ان تزوجھما فی عقد تین فنکاح الاخیرۃ فاسدۃ ویجب علیہ ان یفار قھما وان فارقھا بعد الدخول فعلیھا العدۃ ویثبت النسب ۱؎ (ملخصاً)
اگر دو بہنوں کا کسی نے دوعقدوں میں نکاح کیا تو دوسرانکاح فاسد ہوگا اس پر اس آخری کی تفریق واجب ہوگی اگر اس نے دخول کے بعد تفریق کی تو اس خاتون پر عدت لازم ہوگی اور نسب ثابت ہوجائے گا۔ ملخصاً (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ القسم الثالث المربات بالرضاع مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۷۷)
ہدایہ میں ہے :
یکرہ تقدیم العبد لانہ لا یتفرغ للتعلم و الاعرابی لان الغالب فیھم الجہل وولد الزنالانہ لیس لہ اب یشفقہ فیغلبہ علیہ الجھل ولان فی تقدیم ھؤلاء تنفیرالجماعۃ فیکرہ ۱؎ (ملخصا)
غلام کی تقدیم مکروہ ہے کیونکہ اسے حصول علم کے لئے وقت نہیں ملتا ، اور اعرابی کی تقدیم بھی مکروہ ہے کیونکہ اکثرطور پر یہ لوگ جاہل ہوتے ہیں ، ولد زنا کی امامت اس لئے مکروہ ہے کہ اس کا والد شفیق نہیں جو تعلیم کا ا نتظام کرے ، ایسے افراد اکثرطور پر جاہل رہتے ہیں اور ان کی تقدیم سے لوگوں کو جماعت میں شمولیت سے نفرت پیدا ہوگی لہٰذا انکو امام بنانا مکروہ ہے (ت)
(۱؎ الہدایۃ باب الامامۃ مطبوعہ المکتبہ العربیہ کراچی ۱/۱۰۱)
اختیار شرح مختار میں ہے:
ان کان الاعرابی افضل من الحضری ، و العبد من الحر، وولد الزنا من ولد الرشدۃ والاعمی من البصیر فالحکم بالضد۲؎۔
اگرا عرابی شہری سے ،غلام آزاد سے ، والدزنا ولد نکاح سے او رنابینا بینا افضل ہو تو حکم اس کے برعکس ہوگا۔ (ت)
(۲؎ الاختیار لتعلیل المختار باب الجماعۃ مطبوعہ دار فراس للنشر والتوزیع ۱/۵۸)
رداالمحتار میں ہے :
نحوہ فی الشرح الملتقی للبھنسی وشرح درر البحارولعل وجہ ان تنفیر الجماعۃ بتقدیمہ یزول اذاکان افضل من غیرھ بل التنفیر یکون فی تقدیم غیرہ ۳؎۔
شرح الملتقی للنبہنسی اور شرح دررالبحار میں ہے بھی اسی طرح ہے، ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ جب وہ دوسرے سے افضل ہے تو اس کے امام بننے کی صورت میں جماعت سے لوگوں کی نفرت کا ازالہ ہوجائے گا بلکہ اس صورت میں دوسرے کو مقدم کرنا نفرت کا سبب بنے گا۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار ، باب الجماعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۱۴)
درمختار میں ہے:
الاان یکون غیرالفاسق اعلم فھو اولٰی ۴؎۔
مگر یہ فاسق کے علاوہ قوم سے زیادہ عالم ہو تو وہی امامت کے زیادہ لائق ہے (ت)
(۴؎ درمختار باب الجماعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۷۳)
اسی میں ہے :
لوام قوما وھم لہ کارھون ان الکراھۃ لفسادفیہ اولانھم احق بالامۃ منہ کرہ ذلک تحریما وان ھو احق لا والکراھۃ علیھم ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
اگر کسی نے امامت کرائی حالانکہ لوگ اسے ناپسند کرتے تھے اگر کراہت خود اس میں کسی خرابی کی بنا پر ہو یااس بنا پر کہ دوسرے لوگ اس سے امامت کے زیادہ حقدار تھے دونوں صورتوں میں اس پر کراہت تحریمی ہوگی اگر وہ خود امامت کا زیادہ حقدار تھا تو اس پر کوئی کراہت نہ ہوگی اور لوگوں پر کراہت ہوگی۔ (ت)
(؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۷۳)
مسئلہ ۶۶۷: ۱۳۳۱ہجری: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص امام مسجد ہے اور وہ فاتحہ و علم غیب وغیرہ سے منکر ہے بلکہ سجدہ میں اور رکوع میں تسبیح اس قدزور سے کہتا ہے کہ اگلی صف والے بخوبی سن لیتے ہیں اور پیچھے والے بھی سن لیتے ہیں اور ایسے مقام پر کوئی دوسرا امام میسر نہیں آتا تو اس حالت میں کس طرح باجماعت نماز پڑھی جائے کہ ثواب جماعت کا ہو اور نماز میں بھی کوئی نقص نہ ہونے پائے۔
الجواب: اگر علم غیب بعطائے الہی کثیر و وافر اشیاء وصفات واحکام وبرزخ ومعاد واشراط ساعت وگزشتہ وآئندہ کا منکر ہے تو صریح گمراہ بددین ومنکر قرآن عظیم واحادیث متواترہ ہے اور ان میں ہزاروں غیب وہ ہیں جن کا علم حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ملنا ضروریات دین سے ہے اور ضروریات دین کا منکر یقینا کافر، یوں ہی تلبیسی طور پر بعض کااقرارکرتا اور وہابیہ کا اعتقاد رکھتا ہے تو گمراہ بد دین ہے اور جو خاص دیو بندی عقائد پر ہو وہ کافر ومرتد ہے، یوں ہی جو ان عقائد پر اپنا ہونا نہ بتائے مگر ان لوگوں کے عقائد کفر یہ پر مطلع ہو کر ان کو اچھا جانے یا مسلمان ہی سمجھے جب بھی خود مسلمان نہیں ، درمختار و مجمع ا لانہر و بزازیہ وغیر ہما میں ہے:
من شک فی کفرہ فقد کفر ۲؎
( جس نے اس کے کفر میں شک کیا وہ خود کافر ہوگیا ۔ ت)
(۲؎ درمختار باب المرتد مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۵۶)
ہاں اگر تمام خباثتوں سے پاک ہواور علم غیب کثیر ووافر بقدر مذکور پر ایمان رکھے اور عظمت کے ساتھ اس کا اقرار کرے صرف احاطہ جمیع ماکان وما یکون میں کلام کرے اور ان میں ادب وحرمت ملحوظ رکھے تو گمراہ نہیں صرف خطا پر ہے مگر آج کل یہاں فاتحہ کاانکار خاص وہابیہ ہی کا شعار ہے اور وہابیہ اہل ہواسے ہیں اور اہل ہوا کے پیچھے نماز ناجائز ہے،
فتح القدیر میں ہے:
لاتجوز الصلاۃ خلف اھل الاھوائ۳؎۔
اہل ہوا کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ (ت)
(۳؎ فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۳۰۴)
تو اگر امام میسر ہو بہتر ہے ورنہ تنہا نماز پڑھی جائے ۔ ہاں اگر وہاں وہابیت نہ ہوتی تو فقط اتنی بات پر کہ تسبیحات رکوع و سجود بآواز کہتا اور اس پر اصرار رکھتا ہو نماز اس کے پیچھے مکروہ ہوتی کہ اگر اور امام نہ ملتا تو اسی کے پیچھے پڑھنے کا حکم دیا جاتا مگر بحال وہابیت ہر گز اقتداء جائز نہ ہوگی ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۶۶۸: از نجیب آباد ضلع بجنور متصل تحصیل مرسلہ محمد ظفر اﷲ صاحب حنفی ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
(۱) ایک شخص اس مسجد کا جو امام ہے جس کی بابت یہ قصہ ہے کہ صدقہ فطر لیتا ہے حتی کہ وہ خود صاحب زکوٰۃ ہے اگر اس کو صدقات سے کچھ نہ دیا جائے یا دینے میں دیر ہوجائے تو ناراض ہوجاتا ہے ایسی جگہ سے نماز ترک کرنا جائز ہے یانہیں؟
(۲) دائم المریض اور جس کے وضو کا بھی کافی طور سے احتمال ہو اور قران شریف کو صحت الفا ظی کے ساتھ نہ پڑھتا ہو بلکہ غلط پڑھتا ہو باوجود اس کے کہ وہاں قاری اور حافظ موجود ہوں تو ایسے شخص کی شمولیت جماعت سے اجتناب چاہئے یا نہیں؟
