مسئلہ ۶۸۷ : از ضلع بھنڈارہ محلہ کم تالاب مرسلہ حکیم ہدایت اﷲ خاں صاحب متولی مسجد ۶۷ صفر المظفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفیتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) ایک شخص حافظ قرآن ہے اور جبراً پیش امام بننا چاہتا ہے حالانکہ جماعت مسلمین اسکی مندرجہ ذیل باتوں سے ناخوش ہے اور اپنا پیش امام نہیں بنانا چاہتے ، حافظ صاحب پہلے گورنمنٹی ملازم تھے رشوت کھا کرسزا پائی مگر قسمت کے زور سے اپیل میں رہائی پائی۔
(۲) اس حافظ صاحب نے ایک سے آٹھ آنہ لے کر رسید لکھ دی تھی بعد میں دھوکا دے کر رسید جلادی کچہری میں انکار کیا کہ آٹھ آنہ نہیں لیا جس سے اس شخص کو بڑابھاری نقصان ہوا حالانکہ یہ بات سچ تھی کہ پیسے حافظ صاحب لے چکے تھے اور صاف انکار کردیااور اسی معاملہ میں پہلے بھی قسم قرآن شریف کی کھا چکے تھے۔
(۳) حافظ صاحب نے اپنے پیر و مرشد پر طعن وتشنیع کرتاہے کہ محلہ میں یا مدرسہ اسلامیہ میں جو خاص ان کے پیر ومرشد کا ایجاد کردہ ہے کہتے ہیں کہ ان کے باپ دادا کا میراث ہے کیا اور اپنے پیر کی بات پر فتوٰی بلواتا ہے حالانکہ پیر مرحوم نے ان کو اپنا خلیفہ زبانی مقرر کیا ہے نہ کہ تحریری ، بعد اس طعنہ تشنیع کے پیر مرحوم پر حافظ صاحب کی خلافت باقی ہے یا باطل ہوئی یا خلافت سے نکل گئے۔
(۴) حافظ صاحب نے چمڑا قربانی کا جو کہ صاحب نصاب ہیں مدرسہ اسلامیہ میں دینے کو کہا تھا دھوکا دے کر اپنے صرف میں لے آئے
(۵) اور سید کو زکوٰۃ کا پیسہ لینا درست ہے یا نہیں؟ اتنی باتیں ٖحافظ بنو علی صاحب میں موجود ہیں جس کو ہر فردبشر اس محلہ کا بخوبی جانتا ہے تو اس پر بھی وہ پیش امام بننا چاہتے ہیں جبراً اور فساد برپا کرتے ہیں کہ میں حافظ ہوں خلیفہ ہوں میرا حق زیادہ ہے پیش امام میں بنوں گا اور جماعت کثیرہ کی رائے نہیں ہے کہ اس کو اپنا پیش امام بنائے اس لئے جناب والا کی خدمت میں ناقابل یہ تحریر ارسال کرتا ہوں کہ تکلیف گوارا فرماکر اس کاجواب تفصیل وار ہر ایک سوال کا تحریر فرمائیں گے کہ ایسی زبردستی پیش امام جس سے مقتدی ناراض ہوں درست ہے یا نہیں ؟ زیادہ کیا عرض کروں زیادہ حد ادب۔
الجواب: جس سے مقتدی اس کے کسی عیب کی وجہ سے ناراض ہوں اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ حدیث میں ارشاد فرمایا:
ثلثۃ لا ترفع صلاتھم فوق اذانھم شبراوعد منھم من اما قوما وھم لہ کارھون ۱؎۔
تین شخصوں کی نماز ان کے کانوں سے بالشت بھر بھی اونچی نہیں ہوتی یعنی بارگاہ عزت تک رسائی تو بڑی چیز ہے ایک وہ جو کچھ لوگوں کی امامت کرے اور وہ لوگ اس ناراض ہوں یعنی اس میں کسی قصور شرعی کے سبب۔وغیرہ
(۱؎ سنن ابن ماجہ باب من امّ قوما وھم لہ کارھون مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۶۹)
ف؎:جس کتب سے حدیث کا حوالہ دیا ہے اس میں ''فوق اذانھم'' کی جگہ ''فوق روسھم '' ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
اونچی نہیں ہوتی یعنی بارگاہ عزت تک رسائی تو بڑی چیز ہے ایک وہ جو کچھ لوگوں کی امامت کرے اور وہ لوگ اس ناراض ہوں یعنی اس میں کسی قصور شرعی کے
والا فالو بال علیھم کما فی الدر المختا ر وغیرہ ۲؎
( ورنہ وبال ان لوگوں پر ہوگا جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے ۔ ت) اور ظاہر ہے کہ صورت مستفسرہ میں اس شخص میں معتدد قصور ہیں رشوت لینا اگر ثابت ہو تو وہ گناہ کبیرہ ہے ،
(۲؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۸۳)
حدیث میں فرمایا:
الراشی والمرتشی کلا ھما فی النار ۳؎۔
