Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
135 - 185
امام ملک العلماء ابوبکر مسعود کا شانی قدس سرہ کی کتاب بدائع  پھر فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
المعرف بالکذب لاعدالۃ لہ فلا تقبل شھادتہ ابدا وان تاب بخلاف من وقع فی الکذب سھوا اوابتلی بہ مرۃ ثم تاب ۲؎ اھ ونسال اﷲ حسن التوبۃ والعفو والعافیۃ۔
جو شخص جھوٹ بولنے میں مشہور ہو اس کی عدالت ثابت نہیں لہٰذا اس کی شہادت کبھی قبول نہ کی جائے اگر چہ اس نے توبہ کرلی ہو بخلاف اس شخص کے جس نے سہواً یا وقت مجبوری کبھی ایک دفعہ جھوٹ بولا ہو اور پھر توبہ کرلی ہو اھ ہم اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ سے حسن توبہ، معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ    الفصل الثانی فیمن لاتقبل شہاتہ لفسقہ         مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور     ۳/۴۶۸)
بعینہٖ یہی حکم وہابیت دیوبند یہ کا ہے کہ وہ بھی مثل رفض زمانہ ارتداد مبین اور اس کے اصاغر مثل روافض تقیہ گزیں تو جسے دیکھیں کہ ان لوگوں سے میل جول رکھتا ، ان کی مجالس وعظ میں جاتا ہے ، اس کا حال مشتبہ ہے ہر گز اسے امام نہ کریں اگر چہ اپنے کو سنی کہتا ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۶۶۱: زید وہابیہ عقیدہ رکھتاہے اور اس کا لڑکا نابالغ بعمر تخمیناً ۱۲ سال امسال قرآن حافظ ہوا ہے اور وہ ہم لوگ مذہب حنیفہ اہلسنت وجماعت کو مجبور کرتا ہے اور زور ڈالتا ہے کہ میرے لڑکے مذکورہ بالا کے پیچھے قرآن شریف سن لیا جائے، اس کے پیچھے تراویح وغیرہ درست ہے یا نہیں ؟ بنیوا توجروا
الجواب: اس لڑکے کے پیچھے تراویح وغیرہ کوئی نماز جائز نہیں کہ صحیح مذہب میں نا بالغ بالغوں کی امامت کسی نماز میں نہیں کرسکتا اور اگر وہ عقیدہ بھی وہابیہ رکھتا ہو جیسا کہ ظاہر یہی ہے تو وہابی کے پیچھے ویسے بھی نماز ناجائز محض ہے اگر چہ بالغ ہو۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۶۶۲: از شہر کہنہ محلہ روہیلی ٹولہمسئولہجناب ہدایت اﷲ خان صاحب ۱۹ شوال ۱۳۲۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وقت نماز چند اشخاص جمع ہیں لیکن کامل پابند شریعت نہیں ہیں ایک حافظ ہے اور مسائل سے بھی واقف ہے مگر داڑھی اس کی کسی قدر کتری ہوئی ہے موافق شرع نہیں دوسرے کا لباس ووضع تو موافق شر یعت ہے اور کچھ مسائل سے کسی قدر واقفیت رکھتا ہے مگر قران مجیدبمقابلہ حافظ کے صحیح نہیں پڑھ سکتا نہ خطبہ جمعہ کا یہ کوئی شخص حافظ تو نہیں مگر مسائل نماز سے واقف ہے قرآن عظیم صحیح پڑھتا ہے ملازمت پولیس کرچکا ہے پنشن پاتا ہے غرض ایسی ہی حالت ہر شخص کی ہے اس حالت میں کون شخص امامت کے لائق سمجھا جائے؟ بینوا توجروا
الجواب: ان میں جو شخص وضو وغسل وغیرہ طہارت ٹھیک کرتا ہو نماز صحیح پڑھتا ہو قرآن مجید ایسا غلط نہ پڑھتا ہو جس سے معنی بدلیں فاسق ہوں اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی مگر امام بنانا جائز ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ مذہب کا سنی خالص ہوفاسق علی الاعلان نہ ہو یعنی کوئی گناہ کبھی اعلان کے ساتھ نہ کرتا ہو صغیرہ بھی عادت واصرار سے کبیرہ ہوجاتاہے ، جو شخص ان سب باتوں کا جامع ہو اگر چہ قرآن عظیم حافظ کی مثل نہ پڑھ سکے یا پولیس کی پنشن پائے اسے امام بنانے میں حرج نہیں ، اور داڑھی حد شرع سے کم کراتا ہو وہ فاسق معلن ہے اسے امام بنا نا گناہ ہے ، سنی ہونا جو ہم نے جواز امامت کی شرطوں میں رکھا ہے نہ صحت نمازکی ، اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا بد مذہب بھی جس کی بد مذہبی حد کفر تک نہ پہنچے کہ ایسے کو امام بنانا گناہ ، اگر چہ فرض ساقط ہوجائےگا اور جس کی بد مذہبی حد کفر تک پہنچی ہو جیسے آج کل کے عام رافضی ، وہابی ، نیچری، قادیانی، غیر مقلد کے پیچھے تونماز محض باطل ہے جیسے کسی ہندو یا پادری کے پیچھے
