Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
145 - 185
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الاسلام ۲؎ رواہ الطبرانی فی الکبیر وایضا فی صحیح لمختارۃ عن اوس بن شرجیل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ۔
جو دانستہ کسی ظالم کی مدد کو چلے وہ اسلام سے نکل جائے گا ۔ اسے طبرانی نے معجم کبیرمیں اور صحیح المختارۃ میں بھی حضرت اوس بن شرجیل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے:
 (۲؎ المعجم الکبیر        مااسند اوس بن شرجیل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حدیث ۶۱۹     مطبوعہ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت    ۱/۲۲۷)
دوسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استعمل رجلا من عصابۃ وفیھم من ھوارضی اﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ ولمؤ منین ۳؎ ۔ رواہ الحاکم وابن عدی و العقیلی والطبرانی والخطیب من ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ۔
جو کسی جماعت میں ایک شخص کو ان پر مقرر کرے اوراس جماعت میں وہ موجود ہوں جو اﷲ عزوجل کو اس سے زیادہ پسند ہے بیشک اس نے اﷲ رسول اور مسلمانوں سب کی خیانت کی اسے حکم ،ابن عدی ، عقیلی ، طبرانی اور خطیب نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔
( ۳ ؎ المستدرک علی الصحیحین    الامارۃ امانۃ الخ    مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۴/۹۲)
ف: مستدرک میں ''فیھم '' کی ؎جگہ ''فی تلک العصابۃ'' ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
ان لوگو ں پر لازم ہے کہ توبہ کریں اور اس کی حمایت سے باز آئیں اور مسلمانوں پر واجب ہے کہ اسے امامت سے معزول کریں اور کسی صالح امامت کو امام بنائیں اور حدیث مجتہد کے لئے ہے جسے کسی امر میں دلائل متعارض معلوم ہوں وہ اسے ترک کرے گا اور دوسرے مجتہد کی تقلید اس پر نہیں یا اہل ورع کے لئے ان خاص امور دقیقہ میں ہے جن پر ظاہر شریعت مطہرہ سے فتوٰی جواز ہوگا اور متورع محتاط کا قلب اس پر مطمئن نہ ہوگا وہ اس سے بچے گا نہ اس لئے کہ فتوٰی معتبر نہیں بلکہ اس لئے کہ ایسی جگہ مقام تقوٰی فتوٰی سے اعلیٰ ہے۔ ایک بی بی سید نا امام احمد کے پاس حا ضر ہوئیں رضی اﷲ تعالیٰ عنہ، اور مسئلہ پوچھا بادشاہ کی سواری نکلتی ہے کیا میں اس کی روشنی میں سوئی میں ڈورا ڈال سکتی ہوں ۔ امام نے ان کی طرف نظر اٹھا ئی اور فرمایا آپ کون ہیں؟ کہا میں بشر حافی کی بہن ہوں رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ۔ فرمایا ایسا ورع تمھارے گھر سے نکلا ہے
وباﷲ التوفیق واﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۰۴: از چوپرا ڈاک خانہ بائسی مرسلہ محمد کلیم الدین صاحب ۱۴ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بروز جمعہ بعد نماز فجر قبل فرض جمعہ کوئی نماز پیش مصلّٰی پر خواہ اشراق ہو یا قبل الجمعہ غرہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ بعض علماء فرماتے ہیں منع ہے بعض فرماتے ہیں جائز ہے۔ بینو اتوجروا
الجواب: وہ مصلّٰی اگر واقف نے صرف امامت کے لئے وقف کیا ہے تو امام وغیر امام کوئی اسے دوسرے کام میں نہیں لاسکتا اگرچہ صراحۃً یاوہاں کے عرف کے سبب دلالۃً ممانعت ہو اور اگر صرف امام کے لئے بطور مذکور وقف ہواہے تو امام اس پر نوافل بھی پڑھ سکتا ہے دوسرا کچھ نہیں اور اگر عام طور پر وقف ہوا یعنی صراحۃ تخصیص ہے نہ دلالۃً تو غیر وقت امامت میں ہر شخص اس کو فرائض و نوافل سب کے کام میں لاسکتا ہے بلکہ درس وتدریس کے بھی ،
کما فی القنیۃ۔
 ( جیسا کہ قنیۃ میں ہے ۔ت)
واﷲ سبحنہ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۰۵: از حسن پور ضلع مرادآباد مرسلہ طفیل احمد صاحب قادری برکاتی رضوی سلمہ اﷲ القوی ۱۸ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

