Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
130 - 185
لایعتمد علی الخط ولایعمل بہ ۴؎
 (تحریر پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کے

مطابق عمل کیاجائے گا۔ت)
(۴؎ الاشباہ والنطائر ،کتاب القضاء ، مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ،  ۱/۳۳۸)
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
الکتاب قد یفتعل ویزور والخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تحریر کبھی جعلی اور جھوٹی ہوتی ہے اسی طرح کبھی تحریر تحریر کے اور مُہرمُہر کے مشابہ ہوتی ہے۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۱؎ فتاوی ہندیہ    الباب الثالث والعشرون فی کتاب القاضی الی القاضی         مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/۳۸۱)
 (۷) زمانہائے خلافت میں سلاطین خود امامت کرتے اور حضور عالمِ مکان ومایکون صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ ان میں فسّاق و فجّار بھی ہونگے فرمایا کہ
ستکون علیکم امراء یؤخرون الصلٰوۃ عن وقتھا۲؎
 (تم پر ایسے امراء وارد ہوں گے جو نمازوں کو وقت سے مؤخر کرینگے ۔ت)
(۲؎ مسند الامام احمد بن حنبل مروی عن عبادہ بن الصامت، مطبوعہ دارالفکر بیروت ،  ۵/۳۱۴)
اور معلوم تھا کہ اہل صلاح کے قلوب ان کی اقتداء سے تنفر کریں گے اور معلوم تھا کہ اُن سے اختلاف آتشِ فتنہ کو مشتعل کرنے والا ہوگا اور دفع فتنہ دفع اقتداء فاسق سے اہم واعظم تھا ۔
قال اﷲ تعالٰی
والفتنۃ اکبر من القتل ۳؎۔
 (فتنہ قتل سے بڑاو بدتر ہوتا ہے۔ت)
(۳؎ القرآن    ۲/۲۷۱    )
لہذا دروازہ فتنہ بند کرنے کے لئے ارشاد ہوا:
صلواخلف کل بر وفاجر۴؎
 (ہر نیک وفاجر کے پیچھے نماز ادا کرو۔ت)
 (۴؎سنن الدارقطنی     باب صفۃ من تجوز الصلٰوۃ الخ        مطبوعہ نشر السنۃ ملتان        ۲/۵۷)
یہ اس باب سے ہے:
من ابتلی ببلیتین اختاراھونھما
 (جوشخص دومصیبتوں میں مبتلا ہوجائے تو ان میں آسان کو اختیار کرے۔ت)اور فقہا کا قول
تجوز الصلاۃ خلف کل بروفاجر
 (ہر نیک وفاجرکے پیچھے نماز ادا کرنا جائز ہے۔ت) اُسی معنی پر ہے جو اوپر گزرے کہ نماز فاسق کے پیچھے بھی ہوجاتی ہے اگر چہ غیر معلن کے پیچھے مکروہ تنزیہی اور معلن کے پیچھے مکروہِ تحریمی ہوگی مگر ان مدعیوں کے لئے اس حدیث و مسئلہ فقہ میں کوئی حجت وسند نہیں نفسِ جواز وصحت سے مساوات کیونکر نکلی کہ منافی ترجیح ہو ،اﷲ تعالٰی فرماتا ہے :
ام نجعل المتقین کالفجار۵؎
 (کیاہم صاحب تقوٰی کو فاجر لوگوں کے برابر کردیں گے۔ت)
(؎۵القرآن ۳۸ /۲۸)
یہی فقہاء برابر تصریح فرماتے ہیں کہ امامت کااحق اعلم قوم کو ہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ،پھر جواز بھی غیر نماز جمعہ و عیدین و کسوف میں ہے ان نمازوں کی شرط وہ تنگ ہے کہ بے امامت عامہ بمعنی مذکور کسی صالح متقی کے پیچھے بھی نہیں ہوسکتی ''کما تقدم بیانہ'' پھر عجب تناقص ہے کہ اپنا استحقاق جتانے کے لئے تو امامت خاص اپنے خاندان کے لئے محصور کردیں کہ خاندان سے باہر کسی عالمِ دین کو بھی اُس کا استحقاق نہ مانیں اور عالمِ دین کی ترجیح رفع کرنے کو کل بروفاجر کا دامن تھامیں اور اسی امامت کو ہر نیک وبد کا مساوی حق قرار دیں ۔جب صالح وطالح اُس میں یکساں ہیں تو تمھارے خاندان کی خصوصیت کہاں ہے اور جب ہر فاسق وبدکار کے پیچھے روابتاتے ہوتو عالم دین صالح ثقہ متقی سے کیوں اُلجھتے ہو،معلوم ہُوا کہ اپنے ہوائے نفس کے پیرو ہیں باقی بس،اﷲ تعالٰی اتباع شرع واطاعت علمائے دین کی توفیق بخشے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۵۱: ۲۱ ذی قعدہ۱۳۲۲ھ: اندھے کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی یاتحریمی ہے یا نہیں اور یہ امامت کے واسطے سزاوارہے یا نہیں اور مولانا روم کے اس شعر کا کیا مطلب ہے: ؎ 

