Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
140 - 185
مسئلہ ۶۹۵: از میر ٹھ چھاؤنی ویلر کلب مرسلہ عمر بخش خانساماں ۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایک شخص عرصہ چند سال سے امام مسجد رہ کر ببا عث وجوہات ذیل کے معزول کردیا گیاہے:

( ۱)ا تہام زنا

(۲) اتہام سرقہ دریہائے مسجد وغیرہ اسباب مسجد جو متعلق مسجد اس کے ماتحت تھا۔

(۳) یعمل عمل قوم لوط ، جس کے مشاہدہ ومعائنہ کے چند اشخاص معتبران شاید ہیں وغیرہ وغیرہ ، اب وہ شخص بغیر اجازت بانی مبانی مسجد ومتولی مسجد چند اشخاص کے کہنے پر جو ساکنان غیر محلہ اس مسجد کے ہیں امام ہونا چاہتا 

ہے علاوہ اس کے جو بالفعل امام مسجد بانی ومتولی مسجد نے مقرر کیا ہوا ہے اعلم بالسنّتہ والحدیث ہو نے پر سوا جامع عالم جید ہے اور معزول شدہ کا مبلغ علم صرف کنز الدقائق ۔ ایسے شخص کا امام ہونا باوجود جمیع وجوہات بالا کے جائز ہے یا نہ فقط
الجواب اتہام اور بدگمانی تو شرعاً جائز نہیں:
قال اﷲ تعالیٰ
الذین امنو اجتنبوا کثیر من الظن ان بعض الظن اثم۱؎
اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے : اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔
 (۱؎ القرآن         ۴۹ /۱۲)
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ ولسم ایا کم والظن فان الظن اکذب الحدیث۔
رسالت مآب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: بد گمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہوتی ہے الحدیث (ت)
 (۲؎ صحیح البخاری        کتاب الوصایا    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۳۸۴)
مگرجس بات کے معاینہ کے گواہان ثقہ بتائے جاتے ہیں وہی ممانعت امامت کو بس ہیں بلکہ ایسے افعالہ شنیعہ سے متہم ہو چکا اور طبائع اس سے نفرت کرنے لگتیں اگر اگر ثبوت نہ بھی ہو تاہم اس کی امامت میں تقلیل جماعت ضرور ہے اور اسی قدر کراہت امامت کو بس ہے اگر چہ وہ واقع میں بے قصور ہو کما نصوا علیہ فی من شاع برصہ والعیاذباﷲ تعالیٰ کما فی الدر وغیرہ ( جیسے کہ فقہاء نے اس مسئلہ کی تصریح کی ہے اس شخص کے بارے میں جس کا برص پھیل گیا ہو والعیاذ باﷲ تعالیٰ۔ جیسا کہ درمختار میں ہے۔ت) بہر حال وہ علم متقی صحیح خوں کے مقابل کسی طرح مستحق امامت نہیں ہوسکتا خصوصاً جبکہ بانی مسجد واہل محلہ کو اس سے کراہت ہے فان امرا لامامۃ مفرض الی البانی ثم الی الجماعۃ ولا دخل فیہ للا جانب( کیونکہ امام کا مقرر کرنا بانی کا حق ہے پھر مقتدی حضرت کا امام مقرر کرنے میں اجنبی لوگوں کا کوئی حق نہیں ۔ت) تو غیر اہل محلہ کا اسے مقر کرنا اصلا معتبر نہیں ہوسکتا نہ حالت مذکور میں کہ قوم بروجہ شرعی اس سے کراہت رکھتی ہے خود اسے امام بننا نا جائز ۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لا ترفع صلاتھم فوق اذانھم شبرا وعدمنھم من ام قوما وھم لہ کارھون ۱؎۔
