Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
131 - 185
مسئلہ نمبر ۶۵۳: ۹رجب المرجب یوم یکشنبہ ۱۳۲۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس میں اوصاف حسب ذیل ہوں وُہ شخص لائقِ امامت ہے یا نہیں؟

(۱) نماز میں قرآن شریف جو پڑھتے ہیں اس میں کبھی نیچے کی آیت اوپر پڑھ جاتے ہیں کبھی آیت چھوٹ جاتی ہے۔

(۲) فجر کی نماز اکثر قضا پڑھا کرتے ہیں۔

(۳) ظہر کا وقت کبھی سونے میں گزر جاتا ہے ایسے تنگ وقت میںنماز پڑھتے ہیں کہ فرض پڑھتے ہی عصر کا وقت آجاتا ہے۔

(۴) مغرب کا وقت سیرِ بازار میں گزرتا ہے تنگ وقت میں واپس آتی ہیں،جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ مسجد کے امام ہیں اور نماز اورلوگوں کو پڑھانا پڑتی ہے تو اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ نماز کا میں کُچھ پابند نہیں ہوں۔

(۵) اپنے وضوکا لوٹا اور گھڑا نہانے کا علیحدہ رکھتے ہیں۔

(۶) ایک رافضی سے بے تکلفی ہے کہ اس کےساتھ کھانا کھاتے ہیں اور مسجد باہم دونوں کے مذاق بے تکلفانہ اور معشوقانہ ہُواکرتا ہے۔

(۷) نماز کے مسائل معلوم نہیں ہیں۔
الجواب: سہواً کسی آیت میں تقدیم وتاخیر یا کسی آیت کا چھوٹ جانا اگر نادراً ہو تو مضائقہ نہیں اور اکثر ایسا ہوتا ہے تو ایسے شخص کی امامت سے احتراز اولٰی ہے جبکہ دوسرا صحیح خواں صحیح العقیدہ صحیح الطہارت غیرفاسق معلن قابلِ امامت موجود ہو ،نماز فجر اتفاقاً قضا ہوجانے پر مواخذہ نہیں جبکہ اپنی طرف سے تقصیر نہ ہو ، مگر اکثر قضا ہونا بے تقصیر نہیں ہوتا ،اگر کوئی علّت صحیح شرعی قابلِ قبول نہ رکھتا ہو تو بے پروائی ضروراسے حدِ فسق تک پہنچائے گی ، اور فاسق کوامام بنانا منع ہے ۔جو شخص آفتاب ڈھلنے ظہر کاوقت شروع ہونے سے پہلے سوئے اور کسی مرض یا ماندگی کے سبب اتفاقاً ایساسوجائے کہ ظہر کا وقت گزر جائے تو اس پر الزام نہیں ۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لاتفریط فی النوم انما التفریط فی الیقظۃ۔۱؎ سونے میں قصور نہیں،قصور جاگنے میں ہے۔
 (۱؎ سنن ابوداؤد     باب فی من نام عن صلٰوۃ اونسیہا    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/۶۳)
اور اگر ظہر کاوقت آگیا یعنی آفتاب دائرہ نصف النہار سے ڈھل گیا اس کے بعد سویا اور وقت بلکل گزاردیا تو اس پر الزام ہے
کما نص علیہ فی ردالمحتار
 (جیسا کہ اس پرردالمحتار میں تصریح کی ہے۔ت)اور جبکہ اس کا عادی ہو ،بارہا ایسا واقع ہوتو ضرور فاسق ہے اُسے امام بنانا گناہ ،یونہی اگر اتنے سونے کا عادی ہو کہ فرض ظہر پڑھتے ہی وقت عصر واقعی آجاتا ہے سنّت کاوقت نہیں ملتا تو اس صورت میں بھی ترکِ سنّت مؤکدہ کی عادت کے سبب آثم وگنہ گار اورامام بنانے کا ناسزاوارہے، مغرب کاوقت سیرِ بازار میں تنگ کردینا اگر اتنا ہوکہ چھوٹے چھوٹے ستارے بھی ظاہر ہوجائیں کہ حقیقۃً تنگ وقت یہی ہے جب تو اُس کا مکروہ وممنوع ہونا ظاہر اور اگر اتنا بھی نہ ہوتواس قدر میں شک نہیں کہ جماعت یااقل درجہ جماعت اولٰی ضرور متروک ہوئی
وقد حققناہ فی فتاوٰنا ان الواجب ھو ادراک الجماعۃ الاولی
 (ہم نے فتاوٰی میں اس کی تحقیق یہ کی ہے کہ جماعت اولٰی کاپانا واجب ہے۔ت) تواُس کے ترک کی عادت بھی فسق ہے اور ایسے کی امامت ممنوع ،اور وُہ لفظ کہ میں نماز کا کچھ پابند نہیں ہوں اپنے ظاہر پر بد تر وشنیع تر فسق ہے ،اپنے وضو اورنہانے کے لئے برتن علیحدہ رکھنا اگر براہِ تکبّر ہو تو سخت کبیرہ اور براہ ِوہم ووسوسہ ہو جب بھی ممنوع ،اس کا مرتکب فاسق افسق ہے یاوہمی احمق، دین اسلام میں نہ چھوت ہے نہ وساوس پروری ۔روافض زمانہ علی العموم کفار ومرتد ہیں
کما حققناہ فی ردالرفضۃ
(جیسا کہ ہم نے ردالرفضہ میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ت) اور مرتدین سے میل جول حرام ۔اور مسجد میں ایسامذاق سُنّی صحیح العقیدہ سے بھی حرام ۔لاجرم شخص مذکور سخت فاسق وفاجر مرتکب کبائر ہے اور اُس کی امامت ممنوع ۔اُسے امام بنانا حرام ،اُس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ،اور نماز کے مسائلِ ضروریہ کانہ جاننا بھی فسق ہے،بہرحال شخص مذکور کی امامت کی ہرگز اجازت نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۵۴: ازفیض آبادڈاکخانہ شہزاد پور     مرسلہ عبداﷲ طالب علم    ۱۳۲۴ھ