در شریعت ہست مکروہ اے کیا    درامامت پیش کردن کور   را

گرچہ حافظ باشد وچست وفقیہ    چشم روشن بہ دگر باسد سفیہ
الجواب: اندھا اگر تمام موجودین میں سب سے زیادہ مسائل کا جاننے والا نہ ہو اور اس کے سوا دوسرا صحیح القرأت صحیح العقیدہ غیرفاسق معلن حاضر جماعت ہے تو اندھے کی امامت مکروہ تنزیہی ہے اور اگر وہی سب سے زیادہ علم نماز رکھتا ہے تو اسی کی امامت افضل ہے،اگر حاضرین میں دوسراصحیح خواں بدمذہب یافاسق ملعن ہے اور اندھا ان سب عیبوں سے پاک ہے تو اسی کی امامت ضرور ہے، اور اگر صحیح خواں صرف وہی ہے جب تواصلاً دوسرا قابلِ امامت ہی نہیں۔
دُرمختار میں ہے:
یکرہ تنزیھا امامۃ اعمی الا ان یکون اعلم القوم فھواولٰی اھ ۱؎
نابینے شخص کی امامت مکروہ تنزیہی ہے البتہ اس صورت میں اس کی امامت اولٰی ہوگی جب وہ دوسروں سے زیادہ صاحب علم ہو اھ مختصرا(ت)
 ( ۱؎ درمختار        باب الامامۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۸۳)
حضرت مولو ی قدس اﷲ تعالٰی اسرارنا بسرہ النوری اُن آنکھوں میں کلام فرتے ہیں جن سے انھیں کام ہے جس کی چشم باطن روشن ہے اگر چہ علم بطور رسمی حاصل نہ کیا ہو علم رسمی کے عالم غیر عارف سے افضل واحق بالتقدیم ہے علمِ لدنّی علمِ رسمی سے بدرجہا اجل واکمل ہے۔
قال اﷲ تعالٰی
واتقوااﷲ ط ویعلمکم اﷲ ۲؎
اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے اور اﷲ سے تقوٰی اختیار اور اﷲ تعالٰی ہی تمھیں علم کی دولت سے نوازتا ہے،
 (۲؎ القرآن        ۲/۲۸۲)
وقا ل اﷲ تعالٰی
قل ھل یستوی الذین یعملون والذین لایعلمون ۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔ اﷲتعالٰی کا یہ فرمان ہے کیا علم والے اور بے علم برابر ہوسکتے ہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ القرآن        ۳۹/۹)
مسئلہ نمبر ۶۵۲: از گندہ نالہ     مرسلہ وزیر احمد     ۹ جمادی الاخری یوم شنبہ ۱۳۲۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید تمسکات میں سُود لکھوادلیتا ہے اور بیان کرتا ہے کہ میں صرف لکھوا لیتا ہوں اور چار پانچ برس ہوئے کہ اُس نے مع سود نالش کرکے ڈگری کرائی تھی اس صورت میں اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب : ہر گز نہیں، جس طرح سُود لینا حرام ہے یونہی سُود لکھوانا حرام ہے بلکہ حدیث میں دوسرے کے لئے سُود کاکاغذلکھنے پر لعنت فرمائی ۲؎، اور ارشاد فرمایا کہ وہ اور سود لینے والا دونوں برابر ہیں۳؎، تو خود اپنے لئے سود لکھوانا کیونکر موجبِ لعنت نہ ہوگا اور یہ زعم کہ میں لیتا نہیں محض اس کا اپنا ادعا ہے کہ قبول نہ ہوگا اور اگلی نالش مع سود اس کے کذب پر گواہ ہے غرض وہ فاسق ہے اور اسکے پیچھے نماز مکروہ تحریمی قریب بحرام واجب الاعادہ ہے یعنی نادانستہ پڑھ لی جب معلوم ہو جتنی نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہوں سب کا دُہرانا واجب ہے اور دانستہ پڑھی تو نماز دُہرانا جدا واجب ،اور اسکے پیچھے پڑھنے کا گناہ علاوہ۔لہذا توبہ کرے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
 ( ۲؎ صحیح مسلم        باب الرباء        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/۲۷)

(۳؎ صحیح مسلم	 باب الرباء 	مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی	۲/۲۷)
Flag Counter