(۳) جو اشخاص ناحق رعایت وپاسداری کرتے ہوں اور مدرس تدریس قرآنی سے حاسد ہوں اور وہ اس جماعت میں شامل ہوں اور عوام کی غیبت کرتے ہوں تو ایسے موقع پر ترک جماعت جائز ہے یانہیں؟
(۴)وہ شخص اس بنائے فساد سے مخوف ہوکر اس حجرے میں جو شارع عام سے کچھ فاصلہ مسجد سے واقع ہے نماز پڑھ لے تو جائز ہے یا نہیں۔اگر حجرہ میں جماعت علیحدہ کرتا ہے تو ناحق مفسدہ پیدا ہوتا ہے اب کیا کرنا چاہئے ؟ آیا نماز اب کس طریق پر اور کس جگہ پر ادا کرے؟
(۵) وہ امام جو اس مسجد میں امامت کے واسطے بلائے جاتے ہوں اس کے مقتدی ہمیشہ فحش کلامی سے یاد کرتے ہوں اور اس سے پھر مقتدی ناراض ہوں تو اس کے پیچھے ان کی نماز ہوتی ہے یا نہیں اور اس کو وہاں امامت کرنا روا ہے یا نہیں؟
(۶) اندر مسجد جمع ہوکر دنیا داری کی باتیں کرنا جائز ہے یا نہیں اور جو کرتے ہیں وہ خطاوار ہیں یا نہیں؟
(۷)مسجد کی امامت کے واسطے امام بے علم یا مشتبہ کافی ہے یا نہیں کہ نماز مع کل فرائض، واجبات، سنن کے پوری ہوجائے فقط۔
الجواب
(۱) غنی کو صدقہ فطر لینا حرام ہے اگر امام غنی ہے اور صدقات فطر لیا کرتا ہے یہاںتک کہ ملنے میں دیر سے ناراض ہوتا ہے تو وہ فاسق معلن ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اگر اسے معزول نہ کر سکیں تو وہاں ترک جماعت کا یہ عذر صحیح ہے واﷲ تعالیٰ اعلم
(۲)اگر قرآن مجید ایسا غلط پڑھتا ہے جس سے نماز فاسد ہوتی ہے مثلا أ ، ع یا ت ، ط ث ، س، ص یا ح ، ہ یا ذ ، ز ، ظ ، ض میں فرق نہیں کرتا تو اس کے پیچھے نماز باطل ہے اور اس صورت میں اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنا ترک جماعت نہیں کہ وہ جماعت کیا نمازہی نہیں ، یونہی اگر اس کا وضو مشکوک رہتا ہے جب بھی اس کے پیچھے نہ پڑھنے میں مواخذہ نہیں واﷲ تعالیٰ اعلم
(۳) مقتدیوں کے گناہ کے باعث ترک جماعت جائز نہیں ان کے گناہ ان کے گنا ہ ہیں اورترک جماعت اس کا گناہ ہو گا، واللہ تعالی اعلم۔
(۴) اگر امام مسجد فاسق، معلن یا بد مذہب یا بے طہارت یا غلط خواں ہے اسے آگے پیچھے یا اس سے الگ حجرہ میں جماعت پر بھی قدرت نہیں بلکہ فتنہ اٹھتا ہے تو اس صورت میں تنہا پڑھنے کی اسے اجازت ہوگی مگر یہ بات بہت دشوار ہے کہ حجرہ میں دو ایک شخص کے ساتھ جماعت کرنے میں بھی فتنہ ہو واﷲ تعالیٰ اعلم
(۵) اس صورت میں مقتدی گنہگار ہیں امام پر کچھ الزام نہیں وہ امامت کرسکتا ہے اور ان کی نماز اس کے پیچھے روا ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
(۶) مسجد میں دنیا کی بات کے لئے بیٹھنا حرام ہے اور اس میں جمع ہو کر دنیا کی بات کرنا ضرور خطا ہے واﷲ تعالیٰ اعلم
(۷) امام میں چند شرطیں ضروری ہیں اولاً قرآن عظیم ایسا غلط نہ پڑھتا ہو جس سے نماز فاسدہو جیسے وہ لوگ کہ مثلاً ا، ع یا ت ، ط یا ث ، س ، ص یا ح ،ہ ذ ، ز ، ظ ،ض میں فرق نہیں کرتے ، دوسرے وضو، غسل ، طہارت صحیح رکھتاہو، سوم سنی صحیح العقیدہ مطابق عقائد علمائے حرمین شریفین ہو تفضیلی وغیرہ بد مذہب نہ ہو نہ کہ وہابی خصوصا دیوبندی کہ سرے سے مسلمان ہی نہیں ، یا ان کو اچھا جانے والا کہ وہ بھی انھیں کے مثل ہے