تین آدمیوں کی نماز ان کے کانوں سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی ( یعنی بارگاہ عزت میں رسائی تو بڑی چیز ہے) ان میں ایک شخص ہے جو کچھ لوگوں کی امامت کرے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں۔ (ت) واﷲ تعالیٰ اعلم
 (۱؎ سنن ابن ماجہ    باب من ام قوماً وہم لہ کارھون    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص ۶۹)
ف: جس کتاب سے حوالہ دیا ہے اس میں '' فوقھم اذنھم '' کی جگہ '' فوقھم رؤ سھم'' ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
مسئلہ ۶۹۶: از کانپور توپ خانہ بازار قدیم مسجد سہ منارہ ۲۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع مبین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص عالم ہے یعنی علم فقہ وحدیث بخوبی جانتے ہیں مگر عالم موصوف بائیں پیر سے مجبور ہیں جس کو لنگڑا کہتے ہیں زمین میں پَیر مذکورکا فقط انگشت لگاسکتے ہیں اور دہنا پیر درست ہے قیام ، رکوع ، سجود بخوبی کرسکتے ہیں، یہ عالم مذکور پانچ وقتی نماز کی امامت کرسکتے ہیں اگر چہ عالم دیگر مودجو ہو یا نہیں؟ باعبارت و دلائل کے تحریر فرمائیں کہ سامعین کو کسی قسم کا شبہ نہ رہے ۔ بنوا توجروا
الجواب: صورت مستفسرہ میں ایسے شخص کی امامت بلا شبہ جائز ہے پھر اگر وہی عالم ہے تو وہی زیادہ مستحق ہے اس کے ہوتے جاہل کی تقدیم ہر گز نہ چاہئے اور اگر دوسرا عالم بھی موجود ہے جب بھی اس کی امامت میں حرج نہیں مگربہتر وہ دوسرا ہے ، یہ سب اس صورت میں کہ دونوں شخص شرائط صحت وجواز امامت کے جامع ہوں صحیح خواں صحیح الطہارۃ سنی صحیح العقیدہ غیر فاسق معلن ورنہ جامع شرائط ہوگا وہی امام ہوگا ۔
درمختار میں ہے:
صح اقتداء قائم باحدب وان بلغ حد بہ الرکوع علی المعتمد وکذا باعرج وغیرہ اولٰی۲؎۔
مختار قول پر سیدھا کھڑے ہونے والے کی نماز کبڑے شخص کے پیچھے درست ہے اگر چہ اس کا کُبڑا پن رکوع کی حد تک ہو، اسی طرح لنگڑے کا حکم ہے، البتہ دوسرے آدمی کی امامت افضل و اولیٰ ہے ۔(ت)
 (۲؎ درمختار    باب الامامۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی            ۱/۷۵)
مسئلہ ۶۹۷: از تحصیل چونیا ں ضلع لاہورمسئولہانوار الحق صاحب ۲۱ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ

اس ملک پنجاب میں دین کی بہت سستی ہے خاصکر دیہات میں تو دین مذہب کا کچھ پتا ہی نہیں ، چنانچہ ہر ایک دیہات میں امام مسجد سوائے چند سورتوں کے یاد رکھنے کے اور کوئی علم نہیں رکھتا اور مقتدیوں کی غرض بھی یہی ہوتی ہے کہ امام مسجد ایسا ہو جو کہ ہماری میت کو غسل دے سکے یا نکاح پڑھ سکے یا دو تین سورتیں نماز پڑھانے کے واسطے یاد ہوں اور کوئی شوق نہیں، چنانچہ ایک گاؤں بنام تیرتھ میں ایک امام مسجد ایسی ہی صفتوں والا صبح کو گیا اور وہیں وفات پائی ، اسی مذکورہ گاؤں میں ایک دہرکہارہ جو کہ اپنے آپ کو حنفی کہتا تھا اور پھر بعد میں چند سال وہابی مذہب رہا بعد ازیں چند سال سے چکڑالوی مذہب ہے، اب مذکور امام مسجد فوتیدگی پر اس نے اس خیال سے کہ میں امام مسجد بن جاؤں مسجد کے متعلقہ گھروں کی آمدنی میرے کام آئے یہ ظاہر کیا کہ میں نے چکڑالوی مذہب سے توبہ کی مجھے امام مسجد مقرر کرو، چنانچہ اس کے ہم خیا ل چند دوستوں نے اس کو پگڑی پہنائی اور اس کو امام مسجد مقرر کردیا۔ اب چند مسلمان اس کے مخالف اٹھے جن کو اس کے چند مذہب بدلنے کا رنج تھا انھوں نے اس کو معزول کرنا چاہا ، اب چونکہ وہ کچھ علم رکھتا ہے اس نے کہا کہ میں نے توبہ خالص کر دی ہے اور اب میں حنفی مذہب پر آگیا ہوں اگر تم اب بھی معزول کرتے ہو تو مجھے شریعت کا حکم دکھاؤ میں کنارے ہو جاؤں گا ۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ کافر کی توبہ منظور ہے میری کیونکر نہ منظور ہوگی ، پکے مسلمانوں کاخیال ہے کہ اگر یہ امام مسجد مقرر رہا تو یہ دین میں رخنہ انداز ہوگا پھر کئی آدمی اس کے موافق ہوجائیں گے پھر ہم میں اتنی طاقت نہ ہوگی کہ ان کو سیدھا کریں اس خیا ل سے وہ چاہتے ہیں کہ اگر کوئی حکم ایسے مشکوک آدمی کے بارے میں ہو تو ہمیں فتوٰی دیا جائے کہ اس کو نکالا جائے اور اس کے فتنہ سے بے فکر ہوجائیں۔ فقط
الجواب: نماز اہم عبادت ہے اور اس کے لئے غایت احتیاط درکار ہے یہاں تک کہ ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ اگر نماز چند وجہ سے صحیح ٹھہرتی ہو اور ایک سے فاسد ، تو اسے فاسدہی قرار دیں گے ۔ امام ابن الہمام کی فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
لان الصلوٰۃ متی فسدت من وجہ وجازت من وجوہ حکم بفسادھا۱؎۔
کیونکہ جب ایک جہت سے نماز فاسد ہو اور کئی وجوہ کی بنا پر صحیح ہو تو نماز کے فاسد ہونے کا حکم دیا جاتا ہے ۔ (ت)
 (۱ ؎ فتح القدیر    باب صلوٰۃ المسافر    مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۲/۴۱)
جو شخص ایسا مضطرب الحال ہو کہ اتنے دنوں میں تین مذہب بدل چکا اس کی توبہ بایں معنی قبول کرنے میں کوئی غدر نہیں کو اگر تو نے دل سے توبہ کی ہے تو اﷲ قبول فرمانے والا ہے نیز اسی سنیت حنفیت کا اظہار کرتے ہوئے اگر وہ مرجائے گا ہم اس کے جنازہ کے ساتھ وہ طریقہ برتیں گے جو ایک سنی حنفی کے ساتھ کیا جاتا ہے لان انما نحکم بالظاھر واﷲ تعالٰی اعلم بالسرائر( کیونکہ ہم ظاہر پر حکم لگانے کے پابند ہےں، دلوں کا حال اﷲ ہی جانتا ہے ۔ت) مگر اس قبول توبہ سے یہ لازم نہیں کہ ہم ایسے مضطرب شخص ایسے مشکوک حالت والے کو اپنے ایسے ہم فرض دینی کا امام بھی بنالیں اگر واقع میں وہ سچے دل سے تائب ہوا ہے تو اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی اور اگر امامت لینے کے لئے توبہ ظاہر کرتا ہے تو وہ نماز باطل وفاسد ہوگی اور اس کی حالت شک ڈالنے والی اور نفع کی طمع اس کی تائید کرنے والی کسی طرح عقل سلیم و احتیاط کا مقتضا ہر گز نہیں کہ اسے امام کیا جائے وہ پیسہ کے معاملے میں گواہی کے لئے تو علمائے کرام یہ احتیاط فرماتے ہیں کہ فاسق اگر چہ توبہ کرلے اس کی گواہی مقبول نہ ہوگی جب تک ایک زمانہ اس پر نہ گزرے جس سے صدق توبہ وصلاح و تقوٰی کے آثار اس پر ظاہر ہوں کہ جب وہ فاسق ہے تو ممکن کہ اس وقت اپنی گوہی قبول کرادینے کے لئے توبہ کااظہار کرتا ہو فتاوٰی عالمگیری و فتاوٰی قاضی خاں میں ہے:
