مسئلہ ۷۰۶: از موضع سریا ڈاکخانہ تیلو تہو ضلع شاہ آباد آرہ مرسلہ شیخ مدار بخش ۱۸ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص معمولی اردو خواں مؤذنی بھی کرتا ہے اور امامت بھی کرتا ہے اور وہی شخص گھر گھر سے صدقہ فطر مال زکوٰۃ و کھال قربانی وغیرہ لیتا اور کھاتا ہے اور قبرستان میں جوغلّہ پیسہ کوڑی خیرات کیا جاتا ہے وہ بھی لیتا ہے اور اس کا پیشہ یہی ہے ، ایسے شخص کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ؟ امام کےلئے کون کون شرائط ہیں ؟ کیسے شخص کو امام ہونا چاہئے ؟ اگر بجائے شخص مذکور کے دوسراشخص جو ان باتوں سے محتاط ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا افضل ہے یا نہیں؟
الجواب
اگر وہ فقیر ہے صاحب نصاب نہیں ، نہ سید ہاشمی ہے تو ان اموال کا لینا اسے جائز ہے اور اس وجہ سے اس کی امامت میں کوئی حرج نہیں۔ امامت کیلئے صحیح الاسلام صحیح الطہارت ،صحیح القراء ت ،سنی صحیح العقیدہ غیر فاسق معلن درکارہے جس میں ان باتوں سے کوئی بات کم ہوگی اسکے پیچھے نماز ہوگی ہی نہیں مکروہ تحریمی ہوگی اس شخص میں ان باتوں سے کوئی بات کم ہے تو اس کی امامت جائزنہیں،واجب کہ دوسرے کو جو ان باتوں کا جامع ہو امام کریں اور یہ سب باتیں اس میں ہیں تو اس کی امامت میں حرج نہیں ، پھر دوسرا اگر نماز وطہارت کے مسائل اس سے زیادہ جانتا ہے تو وہ دوسرا ہی اولی ہے اور اگر یہ زیادہ جانتا ہے تو یہی بہتر ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۰۷ تا ۷۱۰: از کراچی گاڑی احاطہ محلہ رام باغ مرسلہ نور احمد مولیڈنہ واکانی مہمیز ۱۸ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱) جس امام کو اس کے عقائد پوچھے جائیں اوروہ نہ بتائے تو اس کی اقتداء جائز ہے یا نہیں؟
(۲) جو امام وقت مقررہ کا پابند نہ ہو یعنی کہے کہ نماز مقررہ وقت پر پڑھنا عرش اعظم پر لکھا ہوا ہے کیا ، حالانکہ مصلیوں کی آسانی کے لئے جماعت نے وقت مقرر کیا ، اس کو کیا سمجھنا چاہئے؟
(۳) جس امام سے جماعت کے بعض آدمی ناراض ہوں اور بعض اس کی خوشامد کرتے ہوں توایسے کی اقتداء کرنا جائز یا نہیں؟
(۴) جس امام کے دونوں ہاتھ ہوں مگر ایک ہاتھ سیدھا یعنی سیدھاہاتھ نکما ہو اور بائیں ہاتھ سے آبدست لیتا ہو استنجا کرتا ہوں وضوکرتا ہو اور کھانا کھاتا ہو امام ہوسکتا ہے یا نہیں؟
الجواب (۱) اپنا عقیدہ و مذہب دریافت کرنے پر نہ بتانے سے ظاہر یہی ہے کہ اس میں کچھ فساد ہے ورنہ دین بھی کچھ چھپانے کی چیز ہے، اس کی اقتداء ہر گز نہ کی جائے کہ بطلان نماز کا احتمال قوی ہے اور نماز اعظم فرائض اسلام سے ہے اس کے لئے سخت احتیاط مطلوب ، یہاں تک کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا:
لان الصلوٰۃ متی فسدت من وجہ و جازت من وجوہ حکم بفسادھا۱؎ واﷲ تعالیٰ اعلم
جب کسی ایک وجہ پر نماز فاسد ہو اور متعدد وجوہ کی بنا پر درست تو فساد نماز کا حکم ہوگا۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر، باب صلوٰۃ المسافر ، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۴)
(۲) اس میں دونوں ہی باتیں ہیں بعض مقتدیوں کے مزاج میں تشدد اس قدر ہوتا کہ وہ چند منٹ کا آگا پیچھا روا نہیں رکھتے ایسی حالت میں اگر امام نے اس پر انکار کیا بیجا نہ کیا اوراگر امام کی طرف سے بلاوجہ شرعی تکاسل ہے اور اس جماعت کو تکلیف پہنچتی ہے تو اس پر الزام ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
