دلیل چہارم: عبادات میں احتیاط مطلقاً واجب ہے نہ کہ نماز کہ اہم واعظم عبادات ہے جس کے لئے علماء فرماتے ہیں کہ اگر اس کی صحت و فساد میں اشتباہ پڑے ایک وجہ سے فاسد ہوتی ہو اور متعدد وجوہ سے صحیح تو اس ایک ہی وجہ کا اعتبار کر کے اس کے فساد ہی کا حکم دیں گے ،
فتح القدیر صلاۃ المسافر میں ہے:
ھذہ مسائل الزیادات ، مسافر ومقیم ام احد ھما الاخر فلما شرعا شکافی الامام استقبلا لان الصلوۃ متی فسدت من وجہ وجازت من وجوہ حکم بفسادھا وامامۃ المقتدی مفسدۃ، واحتمال کون کل منھامقتدیا قائم فتفسد علیھما ۱؎۔
یہ مسائل زیادات کے ہیں مسافر اور مقیم میں سے ایک نے دوسرے کی امامت کی جب دونوں نے نماز شروع کی تو انھیں امام کے بارے میں شک ہوگیا کہ میں امام ہوں یا دوسرا تو نماز نئے سرے سے ادا کریں کیونکہ نماز جب ایک جہت سے فاسد اور کئی وجوہ کی بناء پر صحیح ہو تو نماز کے فاسد ہونے کا حکم دیا جائیگا،
اور مقتدی کا امام ہونا مفسد نماز ہے اور ایسی صورت میں یہاں ہر ایک کے مقتدی ہونے کا احتمال باقی ہے لہٰذا دونوں کی نماز فاسد ہوجائےگی۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر باب صلوٰۃ المسافر مطبوعہ نوریہ رجویہ سکھر ۲/ ۱۴)
ظاہر ہے کہ بر تقدیر سنیّت اس کے پیچھے نماز صحیح اور بر تقدیر رفض فاسد، تو اس کی امامت کیونکر جائز ہوسکتی ہے،
دلیل پنجم: علماء فرماتے ہیں قاضی محض تہمت وحصول ظن پر تعزیر دے سکتا ہے ،
بحر و نہر و در مختار وغیر ہا میں ہے :
للقاضی تعزیر المتھم وان لم یثبت علیہ ۲؎ ۔
(قاضی محض تہمت کی بناء پر تعزیر جاری کرسکتا ہے اگر چہ ثبوت نہ ہو۔ ت)
(۲؎ درمختار باب التعزیر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۲۹)
جب تہمت ایسی چیز ہے جس کے سبب بے ثبوت صریح ایک مسلمان کو سزا دینے کی اجازت ہوجاتی ہے جس میں اصل حرمت ہے تو نماز کے لئے احتیاط کرنی کیوں نہ واجب ہوجائیگی جس کی اصل فرضیت ہے جس شخص نے اس کے حال سے مطلع ہوکر اسے مسلمانوں کا امام یا اپنے لڑکوں کا معلم مقرر کیا حالانکہ اہلسنت میں صاف و پاک امام ومعلم بکثرت مل سکتے ہیں اس نے اﷲ و رسول اور مسلمانوں سب کی خیانت کی وہ مسلمانوں کا بدخواہ ہے اس پراپنے فعل سے توبہ اور اپنے مقر کئے ہوئے کو معزول کرنا لازم حاکم صحیح مستدرک میں ہے اور ابن عدی وعقیلی و طبرانی و خطیب حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استعمل رجلا من عصابۃ وفیھم من ھو ارضیﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمومنین ۳؎۔ جس نے کسی جماعت سے ایک شخص کو کام پر مقر رکیا اور ان میں وہ شخص موجود تھا جو اس سے زیادہ اﷲ کو پسند ہے تو اس نے اﷲ ورسول اور مسلمانوں سب کی خیانت کی ۔ (ت)
(۳؎ المستدرک علی الصحیحین الامارۃ امانۃ مطبوعہ دارالفکریہ بیروت ۴/۹۲)
ف: مستدرک میں فیھم کی جگہ فی تلک العصابۃ کا لفظ ہے۔ نذیر احمد سعیدی
تیسیر شرح جامع صغیر میں اسی حدیث کی شرح میں ہے:
ای نصبہ علیھم امیرااوقیما اوعریفا اواماما للصلٰوۃ۴؎۔
یعنی اس نے لوگوں پر امیر ، نگہبان ، محاسب یا نماز کے لئے امام بنایا۔ (ت)
(۴؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث مذکو ر کے تحت مکتبہ الامام الشاجعی الریاض ۲/۳۹۶)
