الاقتداء بالشافعی علی ثلثۃ اقسام الاول ان یعلم منہ الاحتیاط فی مذھب الحنفی فلا کراھۃ ،الثانی ان یعلم منہ عدمہ فلاصحۃ ، لکن اختلفوا ھل یشرط ان یعلم منہ عدمہ فی خصوص مایقتدی بہ او فی الجملۃ صحح فی النھایۃ الاول وغیرہ اختار الثانی ،وفی فتاوی الزاھدی (اذا راہ احتجم) ثم غاب فالاصح انہ یصح (الاقتداء بہ لانہ یجوزان یتوضأ احتیاطاً) وحسن الظن بہ اولی، الثالث ان لایعلم شیئا فالکراہۃ۲؎۔
شافعی امام کی اقتداء کی تین صورتیں ہیں،پہلی صورت یہ ہے کہ شافعی سے مذہب حنفی کی رعایت کرنا معلوم ہوتو اس کی اقتداء میں کراہت نہیں ۔دوسری صورت یہ ہے کہ اس سے عدمِ رعایت معلوم ہو تو اسکی اقتداء درست نہیں، لیکن فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا یہ شرط ہے کہ اس سے عدمِ رعایت کا علم خاص اس نماز کے اعتبار سے ہے جس میں اقتداء مطلوب ہے یافی الجملۃ کا اعتبار ہے۔نہایہ میں پہلے قول کو صحیح قرار دیا ہے اور دیگر کتب نے دوسرے قول کو اختیار کیا ہے اور فتاوٰی زاہدی میں ہے کہ جب کوئی حنفی شافعی کو دیکھے کہ اس نے پچھنے لگوائے پھر وہ غائب ہوگیا تو اصح مذہب یہ ہے کہ اس کی اقتداء درست ہے کیونکہ ممکن ہے اس نے احتیاطاً وضو کرلیا ہو اور اس کےساتھ حسنِ ظن رکھنا بہتر اور اولٰی ہے۔تیسری صورت یہ ہے کہ امام کے بارے میں کسی قسم کا علم نہ ہو(یعنی رعایت کا نہ عدمِ رعایت کا) تو اس صورت میں اس کی اقتداء مکروہ ہوگی۔(ت)
ف:اس عبارت میں قوسین کے درمیان والی عبارت کا اضافہ ضرورت کے تحت کیا ہے اصل میں عبارت ملخصاً مذکور ہے جو قوسین سے باہر ہے ۔نذیر احمد
پس صورت مستفسرہ میں اگر صاحب دوم میں کوئی امر مفسد نماز ہے مثلاً قرآن عظیم کی غلط خوانی بحدافسادمعنی یا اس خاص نماز کے وقتِ طہارت وغیرہا کسی شرطِ نماز یا شرطِ امامت کا فوت ، جب تو ظاہر ہے کہ اس کی امامت کے کوئی معنی ہی نہیں ۔اب اگر صاحب اول میں کوئی وجہ کراہت تحریم نہ ہو تو اس کی امامت میں حرج نہیں ،مگر بوجہ اجتماع امردیت وحسنِ صورت اولٰی یہ ہے کہ کسی اور صحیح العقیدہ صحیح خواں کو امام کریں جس میں اصلاً کوئی وجہ کراہت نہ ہو اور اگر صاحب اول میں کراہت تحریم ہے تو واجب کہ دونوں کو چھوڑیں اور کسی اورصالح امامت کی اقتداء کریں،اسی طرح اگر صاحب دوم میں کوئی امر موجب کراہت تحریم ہے مثلاً داڑھی حدِ شرع سے کم کرنا یا فرائض و شرائطِ نماز میں مذہب حنفی کی پروا نہ کرنا اگر چہ یہ دو۲ یا ایک بار اس کے افعال سے مشاہدہ ہوا ہو اور صاحب اول میں کوئی تحریم نہیں جب بھی یہی حکم ہے کہ صاحبِ اول سے بہتر امام نہ ملے تو اسی کو امام کرنا لازم اور دونوںمیں کوئی وجہ کراہت تحریم ہے تو دونوں کے سوا تیسرا امام پیدا کریں ،اور اگر صاحب دوم میں کوئی وجہ کراہت تحریم نہیں اور صاحب اول میں ہے تو حکم بالعکس ہوگا کہ اگر کوئی حنفی صالح امام نظیفہ ملے تواُسی کی اقتداء کی جائے ورنہ صاحب دوم ہی کے پیچھے پڑھیں جبکہ اُس کی عادت سے معلوم ہے کہ مذہب حنفی کی رعایت کا التزام رکھتا ہے یامعلوم ہوکہ اس خاص وقت میں جامع جملہ شرائط امامت مطابق مذہبِ حنفی ہے اور اگر دونوں میں کوئی کراہت تحریم نہیں تو اگر معلوم ہوکہ صاحب دوم خاص اس وقت شرائط حنفیہ ہے تواور کوئی حنفی صالح نہ ملنے کی حالت میں اُسی کی امامت اولٰی کہ اس تقدیر پر اس کی امامت بلاکراہت ہے اور اگر حنفی ہوتا تو افضل ہوتا