مسئلہ ۶۹۸: از صدر بازار اسٹیشن و ڈاکخانہ رانی گنج ضلع بردوان مرسلہ مظفر حسین ۲۳ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ(آپ کا کیا ارشاد ہے اﷲ آپ پر رحم کرے ۔ ت) کی فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ایک مسجد میں مؤذن وا مام یعنی دونوں کام پر امور ہے اور زید مذکور اپنی والدہ کو زدوکوب کرتاہے اس کو چند آدمیوں نے بطور پند کے کہا کہ تم ا پنی والدہ کو کس طرح مارتے ہو تو تمھاری نماز وظیفہ کرنا تمھارا اﷲ تعالیٰ کے روبرو کیا کام دیں گے؟ درجواب اس کے زید مذکور نے کہا کہ جس طرح سٖے اور لوگ غیر عورت سے زنا کرتے ہیں و شراب پیتے ہیں اسی طور سے ہمارا مسجد میں بیٹھ کے وظیفہ و نماز کرنا ہے، تو زید مذکور نے نماز وظیفہ کو تشبیہ دیا ساتھ افعال قبیحہ کے ، تو اس صورت میں زید کا مسجد اذان کہنا ونماز اس کے عقب پڑھنا عند الشرع جائز ہے یا نہیں بغیر توبہ کئے ہوئے ۔ اور یہ کس درجہ میں شمار ہوگا ، آیا گنا کبیرہ میں یا کہ درجہ کفر میں، درصورت اگر چہ یہ گناہ داخل ہو درجہ کفر میں ، تو یہ زید کی زوجہ اس کے عقد سے خارج ہوجائے گی یا نہیں؟ اور زید مذکور کو بعد تائب ہونے کے زوجہ سے ازسر نو ضرورت درستگی عقد کی پڑے گی یا نہیں؟ جواب بحوالہ کتب معتبر ارشاد ہو ۔ بینوا توجروا
الجواب صورت مستفسرہ میں وہ شخص سخت فاسق وفاجر مرتکب کبائر مستحق عذاب نارو غضب جبار ہے۔ ماں کو ایذا دینا سخت کبیرہ ہے نہ کہ مارنہ جس سے مسلمان تو مسلمان کافر بھی پرہیز کرے گا اور گھن کھائے گا۔ حدیث میں ارشاد ہوا:
ثلثہ لاید خلون الجنۃ وعد منھم العاق لوایدیہ۱؎۔
تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ان میں سے ایک وہ جو اپنے ماں باپ کو ستائے ۔(ت)
(۱؎ المعجم الکبیر حدیث ۱۳۱۸۰ مااسندسالم عن ابن عمیر مطبوعہ المکتبہ الفیصیلۃ بیروت ۱۲/۳۰۲)
ایسا شخص قابل امامت نہیں ہوسکتا۔ فتاوٰی حجہ وغنیـہ میں ہے:
لوقد موافاسقا یا ثمون ۲؎
( اگر فاسق کو لوگوں نے امام بنایا تو وہ گناہگار ہوں گے ت)
(۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الا مامۃ ، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳)
تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے:
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا۳؎۔
کیونکہ امامت کے لئے اس کو مقدم کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعاً اس کی اہانت لازم ہے (ت)
(۳؎ تبیین الحقائق شرح کنزا لدقائق باب الامامۃ والحدث فی الصلوٰۃ مطبوعہ المطبعۃ الکبریٰ الامیر یہ بولاق مصر ۱/۱۳۴)
اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا گناہ اور پڑھی تو پھیرنی واجب ، جب وہ ایسا بیباک ہے کہ ماں کو مارتا ہے تواس سے کیا تعجب کہ بے وضو نماز پڑھائے یا نہانے کی ضرورت ہوجاڑے کے سبب بے غسل پڑھادے اور وہ جو اس نے پند کے جواب میں کہا سخت بیہودہ بے معنی مگر اس سے تکفیر نہیں ہوسکتی اس میں تاویل ممکن ہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۶۹۹: مسئولہ سید اشرف علی صاحب ۱۴ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حنفی شافعی کے پیچھے نماز پڑھے تو جائز ہے یانہیں ؟ اور اگر شافعی نماز پڑھا رہا ہے اورحنفی آیا تو اس جماعت میں شریک ہو یا نہیں؟ فقط
