کہا گیا کہ نعت کے معنی حمد وثناء تعریف کے ہیں ۔ حضرت رسول کریم رحمۃ للعالمین کی تعریف سے کیوں بھاگتے ہو؟ کچھ جواب نہ دیا سکوت کیا ۱۵ ربیع الاولی۱۳۳۷ھ مقدسہ کو بعد نماز فجر بمواجہہ جملہ نمازیان مسجد امام سے کہا کہ جناب مولانا ومولوی حاجی قاری احمد رضا خاں صاحب کی تصنیفات سے یہ کتاب ''تجلی الیقین'' موجود ہے تمام و کمال انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام حضرت نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعریف فرماتے ہیں تم حضرت کی تعریف ونعت سے کیوں گریز کرتے ہوں؟ جواب نہ دیا خاموش رہا؟ اس مبارک کتاب'' تجلی الیقین'' کے چند موقع پڑھ کر سنائے مگر کچھ اثر نہ ہوا اب حضور والا مفصل ومشرح تحریر فرمائیں کہ حنفی المذہب اہلسنت وجماعت کی نماز ایسے بد عقیدہ وہابی مذہب کے پیچھے جائز ہے یا نا جائز ہے بدلائل وبرہان قرآن شریف وحدیث شریف جواب مرحمت فرمائیں اﷲ جل شانہ نے حضور والا کی ذات ستودہ صفات کو مثل آفتاب عالمتاب کے روشن ومنّور کیا ہے اسی طرح تایوم القیامۃ روشن رکھے، مکرر عرض ہے کہ کمترین وجیہ الدین کا یا اور کسی باشندہ محلہ کا کوئی دنیاوی تعلق نہیں ہے نہ کسی کا کوئی عزیز امامت کے لائق ہے صرف بغضﷲ وحب ﷲ پر عمل ہے۔
الجواب:  بیان سوال سے ظاہر کہ وہ شخص وہابی بلکہ وہابیوں میں بھی اونچی چوٹی کا ہے ، وہابیہ کا اصل عقیدہ نعت اقدس سے جلنا ہے مگر مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے یوں صاف نہیں کہتے جو اس نے کہی کہ '' وہاں نعت ہوتی ہے اس لئے شامل نہ ہوا'' رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے نفرت نہ کرے گا مگر کافر اورکافر کے پیچھے نماز محض باطل ، اگر مسلمان ہوتا نعت اقدس کو درست رکھتا ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من احب شینا اکثر ذکرہ۱؎۔ رواہ ابو نعیم ثم الدیلمی عن مقاتل ابن حیان عن داؤد ابن ابی ھند عن الشعبی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنھا ثلاثتھم من رجال مسلم والاربعۃ۔
جو کسی شی سے محبت رکھتا ہے اس کا ذکر زیادہ کرتا ہے اسے ابو نعیم پھردیلمی نے مقاتل بن حیان ، انھوں نے داؤد بن ہند ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا ہے اس کے تینوں روای مسلم شریف کے اور اصحاب اربعہ کے رجال ہیں۔ (ت)(یعنی اسے بلند مرتبہ محدثین نے ان سے روایت کی ہے لہٰذا راوی معتمد ہیں۔ نذیر احمد)
(ا ؎ اتحاف السادۃ المتقین     بحوالہ ابی نعیم ثم الدیلمی،  فضیلۃ الشیخ ،  مطبوعہ دارالفکر بیروت ،   ۵/۲۰)
جسے محبت درکنار نفرت ہو ظاہر ہے کہ اسے حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے محبت نہیں پھر وہ مسلمان کیسے ہوسکتا ہے ، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین ۱؎۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم والنسائی وابن ماجۃ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔
تم میں سے کوئی شخص مسلمان نہیں ہوتا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ اولاد اور تمام آدمیوں سے زیادہ پیارا نہ ہوں ۔ اسے ائمہ کرام امام احمد، بخاری ، مسلم ، نسائی ۔ اور ابن ماجہ نے حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے
 (۱؎ صحیح البخاری        باب حب الرسول صلی اﷲ علیہ وسلم من الایمان    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۷)
''تجلی الیقین ''کے کلمات سن کر اثرنہ ہونا اور نعت شریف کے ان سوالوں پر خاموش رہنا اس کے دل کی دبی آگ کو اور ظاہر کررہاہے۔
قال اﷲ
قد بدت البغضاء من افواھھم وماتخفی صدورھم اکبر قد بینا لکم الایات ان کنتم تعقلون ۲؎۔
اﷲ تعالیٰ نے فر مایا: دشمنی ان کے مونہوں سے ظاہر ہوگئی اور وہ جو ان کے سینوں میں (غیظ وعناد) چھپا ہے اور زیادہ ہے ہم نے تم پر نشانیاں کھول دیں اگر تمھیں عقل ہو۔ (ت)
 ( ۲؎ القرآن    ۳/۱۱۸)
بالجملہ وہ یقیناوہابی ہے اور وہابیہ قطعابے دین ،اور بے دین کے پیچھے نماز محض ناجائز۔ 

فتح القدیر میں ہے :
روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اﷲ تعالیٰ عنھما ان الصلاۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز۳؎۔
امام محمد نے امام ابو حنیفہ اور امام ابویوسف رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا کہ اہل بدعت کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے۔ (ت)
 (۳؎ فتح القدیر        باب الامامۃ    مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۳۰۴)
نماز درکنا ربنص قران عظیم اس کے پاس بیٹھنا حرام۔
  قال اﷲ تعالیٰ
واما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعدالذکری مع القوم الظالمین۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم ۔ اﷲ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس مت بیٹھ (ت)
 (۱؎ القرآن        ۶/۶۸)
Flag Counter