شفا شریف وبزازیہ و مجمع الانہر و درمختار وغیرہا میں ہے:
ومن شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۱؎۔
جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شک کیا وہ خود کافر ہوجائےگا۔ (ت)
(۱؎ درمختار با ب ا لمرتد مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۵۶)
چہارم فاسق معلن نہ ہو ، اسی طرح اور امور منافی امامت سے پاک ہو، ان کے بعد ذی علم ہونا شرط صحت وحلت نہیں شرط اولیت ہے اگر جاہل ہے اور شرط مذکورہ رکھتا ہے اس کے پیچھے نماز ہوجائیگی۔
جو شخص داڑھی اپنی مقدار شرع سے کم رکھتا ہے اور ہمیشہ ترشواتا ہے ، اس کا امام کرنا نماز میں شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟
الجواب: وہ فاسق معلن ہے اور اسے امام کرنا گناہ ، اور اسے کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی ۔ غنیـہ میں ہے :
لو قدموا فاسقا یاثمون۱؎
(اگر لوگوں نے فاسق کو مقدم کیا تو وہ لوگ گناہ گار ہونگے ۔ت) اور دلائل مسئلہ لحیہ کی تفصیل ہمارے رسالہ لمعۃ الضحیٰ فی اعفاء اللحی میں ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳)
مسئلہ ۶۷۶: از سیتاپور ضلع بریلی مسئولہ امیر علی صاحب رضوی ۱۶ شوال ۱۳۳۰ھ
ایک وقت کی نماز جس شخص کی قضاء ہوگئی ہو اس کے پیچھے نماز امامت درست ہوگی یا نہیں؟ اتفاق سے قضا ہوگئی ہو۔
الجواب: بلا قصد جس کی نماز قضا ہوجائے اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں۔
مسئلہ ۶۷۷: ہر ایک آدمی کی نماز کسی کی کسی وقت کی اور کسی کی کسی وقت کی قضا ہو اور سب اپنی اپنی قضا پڑھ لیں ایسی حالت میں امامت ہوگی یا نہیں ؟ کیونکہ بعض بعض جگہ بوجہ کاشتکاری کے کام کے اکثر لوگوں کی نماز قضا ہوجاتی ہے اور سب ایسی ہی حالت میں ہیں یہ لوگ امام کریں یا اپنی اپنی نماز علیحدہ ادا کریں یا کوئی ان میں امام ہوکر نمازادا کریں۔
الجواب: کاشتکاری خواہ کسی کام کے لئے نماز قضا کردینا سخت حرام و گناہ کبیرہ ہے جو ایسا کرتے ہین سب فاسق ہیں ، سب پر فوراً توبہ فرض ہے، کیا نہیں جانتے کہ کھیتی بھی اسی کے اختیار میں ہے جس نے نماز سب سے بڑھ کر فرض کی ہے اگر نماز کھونے میں تمہاری کھیتی برباد کردے تو تم کیا کر سکتے ہو ، نماز گھنٹوں میں نہیں ہوتی تھوڑی دیر کے لئے نماز کے واسطے کھیتی کے کام کو روک دو تو نماز اور کھیتی کا مالک تمھاری کھیتیوں میں بہت برکت دے ، جہاں سب اسی طرح کے ہوں وہاں ان سب پر توبہ تو فرض ہے ہی ، جب توبہ کرلیں ان میں سے جو قابل امامت ہے امامت کرے اور رافضیوں کی طرح الگ الگ نہ پڑھیں ، ہاں یہ ضرور ہے کہ امام اور مقتدی سب کی قضا متحد ہو مثلاً سب کی آج کی ظہر یا سب کی کل کی عصر ، تو جماعت ہوسکتی ہے اور اگر نماز مختلف ہو مثلاً امام کی ظہر اور مقتدی کی عصر یا امام کی آج کی ظہر تو جماعت نہیں ہوسکتی اپنی اپنی الگ پڑھیں واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۶۷۸: امام کی اتفاق سے ایک وقت کی نماز قضاء ہوگئی ہے تو وہ نماز پڑھا سکتا ہے یا دوسرا شخص کھڑا ہو؟ بینوا تو جروا
الجواب: وہی امامت کرے جبکہ قصداً قضا نہ کی ہو ۔ اور اگر قصداً قضا کی اگر چہ اتفاق سے تو فاسق ہوگیا ۔ اگر توبہ نہ کرے تو دوسرا شخص امامت کرے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۶۷۹ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی عمر اٹھارہ سال کی ہے اور حافظ ہے داڑھی نہیں ہے آیا اس کے پیچھے نماز درست ہے یانہیں؟
الجواب: اگر حسین وجمیل خوب صورت ہو کہ فساق کے لئے محل شہوت ہو تو اس کی امامت خلاف اولی ہے ورنہ نہیں ۔درمختار میں ہے :
تکرہ خلف امرد ۱؎
( امرد کے پیچھے نماز مکروہ ہے ۔ت) ردالمحتار میں ہے:
قال الرحمتی المرادبہ الصبیح الوجہ لانہ محل الفتنۃ ۲؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
شیخ رحمتی نے کہا امرد سے مراد خوبصورت چہرے والا لڑکا ہے کیونکہ وہ فتنے کا محل ہے ۔ (ت)
(۱؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۷۳)
(۲؎ ردلمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۱۵)
مسئلہ ۶۸۰: از قصبہ دھام پور ضلع بجنور محلہ بندو قچیاں مرسلہ محمدسعید صاحب ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ایک جامع مسجد کا امام جوابدی نماز پڑھاتا ہے وہ جماعت کثیرہ اس کے پیچھے نماز پڑھے اور جملہ قصبہ والے اور دیہات والے خوش ہوں اور دس پانچ آدمی بسبب خصومت نفسی کے اس پیش امام کے پیچھے نہ پڑھیں اور جماعت ہوتی رہے اور وہ مسجد کے صحن میں یا دیوار کے پاس کھڑے رہیں اس انتظار میں کہ جماعت ہوجائے تو ہم دوسری جماعت اپنی کر کے نماز پڑھیں اور اگر وہ لوگ قبل آجائیں تو امام کے مصلے پر کھڑے ہوکر نماز پڑھ کر چلے جائیں یہ فعل ناجائز ہے یا نہیں ۔فقط
الجواب: اگر امام سنی صحیح العقیدہ مطابق عقائد علمائے حرمین شریفین ومخالف عقائد غیر مقلیدین و وہابیہ دیوبندیہ وغیر ہم گمراہان ہے اور قرآن مجید صحیح قابل جواز نماز پڑھتا ہے اور فاسق معلن نہیں۔ غرض اگر کوئی بات
اس میں ایسی نہیں جس کے سبب اس کی امامت با طل یاگناہ ہو پھرجو لوگ براہ نفسانیت اس کے پیچھے نمازنہ پڑھیں اور جماعت ہوتی رہے اور شامل نہ ہوں وہ سخت گناہ گار ہیں ان پر توبہ فرض ہے اور اس کی عادت ڈالنے سے فاسق ہوگئے لیکن اگر امام میں ان عیوب میں سے کوئی عیب ہو اور اس کے سبب یہ لوگ اس کے پیچھے نماز سے احتراز کرتے ہوں تو درست و بجا ہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۶۸۱: از بیسلپور ضلع پیلی بھیت محلہ درگا پرشاد مکان فخر الدین صاحب مرسلہ حافظ شمس الدین صاحب ۲۳ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
(۱) جو شخص کہ سودی دستاویز لکھا تا ہو لیکن لیتا نہ ہو اور جو ملازمان گورنمنٹ مثلا تھانیدار یا سب رجسٹرار اور نیز ملا زمان چونگی اگر پنجوقتہ نماز کے پابند نہیں وہ امامت کرسکتے ہیں یا نہیں؟
(۲) امام جماعت سے کس قدر فاصلہ سے کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ کھڑا ہو اس صورت میں کہ مقتدیوں کی صف پوری ہو۔ فقط
الجواب :
(۱) سودی دستاویز لکھانا سود کا معاہدہ کرنا ہے اور وہ بھی حرام ہے ، صحیح حدیث میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعا لٰی علیہ وسلم اکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۱؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سود لینے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والو پر ، اور فرمایا وہ سب برابر ہیں ۔ (ت)
(۱؎ صحیح مسلم باب الربا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۲۷)
جب اس کا تمسک لکھنا موجب لعنت اور سود کھانے کے برابر ہے تو خود اس کا معاہدہ کرنا کس درجہ خبیث و بدتر ہے ایسے شخص کو امام نہ کیا جائے ، ہر نوکری جس میں خلاف شریعت حکم دینا پڑتا ہو حرام ہے اور رجسٹراری کاحال ابھی گزر چکا کہ اس میں سودی تمسکوں کا لکھنا اور ان کو تصدیق کرنا پڑتی ہے۔ تھانے دار اگر رشوت لے یا جھوٹ مقدمے بنائے ، جھوٹی گواہیاں دلوائے، لوگوں سے دبا دھمکا کر مال حاصل کرے جب تو ظاہرہے کہ یہ سب افعال سخت حرام ہیں ورنہ چالان میں خلاف شریعت احکام کی اعانت ضرور ہوتی ہے تو ایسی حالت میںشرعاً امامت کے لائق نہیں ۔ ہاں چونگی کا ملازم اگر چونگی تحصیل کرنے پر نوکر ہے اور اس میں یہ نیت رکھتا ہے کہ لوگوں پر آسانی کرے اور لوگ جو دباؤ ڈال کر زیادہ روپیہ وصول کرتے ہیں اس سے بچائے تو اس میں حرج نہیں
کما فی الدرلمختار
( جیسا کہ درمختار میںہے ۔ ت) وہ اگرقابل امامت ہو تو اس کی امامت میں مضائقہ نہیں۔
(۲)امام صف سے اتنا آگے کھڑاہو کہ جو مقتدی اس کے پیچھے ہے اس کا سجدہ بطور مسنون بآسانی ہوجائے بلا ضرورت اس سے کم فاصلہ رکھنا جس کے سبب مقتدیوں کو سجدہ میں تنگی ہو منع ہے یوں ہی فاصلہ کثیر ، عبث چھوڑنا خلاف سنت مؤکدہ ہے ۔ واﷲتعالیٰ اعلم