پھر اگر یہ شخص توبہ بھی کرلے تو بمجر و توبہ اسے امام نہیں بنا سکتے بلکہ لازم ہے کہ ایک زمانہ ممتد تک اسے معزول رکھیں اور اور اس کے احوال پر نظر رہے، اگرخوف وطمع وغضب ورضا وغیرہا حالات کے متعدد تجربے ثابت کردیں کہ واقعی یہ سنی صحیح العقیدہ ثابت قدم ہے اور روافض سے اصلاً میل جول نہیں رکھتا بلکہ ان سے اور سب گمراہوں بدینوں سے متنفر ہے اس وقت اسے اما م کرسکتے ہیں
فتاوٰی قاضی خاں پھر فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
الفاسق اذا تاب لایقبل شہادتہ مالم یمض علیہ زمان یظھر علیہ اثرالتوبۃ والصحیح ان ذلک مفوض الی راء القاضی ۱؎۔
فاسق جب تاب ہوجائے تو اس وقت تک اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی جب تک اتنا زمانہ نہ گزر جائے جس میں توبہ کا اثر ظاہر ہوجائے اور صحیح یہی ہے کہ یہ قاضی کی رائے کے سپرد کیا جائے ۔ (ت)
ا میر المومنین غیظ المنافقین امام العادلین سید نا عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جب صبیغ سے جس پر بوجہ بحث متشابہات بد مذہبی کا اندیشہ تھا بعد ضرب شدید توبہ لی ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو فرمان بھیجا کہ مسلمان اس کے پاس نہ بیٹھیں اس کے ساتھ خرید وفروخت نہ کریں بیمار پڑے تو اس کی عیادت کو نہ جائیں مرجائے تو اس کے جنازے پر حاضر نہ ہوں، تعمیل حکم احکم ایک مدت تک یہ حال رہا کہ اگر سو آدمی بیٹھے ہوتے اور وہ آتا سب متفرق ہوجاتے جب موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض بھیجی کہ اب اس کا حال اچھا ہوگیا اس وقت اجازت فرمائی۔
اخرج ابوا لفتح نصر بن ابراھیم المقدسی فی کتاب الحجۃ وابن عساکر عن ابی عثمان النھدی عن صبیغ انہ سال عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن المرسلات والذاریٰت و النازعات فقال لہ عمر الق ما علی راسک فاذالہ ضفیرتان فقال لووجد تک محلوقا لضربت الذی فیہ عیناک ثم کتب الی اھل البصرۃ ان لاتجالسوا صبیغا قال ابو عثمان فلوجاء ونحن مائۃ تفرقنا عنہ ۲؎ ۔
ابوالفتح نصربن ابرہیم مقدسی نے کتاب الحجہ میں اور ابن عساکر نے ابو عثمان نہدی سے انھوں نے صبیغ سے بیان کیا کہ انھوں نے حضرت عمر سے سورہ المرسلات ، الذاریات ، والنازعات کے بارے میں پوچھا تو حضرت عمر نے انھیں فرمایا اپنا سر کا کپڑا اٹھاؤ، جب اس نے کپڑا اٹھا یا تو اس کے دو چوٹیوں کی صورت بال تھے ، حضرت عمر نے فرمایا اگر میں تجھے حلق کیا ہواپاتا تومیںوہ ( سر)اڑادیتا جس میں تیری آنکھیں ہیں ۔ پھر اہل بصرہ کی طرف آپ نے خط لکھا کہ صبیغ کے ساتھ نہ بیٹھو۔ ابو عثمان کا بیان ہے اگر صبیغ آجاتا اور ہم سو کی تعداد میں ہوتے فوراً ہم سب اس سے جدا ہوجاتے ،۔
(۲؎ کتاب الحجۃ)
واخرج ابوبکربن الانباری فی کتاب المصاحف وابن عساکرعن محمد بن سیرین قال کتب عمر بن الخطاب الی ابی موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان لاتجالسوا صبیغاوان یحرم عطاء ھ لا ورزقہ ۱؎