والعیاذ باﷲ تعالیٰ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۶۳: ازمور بہنج ضلع بریسال مرسلہ عبدالرحیم صاحب ۲۱ ذی القعدہ ۱۳۲۹ھ

جس شخص کو جذام کا گھاؤ ہوگیا ہو لیکن لنگڑا یا انگلیاں گرانہ ہو اچھی طرح اُٹھ بیٹھ سکتا ہے اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ؟ اور جس کو سوزاک ہو یا منہ بانکا ہو گیا ہو یا ضعیف اس قدر ہو کہ اٹھنے بیٹھنے میں دیر لگتی ہو ان اشخاص کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
الجواب: جذام میں جب تک ٹپکنا نہ شروع ہوا ہو یہ حکم ہے کہ اگر لوگوں کی نفرت کی حد تک ہے جس کے سبب اس کی امامت میں جماعت کی کمی ہو تو اس کی امامت مکروہ ہے ورنہ نہیں، اور اگر ٹپکنے لگا تو اگر معذور کی حد تک پہنچ گیا کہ ایک وقت کامل کسی نماز کا اس پر ایسا گزرا کہ وضو کرکے فرض پڑھ لینے کی مہلت نہ تھی تو جب تک ہر نماز کے وقت اگر چہ ایک ایک ہی بار ٹپکنا پایا جائے وہ معذور ہے اسے پانچ وقت تا زہ وضو کرنا کافی ہے اور اس کے پیچھے صرف ایسے ہی عارضہ والے کی جو اسی کی سی حالت رکھتا ہو نماز ہوجائے گی باقی لوگوں کی نماز نہیں ہو سکتی یہی حکم سوزاک کا ہے اگر پیپ بہتا ہو اور اگرپیپ نہ نکلے تو اس کے پیچھے نماز میں کچھ حرج نہیں ، جس کا منہ معاذاﷲ ٹیڑھا ہوگیا ہو اگر اس کے سبب قرأت صحیح نہ پڑھ سکتا ہو حروف غلط ادا ہوتے ہوں تو اس کے پیچھے نماز جائز نہیں اور اگر حروف صحیح نکلتے ہوں مگر پڑھنے میں بہت بدنمائی پیدا ہوگئی ہو تو اس کی امامت اولیٰ نہیں ورنہ کچھ حرج نہیں جو ضعف کے سبب دیر میں اٹھتا بیٹھتا ہو اس کے پیچھے نماز میں کوئی حرج نہیں جبکہ ایسی حالت نہ ہو کہ مثلاً جب تک سجدہ سے اٹھ کر بقدر تین بار سبحٰن اﷲ کہنے کے بیٹھا نہ رہے کھڑا نہیں ہوتا اور جب ایسی حالت ہو تو اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۶۶۴: ۸ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایک شخص مسجد اہلسنت وجماعت کا امام اور وہ بھی مدعی ہے کہ میں سنی ہوں مگر اس کی رشتہ داری وقرابت روافض سے ہوئی ہے ، اس کی پھُپھاں بھی روافض کو منسوب ہوئیں اور اس کی ہمشیر گان کے روافض سے نکاح ہوئے اور اس نے اپنا نکاح بھی روافض میں کیا ایسی حالت میں اس کا دعویٰ قبول ہوگا یا نہیں، تقیہ جو روافض کا شعار ہے اور اس کے ذریعہ سے اہلسنت کے عبادات کو ضائع کرنا باعث نجات خیال کرتے ہیں محمول ہو کہ ایسے شخص کے پیچھے اہلسنت کو نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں ، بفرض محال اس کے دعوی کو سچ سمجھا جائے اور اس کو سنی خیا ل کیا جائے تو نکاح اس کا اور اس کی ہمشیرگان کا صحیح ہوا یا نہیں، اور جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھیں اس کا اعادہ ضروری ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب: اگر چہ رافضیوں کے یہاں بیاہت کرنے سے خود اس شخص کا خواہی نہ خواہی رافضی ہوناواضح نہیں ہوتا کہ بعض احمق نادان جاہل سنی بھی اس بلائے عظیم میں محض اپنی جہالت سے مبتلا ہیں اور بعض وہ بھی ہیں کہ اسے برا سمجھتے ہیں اور پھر اپنی اگلی رشتہ داریوںوغیرہا بیہودہ وجوہ کے سبب اس میں مبتلا ہوتے ہیں اور پُھپھیوں بہنوں کے نکاح میں وہ بھی عذر کرسکتا ہے کہ یہ فعل اس کے باپ دادا کا ہے بلکہ شاید اپنے نکاح میں بھی یہی کہے کہ باپ نے کردیا اور ایسی وجو سے کسی کے قلب و عقیدہ پر حکم نہیں لگا سکتے، اور جب وہ اپنے آپ کو سنی کہتا ہے اور اس کی کوئی بات عقیدہ اہلسنت کے خلاف نہیں تو بدگمانی کر کے رافضی ٹھہرادینے کی اجازت نہیں۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