اورصاحب اول میں بوجہ امردیت وحسن کراہت ہے اور اگر خاص اس وقت شرائط جامعیت معلوم نہیں اور عادت مراعاۃ معلوم نہیں تو اور کوئی امام نظیف نہ ہونے کی حالت میں صاحب اول ہی کو ترجیح چایئے کہ اب مذہب جمہور ومشرب منصور پر کراہت تنزیہ میں دونوں شریک ہوئے اورمخالف المذہب میں اس قدر زیادت ہے کہ اس کے پیچھے ایک قول پر مطلقاً نماز مکروہ تحریمی ہے اگرچہ مراعاۃ شرائط بھی کرے یہاں تک کہ اُس کی اقتدا پر تنہا نماز پڑھنے اور جماعت چھوڑنے کو بعض نے ترجیح دی۔
ردالمحتار میں ہے :
خالفھم العلامۃ الشیخ ابراہیم البیری بناء علی کراھۃ الاقتداء بھم لعدم مراعاتھم فی الواجبات والسنن وان الانفراد افضل لولم یدرک امام مذہبہ وخالفھم ایضا العلامۃ الشیخ رحمہ اﷲ السندی تلمیذ ابن الھمام فقال الاحتیاط فیعدم الاقتداء بہ ولومراعیا۱؎۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
علامہ شیخ ابراہیم البیری نے ان حضرات کی اس بناء پر مخالفت کی ہے کہ ان کی اقتداء مکروہ ہے کیونکہ یہ واجبات وسنن میں رعایت نہیں کرتے اور اگر اپنے مذہب کا امام نہ ملے تو تنہا نماز پڑھنا افضل ہے۔امام ابن ہمام کے شاگردشیخ سندی رحمہ اﷲ تعالٰی نے بھی ان حضرات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ مخالف رعایت کرنے والا ہو پھر بھی اقتدا نہ کرنے میں احتیاط ہے(ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۱۷)
مسئلہ ۶۳۷: از مانوگاجہ ملک پیراگ مرسلہ نیاز محمد خان بدایونی ۳ ربیع الآخر یوم سہ شنبہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جمیع اہل اسلام شافعی مذہب میں عام جن میں ایک مرتبہ اور چند مرتبہ حج بھی کرآئے ہیں مگر تارک نماز سنّت ہیں کوئی بھی کسی وقت کی نمازِ سنت ادا نہیں کرتا صرف فرض ادا کرلیتے ہیں،ان کی امامت واسطے پیرو امام حنفی کے کیسی ہے؟
الجواب: شبانہ روز میں بارہ رکعتیں سنّت موکدہ ہیں،دو۲ صبح سے پہلے ،اور چار۴ ظہر سے پہلے اور دو بعد،اور دومغرب و عشاء کے بعد،جوان میںسے کسی کوایک آدھ بار ترک کرے مستحقِ ملامت وعتاب ہے اور ان میں سے کسی کے ترک کا عادی گناہگار وفاسق ومستوجب ِعذاب ہے اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ،اور اس کو امام بنانا گناہ ہے
۔صرح بہ الغنیۃ عن الحجۃ
(اس کے بارے میں حجہ کے حوالے سے غنیـہ میں تصریح ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۳۸: از مانو گاجہ ملک پیراگ مرسلہ نیاز محمد خاں بدایونی ۳ ربیع الآخر یوم سہ شنبہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ عام دستور اور رواج اس ملک کا ہے کہ مستورات باہر نکلتی ہیں ڈولی یا پالکی کا نہ دستور ہے نہ جانتی ہیں غرضکہ پردہ قطعی نہیں ہے کسی تقریب یا عیادت یاکسی ضرورت کو پا پیادہ جانا، پوشش ان کی بجائے پاجامہ ایک تہبند مثل غلاف تکیہ کمر سے گھٹنوں تک بدن پر مثل ہندوستانی چھوٹے کپڑے یا دوپٹہ کے استعمال میں نہیں ،ایک چُغہ کے مثل پہنتی ہیں جو نیچا پیر کے تلے تک ہوتا ہے۔ رہا سر کا پردہ ،جب گھر سے نکلنا ہوُا تو ایک تہبند مثل بالا تحریر کے اندر جسم میں پہن لیا، سر اورکمر تک کا پردہ ہوجاتا ہے ۔مگر چہرہ کُھلے رکھنے کی عادت ہے،ہاتھ البتہ بحفاظت پردہ میں رہتے ہیں ،ان کا نکلنا عام وارثوں کی اجازت سے ہے بلکہ خاوند یا وارث ہمراہ ہوتے ہیں ،یہ طریقہ عام ہے خواہ نواب ہو خواہ غریب ،ان کوگوں کی امامت کیسی ہے؟