الجواب: اگر شافعی طہارت ونماز میں فرائض وارکان مذہب حنفی کی رعایت کرتا ہے اس کے پیچھے نماز بلا کراہت جائز ہے اگرچہ حنفی کے پیچھے افضل اور اگر حال رعایت معلوم نہ ہو تو قدرے کراہت کے ساتھ جائز ، اور اگر عادت عدم رعایت معلوم ہو تو کراہت شدید ہے اور اگر معلوم ہو کہ خاص اس نماز میں رعایت نہ کی تو حنفی کو اس کی اقتداجائز نہیں اس کے پیچھے نماز نہ ہوگی ، صورت اول و دوم میں شریک ہوجائے اور صورت سوم میں شریک نہ ہو اور چہارم میں تو نماز ہی باطل ہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۰۰: مرسلہ مفخر حسین صاحب ازبدایوں محلہ سرائے چودھری ۱۶ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۱ھ
جناب مخدوم مکرم بندہ مولوی صاحب دام ظلکم بعد سلام سنت الاسلام کے عرض خدمت بابرکت میں ہے کہ ایک مسئلہ دریافت کرنے کی ضرورت پڑی وہ یہ ہے کہ جس شخص کے والدین اس شخص سے کہیں کہ میرے جنازہ پر بھی ہرگز ہرگز نہ آئے اس شخص کو امام کرنا چاہئے یا نہیں؟ اور مقتدی اس شخص کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہیں؟ زیادہ حدِ اداب ۔فقط
الجواب: والدین اگر بلاوجہ شرعی ناراض ہوں اور یہ ان کی استر ضأ میں حدِ مقدور تک کمی نہیں کرتا تو اس پر الزام نہیں اور اس کے پیچھے نماز میں کوئی حرج نہیں اور اگر یہ ان کو ایذا دیتا ہے اس وجہ سے ناراض ہیں تو عاق ہے اور عاق سخت مرتکب کبیرہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور امام بنانا گناہ اور اگر ناراضی توان کی بلاوجہ شرعی تھی مگر اس نے اس کی پروانہ کی وہ کھنچے تو یہ بھی کھنچ گیا جب بھی مخالف حکم خدا و رسول ہے اسے حکم یہ نہیں دیا گیا کہ ان کے ساتھ برابری کا برتاؤ کرے بلکہ یہ حکم فرمایا ہے:
واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ ۱؎
( بچھادے ماں اور باپ کے لئے ذلت و فرو تنی کا بازورحمت سے)
(۱؎ القرآن ۱۷/۲۴)
اس کے خلاف واصرار سے بھی فاسق ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۰۱: از بریلی مدرسہ منظر اسلام مسئولہ جناب استاذی مولوی رحم اﷲ صاحب ۱۵ صفر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سے خالد ظاہراً وباطناً کدورت رکھتا ہے حتّی کہ زید جس وقت مسجد میں داخل ہو کر سلام علیک کہتا ہے خالد جواب سلام بھی نہیں دیتا اور خالد ہی امامت کرتا ہے، ایسی حالت میں زید کی نماز خالد کے پیچھے ہوگی یا نہیں اور زید جماعت ترک کرکے قبل یا بعد جماعت علیحدہ نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں جبکہ خالد دل میں کدورت رکھتا ہے ، اس کے واسطے کیا حکم ہوتا ہے ؟ بینوا توجروا