ولا تقولوالمن القی الیکم السلام لست مومنا۱؎۔
اور جو تمھیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔ (ت)
 (۱؎ القرآن            ۴/۹۴)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعا لیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
افلا شققت عن قلبہ ۲؎
( کیا نونے اس کا دل پھاڑ کر دیکھ لیا تھا۔ت)
(۲؎ مسند احمد بن حنبل    مروہ عن اسامہ بن زید    مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۵/۲۰۷)
مگر امام بنانے کےلئے فقط سنی تصور کرنا ہی کافی نہیں بلکہ فاسق معلن نہ ہونا ضرور ہے اس کی حالت دیکھی جائے اگر رافضیوں سے میل جول خلا ملا دوستی اتحاد کے برتاؤ کرتاہے تو اگر رافضی نہیں تو کم از کم سخت فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور اسے امام بنانا گناہ ، اور جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہوں ان کا پھیرنا واجب
کما فی فتاوی الحجۃ والغنیۃ وغیرھما من الاسفار ا لکثیرۃ وقد حققناہ فی النھی الاکید
 ( جیسا کہ فتاوی الحجہ ، غنیـہ اور دیگرمتعدد کتب میں ہے ، اور ہم نے اس کی تحقیق النہی الاکید میں کی ہے ۔ ت) اور اگر باوصف ان بیاہتوں کے ان لوگوں سے بالکل جدا ہے تو اسے بتایا جائے کہ آج کل کے تبرائی رافضی علی العموم کافر و مرتد ہیں اور ان سے نکاح مرد کا ہو یا عورت کا محض باطل ہے اور اس میں قربت زنائے خالص اور اولاد اولاد الزنا ہے ، یوں نہ سمجھے تو اسے رسالہ ردالرفضہ دکھایا جائے جس میں بکثرت کتب معتمدہ کی صاف تصریحوں سے کفر ثابت کیا گیا ہے اگرپھر بھی نہ مانے تو متمروسرکش فاسق ہوگا اور رافضیہ عورت کے رکھنے سے زناکار ہوگا اور اسے امامت سے معزول کرنا واجب ہوگا اور اگر جاہل نہیں بلکہ جانتا ہے کہ وہ مرتد ہے اور مرتد مرد خواہ عورت کا نکاح کسی سے نہیں ہوسکتا پھر اس عورت کو جدا نہیں کرتا آپ ہی فاسق وزانی اور امامت سے واجب العزل ہے اور اگر رافضیوں کے عقائد کفر یہ خالص پر مطلع ہے اور پھر ان کو مسلمان جانتا ہے جب توفسق درکنار خود کفر ہے ۔ بزازیہ و مجمع الانہر ودرمختاروغیرہا میں ہے :
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۳؎
( جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شک کیا وہ خود کافر ہوگیا ت) واﷲ تعالیٰ اعلم
 (۳؎ درمختار        باب المرتد         مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۳۵۶)
مسئلہ ۶۶۵: از ڈاکخانہ چویکہ تحصیل وضلع مٹر پور موہرہ کنھیالالمسئولہغلام محمد صاحب ۲۸ صفر ۱۳۲۱ھ

مسند نشین شریعت غراجناب مولینا صاحب دام ظلکم بعد حصول سعادت قدمبوسی عرض یہ ہے کہ جو کہ کمترین کے آباؤ اجداد تھے وہ سب گاؤں کے امام تھے اور قدیم ایّام سے امامت کرتے چلے آئے ہیں اور کمترین کے جناب دادا صاحب بھی خود گاؤں کے استاد تھے اور کتمرین کے جناب والدبزرگوار بھی استادہی اور امامت کرتے تھے اور ان کے بعد میں بھی استادی طریقہ رکھتا ہوں کہ گاؤں کے بہت سے لڑکوں کو قرآن مجید کی تعلیم اور کتابوں وغیرہ کی بھی دی ہے اور پانچ نماز بھی ہم امام ہوکر پڑھواتے رہے ہیں اور اب گاؤں کے ایک شخص زمیندار نے کہا اگر مرضی ہو تو امام رکھیں ورنہ نہ رکھیں کہ امام نوکر کی جگہ ہوتا ہے خواہ نوکر کے پیچھے نماز ادا کریں یا نہ کریں اور غرضیکہ ا س نے بہت بیہودہ گالی بھی نکالی ہیں اور بے ادب لفظ بو لے ہیں اور اب کمترین جناب کی جانب دراز دست ہے اس شخص کی نسبت فتویٰ حدیث اور شریعت کے تحریر کرکے ارسال فرمائیں کہ اس کو تعزیر لگائی جائے ازحد مہربانی ہوگی اور کمترین کا حق گاؤں پر ہے یا نہیں اور شریعت میں اس کے واسطے کیا حکم ہے وہ اب امامت سے برخاست کرنا چاہتے ہیں فتویٰ مع آیات واحادیث کے ارسال فرمائیں۔
