Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
128 - 185
 (ان بیویوں کے لئے آٹھواں حصہ ہے اگر خاونداولاد چھوڑ گئے ہوں۔ت)
(۲؎القرآن        ۴/۱۲)
آٹھویں دن کی امامت بی بی کو ملے بلکہ پیٹ کے بچّے بھی امامت کا حصہ پائیں کہ شرعاً وارث تو وہ بھی ہیں،عورات واطفال کا اصلاً اہلِ امامت نہ ہونا ہی دلیل واضح کہ امامت میں وراثت نہیں کہ وراثت خاندانی اُسی شیئ میں جاری ہوسکتی ہے جو ہر وارث کو پہنچ سکے بلکہ سب کو معاً پہنچنا لازم ،اور امامت میں تعدد محال ،تو کس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ امام کے بعد اُس کے وارثوں ہی میں امامت ضرور ہے ،یہ صریح جہل مبین ہے ۔
ردالمحتار میں ہے :
اعتقادھم ان خُبزالاب لابنہ لایفید لمافیہ من تغیر حکم الشرع ومخالفۃ شرط الواقف واعطاء الوظائف من تدریس وامامۃ وغیرھا الی غیر مستحقھا۳؎
ان کا یہ اعتقاد کہ باپ کی روزی بیٹے کے لئے ہے مفید نہیں،کیونکہ اس میں حکمِ شرع کی تبدیلی ہے اور واقف کی شرط کی مخالفت ہے اور تدریس ،امامت وغیرہ پر غیر مستحق کے لئے وظائف کا عطا کرنا ہے۔
 (۳؎ ردالمحتارمطلب فیما شاع فی زماننا من تفویض نظر الاوقاف للصغیر    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۳ /۴۲۲)
وکذلک اعتقادھم ان الارشد اذا فوض واسند فی مرض موتہ لمن اراد صح لان مختار الارشد  ارشد فھو باطل لان الرشد صفۃ قائمۃ بالرشید لاتحصل لہ بمجرد اختیار غیرہ لہ کما لا یصیرالشخص الجاھل عالما بمجرد اختیار الغیرلہ فی وظیفۃ التدریس وکل ھذہ امورنا شئۃ عن الجہل واتباع العادۃ المخالفۃ لصریح الحق بمجرد تحکیم العقل المختل ولاحول ولا قوۃ الّا باﷲ العلی العظیم ۱؎ (ملخصا) واﷲ تعالٰی اعلم
اسی طرح ان کا یہ اعتقاد کہ زیادہ صاحب عقل اپنی مرضِ موت میں جب اپنی مرضی کے مطابق کسی کوک حقوق تفویض کردیتاہے توصحیح ہے کیونکہ عقلمند کا اختیار درست ہی ہوتا ہے ،پس یہ باطل کیونکہ وقف کے معاملات میں رشد ایسی صفت ہے جو رشید کے ساتھ قائم ہوتی ہے ،یہ محض غیر کی پسندیدگی کی وجہ سے کسی کو حاصل نہیں ہوجاتی ،جیسا کہ جاہل شخص کے لئے غیر کے محض وظیفہ تدریس پسند کرنے سے جاہل عالم نہیں بن سکتا ،یہ تمام امور جہالت اور ایسی عادت پر مبنی ہیں جو عقل میں خلل کی بنا پر صریح حق خلاف حکم جاری کرتی ہے لاحول لاقوۃالّا باﷲالعلی العظیم (ملخصاً) واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 ( ۱؎ ردالمحتار مطلب فیما شاع فی زماننا من تفویض نظر الاوقاف للصغیر    مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۳/۴۲۲ )
 (۲) اہلسنت کے مذہب میں امامت حق خاندانی نہیں کہ یہ رافضیوں میں جاہل رافضیوں کاخیال ہے۔ اسی بنا پر ان کے نزدیک امامت بعد حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حق امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ تھی۔ شیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کو معاذ اﷲ ناحق پہنچی کہ مولٰی علی حضور کے خاندان اقدس میں سے تھے نہ شیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین ،آج تک اُن کے جہال عوام کو یہی بہکاتے ہیں کہ خاندان کی چیز خاندان سے باہر نہیں جاسکتی صدیق و فاروق کیونکر مستحق ہوگئے، اور اہلسنت یہی جواب دیتے ہیں کہ یہ دنیوی وراثت نہیں دینی منصب ہے اور میں وہی مستحق ومقدم رہے گا جو افضل ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم

(۳) امامت اصل حق حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ہے کہ نبی اپنی امّت کا امام ہوتاہے
قال اﷲ تعالٰی
انّی جاعلک للنّاس اماما۲؎
 (اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے بلا شبہ میں آپکو لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ت)
 (۲؎ القرآن    ۲/۱۲۴)
اب حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تو نبی الانبیاء وامام الائمہ ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، اور ہرعاقل جانتا ہے جہاں اصل تشریف فرما نہ ہو وہاں اُس کا نائب ہی قائم ہوگا نہ کہ غیر اور تمام مسلمان آگاہ ہیں کہ علمائے دین ہی نائبانِ حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہیں نہ جہال ،تو امامت خاص حقِ علماء ہے اس میں جہال کواُن سے منازعت کا اصلاً حق نہیں ،ولہذا علمائے کرام نے تصریح فرمائی ہے احق بالامامۃ اعلم قوم ہے:
تنویرالابصار ودُرمختار وغیرہما میں ہے:
الاحق بالامامۃ تقدیما بل نصبا مجمع الانھر الاعلم باحکام الصلٰوۃ۱؎۔
امامت کے لئے مقدم ہونے بلکہ مقرر کرنے میں زیادہ حقدار وہ ہے مجمع الانہر جو شخص احکامِ نماز سے زیادہ آگاہ ہو۔(ت)
(۱؎ دُرمختار             باب الامامۃ             مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۸۲)
 (۴) بیشک جو عالمِ دین کے مقابل جاہلوں کو امام بنانے میں کوشش کرے وہ شریعتِ مطہرہ کا مخالف اور اﷲ ورسول اور مسلمانوں سب کا خائن ہے۔حاکم،وعقیلی ،طبرانی وابن عدی وخطیب بغدادی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی حضورپُر نور سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
من استعمل رجلا من عصابۃ وفیھم من ھوارضی اﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین ۲؎۔
جوکسی جماعت سے ایک شخص کو کام مقرر کرے اور اُن میں وُہ موجود ہو جو اﷲ عزوجل کو اس سے زیادہ پسندیدہ ہے بیشک اس نے اﷲ ورسول اور مسلمانوں سب کے ساتھ خیانت کی۔(ت)
 (۲؎ المستدرک علی الصحیحین الامارۃ امانۃ                مطبوعہ دارلفکر بیروت    ۴/۹۲)
ف:مستدرک میں فیھم کی جگہ فی تلک العصبابۃ کا لفظ ہے۔    نذیر احمد سعیدی
 (۵) امامت جمعہ وعیدین وکسوف ،امامت نماز پنجگانہ سے بہت تنگ تر ہے ۔پنجگانہ میں ہر شخص صحیح الایمان،صحیح القرأۃ،صحیح الطہارۃ،مردعاقل ،بالغ، غیرمعذور امامت کر سکتا ہے یعنی اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی اگرچہ بوجہ فسق وغیرہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو
تجوز الصلاۃ خلف کل بروفاجر
 (نماز ہرنیک وفاجر کے پیچھے جائز ہے۔ت) کے یہی معنی ہیں مگر جمعہ و عیدین و کسوف میں کوئی امامت نہیں کرسکتا اگرچہ حافظ قاری متقی وغیرہ وغیرہ فضائل کا جامع ہو مگر وُہ جو بحکم شرع عام مسلمانوں کا خود امام ہو کہ بالعموم اُن پر استحقاقِ امامت رکھتاہو، یا ایسے امام کا ماذون و مقرر کردہ ہو اوریہ استحقاق علی الترتیب صرف تین طور پر ثابت ہوتا ہے۔

اوّل: وہ سلطان اسلام ہو۔

ثانی: جہاں سلطنت اسلام نہیں وہاں امامتِ عامہ اس شہر کے اعلم علمائے کو ہے۔

ثالث: جہاں یہ بھی نہ ہو وہاں بمجبوری عام مسلمان جسے مقرر کرلیں، بغیر ان صورتوں کے جو شخص نہ خود ایسا امام ہے نہ ایسے امام کا نائب وماذون ومقرر کردہ ،اس کی امامت ان نمازوں میں اصلاً صحیح نہیں، اگر امامت کرےگا نماز باطل محض ہوگی،جمعہ کا فرض سر پر رہ جائے گا، ان شہروں میں کہ سلطانِ اسلام موجود نہیں اور تمام ملک کا ایک عالم پر اتفاق دشوار ہے ،اعلم علمائے بلد کہ اس شہر کے سنّی عالموں میں سب سے زیادہ فقیہ ہو ،نماز کے مثل مسلمانوں کے دینی کاموں میںان کا امام عام ہو اور بحکم قرآن عظیم اُ ن پر اُس کی طرف رجوع اور اسکے ارشاد پر عمل فرض ہے ، جمعہ وعیدین وکسوف کی امامت وہ خُود کرے یا جسے مناسب جانے مقرر کرے اُس کے خلاف پر عوام بطور خود اگر کسی کو امام بنالیں گے صحیح نہ ہوگا کہ عوام کاتقرر بمجبوری اس حالت میں روا رکھا گیا ہے جب امام عام موجود نہ ہو ،اُس کے ہوتے ہوئے اُن کی قرارداد کوئی چیز نہیں۔
تنویر الابصار ودرمختارباب الجمعہ میں ہے:
یشترط لصحتھا سبعۃ اشیاء الاول المصر وفناء ہ والثانی السلطان اومامورہ باقامتھا۱؎۔
جمہ کی صحت کے لئے سات۷ اشیاء کا ہونا شرط ہے پہلی شہر اور فناءِ شہر ، دوسری خودبادشاہ یا وُہ شخص جس کو بادشاہِ وقت نے جمعہ قائم کرنے کی اجازت دی ہو۔(ت)
 (۱؎ درمختار    باب الجمعۃ     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۰۹)
فتاوٰی امام عتابی پھر حدیقہ ندیہ شرح محمدیہ مطبوعہ مصر جلد اول ص ۲۴۰ میں ہے :
Flag Counter