رشوت لینے والااور رشوت دینے والا دونوں دوزخی ہیں۔
(۳؎ کنز العمال الفصل الثالث فی الہدیۃ والرشوۃ مبطوعہ مؤ سسۃ الرسالۃ بیروت ۶/۱۱۳ )
ف: جس کتاب سے حوالہ دیا ہے اس میں '' کلاھما'' کا لفظ نہیں ہے ۔نذیر احمد سعیدی
پیسے لے کر مکر جانا اور اس پر قرآن عظیم کی جھوٹی قسم کھانہ اور رسید جلا کر مسلمان پر جھوٹا دعوٰی کرنا اور اسے نقصان پہنچانا یہ سب گناہ کبیرہ ہیں، ان وجوہ سے حافظ مذکور کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اور اسے امام بنا نا گناہ ، اور جبراً امام بننے میں خود اس کی نماز بھی تباہ جب تک وہ ان تمام افعال شنیعہ سے علانیہ توبہ نہ کرے ، قربانی کی کھال اگر دوسرے نے اسے مدرسہ میں دینے کو دی تھی اور اس نے دھوکا دے کر اپنے صرف میں کرلی تو یہ بھی دغا اور خیانت اور گناہ کبیرہ ہے ، اور اگر اپنی قربانی کی کھال مدر سہ میں دینے کو کہی تھی پھر نہ دی تو بیجا ہے مگر چنداں الزام نہیں جبکہ کسی عذر شرعی سے ایسا کیا ہو ورنہ اﷲ عزوجل سے وعدہ خلافی ہے ، چنانچہ نتیجہ بہت شدید ہے
قال اﷲ تعالٰی
فاعقبھم نفاقا فی قلو بھم الی یوم یلقونہ بما اخلفواﷲ ما وعدوہ وبما کانو ایکذبون۴؎
اﷲ تعالیٰ دا رشاد ہے: تو اس کے پیچھے اﷲ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انھوں نے اﷲ تعالیٰ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے (ت)
(۴؎ القرآن ۹/۷۷)
پیر پر طعنہ وتشنیع ارتداد طریقت ہے اس سے خلافت درکنار بیعت سے بھی خارج ہوجاتا ہے ۔ سید حاجت مند کو
زکوٰۃ دینے میں بعض نے اجازت لکھی ہے اور صحیح و معتمد ظاہر الروایہ
عدم جواز کما بیناہ فی الزھر الباسم
( جیسا کہ ہم نے اس کو الزہر الباسم میں بیان کیا ہے ۔ ت) واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۶۹۲ تا۶۹۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص گناہ کبیرہ میں مبتلا رہتا ہو اوروہ حسب ہدایت گناہ سے باز آکر اکمل الفضلاء دین واسلام کے رو برو توبہ کرے اور اس گناہ سے بفضلہ تعالیٰ نجات پائے تو کیا اس کا ایما ن کامل ہوا؟
(۲) اس کی امامت جائز ہے؟
(۳) جو لوگ بعد توبہ اس پر اعتراض کریں ان کے واسطے کیا حکم ہے؟ فقط
الجواب : اﷲ عزوجل توبہ قبول فرماتا ہے
ھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ۱؎
( وہ اﷲ تعالیٰ ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔ ت)
(۱ القرآن ۴۲/۲۵)
اور سچّی توبہ کے بعد گناہ بالکل باقی نہیں رہتے ۔ حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ ۲؎ ۔
گناہ سے توبہ کرنے والا بے گناہ کے مثل ہے۔
(۲؎ سنن ابن ماجہ باب ذکر التوبہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۲۳)
توبہ کے بعد اس کی امامت میں اصلاً حرج نہیں، بعد توبہ اس پر گناہ کا اعتراض جائز نہیں۔ حدیث میں ہے بنی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من عیر اخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ و فی روایۃ من ذنب قد تاب منہ ۳؎ ، بہ فسرا بن منیع ، رواہ الترمذی وحسنہ عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
جو کسی اپنے بھائی کو ایسے گناہ سے عیب لگائے جس سے توبہ کرچکاہے تو یہ عیب لگانے والا نہ مرے گا جب تک خود اس گنا ہ میں مبتلا نہ ہوجائے اس کو ترمذی نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کر کے حسن قرار دیا ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
(۳؎ جامع الترمذی باب از ابواب صفۃ القیٰمۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲/۷۳)