اور ابو بکر بن انباری نے کتاب المصاحف میں ، اور ابن عساکر نے امام محمد سیرین سے نقل کیا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی طرف خط لکھا کہ صبیغ کو پاس نہ بٹھاؤ، اس کو عطا اور رزق سے محروم رکھا جائے
(۱؎ کتاب المصاحف لابی بکر ابن الابناری )
واخرج المقدسی فی الحجۃ عن اسحٰق بن بشیر القریشی قال اخبرنا ابن اسحٰق او ابو اسحٰق قال کتب ای امیرالمؤمنین رضی اﷲ تعالٰی عنہ الی ابی موسیٰ امابعد فان الاصبغ بن علیم التیمی تکلف ماکفی وضیع ماولی فاذاجاء ک کتابی ھذا فلاتبایعوہ وان مرض فلا تعودوہ وان مات فلا تشھدوہ ۔قال فکان الاصبغ یقول قدمت البصرۃ فاقمت بھا خمسۃ وعشرین یوما وما من غائب احب الی ان القیہ من الموت ثم ان اﷲ الھمہ التوبۃ وقذ فھا فی قلبہ فاتیت اباموسیٰ وھو علی المنبر فسلمت علیہ فاعرض عنی فقلت ایھا المعرض انہ قد قبل التوبۃ من ھو خیرمنک ومن عمر و انی اتوب الی اﷲ عزوجل مما اسخط امیر المومنین وعامۃ المسلمین فکتب بذلک الی عمر فقال صدق اقبلوا من اخیکم ۲؎
اور المقدسی نے اسحاق بن بشر قرشی سے کتاب الحجہ میں نقل کیا ہے کہ ہم سے ابن اسحٰق یا ابو اسحٰق نے بیان کیا امیر المومنین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ابو موسیٰ کو خط لکھا حمد و صلوٰۃ کے بعد اصبغ بن علیم تمیمی نے جو کچھ اسے کافی تھا اس میں تکلف کیا اور اس نے اپنی ولایت کو ضائع کیا جب اپ کے پاس میرا پیغام آجائے تو اسکے ساتھ خرید و فروخت نہ کرو، اگر وہ بیمار ہوجائے تو عیادت نہ کرو اگر وہ مرجائے تو جنازہ میں شریک نہ ہونا ۔ راوی کہتا ہے اصبغ کہتا تھا میں بصرہ گیا وہاں پچیس دن ٹھہرا ، مجھے موت سے بڑھ کر کوئی غائب شیئ محبوب نہ تھی ، پھر اﷲ تعالیٰ نے توبہ کی توفیق دی اور دل میں توبہ کا خیال پیدا کیا تو پھر میں ابو موسیٰ کے پاس آیا آپ منبر پر تشریف فرماتھے میں نے سلام کیا انھوں نے ا عراض کیا، میں نے کہا اے اعراض کرنے والے ! اس ذات نے توبہ قبول کرلی جو تجھ سے اور عمر سے بہتر ہے اور میں ہر اس معاملہ سے اﷲ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں جس پر امیرالمومنین اور عام مسلمان ناراض تھے ، پھر ابو موسیٰ نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی طرف یہ معاملہ لکھا تو آپ نے فرمایا وہ سچ کہتا ہے اپنے بھائی کو قبول کرو۔
(۲؎ کتاب الحجۃ)
واخرج الدرامی ونصرو الاصبہا نی کلاھما فی الحجۃ وابن الانباری فی المصاحف واللالکائی فی السنۃ وابن عساکر فی التاریخ عن سیلمٰن ابن یساران رجلا من بنی تمیم یقال لہ صبیغ بن عسل قدم المدینۃ وکان عندہ کتب فکان یسئل عن متشابہ القران فبلغ ذلک عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ فبعث الیہ وقد اعد لہ اعراجین النخل فلمادخل علیہ قال من انت قال انا عبد اﷲ صبیغ قال عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وانا عبداﷲ عمر واومأ الیہ فجعل یضربہ بتلک العراجین فما زال یضربہ حتی شجہ وجعل الدم یسیل علی وجہ ، فقال حسبک یا امیرالمؤمنین واﷲ فقد ذھب الذی اجد فی راسی ۱؎