الجوا ب: محض دنیوی کدورت کے سبب اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں اور اس کے واسطے جماعت ترک کرنا حرام ، خالد کی زید سے کدورت اور ترک سلام اگر کسی دنیوی سبب سے ہے تو تین دن سے زائد حرم ، اور کسی دینی سبب سے ہے اور قصور خالد کا ہے تو سخت تر حرام ، اور قصور زید کا ہے تو خالد کے ذمے الزام نہیں زید خود مجرم ہے واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۷۰۲ : از قصبہ لبی یررہ اسٹیشن سربند گورنمنٹ پٹیالہ مسئولہشیخ شیر محمد صاحب ۱۶ صفر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر کی نسبت یہ مشتہر کیا گیا ہے کہ ہر دو باہم فاعل ومفعول تھے یعنی اغلام کرتے تھے زید مفعول کے دیگر رشتہ داران مثل پدر و برادر قصبہ ہذا میں امامت کرتے میں زید کے افعال قبیحہ کی خبر اس کے پدر و برادر اور دیگر رشتہ داران کو بھی تھی جس کی اطلاع ان کو بذریعہ تحریرات کے دی گئی مگر بانیہمہ انھوں نے کبھی زید کو اس فعل ناجائز سے نہیں روکا اور نہ کسی قسم کی زجر و توبیح کی بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ زید کی ناجائز آمدنی سے وہ خود بھی فائدہ اٹھاتے تھے فاعل ومفعول کو ہنگام اختلاط کسی شخص نے بچشم خود نہیں دیکھا مگر واقعات اس امر کو پایہ ثبوت پر پہنچارہے ہیں مثلاً برا در بکر کا تمام شب دونوں کو ایک جا دیکھنا اور بکر کی گوشمالی کرنا اور تحریرات کا عام لوگوں میں بذریعہ ڈاک روانہ کیا جانا اور زید کا عام لوگوں میں اپنی مفعولیت کا اقرار کرنا اور رہا یہاں پولیس کے روبرو زید کا اقبال بیان تحریر کرانا اور اس کے برادر کا تائید کرنا زید کا معمولی حیثیت کا آدمی ہونا مگر زیب وزینت اس درجہ رکھنا اوراس کے پدر وبرادرکا اس طرف توجہ نہ کرنا ،پس دریافت طلب یہ امر ہے کہ جو شخص خلاف وضع وحرام فعل کریں یا کرائیں ان کی امامت شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور اگرمفعول کے پدر و برادر وغیرہ کو اس امر کی خبر ہو اور وہ چشم پوشی کرکے ان کو منع نہ کریں تو ان کی امامت کے متعلق شرعاً کیا حکم ہے ؟ امید کہ قول مفتی بہ بحوالہ کتب تحریر فر ماکر مشکور فرمائیں۔
الجواب: یہ سخت شدید گناہ کبیرہ ہے اور فاعل ومفعول بھی اگر بالغ وغیر مجبور ہوں فاسق ہیں ان کی یہ حالت اگر صحیح طور پر معروف مشہور ہو یا وہ خود اقرار کرتے ہوں جس طرح یہاں زید کا اقرار مذکور ہے نہ صرف قیاسات وسوسے ظن جن کا شرع میں اعتبار نہیں بلکہ ان وجوہ پر کبیرہ کی نسبت کرنے والے خود ہی مرتکب کبیرہ ہوتے ہیں اﷲ عزوجل فرماتے ہیں:
لولا اذسمعتموہ ظن المؤمنین و المؤ منات بانفسہم خیرا ۱؎۔
کیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سنا کہ مومن مردوں اور خواتین نے اپنوں پر نیک گمان کیا ہوتا ۔ (ت)
(۱؎ ا لقرآن ۲۴/۱۲)
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۲؎۔
بدگمانی سے بچا کر و کیونکہ بدگمائی سب سے بڑا جھوٹ ہے الحدیث (ت)
(۲؎ صحیح البخاری باب قول اﷲ عزوجل من بعد وصیۃ یوصی بہا اودین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۸۴)