اذاخلی الزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور مؤکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم یصیرون ولاۃ فاذاعسر جمھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم فان استووا اقرع بینھم ۲؎۔
جب زمانہ ذی کفایت سلطان سے خالی ہوجائے تو معاملات علماء کے سپرد کئے جائیں اورامت پر ان علماء کی طرف رجوع لازم ہوگا اور وہی حکمران کہلوائیں گے اگر کسی معاملہ پر سب کا اتفاق مشکل ہوجائے توہر علاقہ والے اپنے علماء کی اتباع کریں،اگر زیادہ علماء ہوں تو جو ان میں سب سے زیادہ صاحب علم ہو اس کی اتباع کریں ، اگر سب برابر ہوں تو قرعہ اندازی کرلی جائے (ت)
(۲؎ حدیقہ ندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ النوع الثالث فی بیان العلوم المندوب الیہا مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/۳۵۱)
اﷲعزّوجل فرماتا ہے :
اطیوااﷲ واطیعواالرسول واولی الامر منکم ۱؎۔
اﷲ کی اطاعت کرواور اس کے رسول کی اطاعت کرواور اپنوں میں سے اولی الامر کی اطاعت کرو۔(ت)
(۱؎ القرآن ۴/۵۹)
آئمہ دین فرماتے ہیں صحیح یہ ہے کہ آیہ کریمہ میں اولی الامر سے مراد علمائے دین ہیں
نص علیہ العلامۃ الزرقانی فی شرح المواھب وغیرہ فی وغیرہ
(اس پر علامہ زرقانی نے شرح المواہب اور دیگر علماء نے اپنی کتب میں تصریح کی ہے ۔ت)
دُرمختار میں ہے:
نصب العامۃ الخطیب غیر معتبرمع وجود من ذکر اما مع عدمھم فیجوز للضرورۃ ۲؎۔
عوام کا خطیب مقرر کرنا اس وقت معتبر نہیں ہے جبکہ مذکورہ افراد موجود ہوں، اگر مذکورہ افراد نہ ہوں تو عوام کا خطیب مقرر کرنا ضرورت کے تحت جائز ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار باب الجمعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۱۰)
فتاوٰی قاضی خان و دُرمختار وغیرہما میں ہے :
خطیب بلا اذن الامام والامام حاضر لم یجز ۳؎
اگر کسی نے امام کی اجازت کے بغیر خطبہ دیاحالانکہ امام حاضر تھا تو یہ جائز نہیں
(۳؎ ردالمحتار باب الجمعہ مصطفی البابی مصر ۱/۵۹۴)
الا ان یکون الامام امرہ بذلک ۴؎ واﷲ تعالٰی اعلم ۔
البتہ اس صورت میں جائز ہوگا جب امام نے اسے اس بات کا حکم دیا ہو ۔(ت)
(۴؎ فتاوٰی قاضی خان باب صلٰوۃ الجمعہ مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ ۱/۸۶)
(۶) عالم سے اُن کی منازعت مذموم وممنوع اور ان کا دعوٰی مردود ونامسموع ، جوابات سابقہ میں واضح ہولیا کہ امامت میں وراثت نہیں ، نہ وہ کسی کاحقِ خاندانی ہے بلکہ حقِ علمائے دین ہے اور انھیں کو تقدیم و ترجیح ہے خصوصاً امامت جمعہ و عیدین کہ یہاں بے اُن کے اذن کے محض باطل ہے اور سالہاسال تک عالم کا امامت کرنا اور ان کا معترض نہ ہونا دلیل واضح ہے کہ وہ عامیانہ خیالا ت کے طور پر بھی کوئی استحقاق محکم اس کا نہ رکھتے تھے کہ ان کے خاندانی سے باہر کوئی امام نہ ہو، نہ اس وقت ان کے پاس کوئی سندتھی ورنہ ضرور ظاہر کرتے ،امامت اگر ان کا خاندانی حق ہوتی ہر گز سالہاسال دوسرے کو اُس میں تصرّف کرتے دیکھ کر ساکت نہ رہتے ، اب کہ منازعت تازی بات (نیامعاملہ) ہے جس طرح ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ جب ایک شخص کسی شےئ میں برسوں تصرف کرے اوردوسرا دیکھے اور مانع نہ ہو پھر دعوٰی کرے کہ میرا حق ہے تو اس کا دعوٰی ہر گز مسموع نہ ہو گا ۔
عقودالدریہ میں فتاوٰی علّامہ غزی سے ہے:
سئل عن رجل لہ بیت فی داریسکنہ مدۃ تزید علی ثلث سنوات ولہ جار بجانبہ والرجل المذکوریتصرف فی البیت المذبور ھدما وعمارۃ مع اطلاع جارہ علی تصرفہ فی المدۃ المذکورۃ تسمع دعواہ ام لا اجاب لا تسمع دعواہ علی ما علیہ الفتوی۱؎۔
ایک ایسے آدمی کے بارے میں پُوچھا گیا جس کا ایک گھر ہے وہ اس میں تین سال سے زائد عرصہ سے قیام پذیر ہے اور اس کی ایک جانب پڑوسی بھی ہے مذکورہ شخص اس گھرمیں گرانے اور بنانے ہرطرح کا تصرف کرتا ہے اور مدّت مذکورہ میںاس کا پڑوسی اس کے تصرف سے آگاہ بھی ہے توکیا اس کا دعوٰی قابل سماعت ہوگا یا نہیں؟ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ مفتی بہ قول کے اس کا دعوٰی قابل سماعت نہیں۔(ت)
(۱؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الدعوٰی حاجی عبدالغفاروپسران تاجران کتب ارگر بازار قندھار (افغانستان) ۲/۴)
اسی میں ہے :
مجرد الاطلاع علی التصرف مانع من الدعوی۲؎۔
تصرف پر محض اطلاع ہی دعوٰی سے مانع ہوتی ہے ۔(ت)
(۲؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الدعوٰی حاجی عبدالغفاروپسران تاجران کتب ارگر بازار قندھار(افغانستان) ۲/۴)
اور مجردسند اگرچہ مہری ہوکوئی حجّت شرعی نہیں، نہ ہرگز ثبوت میںپیش ہونے کے قابل ۔
فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے:
احضر صکاً فیہ خطوط العدول والقضاۃ الماضیین وطلب من القاضی القضاء بذلک الصک قالوا لیس للقاضی ان یقضی بذلک الصک لان القاضی انما یقضی بالحجۃ والحجۃ ھی البینۃ اوالاقرار واما الصک فلا یصلح حجۃ لان الخط یشبہ الخط ۳؎۔
کسی شخص نے ایسا اشٹام پیش کردیا جس میں ماضی کے حکمران اور قاضیوں کے دستخط تھے اور قاضی سے اس اشٹام کے مطابق فیصلہ چاہا تو فقہاء کہتے ہیں کہ قاضی اس اشٹام کے مطابق فیصلہ نہیں کرسکتا کیونکہ قاضی دلیل و حجّت کا پابند ہوتا ہے اور حجت گواہ یا اقرار کانام ہے، رہا معاملہ اشٹام کا وہ قابل حجت نہیں کیونکہ تحریر ایک دوسرے سے مشابہ ہوسکتی ہے۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فی دعوی الوقوف والشہادۃ علیہ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۴/۷۴۲)