تیسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ رتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایما رجلا ام قوما وھم کرھون لم تجز صلاتہ اذنہ ۲؎ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن طلحۃ ابن عبیدا ﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ۔
جو شخص بھی قوم کا امام بنے حالانکہ وہ اسے نا پسند کرتے ہوں تو اس کی نماز کانوں سے اوپر نہیں جاتی اسے طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے (ت)
(۲؎ المعجم الکبیر ، ما اسند طلحۃ بن عبیداﷲ حدیث ۲۱۰، مطبوعہ مکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ، ۱/۱۱۵)
چوتی حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لا یقبل اﷲ منھم صلاۃ ، والاتصعد الی السماء ولاتجاوز رؤسھم رجل امّ قوما وھم لہ کارھون ورجل صلی علی جنازۃ ولم یوئمر وامرأۃ دعاھا زوجھا من اللیل فابت علیہ۳؎ ۔ رواہ ابن خزیمۃ عن عطاء ابن دینار وبسند اخر عن انس بن مالک متصلا رضی اﷲ تتعالٰی عنہ۔
تین افراد کی نماز اﷲ تعالیٰ قبول نہیں فرماتانہ وہ آسمان کی طرف چڑھتی ہے اور نہ ان کے سروں سے بلند ہوتی ہے ایک وہ شخص جو قوم کا امام بنے حالانکہ وہ اسے پسند نہ کرتے ہوں ، دوسرا وہ شخص جو جنازہ پڑھائے حالانکہ اسے اجازت نہ دی گئی ہو۔ تیسری وہ خاتون جسے رات کو خاوند طلب کرے تو وہ انکار کردے اسے ابن خزیمہ نے عطاء بن دینار سے اور ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے متصلاً روایت کیا ہے۔ (ت)
(۳؎ صحیح ابن خزیمۃ باب الزجر عن امامۃ المرء الخ حدیث ۱۵۱۸ مطبوعہ المکتب الاسلامیہ بیروت ۳/۱۱)
پانچویں حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لاتجاوز صلاتھم اذانھم العبد الابق حتی یرجع وامرأۃ باتت وزوجہا علیھا ساخط وامام قوم وھم لہ کارھون ۱؎ رواہ الترمذی عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وقال حسن غریب۔
تین اشخاص کی نماز ان کے کانوں بلند نہیں ہوتی ایک بھگوڑے غلام کی حتیٰ کہ وہ لوٹ آئے ، دوسری وہ خاتون جورات اس حال میں بسر کرے کہ اس کا خاوند اس پر ناراض ہو تیسرا وہ شخص جو قوم کا امام بنا حلانکہ لوگ اسے ناپسند کرتے تھے ۔ اسے ترمذی نے حضرت ابو امامۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرکے کہا یہ حسن غریب ہے ۔ (ت)
(۱؎ جامع الترمذی باب ماجاء من ام قوماً وہم لہ کارھون مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/۴۷)
اگر کسی نے قوم کی امامت کرائی حالانکہ وہ قوم اسے ناپسند نہ کرتی تھی اگر خود اس میں خرابی کی وجہ سے کراہت ہو یا اس لئے کہ دوسرے لوگ اس سے امامت کے زیادہ اہل تھے تو اس صورت میں اس کا امام بننا مکروہ تحریمی ہوگا (ت)
(۲؎ ؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۸۳)
(۵) اس کے سبب تفریق جماعت کہ سوال میں ہے لوگوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترک کردیا جس کے سبب تفریق جماعت ہو اسے امام بنانا منع ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے اگر چہ وہ خود بے قصور ہو جیسے برص والا نہ کہ وہ خود فساد رکھتا ہے ، درمختار میں ہے: کذاتکرہ خلف ابرص شاع برصہ ۳؎ اھ اسی طرح اس صاحب برص کے پیچھے نماز مکروہ ہے جس کا برص پھیل گیا ہو اھ
ردالمحتار میں ہے اس کی علت کو نفرت قرار دیا ۔ اس لئے ابرص کے ساتھ الشیوع (یعنی پھیلنے) کی قید لگائی تاکہ معاملہ واضح ہوجائے اھ
(۴؎ ردالمحتار ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱/۴۱۶)
اقول: لیس محل الاستظھار بل العلۃ ھی ھی لا شک ثم الذی یظھر لی ان کراھۃ الصلاۃ خلفہ تنزیھیۃ کما ھوقضیۃ کلام الشامی اذیقول تحت قول الدرھذا وکذلک اعرج یقوم ببعض قدمہ فالا قتداء بغیرہ اولی تاتارخانیۃ وکذا اجذم برجندی ۱؎ اھ وان لم ارہ فی امامۃ البرجندی من شرحہ للنقایۃ لکن کراھۃ تقدیمہ اذا بلغ التنفیر الی ترک الناس الجماعۃ کما فی السوال ینبغی ان تکون کراھۃ تتحریم لما فیہ من النقض الصریح لمقصود الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من شرعیۃ الجماعۃ وایجا بھا وقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بشرو اولا تنفرواوالتنفیر المعلل بہ فی الھدایۃ کراھۃ تقدیم العبد والاعمی والاعرابی لا یبلغ عشرھذا بل ھونا درمحتمل وھذا غالب متحقق فاقترقا فھذا ما عندی والعلم بالحق عند ربی عزوجل ۔