الجواب: عورت اگر نامحرم کے سامنے اس طرح آئے کہ اُس کے بال گلے اور گردن یا پیٹھ یا کلائی یاپنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر ہو یا لباس ایسا باریک ہو کہ ان چیزوں سے کوئی حصہ اُس میں سے چمکے تو یہ بالاجماع حرام اور ایسی وضع ولباس کی عادی عورتیں فاسقات ہیں، اوران کے شوہر اگر اس پر راضی ہوں یا حسبِ مقدور بندوبست نہ کریں تو دیوّث ہیں ،اور ایسوں کو امام بنانا گناہ ۔اور اگر تمام بدن سر سے پاؤں تک موٹے کپڑے میں خوب چُھپا ہُوا ہے صرف منہ کی ٹکلی کُھلی ہوئی جس میں کوئی حصہ کان کا یا ٹھوڑی کے نیچے کا یا پیشانی کے بال کا ظاہر نہیں تو اب فتوٰی اس سے بھی ممانعت پر ہے اور یہ امر شوہروں کی رضا سے ہو تو اُن کی امامت سے بھی احتزاز انسب کہ سد فتنہ اہم واجبات شرعیہ سے ہے واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۳۹: از مانوگاجہ ملک پیراگ مرسلہ نیاز محمدخاں بدایونی ۳ ربیع الاخری یوم سہ شنبہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ استنجاء کلوخ سے نہیں اسی وقت پیشاب کیا اور فوراً پانی سے استنجا ء لے لیا ان کی امامت کیسی ہے؟
الجواب: اس صورت میں ترکِ سنّت ضرور ہے مگر صرف پانی اگر انقطاع قطرہ ہوجاتا اور ان لوگوں کو اطمینان مل جاتا ہے تو یہ امر اس حد کا نہیں جس کے ترک پرا ن کی امامت کو ناجائز کہا جائے جبکہ ان کا منشاء کوئی امر قبیح مثل استخفاف سنت حضرت امیرالمؤمنین فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نہ ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم ۔
مسئلہ نمبر۶۴۰: ازحیدرآباد دکن مرسلہ حسین خان بوساطت مولوی ضیاء الدین صاحب ۵ ربیع الآخر ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متینِ مصطفی اس مسئلہ میں کہ ایک مولوی صاحب نے مذہب حنفی ترک کرکے مذہب حنبلی اختیار کیا ہے اور وجہ تبدیل مذہب یہ بتاتے ہیں کہ قریب زمانہ وقت حضرت جناب سیّد عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز نے مذہب حنبلی اختیار فرمایا اس لئے میں نے بھی تبدیل مذہب کیا ،بس بصورت صحت بیان مولوی صاحب نسبت تبدیل مذہب اقتدائے مولوی صاحب حسبِ اصول حنفیہ درست ہے یا نہیں جبکہ وہاں کثرت سے حنفی لوگ لائقِ اقتدا موجود ہوں۔
الجواب: ان بلاد میں کہ جہاں نہ حنبلی مذہب کے عالم ہیں نہ کتابیں ، حنفیت چھوڑ کر حنبلیت اختیار کرنا ہر گز جائز نہیں ، انتقال کرنے والا مذہب حنفی کا عالم تھا تو یہ انتقال صراحۃً مراد شرع کے متضاد ہوگا کہ شرع نے طلب علم کا حکم فرمایا اور یہ ترک علم وطلب جہل کرتا ہے حاشاﷲ حنبلیت جہل نہیں چاروں مذہب حق وہدی ورشاد ہیں مگر جہاں نہ جس مذہب کے عالم نہ کتابیں وہاں اس کا اختیار صراحۃً اپنے جہل کا اختیار ہے اور اگر اول سے جاہل تھا تو اپنے لئے علم وعمل کا دروازہ بند کرتا ہے احکام ِحنفیت سے آگاہ نہ تھا تو
فاسئلو اھل الذکر۱؎
(اہل ذکر سے پوچھو ۔ت)کے امتثال پرتو قادر تھا اب کہ وُہ مذہب اختیار کرتا ہے جس کے اہلِ ذکر بھی یہاں نہیں تو صراحۃً جہل کے ساتھ عجز ملتا اور اپنے منہ پر شریعت مطہرہ کا بند کرتا ہے واﷲ الھادی