کیا فرماتے ہیں ومفتیان شرع متین آیا زانی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں ،کیونکہ اس مسئلہ میں بہت جھگڑا پیدا ہوگیا ہے یہاں تک کہ حالت گزرگئی کہ نمازِجماعت میں تفرق ہوگیا ہے ،حدیث اور کتاب کی سند ہونا چاہئے ۔بینواتوجروا
الجواب: زانی فاسق اور فاسق کے پیچھے نماز منع ہے ،اُسے امام بنانا گناہ ہے اُس کے پیچھے جو نمازیں پڑھی ہوں ان کا پھیرنا واجب ہے ۔
ردالمحتار میں ہے :
مشی فی شرح المنیۃ علی ان کراھۃ تقدیمہ (یعنی الفاسق) کراھۃ تحریمہ۱؎۔
شرح المنیہ میں ہے کہ اس(فاسق) کی تقدیم مکروہ تحریمی ہے(ت)
 (۱؎ ردالمحتار ،  باب الامامۃ ،  مطبوعہ مصطفی البابی مصر ،   ۱/۴۱۴)
درمختار میں ہے :
کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا۲؎۔
ہر وُہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے اُس کا اعادہ واجب ہے۔(ت)
 (۲؎ درمختار        باب صفۃ الصلٰوۃ   مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی         ۱/۷۱)
مسئلہ نمبر۶۵۵: ازگونڈہ ملک اودھ    مرسلہ مسلمانانِ گو نڈہ عموماً وحافظ عبدالحفیظ صاحب مدرس مدرسہ انجمن اسلامیہ گونڈہ     ذی الحجہ۱۳۲۴ھ

زید صاحب علم متین ہے یعنی عالم ہے اور سیّد ومعمروپابندِصلٰوۃ ہے مگر اکثر جماعت سے نماز ادا نہیں کرتا اپنے گھر پر پڑھ لیتا ہے لیکن جمعہ کے روز مسجد میں امامت کرتا ہے اور کثرت سے لوگ اس کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں مگر بعض اشخاص اس کے پیچھے نماز سے اعتراض کرتے ہیں مگر اعتراض کنندہ زید سے ہر بات میں کم رتبہ ہیں اور محتاط و متقی بھی نہیں ہیں اور نفسا نیت و ضد بھی ہے اور پیشتر یہ معترض بھی اس کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو پس زید کے پیچھے نماز پڑھنی ایسے اشخاص مذکورہ بالا کی درست ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب: زید کا ترک جماعت کرنا اگر کسی عذر صحیح شرعی کے سبب ہے تو زید پر مواخذہ نہیں اور اس کے پیچھے ہر نماز بلا کراہت درست ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو اشخاص مذکورین کا اس کی اقتداء سے ا حتراز اس صورت میں محض جہالت و بیجا ہے ، اوراگر وہ بلا عذر شرعی ترک جماعت کا عادی ہے تو یہ ضرور فسق ہے اور اس تقدیر پر اس کی اقتدا سے بچنا بجا ہے جبکہ جمعہ دوسری جگہ صالح امامت متقی کے پیچھے مل جاتا ہو ورنہ صرف اس عذر سے کہ امام تارک جماعت ہے ترک جمعہ کی اجازت نہیں ہوسکتی ۔
ردالمحتار میں ہے:
فی المعراج قال اصحابنا لا ینبغی ان یقتدی بالفاسق الا فی جمعۃ لانہ فی غیرھا یجد امام غیرہ اھ۔ قال فی الفتح و علیہ فیکرہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقا متھا فی المصر علی قول محمد المفتی بہ لانہ بسبیل الی التحول ۱؎۔
معراج میں ہے ہمارے اصحاب احناف نے کہا ہے کہ جمعہ کے علاوہ فاسق کی اقتداء نہ کی جائے کیونکہ جمعہ کے علاوہ باقی نمازوں میں دوسرا امام میسر آسکتا ہے اھ۔ فتح میں ہے اس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جمعہ بھی اس وقت مکروہ نہ ہوگا جب امام محمد کے قول جو مفتی بہ ہے کے مطابق شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہوتا ہو، کیونکہ ایسی صورت میں دوسرے امام کی اقتداء میسر ہوسکتی ہے (ت)
 (۱؎ ردالمحتار ،  باب لامامۃ  ،  مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۴۱۴)
درمختا میں ہے :
Flag Counter