میں کہتا ہوں یہ مقام ظاہر کرنے کا نہیں بلکہ علت یہی نفرت ہے اس میں کوئی شک نہیں ،پھر مجھ پر یہ بات واضح ہوئی کہ ا برص کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ہے جسے علامہ شامی کے کلام کا تقاضاہے کیونکہ وہ درمختار کے اسی قول کے تحت لکھتے ہیں اسی طرح وہ لنگڑا ہے جو اپنے پاؤں کے کچھ حصہ پر کھڑا ہوتا ہو اس کے غیر کی اقتداء بہتر واولیٰ ہے تاتار خانیہ اور اسی طرح ہاتھ کٹے کا معاملہ ہے برجندی اگر چہ میں نے برجندی مع شرح نقایہ برجندی کے باب الامامۃ میں یہ مسئلہ نہیں پایا لیکن جب اس کی تقدیم کی ناپسندیدگی اتنی بڑھ جائے کہ لوگ جماعت کو چھوڑنا شروع کردیں جیسا کہ سوال میں ہے تو ایسی صورت میں اسے کراہت تحریمی قرار دینا چاہئے کیونکہ اس میں تو شارع صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقصود کی صریح مخالفت ہے اور وہ مقصود جماعت کا مشروع اور واجب ہوتاہے حالانکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کاارشاد ہے: لوگوں میں محبت و بشارت پیداکرو نفرت نہ پھیلاؤ ۔ اور وہ نفرت جس کی بناء پر صاحب ہدایہ نے غلام ، نابینا اور اعرابی کی امامت کو مکروہ قرار دیا ہے وہ تو اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچتی بلکہ وہ نادر اور ایک احتمال ہے اور یہ غالب وثابت ہے پس ان دونوں میں فرق ثابت ہوگیا یہ میرے نزدیک ہے اورحق علم میرے رب کے ہاں ہے ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۱۶)
(۶) اس کا کہنا کہ بمبئی میں کوئی مکان یا گلی کوچہ ایسا نہ ہوگا جس میں شبانہ روز زنا نہ ہوتا ہو ، اگر وہ تعمیم و تصمیم کرتا تو بمبئی کے لاکھوں مسلمانوں مردوں ، مسلمان پارسا بیبیوں پر صریح تہمت ملعونہ زنا تھی جس کے سبب وہ لاکھوں قذف کا مرتکب ہوتا اور ایک ہی قذف گناہ کبیرہ ہے اور قذف کرنے والے پر لعنت آئی ہے تو وہ ایک سانس میں لاکھوں گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا اور لاکھوں لعنتوں کا استحقاق پاتا ہے مگر اس نے مکان اور کوچہ میں تردید سے تعمیم کوروکا اور'' نہ ہوگا'' کے لفظ سے جزم میں فرق ڈالا پھر بھی ا س قدر میں شک نہیں کہ اس نے وہاں کے عام مسلمانوں مردوں بیبیوں کی حرمت پر دھبا لگا یا اور اسے خاص مجلس وعظ میں کہ کر مسلمانوں کو ناحق بدنام کرنے اور ان میں اشاعت فاحشہ کا بوجھ اپنی گردن پر اٹھایا اور بکثرت مسلمانوں کو بلاوجہ شرعی ایذا دی ، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۱؎ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بسند حسن ۔
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ عزوجل کوایذا دی ۔ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے
ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشہ فی الذین امنوا لھم عذاب الیم فی الدنیا والاخرۃ ۲؎۔
جو یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانو ں میں بے حیائی کی بات کا چرچا پھیلے ان کےلئے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے۔
(۲؎ القرآن ۲۴ / ۱۹)
جب اس پر دونوں جہاں میں عذا ب شدید کی وعید ہے تو یہ بھی کبیرہ ہوا اورمرتکب کبیرہ فاسق ہے اور یہ فسق بالاعلان بر سر مجلس وعظ ہو ا تو اس وجہ سے وہ بھی فاسق معلن ہوا اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ۔
(۷) ظاہر ہے کہ وہ جاہل ہے اور باوصف جہل اس نے فتوے پر اقدام کیا اور ارشاد اقدس حدیث کو الٹا اور مفتیان شریعت مطہرہ کے فتووں کو بے اعتبار کہا ور عوام جہال کورد فتاوٰی شریعت پر دلیر کیا تو بلا شبہ وہ ضال ومضل ہوا خود گمراہ اور اوروں کو گمراہ کرے ۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتخذالناس رؤسا جھالا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا۳؎ رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم والترمذی و ابن ماجۃ عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما
لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے اور ان سے مسئلہ پوچھیں گے وہ بے علم فتوٰی دیں گے آپ بھی گمراہ ہوئے اوروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔ اس کو ائمہ کرام احمد بخاری ،مسلم ،ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔
(۳؎ صحیح البخاری باب الحرص علی الحدیث مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۰)
(صحیح مسلم باب رفع العلم وقبضہ الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۲/۳۴۰)
(جامع الترمذی باب ماجاء فی الاستیصاء بمن یطلب العلم مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲/۹۰)
اس صورت میں اس کی امامت درکنار اس کے پاس بیٹھنا منع ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم ۴؎۔رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ۔
ان سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں اسے مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔
( ۴؎ صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱/۱۰ )
ایسی حالتوں میں جو اس کی حمایت کریں اس کی امامت قائم رکھنا چاہیں مسلمانوں کے بدخواہ ہیں اور ان کی نمازوں کی خرابی بلکہ تباہی وبربادی چاہنے والے اور اﷲ کے خائن ۔