Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
133 - 185
 ( اگر لوگ نے فاسق کو مقدم کردیا تو وہ گنہ گار ہونگے ۔ت)
(۵؎ غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی الامامۃ        مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور   ص۵۱۳)
الجواب: جبکہ ثابت و محقق ہو کہ رافضیوں رافضی اور سنیوں میں ،ُسنی بنتا ہے جب تو ظاہر ہے کہ وہ رافضی بھی ہے اور منافق بھی اور اس کے پیچھے نماز باطل محض، جیسے کسی یہودی نصرانی ہندو مجوسی کے پیچھے
کما بیناہ فی النھی الا کید
( جیسا کہ ہم نے اسے النہی الاکید میں بیان کیا ہے۔ ت) بلکہ تبرائی روافض زمانہ ان سے بھی بدتر ہیں کہ وہ کافران اصلی ہیں اور یہ مرتد ، اور مرتد کا حکم سخت تر و اشد
کما حققناہ فی المقالۃ المسفرۃ
 ( اس کی تحقیق ہم نے اپنے مقالے مسفرہ میں کی ہے۔ ت) اور اگر صرف اسی قدر ہو کہ اس کی حالت مشکوک و مشتبہ ہے جب بھی اسے امامت سے معزول کرنا بدلائل کثیرہ واجب ہے۔
فاقول وبا ﷲ التوفیق
 ( پس میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں)

دلیل اول علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جب کسی امر کے بدعت وسنت ہونے میں تردد ہوتو وہاں سنت ترک کی جائے ۔
بحرالرائق پھر ردالمحتار مکروہات الصلاۃ میں ہے:
اذا تردد الحکم بین سنۃ وبدعۃ کان ترک السنۃ راجحا علی فعل البدعۃ ۱؎ ۔
مختصراًجب حکم سنت اور بدعت کے درمیان متردد ہو تو بدعت پر عمل کی بجائے ترک سنت راجح ہے (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    مطلب اذاترددالحکم بین سنۃ وبدعت     مطبوعہ مصطفی الباب مصر        ۱/ ۴۷۵)
المحیط پھر فتح القدیر اواخر سجودالسہو میں ہے:
ما تردد بین البدعۃ والسنۃ ترکہ لان ترک البدعۃ لازم واداء السنۃ غیر لازم ۲؎۔
جب بدعت اور سنت کے درمیان تردد ہو تو سنت کو ترک کردیا جائے کیونکہ ترک بدعت لازم اور اداء سنت غیر لازم ہے ۔ (ت)
 (۲؎ فتح القدیر    باب سجود السہو             مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱/ ۴۵۵)
ظاہر ہے کہ اگر یہ شخص واقع میں سُنی ہو تو خاص اسی کو امام کرنا کچھ سنت بھی نہیں اور رافضی ہو تو اسے امام کرنا حرام قطعی جب سنت ومکروہ کے تردد میں ترک سنت کی علم ہو ا تو جائز وحرام قطعی کے تردد میں وہ جائز کیوں نہ واجب الترک ہوگا۔

دلیل دوم علماء فرماتے ہیں کہ جب کسی بات کے واجب و بدعت ہونے میں تردد ہو توترک نہ کی جائے ۔
فتح وحلیہ و بحر وردالمحتار وغیرہ میں ہے:
واللفظ لھذا فی النوافل قد تقرر ان مادار بین وقوعہ بدعۃ اوواجبا لا یترک ۱؎۔
بیان نوافل میں اس ( ردالمحتار) کے الفاظ یہ ہیں کہ یہ بات مسلمہ ہے جس کام کا وقوع بدعت اور واجب کے درمیان متردد ہو تو اسے ( یعنی واجب کو ) ترک نہیں کیا جائے گا ۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار ، باب الوتر والنوافل،  مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۱۶)
ظاہر ہے کہ یہ شخص سنی ہو تو اس کی جگہ دوسرا امام مقرر کرنا کچھ بدعت بھی نہیں اور رافضی ہو تو اسے معزول کرنا فرض قطعی جب بدعت و واجب کے تردد میں فعل ضروری ہوتاہے تو جائز و فرض قطعی کے تردد میں اسے معزول کرنا کیوں نہ اشد ضروری ہوگا۔

دلیل سوم: شرع مطہر کا قاعدہ مقرر ہے کہا
اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام ۲؎ ۔
جب ایک چیز میں حلت وحرمت دونوں وجہیں جمع ہوں توغلبہ حرمت کورہے گا اور وہ شے حرام سمجھی جائے گی ۔
کما فی الاشباہ والنظائر
 ( جیسا کہ اشباہ والنظائر میں ہے۔ت) یہ سنی ہو تو امامت حلال اور رافضی ہو تو حرام ، تو غلبہ حرمت ہی کو دیا جائےگا۔
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    القاعدۃ الثانیۃ اذا اجتمع الحلال الخ    ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۴۴)
Flag Counter