حضور مجھ کو معلوم ہواہے کہ دیوبندی کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی تو حضور ہم نے جو بے خبری میں ان کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں ان کا کیا کیا جائے، اور حضور حسن پور سب مسجدوں میں وہی لوگ امام ہیں تو اب ہم کیا کریں اور اگر اپنی اپنی نماز پڑھ بھی لی تو نماز جمعہ کو کیا کیا جائے کیونکہ جہاں جہاں جمعہ ہوتا ہے وہی امام ہیں ، اور عیدیں بھی وہی پڑھاتے ہیں اور جنازہ کی بھی اور نماز تراویح بھی ۔ پھر یہ کہ جب ہم مریں گے تو ہمارئے جنازوں کی نماز بھی یہی پڑھائیں گے توحضور ہم بے نماز ہی دفن ہوں گے کیونکہ اگر انھوں نے پڑھائی بھی تو وہ نماز ہی کیا ہوئی۔ اور سنی بس ہم دو تین شخص ہیں ، اول حضور کوئی ایسی ترکیب ارشاد ہو کہ جو نمازیں ہم نے ان کے پیچھے پڑھی ہیں معاف ہوجائیں کیونکہ ہمارے ایمان ایسے کمزور ہیں کہ ہم سے پنج وقتہ نماز بھی ادا نہیں ہوتی تو حضور ان کی ادا کی کیا صورت ہے ، وہ تو معاف ہونی چاہیں ، کیونکہ بے خبری میں ایسی خطاہوئی ، اور یہ بھی ناممکن ہے کہ حسن پور چھوڑدیا جائے ۔ حضور اس پر کچھ توجہ فرمائی جائے اور کوئی سبیل نکال دی جائے ۔ اور فوراً جو مسئلہ دریافت کرنا ہو وہ کس سے دیافت کیا جائے کیونکہ وہاں جو عالم ہیں وہ وہی ہیں ، گو حسن پور میں میلاد شریف ، تیجہ ، دسواں، چالیسواں وغیرہ کثرت سے ہوتا ہے مگریہ خبر نہیں کہ ان کے پیچھے نماز بھی نہ پڑھی جائے۔
الجواب: دیوبندی عقیدے والوں کے پیچھے نماز باطل محض ہے ، ہوگی ہی نہیں ، فرض سر پر رہے گا اور ان کے پیچھے پڑھنے کا شدید عظیم گناہ ۔ علاوہ امام محقق علی الاطلاق فتح القدریر شرح ہدایہ میں ہمارے تینوں ائمہ مذہب امام اعظم و امام ابو یوسف وامام محمد رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے نقل فرماتے ہیں:
ان الصلوٰۃ خلف اھل الھواء لاتجوز ۱؎۔
اہل بدعت کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ (ت)
( ۱ ؎ فتح القدیر    باب الامامۃ    مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۳۰۴)
اس میں سب برابر ہیں نماز پنجگانہ ہو خواہ جمعہ یا عید یا جنازہ یا تراویح ، کوئی نماز ان کے پیچھے ہو ہی نہیں سکتی بلکہ اگر( ان کو قابل امامت یا مسلمان جاننا بھی درکنار ) ان کے کفر مین شک ہی کرے تو خود کافر ہے جبکہ ان کے خبیث اقوال پر مطلع ہو علمائے حرمین شریفین بالاتفاق فرماتے ہیں:
من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۲؎۔
جو شخص ان کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔(ت)
 (۲؎ درمختار         باب المرتد    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۳۵۶)

(حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین         مکتبہ نبویہ لاہور        ص ۳۱)
جب وہاں میلاد شریف اور سوم وغیرہ کرنے والے بکثرت ہیں تو ضرور وہ لوگ دیوبندی نہیں، انھیں علمائے کرام مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ کے فتوے (کہ دس برس سے چھپ کر تمام ملک میں شائع ہورہے ہیں) دکھائیے اور رسالہ'' تمہید ایمان '' پڑھ پڑھ کر سنائیے الحمد اﷲ مسلمان ایسے نہیں کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے کے پیچھے نماز جائز مانیں یا اسے مسلمان مانیں ان شاء اﷲ تعالیٰ اللہ عزوجل ضرور ہدایت واثر بخشے گا اور مسلمان ہوشیار ہو کر ان کے پیچھے نماز چھوڑدیں گے اور سنی عوام اپنے لئے پنجگانہ وجمعہ و عیدین و جنازہ سب کے لئے مقرر کریں گے اور اگر بالفرض کوئی نہ سنے تو دو آدمی مل کر سوائے جمعہ سب نماز وں پنجگانہ وعید و جنازہ وغیرہ میں جماعت کرسکتے ہیں ایک اور ایک مقتدی بس کافی ہے اور جمعہ کے لئے ایک شخص اہل کو امام مقرر کیجئے کہ وہی عیدین کی بھی امامت کرے اور جمعہ میں کم سے کم تین مقتدی ہوں جمعہ ہوجائے گا زیادہ نہ مل سکیں تو کچھ حرج نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ جمعہ و عیدین اعلان کے ساتھ ہوں ظاہر کردیا جائے کہ مسلمانوں کا جمعہ وعیدین فلاں جگہ ہوگی ، جسے اﷲ تعالیٰ ہدایت دے گا شریک ہوجائے گا ان کے پیچھے جو نمازیں بے خبری میں پڑھیں ان کا علاج ایک توتوبہ ہے، دوسرے یہ ضرور ہے کہ ان نمازوں کی قضا پڑھی جائے، اندازہ اتنا کرلیا جائے کہ کوئی نماز باقی نہ رہ جائے زیادہ ہوجائیں تو حرج نہیں ۔ اگر کوئی شخص دارالحرب خاص کفار کی بستی میں بسے جہاں مثلاً صرف ہندو ہوں اور وہ کہے کہ میں یہاں کی سکونت تو چھوڑ نہیں سکتا یہ بتاؤ فوری ضرورت کے مسئلے کس سے پوچھوں تو کیا اس سے کہہ دیا جائے گا کہ پنڈت سے پوچھ لیا کرو اناﷲ وانا الیہ راجعون۔واﷲ تعالیٰ اعلم
Flag Counter