دارمی، نصر اصبہانی دونوں نے حجہ میں اور ابن انباری نے مصاحف میں ، لالکائی نے سنت میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں سیلمان بن یسار سے روایت کیا کہ بنو تمیم کا ایک شخص تھا جس کا نام صبیغ بن عسل تھا وہ مدینہ آیا اس کے پاس کچھ کتب تھیں وہ قرآن کے متشابہات کے بارے میں پوچھتا تھا اس بات کی اطلاع حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو پہنچی تو آپ نے اسے بلایا اور اس کے لئے کھجور کی دو چھڑیاں تیار کیں، آیا تو آپ نے پوچھا : تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں اﷲ کا بندہ صبیغ ہوں۔ آپ نے فرمایا : میں اﷲ کا بندہ عمر ہوں، اس کے بعد اپ نے اس کی طرف اشارہ کیا اور ان دو چھڑیوں کے ساتھ اسے مارا حتی کہ وہ زخمی ہوگیا اور چہرے سے خون بہنے لگا۔ وہ کہنے لگا اے امیر المؤمنین ! مجھے چھوڑ دو یہی کافی ہے اﷲ کی قسم جو کچھ میرے دماغ میں (خمار) تھا وہ جاتا رہا۔
(۱؎ سنن الدارمی باب من ھاب الفتیاکرہ التنطع والتبدع مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۱/۵۱)
واخرج الدارمی و ابن عبدالحکیم وابن عساکر من مولی ابن عمر ان صبیغ العراقی جعل یسئل عن اشیاء من القران فی اجناد المسلمین (وساق الحدیث الی ان قال ) فارسل عمر الیّ یطلب الجرید فضربہ بھا حتی ترک ظھرہ دبرۃ ثم ترک حتی بری، ثم عادلہ ثم ترکہ حتی بری، ثم دعابہ لیعود بہ فقال صبیغ یا امیرالمؤمنین ان کنت ترید قتلی فاقتلنی قتلا جمیلا وان کنت ترید تداوینی فقد واﷲ برئت فاذن لہ الی ارضہ وکتب الی ابی موسیٰ الشعری ان لایجالسہ احد من المسلمین فاشتد ذلک علی الرجل فکتب ابو موسیٰ الشعری الی عمر ان قد حسنت توبتہ ، فکتب ان یاذن للناس فی مجالستہ ۱؎۔
اور دارمی، ابن عبدالحکیم اور ابن عساکر نے حضرت ابن عمر کے آزاد کردہ غلام سے بیان کیا کہ صبیغ عراقی مسلمانوں کے مختلف گروہوں سے قرآن کی بعض اشیاء کے بارے میں سوال کرتا تھا ( آگے چل کر کہا) حضرت عمر نے مجھ سے چھڑی منگوائی اور اسے پیٹا حتی کہ اس کی پشت کو زخمی چھوڑدیا پھر مارا پھر چھوڑ دیا حتی کہ وہ صحیح ہوگیا، پھر آپ نے دوبارہ اس کو مارا حتی کہ وہ صحیح ہوگیا ]پھر آپ نے اسے بلایا تاکہ پھر اس کی پٹائی کی جائے ، تو اس نے کہااے امیر المؤمنین ! اگر آپ مجھے قتل کرنا ہی چاہتے ہیں تو بہتر انداز میں قتل کیجئے اور اگر میرا علاج فرمارہے ہیں تو اﷲ کی قسم اب میں درست ہوں، آپ نے اسے اپنے علاقے میں جانے کی اجازت دے دی اور ابو موسیٰ اشعری کو لکھا کہ اسے مسلمانوں کی کسی مجلس میں نہ بیٹھنے دو۔ اس شخص پر یہ معاملہ گراں گزرا حتیٰ کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے حضرت عمر کی طرف خط لکھا کہ آپ نے اس کی توبہ درست کردی ہے، تو حضرت عمر نے لکھا کہ اب لوگ اسے اپنے پاس بیٹھنے کی اجازت دے دیں،۔ (ت)
(۱؎ سنن الدارمی باب من ھاب الفتیاوکرہ التنطع والتبدع مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۱/ ۵۱)
بلکہ اگر اس کا مکر و زور وکذب وفریب ظاہر ومشہور ہو تو بعد توبہ بھی کبھی امام نہ کریں کہ اسے امام کرنا کچھ ضرور نہیں اور معروف کذاب کی توبہ پر ہمیں اعتبار کا کیا ذریعہ ہے خصوصاً روافض خذ لہم اﷲ تعالیٰ کہ تقیہ ان کا اصل مذہب اور اس کی بنیاد کا سب سے پہلا پتھر ہے خصوصاً جہاں نوکری وغیرہ کی طمع یا کسی خوف کا قدم درمیان ہو ۔