Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
143 - 185
زید اگر ایسا ہوکہ وہیں بیٹھے بیٹھے کھنکھارنے یا ملنے سے اسے اطمینان صحیح ہوجاتا ہو اوربعد استبراء صرف پانی سے استنجاء کرے جب تو یہ فرض ادا اور وضو صحیح ہوجاتا ہے اور اگر مثلاً ٹہلنا وغیرہ اسے درکار ہے بے اسے ادا کئے پانی سے دھولیتا ہے تو فرض کا تارک ہے اور اسی حالت میں وضو کرے تو وضو ناجائز اور اس کی نماز باطل امامت تو دوسری چیز ہے تو حالت زید مشکوک ہوئی بلکہ دریافت کرنے پر اس کا یہ نہ بتانا کہ مجھے جتنے خفیف استبراء کی حاجت ہے کر لیتا ہوں زیادہ کی ضرورت نہیں بلکہ اپنی معذوری کا عذر پیش کرنا اس کی حالت کو مشتبہ تر کر تا ہے اور وہ خود حدیث پڑھ چکا ہے کہ شبہ کی بات چھوڑو اگر چہ لوگ کچھ فتوٰی دیں تو اس نے خود مان لیا کہ مسلمانوں کو اس امامت سے احتراز کا حکم ہے اور اگر کوئی مفتی اس کی امامت پر فتوٰی بھی دے تو نہ مانا جائے

(۲) یہاں تک تو اس کی امامت صرف مشتبہ ٹھہری اور خود اس کی پڑھی ہوئی حدیث سے اس کے چھوڑنے کا حکم ہوا مگر اگلا بیان صراحۃً اس کی امامت کو باطل محض کررہا ہے اوروہ اپنے آپ کو ڈھیلا لینے سے معذور بتاتا ہے اور عادت کوئی عذر ڈھیلا لینے سے مانع نہیں مگر یہ کہ محل استنجاء پر زخم ہو یا دانے پکے یا پکنے پر ہیں جن میں ریم ہے ان کے سبب ڈھیلے کی رگڑ کی تاب نہیں زخم کی حالت تو ظاہر تھی کہ اس سے نہ وضو رہتا نہ کپڑے پاک ،دانوں میں احتمال تھا کہ شاید ابھی آب وریم نہ دیتے ہوں مگر اس کا کہنا کہ لنگوٹ بھی بوجہ عذر کے باندھتا ہوں مگر نماز کے وقت صرف کپڑے بدل لیتا ہوں صاف دلیل روشن ہے کہ وہ دانے آب وریم دیتے ہیں اور اتنا جس سے ہر وقت کپڑا نجس ہوتا ہے جب تو نماز کے وقت اسے کپڑے بدلنے کی ضرورت پڑتی ہے تو اب کھل گیا کہ وہ معذور شرعی ہے اور معذور کی امامت غیرمعزوروں کے لئے یقینا باطل محض ہے
کما نص علیہ فی الکتب کلھا
( جیساکہ تمام کتب میںاس پر تصریح موجود ہے ۔ت)
 (۳)اس شنا عت کبریٰ کے بعد باقی امور کی طرف توجہ کی زیادہ حاجت نہیں ورنہ اس میں اور بھی وجوہ ہیں جن پر شرع مطہر اسے امام بنانے سے منع فرماتی ہے مثلاً فاحشہ عورتوں سے خلا ملا مزاح تمسخر۔ اشباہ وغیر ہامیں ہے :
الخلوۃ بالا جنبیۃ ۱؎ حرام
 ( اجنبی عورت کے ساتھ خلوت ( یعنی تنہائی میں ملنا) حرام ہے ۔ت) تو یہ حرم کا مرتکب پھر اس پرمصر پھر اس میں مشتہر ہے توفاسق معلن ہے اور فاسق معلن کاامام بناناگناہ۔
فتاوی حجہ وغنیہ میں ہے
لوقدموا فاسقا یأثمون۲؎
 ( اگر لوگوں نے فاسق کو مقدم کیا تو وہ گنہ گار ہوں گے۔ت)
 (۱؎ الاشباہ ولانظائر        کتاب الحظرہ والاباحۃ        مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی     ۲/۱۱۱/۵۱۲)

(۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الامامۃ         مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور            ص ۵۱۳)
تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے:
لان فی تقد یمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا۳؎۔
کیونکہ امامت کے لئے اس کو مقدم کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعاً اس کی اہانت لازم ہے (ت)
 (۳؎ تبیین الحقائق        باب الامامۃ والحدث فی الصلوٰۃ     مطبوعہ المطبعۃ الکبریٰ الامیر یہ بولاق مصر        ۱/۱۳۴)
اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی
کما فی الغنیۃ وغیرھا واقرہ فی ردالمحتار
(غنیۃ وغیرہ میں اسی طرح ہے اور ردالمحتار میں اس کو ثابت رکھا ہے ۔ت) تو جتنی نماز اس کے پیچھے اس حالت میں پڑھیں ہوں سب مقتد یوں پر ان سب کا پھیرنا واجب اگر نہ پھیریں گے گنہگار رہیں گے اگر چہ دس برس کی نمازیں ہوں
کما حکم کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم ۱؎۔کما فی الدرمختار وغیرہ
 ( جیسا کہ کہ کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہر نماز کا حکم ہے ، درمختار میں ہے)
 (۱؎ درمختار        باب صفۃ الصلٰوۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۷۱)
 (۴) مقتدیوں کا اس کے عیوب کے باعث اس کی امامت سے ناراض ہونا ایسے کی نماز اس کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی یعنی آسمانوں پر جانا اور بارگاہ عزت میں حاضر ہونا توبڑی بات ہے وہیں کی وہیں پرانے چیتھڑے کی طرح لپیٹ کر اس کے منہ پر ماردی جاتی ہے اور اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔رسول اﷲ صلیٰ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لاترفع صلاتھم فوق رؤسھم شبرا رجل ام قوما وھم لہ کارھون وامراۃ باتت وزوجھا علیھا ساخط واخوان متصارمان۲؎ رواہ ابن ماجۃ وابن حبان عن ابن عباس رضی اﷲ عنھا بسند حسن۔
تین آدمیوں کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت برابر اوپر نہیں اٹھائی جاتی ، ایک(۱) وہ شخص جو قوم کا امام بنے مگر لوگ اسے پسند نہ کرتے ہوں ۔ ایک (۲) وہ وعورت جو اس حال میں رات بسر کرے کہ اس کا خاوند اس پر ناراض ہو۔ اور (۳) دو بھائی جو آپس میں جھگڑا کرنے والے ہوں اس کو ابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (ت)
 (۲؎ سنن ابن ماجہ        باب من ام قوماً وہم لہ کارھون          مطبوعہ ۤافتاب عالم پریس لاہور    ص ـ ۶۹)
دوسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لا یقبل اﷲ منھم صلاۃ من تقدم قوما وھم لہ کارھون ، ورجل اتی الصلوٰۃ دبارا والد بار ان یاتیھا بعد ان تفوتہ ورجل اعتبد محررا۔۱؎ رواہ ابوداؤ و ابن ماجۃ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما۔
تین اشخاص کی نماز اﷲ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا ایک وہ شخص جو قوم کا امام بنا حالانکہ لوگ اسے پسند نہ کرتے ہوں ۔ دوسرا وہ شخص جو نماز کی طرف ( جماعت کے) فوت ہونے کے بعد یا نماز کا وقت فوت ہونے کے بعد آئے تیسرا وہ شخص جو آزاد کو غلام بنائے۔ اسے ابو داؤد اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے ۔ (ت)
 (۱؎ سنن ابو داؤد        باب الرجل یوم وہم لہ کارھون        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/۸۸)

(سنن ابن ماجہ        باب من ام قوماً وہم لہ کارھون          مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ص ۶۹)
Flag Counter