(۳) رنجیدگی دیکھی جائے گی اگر اس میں کسی قصور شرعی کی وجہ سے ہے تو اسے امام بننا گناہ ہے اور بحکم حدیث اس کی نماز مقبول نہ ہوگی۔
ثلثۃ لاترفع صلاتھم فوق اذانھم شبرا الی ان قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و من ام قوما وھم لہ کارھون۲؎۔
(۲؎ سنن ابن ماجہ باب من ام قوماً وھم لہ کارھون مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۶۹)
تین اشخاص کی نماز ان کے کانوں سے ایک بالشت برابر بھی بلند نہیں ہوتی ، آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کہ ایک وہ شخص جو کسی قوم کا امام بن جائے حالانکہ وہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں (ت)
ف: سنن ابن ماجہ میں '' فوق اذانھم'' کی جگہ '' فوق رو،سھم'' ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
اور اگر اس میں کوئی قصور شرعی نہیں تو اس کی امامت میں کوئی حرج نہیں اور ان رنج والوں پر وبال ہے
کما نص فی الدرالمختار
( جیسا کہ درمختار میں اس پر نص موجود ہے ۔ ت) واﷲ تعالیٰ اعلم
(۴) ہوسکتا ہے بلکہ اگر وہی حاضرین میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہو وہی امام کیا جائے گا
کما نصو علیہ فی المتون والشروح والفتاوٰی
(جیسا کہ متون، شروحات اور فتاوٰی جات میں اس مسئلہ کے متعلق نصوص موجود ہیں ۔ ت) واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۱۱: از کراچی بندرصدر بازار دکان سیٹھ حاجی احمد ،حاجی کریم ، محمد شریف جنرل مرچنٹ مرسلہ عبد اﷲ ولد حاجی ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
امام صدر ر ابباعث افتادن از ستور دریک دست تشنج واقع شدہ است ازیں وجہ دست ماؤفہ او بوقت تکبیر تحیریمہ مس مزمہ گوش نمی شود آیا دریں صورت امامت او بلا کراہت جائز است یا نہ؟
صدر کے امام کا ہاتھ گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے بے حس وحرکت ہوگیا ہے اس وجہ سے وہ اپنا ماؤف ہاتھ بوقت تکبیر تحریمہ کان کی لو تک نہیں اٹھا سکتا ،اس صورت میں اس کی امامت بلا کراہت جائز ہے یا نہیں؟ (ت)
الجواب : جائز است بلکہ اگر اعلم قوم است ہموں احق بامامت است ۔واﷲ تعالیٰ اعلم ۔
جائز ہے بلکہ اگروہ قوم سے زیادہ عالم ہے تو امامت کا مستحق وہی ہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم (ت)
مسئلہ ۷۱۲: از سیتا پور محلہ قضیارہ مرسلہ الیاس حسین صاحب ۲۳ ربیع الۤاخر ۱۳۳۶ھ
جب ایک عالم اور شریف ہے مگر سید نہیں ایک عالم رذیل ہے جاہل یا کم مجیب الطرفین سید کی موجودگی میں ان دونوں قسموں کے عالموں سے کون زیادہ مستحق امامت ہے ؟ صرف سید ہی کو استحقاق ہے؟
الجواب: عالم بہر حال زیادہ مستحق امامت ہے جبکہ مبتدع یا فاسق معلن نہ ہو، اور دونوں عالموں میں جسے علم نماز و طہارت میں ترجیح ہو وہ مقدم ہے او اس میں مساوی ہوں تو قراء ت و ورع وسن وغیرہا مرجحات کے بعد شریف نسب سے ترجیح دی جائے گی ، عالم رذیل کہنا بہت سخت لفظ ہے عالم کسی قوم کا جو اگر عالم دین ہے اﷲ کے نزدیک ہر جاہل سے اگر چہ کتنا ہی شریف ہو افضل ہے۔
قال اﷲ تعالیٰ
قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون ۱؎۔
اﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : کیا علم والے اور بے علم برا بر ہوسکتے ہیں ؟( ہر گز نہیں ) ۔ (ت)
( ۱؎ القرآن ۳۹/۹)
مطلق فرمایا کہ جو عالم نہیں عالم کے برابر نہیں ہوسکتا اس میں کوئی تخصیص نسب وغیرہ کی نہ فرمائی ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم