اس پر لحاظ و کار روائی جائز نہیں بلکہ وجہ صحیح شرعی سے ثابت ومعروف ہو تو فاسق معلن ہیں ان کو امام بنانا گنا ہ ، ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنا گناہ اور پھیرنا واجب ، اور اگر ثبو ت شرعی واقرا ر معروف نہ ہو مگر لوگوں میں افواہ اڑگئی ہو جن کے سبب ان سے نفرت اور ان کی امامت میں جماعت کی قلت ہو تو اس حالت میں ان کی امامت مکروہ تنزیہی ہے،
وان لم یثبت الذنب بل لولم یکن لان المناط النفرۃ کمن شاع برصہ و العیاذ باﷲ تعالٰی ۔
اگر چہ گناہ ثابت نہ ہو بلکہ ہو ہی نہ کیونکہ بنیاد تو نفرت ہے اس شخص کی طرح جس کا برص پھیل گیا ہو ، والعیاذ باﷲ تعالیٰ ۔(ت)
پدرو برادر اگر اس کے روکنے پر قادر ہیں اور نہیں روکتے یا اس فعل پر راضی ہیں وہ بھی فاسق ہیں:
قال اﷲ تعالیٰ
یا ایھاالذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا۱؎ وقودھاا لناس والحجارۃ۲؎ وقال تعالیٰ کانوا لایتنا ھون عن منکر فعلوہ۳؎
اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے : اے اہل ایمان اپنے آپ کو اور پنے اہل کو اس اگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ اور اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے : وہ اس برے کام سے منع نہیں کرتے تھے جو برا کام لوگ کرتے تھے (ت)
(۱؎ القرآن ۶۶/۶)
(۲؎ القرآن ۲/۲۴)
(۳؎ القرآن ۵/۷۹)
ان کی یہ حالت اگر معروف ہو تو ان کا بھی وہی حکم ہے کہ نہیں امام بنانا گناہ اور ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی۔
فتاوٰی حجہ و غنیـہ میں ہے:
لو قد موا فاسقا یاثمون۴؎
( اگر انھوں نے فاسق کو مقدم کردیا تو وہ گنہگار ہوں گے ۔ت)
(۴؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳)
اور اگر اس حرام کمائی سے ان کا فائدہ لینا اسی طرح بہ ثبوت شرعی ثابت ہو نہ فقط اتنا کہ کہا جاتاہے یہ کوئی چیز نہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بئس مطیۃ الرجل زعموا۵؎۔ رواہ حمد و ابوداؤ عن حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ
شک اور تخمینہ کی بنیاد پر خبر دینا قبیح ہے۔
اس کو امام احمد اور ابوداؤد نے حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے بیان کیا ہے۔
(۵؎ مسنداحمد بن حنبل ماروی عن حذیفۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵/۴۰۱)
(سنن ابوداؤد باب فی الرجل یقول زعموا مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۲۳ )
تو حرام خور بھی ہیں اوراول سے سخت تر ، دور کرنے کے سزاوار ، اور اگر بقدر قدرت منع کرتے ہوں اور وہ بازنہیں آتا اور یہ اس ملعون کمائی سے فائدہ نہیں لیتے تو ان پر الزام نہیں:
قال ﷲ تعالٰی
لا تزر وازرۃ وزراخری ۱؎۔
اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی (ت)
(۱؎ القرآن ۶/۱۶۴)
لیکن افواہ عام کی بنا پر نفرت وتقلیل جماعت ہو تو ان کی امامت مکروہ تنزیہی ہے اور نامناسب ہوگی اگر چہ پہلی صورت کی طرح مکروہ تحریمی اور گنا نہیں ، یہاں بحمد اﷲ تعالیٰ فتوٰی پر کوئی فیس نہیں لی جاتی بفضلہ تعالیٰ بفضلہ تعالیٰ تمام ہندستان ودیگر ممالک مثل چین و افریقہ و امریکہ وخود عرب شریف وعراق سے ا ستفتا آتے ہیں اور ایک وقت میں چار چار سوفتوے جمع ہوجاتے ہیں بحمد اﷲ تعالیٰ حضرت جد امجد قدس سرہ العزیز کے وقت سے اس ۱۳۳۷ھ تک اس دروازے سے فتوے جاری ہوئے اکانوے (۹۱)برس اور خود اس فقیر غفرلہ کے قلم سے فتوے نکلتے ہوئے اکاون(۵۱) برس ہونے آئے یعنی اس صفر کی ۱۴ تاریخ کو پچاس(۵۰) برس چھ (۶)مہینے گزرے، اس نو۹ کم سو۱۰۰ برس میں کتنے ہزار فتوے لکھے گئے ، بارہ مجلد تو صرف اس فقیر کے فتاوے کے ہیں بحمد اﷲ یہا ں کبھی ایک پیسہ نہ لیا گیا نہ لیا جائے گا بعونہٖ تعالیٰ ولہ الحمد معلوم نہیں کون لوگ ایسے پست فطرت و دنیٰ ہمت ہیں جنھوں نے یہ صیغہ کسب کا اختیار کر رکھا ہے جس کے باعث دور دور کے ناواقف مسلمان کئی بار پوچھ چکے ہیں کہ فیس کیا ہوگی؟ مااسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین ۲؎ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا میرا اجر تو سارے جہاں کے پرور دگار پر ہے اگر وہ چاہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
(۲؎ القرآن ۲۶/۲۷ا)
مسئلہ ۷۰۳: از بمبئی محلا قصابان پوست ۳۰ مرسلہ عبدالرزاق ۱۷ شعبان ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید چند ماہ تک پہلے ایک مسجد میں امامت کرتا رہا اور وہاں پر زید کی کئی حرکتیں معلوم ہوئیں کہ پیشاب کرکے ڈھیلا نہ لینا بلکہ پیشاب و پاخانہ کرکے اسی وقت اسی جگہ پانی سے استنجاء کرکے اور لنگوٹ باند کر نماز پڑھنا اور بازاری عورتوں کے ساتھ خلاملا مزاح و تمسخر کرنا، ان باتوں کا چرچا اہل جماعت میں ہونے کو تھا کہ زید دوسری مسجد میں منتقل ہوگیا وہاں بھی اس کی وہی حرکتیں بدستور قائم رہیں ، جب لوگوں نے اس کو لنگوٹ باندھنے اور ڈھیلا نہ لینے کی نسبت پوچھاتو کہا میں معذور ہوں ڈھیلا نہیں لے سکتا اور لنگوٹ میں بوجہ عذر کے باندھتا ہوں مگر نماز کے وقت صرف کپڑے بدل لیتا ہوں ۔ اور خلا ملا عورتوںسے بدستور سے، لوگ اس کی ایسی حرکتوں سے سخت بے زار ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے بھی سخت ناراض ہیں، بلکہ لوگوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترک کردیا چند لوگ اپنی نفسانیت سے اس مکار کی حمایت پراڑے ہیں باوجود اس کے معذور ہونے اور یہ حرکتیں معلوم ہونے کے بھی اس کو علیحدہ اس منصب سے نہیں کرنا چاہتے اب زید نے اپنی سفاکی اور بے دینی کی وجہ ان کو یہ سبق پڑھا رکھا ہے کہ حدیث میں ہے:
دع مایریبک الی مایریبک وان افتاک المفتون ۱؎۔
کہ تجھے کسی چیز میں شک یا شبہ آجائے تو اس کو چھوڑ دے اگر چہ مفتی لوگ فتوٰی دیں
(۱؎ المعجم الکبیر مااسند واثلۃ بن اسقع مطبوعہ المکتبہ الفصلیہ بیروت ۲۲/۷۸)
(مجمع الزوائد باب التورع عن الشہادت مطبوعہ دالاتاب بیروت ۱۰/ ۲۹۴)
تو تو اس کو نہ مان غرض اس کی اس بیان سے یہ ہے کہ میری نسبت اگر کوئی شخص فتوٰی طلب کرے تو اس فتوے کو قبول مت کرو اور چھوڑ دو اور اثنائے بیان میں یہ افتراء اہل اسلام پر مجلس وعظ میں کیا کہ بمبئی میں کوئی مکان یا کوئی گلی کوچہ ایسا نہ ہوگا کہ جس میں شبانہ روززنانہ ہوتا ہو۔ اب بتلائے کہ جس شخص کی ایسی حالت ہو کہ ڈھیلا نہ لیتا ہو معذور ہو نجس کپڑوں سے نماز پڑھاتا ہو، دروغ گو ہو، مفتری ہو اور مسلمانوں کو ٹھگنے والا فریبی ہو ذکر خیر سے مانع ہو، ایسے کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہیے ؟ اور جو اس کی حمایت کرے اس کا کیا حکم ہے اور ایسے کو اس منصب سے خارج کرنا چاہیے یانہیں ؟ اور اس حدیث دع ما یریبک الخ کا کیا مطب ہے ؟ جو ایسے مسئلے سے اپنی گھڑت لگا کر لوگوں کو گمراہ کرے اس کا کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا
الجواب
ہاں چند امور قابل لحاظ :
(۱) مرد کو پیشاب کے بعد استبراء کہ اثر بول منقطع ہوجانے پر اطمینان قلب حاصل ہوجائے فرض ہے یعنی عملی کہ واجب کی قسم اعلیٰ ہے جس کے بغیر عمل صحیح نہیں ہوتا ولہٰذا بعض نے فرض بعض نے واجب بعض نے لازم فرمایا کہ فرض و واجب دونوں کو شامل ہے، پھر اس میں طبائع مختلف ہیں، بعض کو وہ نم کہ سوراخ ذکر پربعدبول زائل ہوتے ہی اطمینان ہوجاتا ہے کہ اب کچھ نہ آئےگا ،بعض کو صرف دوتین بار کھنکھار نا کافی ہوتا ہے بعض کو ذکر کا دو یا ایک بار اوپر سے نیچے کو مل دینا اور بعض کو ٹہلنے کی حاجت ہوتی ہے دس قدم سے چار سو قدم تک بعض کو بائیں کروٹ پر لیٹنا ،بعض کو ران پر ران رکھ کر ذکر کو دبانہ ، غرض مختلف طریقے ہیں اور ہر شخص اور اس کی طبیعت ( مختلف ہوتی ہے)
درمختار میں ہے:
یجب الاستبراء بمشی او تنحنح او نوم علی شقہ الایسر ویختلف بطبائع الناس۲؎۔
بول کا اثر ختم کرنا لازم ہے خواہ پیدل چلنے ، خواہ کھنکھار نے یا بائیں جانب لیٹنے سے ہو اور لوگوں کی مختلف طبائع کی وجہ سے حکم مختلف ہو تا ہے ( یعنی کسی کو جلد پاکیزگی حاصل ہوتی ہے کسی کو دیر سے ) ۔(ت)
فی الغزنویۃالمرأۃ اکالرجل الا فی الاستبراء فانہ لا استبراء علیھا بل کما فرغت تصبر ساعۃ لطیفۃ ثم تستنجی ومثلہ فی الامداد وعبر بالوجوب تبعا للدرر وغیرھا وبعضھم عبر بانہ فرض وبعضھم بلفظ ینبغی وعلیہ فھو مندوب کما صرح بہ بعض الشا فعیۃ ومحلہ اذا امن خروج شیئ بعدہ فیند ب ذلک مبالغۃ فی الا ستبراء اوالمراد الا ستبراء بخصوص ھذہ الاشیاء من نحوالمشی والتنحنح اما نفس الا ستبراء حتی یطمئن قلبہ بزوال الرشح فھوفرض ، وھو المراد بالوجوب ولذا قال الشرنبلا لی یلزم الرجل الاستبراء حتی یزول اثرالبول ویطمئن قلبہ وقال عبرت باللزوم لکونہ اقوی من الواجب لان ھذا یفوت الجواز لفوتہ فلا یصح لہ الشروع فی الوضو، حتی یطمئن بزوال الرشح۱؎ اھ
غزنویہ میں ہے عورت مرد کی طرح ہے البتہ عورت پر استبراء لازم نہیں بلکہ جیسے ہی فارغ ہو تھوڑی دیر کے بعد استنجاء کرسکتی ہے۔ اس کی مثل امداد میں بھی ہے اس نے درر وغیرہ کی اتباع کرتے ہوئے لفظ وجوب سے تعبیر کیا ہے اور بعض لوگوں نے لفظ فرض بعض نے لفظ '' ینبغی'' اور'' علیہ'' سے تعبیر کیا ہے پس یہ مندوب ہے جیسا کہ بعض شوافع نے تصریح کی ہے اس کا محل یہ ہے کہ جب اس کے بعد کسی شئی کے خروج کا خوف نہ ہو تو یہ استبراء میں مبالغہ کے لئے مندوب ہے ، یا استبراء سے مراد یہ مخصوص اشیاء ہیں مثلاً چلنا اور کھنکارنا ، رہا نفس استبراء یہاں تک کہ قطروں کے زائل ہونے کے ساتھ دل مطمئن ہوجائے تووہ فرض ہے اور وجوب سے بھی یہی مراد ہے اس لئے شرنبلالی نے کہا آدمی پر استبراء لازم ہے یہاں تک کہ بول کا اثرزائل ہو جائے اور دل مطمئن ہوجائے اور کہا کہ میں نے اسے لفظ ''لزوم'' کے ساتھ اس لئے تعبیر کیا کہ یہ واجب سے اقوٰی ہے کیونکہ اس کے فوت ہونے سے جواز فوت ہوجاتا ہے پس نمازی کے لئے وضو میں شروع ہونا اس وقت تک درست نہیں جب تک کہ پیشاب کی چھینٹو ں کے زائل ہونے سے دل مطمئن نہ ہوجائے(ت)
(۱؎ ردالمحتار فصل الاستنجاء مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۲۵۳)