الجواب: کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذادینا حرام ہے اور گالی دینا سخت حرام ہے اور بعض گالیاں تو کسی وقت حلال نہیں ہوسکتی اور ان کا دینے والا سخت فاسق اور سلطنت اسلامیہ میں اس (۸۰)کوڑوں کا مستحق ہو تا ہے ان سے ہلکی گالی بھی بلاوجہ شرعی حرام ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذٰی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ۱؎ ۔
جس نے کسی مسلمان کو بلا وجہ شرعی ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو ایذا دی۔
 (۱؎ کنز العمال        الباب الثانی فیالترہیبات  ، مؤسستہ الرسالہ بیروت        ۱۶/ ۱۰)
اور علم دین کے استاد کا حق باپ سے بھی زائد ہے ستانے والا عاق ہوتا ہے اور بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کے رزق میں خلل اندازی بہت سخت بے جا اور بلاوجہ ایذا ہے اور ایسوں کو خوف نہیں آتا کہ وہ کسی مسلمان کے رزق میں بلاوجہ خلل ڈالیں، اﷲ قادر مطلق ان کی روزی میں خلل ڈالے ان کا رزق تنگ کردے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ رتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کما تدین تدان۲؎
( جیسا تو اوروں کے ساتھ کرگا ویسا ہی اﷲ تیری ساتھ کریگا ) ان لوگوں پر لازم ہے کہ امام سے معافی مانگیں، استاد سے خطا بخشوائیں اور اگر کوئی حرج شرعی نہ ہو تو بے سبب اسے موقوف نہ کریں ، ہاں اگر سبب شرعی ہو توبہ نرمی ، اس سے کہیں اگر وہ اس کا علاج نہ کرے یا نہ کرسکے تو نرمی کی ساتھ الگ کردیں اس وقت اس امام کو بھی بے جا ہٹ مناسب نہیں ، امامت کسی کا حق و میراث نہیں، اور وجہ شرعی کے سبب اہل جماعت جس کی امامت سے ناراض ہوں اسے امام بننا گناہ ہوتا ہے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
 (۲؎ کنز العمال        الباب الاول فی مواعظ الترغیبات         مؤسستہ الرسالہ بیروت     ۱۵/۷۷۲)
مسئلہ ۶۶۶: ۸ ربیع الاول    ۱۳۳۱ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنا نکاح ایک عورت سے کیا کچھ عرصہ بعد اپنی عورت کی ہمشیرہ سے دوسرا نکاح کیا دونوں عورتیں اس کے پاس رہیں کچھ مدت کے بعد اس دوسری سے ایک لڑکا پیدا ہوا جب وہ بالغ ہو اس نے کلام مجید پڑھا اب اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: یہ لڑکا ولد الحرام ہے ولد االزنا نہیں اسے حرامی نہیں کہہ سکتے کہ عرف میں حرامی ولد الزنا کو کہتے ہیں اور یہ شرعاً اپنے اسی باپ کا بیٹا ہے اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں، ہاں اگر جماعت کو اس کے ولد حرام ہونے کے باعث اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے نفرت ہو تو اس کی امامت مکروہ ہوگی کہ وجہ تقلیل جماعت ہوگی مگر اس صورت میں کہ یہ لڑکا سب حاضرین سے زیادہ مسائل نماز وطہارت کا علم رکھتا ہو تو اسی کی امامت اولیٰ ہے اور اب اگر عوام کو نفرت ہو تو انھیں سمجھا یا جائے کہ ان کی یہ نفرت خلاف حکم و بے محل و بے جا ہے یہ تو یہ اگر کوئی ولد الزنا بھی ہو تو جب حاضرین سے علم میں زائد ہو وہی مستحق امامت ہے ۔
عالمگیر یہ میں ہے:
Flag Counter