الفاسق اذاتاب لا تقبل شھا دتہ مالم یمض علیہ زمان یظھر علیہ اثر التوبۃ والصحیح ان ذلک مفوض الی راء القاضی ۱؎۔

فاسق اگر توبہ کرلے تو جب تک اتنا وقت نہ گزر جائے جس میں اس پر توبہ صدق کا اثر ظاہر ہو اس کی گواہی قبول نہ کی جائے، اور صحیح یہ ہے کہ یہ معاملہ قاضی کی رائے کے سپرد کیا جائے ۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        الفصل الثانی فیمن لاتقبل شہادۃ لفسقہ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/۴۶۸)
بلکہ جو جھوٹ کے ساتھ مشہور ہے اس کی نسبت تصریح فرماتے ہیں کہ اس کی گواہی کبھی مقبول نہ ہوگی اگر چہ سو بار توبہ کرے ۔
بدائع امام ملک العلماء ابو بکر مسعود کاسانی پھر فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
والمعروف بالکذب لا عدالۃ لہ فلا تقبل شہادتہ ابدا وان تاب بخلاف من وقع فی الکذب سھوا اوابتلی بہ مرۃ ثم تاب ۲؎۔
جو جھوٹ میں مشہور ہو وہ عادل نہیں ہوسکتا اس کی ہمیشہ گواہی قبول نہ ہوگی اگر چہ وہ تائب ہو جائے بخلاف اس شخص کے جس سے جھوٹ سہواً سرزد ہوا ہو یا وہ جھوٹ میں کسی ایک دفعہ مبتلا ہواہو پھر اس نے توبہ کرلی ہو ۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ        الفصل الثانی فیمن لاتقبل شہادۃ لفسقہ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/۴۶۸)
جب دو پیسے کے مال میں یہ احتیاطیں ہیں تو نماز کہ بعد ایمان اعظم ارکان دین ہے اس کے لئے کس درجہ احتیاط واجب شریعت مطہرہ ہر گز ایسے مشکوک شخص کو امام بنانا پسند نہیں فرماتی جو لوگ اس کی امامت میں کوشاں ہیں وہ اﷲ ورسول ومسلمانوں سب کے خائن ہوں گے ۔
حدیث میں ہے حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استعمل رجلا من عصابۃ وفیھم من ھو ارضی اﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤ منین ۱؎ ۔ رواہ الحاکم وصححہ وابن عدی والعقیلی والطبرا نی والخطیب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما
جو کسی جماعت پر ایک شخص کو مقرر کرے اوران میں وہ ہو جو اس شخص سے زیادہ اﷲ کو پسندیدہ ہے تو بےشک اس نے اﷲ ورسول اور مسلمانوں سب کے ساتھ خیانت کی ، اس کو حاکم نے روایت کرکے صحیح قرار دیا ۔ ابن عدی ،عقیلی، طبرانی اور خطیب نے اسے حضرت ابن عباس رضی اﷲ رتعالیٰ عنہ سے روایت کیاہے
 (۱؎ لمستدرک علی الصحیحین     الامارۃ امانۃ        مطبوعہ دارلفکر بیروت    ۴/۷۲)
ف: مستدرک میں ''فیھم''کی جگہ''فی تلک العصابۃ''کا لفظ ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
Flag Counter