Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
132 - 185
الجماعۃ سنۃ مؤکدۃ للرجال وقیل واجبۃ وعلیہ عامۃ مشائخنا وھوالراجح عند اھل المذھب فتسن او تجب ثمرتہ تظھر فی الاثم بترکہا مرۃ۱؎ اھ ملتقطا۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
مردوں کے لئے جماعت سنت موکدہ ہے بعض نے واجب کہا ہے اور اکثر مشائخ اسی پر ہیں اور اہل مذہب کے ہاں بھی یہی راجح ہے پس جماعت سنت ہو یا واجب اس کا ثمر کسی ایک دفعہ ترک کی صورت میں ظاہر ہوگا اھ ملتقطا ۔ (ت)
واﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
 (۲؎ درمختار     باب لامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۸۲)

مسئلہ ۶۵۶: از ریاست جاورہ مکان عبدالمجید خان صاحب سر رشتہ دار ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ذابح البقر کی امامت کیسی ہے ؟
الجواب :جائز ہے جبکہ غلط خوانی یا بد مذہبی یا فسق وغیر ہا موانع شرعیہ نہ ہوں ذبح بقر کوئی مانع نہیں ۔واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ۶۵۷: حیات النبی ہونے سے خالد کو انکار ہے اور مدینہ طیبہ کی زیارت سے بھی ، حافظ قرآن مذکور کو انکار ہے یہاں تک کہ بہت سے مسلمانوں کو خانہ کعبہ سے لوٹا لایا اور نہ جانے دیا ایسے شخص کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ،کیا حکم ہے ؟ بنوا تو جروا
الجواب : خالد گمراہ بد دین ہے اسے امام بنانا جائز نہیں ، حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بلکہ جمیع انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کی حیات قرآن و حدیث واجماع سے ثابت ہے اور زیارت مدینہ طیبہ سے انکار رکھنا مسلمانوں کو لوٹا لانا کار شیطان وخلاف رائے مسلمانان ہے،
قال اﷲ تعالیٰ
وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُئْو مِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ وَسَاءَ تْ مَصِیْرًا ۱؎۔
واﷲ تعالیٰ اعلم

اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے جو مومنین کے علاوہ کسی کے راستے کی پیروی کرتا ہے ہم اسے اس طرف پھر دیتے ہیں جس طرف وہ پھر تا ہے اور اسے ہم جہنم میں ڈال دیں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے (ت)
 (۱؎ القرآن    ۴/ ۱۱۵)
مسئلہ ۶۵۸:مسئولہ عبد الرحیم صاحب ٹھلیا موہن پور ضلع بریلی ۵محرم الحرام یوم یکشنبہ ۱۳۲۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص دونوں کانوں سے بہت بہرا ہے تکبیر اولی کانوں سے نہیں ستنا ہے اور قرآن شریف بھی اس کو صحیح یاد نہیں ہے ، بیوی اس کی بے پردہ دکان پر چونے فروخت کرتی ہے، دوپٹہ موسم سرما میں گاڑھے کا اوڑھتی ہے اور موسم گرمی میں خاصہ وتن زیب کا اوڑھتی ہے اورکرتی دس گیارہ گرہ لانبی پہنتی ہے مگر کلائیاں ہر دو کھلی چوڑی آستنیوں کے باہر رکھتی ہے اور اس کے شوہر کا کلیا حال معلوم ہے بچشم خود دیکھتا ہے مگر کچھ ہدایت نہیں کرتا ہے اگر وہ ہدایت اپنی بیوی کو پردے کی کرے تو اس کی حالت بہرے ہونے سے اور صحیح نہ پڑھنے سے قابل پیش امام ہونے کے ہے یا نہیں؟ علاوہ گزارش مندرجہ بالا کے نہایت بد آواز بھی ہے اور جو شخص اُس کو ہدایت کرتا ہے تو اس حجت و تقریرجہالت کے ساتھ کرتا ہے ۔ بینوا توجروا
الجواب: جبکہ اس کی عورت کی کلائیں کھولے باہر پھرتی دکان کرتی ہے یا گرمیوں میں باریک کپڑے پہنے نکلتی ہے جن سے بدن چمکتا ہے اور اس کا شوہر ان احوال سے واقف ہو کر حسب مقدور کامل بندوبست نہیں کرتا تو وہ دیوّث ہے، اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور اسے امام بنانا گناہ ہے اور اگر وہ عورت کو ہدایت بھی کرے اوراس الزام سے توبہ کرکے پاک ہوجائے تو اس حالت میں بھی جبکہ وہ قرآن مجید ایسا غلط پڑھتا ہو جس سے نماز فاسد ہوتی ہے تو اس کی امامت بلکل باطل ہے اور اس کے پیچھے نماز اصلاً نہ ہوگی مگریہ الزام وہی لگا سکتے ہیں جو خود صحیح پڑھتے ہوں ور نہ ان کی خود بھی نماز نہیں ہوسکتی وہ سب ایک سے ہوئے، ان سب پر فرض ہے کہ حرفوں کی اتنی صحت کرلیں جس سے نماز صحیح ہوجائے ، جب تک ایسا نہ کریں گے ان سب کی نماز باطل ہوگی اور اگر غلطی وہ ایسی نہیں کرتا جس سے نماز فاسد ہو اور اس کے سوا اور کوئی صحیح پڑھنے والا وہاں نہیں تو لازم ہے کہ وہی امام کیا جائے اور بہرا ہونے کی پروا نہ کی جائے جبکہ وہ عورت کا بندوبست کرلے اور اگر اور بھی صحیح العقیدہ وغیرہ فاسق صحیح پڑھنے والا وہاں موجود ہے تو یہ اگر چہ صحیح بھی پڑھے اور عورت کا بندوبست بھی کرلے اس دوسرے صحیح خواں کی امامت اولیٰ ہوگی کہ جب یہ ایسا بہرا ہے کہ تکبیر کی آواز نہیں سنتا تو نماز میں اگر اس سے کہیں بھول یا غلطی واقع ہوئی مقتدیوں کا بتانا نہ سنے گا
واﷲ تعالیٰ اعلم وعلمہ وجل مجد ہ ا تم واحکم
مسئلہ ۶۵۹: از بھیکن پور ضلع علی گڑھ مرسلہ جعفر علی صاحب ۲۴ ربیع الاول ۱۳۲۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین بیچ امامت اس شخص کے کہ جو صرف حفظ قرآن وفارسی خواں ہو اور ایک مسجد کا امام تنخواہ دار لیکن بازار میں مسلمان سے لڑتا شور مغلظات الفاظ زبان پر لاتا ہو اور کبھی مسجد میں مؤذن سے سخت کلامی اور اس کی حسب ونسب پر مجمع مقتدیان میں الزام لگاتا ہو امؤذن و بعض مقتدیوںسے عرصہ سے کدورت وکینہ رکھتا ہو تنبیہ کرنے پر مقتدیوں پر الزام لگاتاہو کہ تم میری غیبت کرتے اور میری روزی چھیننے کی کوشش کرتے ہو اور اپنے قصور کا ہنوز اعتراف نہ کرتا ہو اور مؤذن سے سلام علیک ترک کردی ہو ایسے امام کی اقتداء بلا کراہت جائز ہے یا کچھ کراہت ہے؟ بینوا توجروا
الجواب: مسلمان سے بلاوجہ شرعی کینہ وبغض رکھنا حرام ہے اور بلا مصلحت شرعیہ تین دن سے زیادہ ترک سلام و کلام بھی حرام ہے ، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرمائے ہیں:
لا تبا غضوا ولاتحا سدوا ولا تدابروا وکونواعباداﷲ اخوانا۱؎۔
بغض نہ رکھو، حسد اور غیبت نہ کرو اور اﷲ کے بندے بن کر بھائی بھائی ہوجاؤ۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     باب الہجرۃ حدثنا        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/۸۹۷)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ علیہ وسلم:
لایحل لمسلم ان یھجراخاہ فوق الثلث ۱؎۔
کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ دوسرے بھائی سے تین دن سے زائد سلام وکلام قطع کرے۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری، الہجرۃ حدثنا الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/۲۹۷)
اور فحش بکنا خصوصاً برسرِ بازار معصیت وفسق ہے حدیث میں ہے رسول ﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس المومن بالطعان ولا الفحاش ف؎ ۲؎ ۔
مومن طعن کرنے والا نہیں ہوتا اور نہ ہی فحش بکتا ہے (ت)
 (۲؎ جامع الترمذی    باب ماجاء فی الغنۃ     مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲/۱۹)

(مسند احمد بن حنبل        باب سند عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ    مطبوعہ دارا الفکربیروت        ۱/ ۴۰۵)
ف: اعلحضرت کی ذکر کردہ عبارت میں '' الفحاش'' کا لفظ ہے جبکہ کتب احادیث جن سے حوالہ منقول ہے ان میں ''الفاحش'' کا لفظ ہے ۔ نذیر احمد سعیدی
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الحیاء من الا یمان والبذاء من النفاق ۳؎۔
حیاء ایمان کا حصہ ہے اور بے حیائی نفاق کا حصہ ہے ۔(ت)
 (۳؎ جامع الترمذی ،  باب ماجاء فی العیّ، مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲/ ۲۳)
خصوصاً اگر اس فحش میں کسی مسلمان مرد یا عورت کو زنا کی طرف نسبت کرتا ہو جیسے آج کل فحش لوگوں کی گالیوں میںعام طور پر رائج ہے جب تو اشد کبیرہ ہے ۔
قال اﷲ تعالیٰ
یعظکم اﷲ ان تعودوا لمثلہ ابد ان کنتم مومنین ۴؎۔
اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے: اﷲ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے تم آئندہ کبھی ایسی بات نہ کرو اگر تم اہل ایمان ہو (ت)
 (۴؎ القرآن                ۲۴/ ۱۷)
بالجملہ شخص مذکور فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکرہ تحریمی یعنی پڑھنی منع ہے اور پڑھ لی ہو تو پھیرنی واجب ۔
فتاوٰی حجہ پھر غنیـہ پھر ردالمختار میں ہے :
لوقدموا فاسقا یا ثمون۵؎۔
Flag Counter