مسئلہ نمبر ۶۴۱: از کلی ناگرپرگنہ پورن ضلع پیلی بھیت مرسلہاکبر علی ۵ جمادی الاخری ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ منکوحہ زید کو لفظ طلاق کہنے کا ثبوت نہ پاکر پندرہ بیس مردمانِ اہلِ اسلام نے مشورہ کرکے اپنا پیش امام مقرر کیا اور مسئلہ دیکھا کہ جس پر مواہیر علمائے دین چسپاں تھیں اور علمائے دین نے نماز پڑھانے کی اجازت زید کو دی اور پیش امام مدّت دراز سے امامت کرتے ہیں اور نمازِجمعہ بھی پڑھاتے ہیں اور پیش امام حرام کاروں کو بھی نصیحت کرتے ہیں اورحرام کاروں نے نصیحت کرنے کے سبب سے دو جماعتیں کرلی ہیں ۔اب ایک مولوی صاحب ان کے یہاں وارد حال مقیم ہیں کہ جو غیر اﷲ کا جانور ذبح کرتے ہیں مولوی صاحب بھی انکے یہاں کھاتے ہیں جمعہ کے روز وہ لوگ جو امام سے برگشتہ تھے مولوی صاحب کو مسجد میں لائے اور بروقت آنے مولوی صاحب کے پیش امام اُٹھے اور منبر پر بیٹھ گئے اوراذان کاحکم دیا کہ اذان پڑھو ،اور جولوگ پیش امام سے برگشتہ تھے اور مولوی صاحب کو لائے تھے پیش امام سے کہا منبر سے تم اترو یہ مولوی صاحب نماز پڑھائیں گے ،جن مردمانِ اہل اسلام نے کہ پیش امام اپنا مقرر کیاتھا اور جو پیش امام منبر پر بیٹھے تھے اُن کے روبرو اذان کہی گئی اس پر مولوی صاحب بولے کہ یہ پیش امام طلاقی ہے اس کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے،پیش امام نے اسی وقت مسئلہ باجازت نمازبمواہیر علمائے دین پیش کیا مولوی صاحب نے مسئلہ دیکھ کر پھینک دیا اور کہا کہ یہ مسئلہ درست نہیں ، یہ کلام مولوی صاحب کا سن کر جن اہلِ اسلام نے اپنا پیش امام مقرر کیا تھا پیش امام سے کہا کہ نماز پڑھاؤ اور مولوی صاحب سے کہا کہ ہم کو اعتبار اس مسئلہ کا ہے کہ جس پر مواہیر علمائے دین موجود اورچسپاں ہیں اگر یہ مسئلہ غلط ہوتا تو مواہیر علمائے دین کیونکر اس پر چسپاں کرتے،اگر تمہاری نماز ان کے پیچھے نہیں ہوسکتی ہے تو نہ ہو ہماری نماز ہوسکتی ہے،یہ کلام اہلِ اسلام کا سُن کر مولوی صاحب مسجد سے باہر چلے گئے اور بعد ہوجانے نمازِجمعہ کے پھر مسجد میں آئے اور دوسری مرتبہ مولوی صاحب نے خطبہ پڑھا اور جمعہ کی نماز پڑھائی،تو حاصل کلام یہ کہ اول جمعہ کی نماز ہوجانے کے بعد دوسری نماز جمعہ کی ہوسکتی ہے اور مولوی صاحب جدید واردحال امامت کے لائق ہیں یا نہیں؟بینوا توجروا
الجواب: جمعہ کے لئے امام وہی ہوسکتا ہے جس کا تقرر بادشاہِ اسلام سے چلاآتا ہے یا وہ کہ جسے بضرورت عام مسلمان مقرر کرلیں نمازِ جمعہ قصداً چھوڑ کر چلاجانا اور پھر بعد ختمِ جماعت اپنے چند آدمیوں کو لاکر اُسی مسجد میں دوبارہ خطبہ ونماز قائم کرنا ہر گز جائز نہیں ، یہ پچھلی نماز نہ ہوئی، اور یہ دوسرا شخص گناہگار ہُوا،اور فتوٰی شرعی کو زمین پر پھینک دینے سے اُس کاحکم بہت سخت ہوگیا۔عالمگیری وغیرہ میں اسے کفر تک لکھا ہے ۔یہ جدید شخص امام بنانے کے لائق نہیں،واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر۶۴۲: از کلی ناگرپرگنہ پُورن پور ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبر علی صاحب ۵ جمادی الآخرہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک شخص مدّتِ دراز سے امامت کرتا ہے اور بہ مشورہ اہلِ اسلام پیش امام ہے اور بعد اس امامت کرنے کے پیش امام نے اپنے گھر میں حرام کرایا اور ایک عورت کا حرام پیٹ اپنے گھر میں گروایا تو اب اس کوامامت کرنی چاہئے یانہیں؟
الجواب: اگرثابت ہوکہ اس نے حرام کروایا یا حرام کا سامان جمع کیا یا حرام میں کسی طرح ساعی ہوا یا اس پر راضی ہوا تو وہ فاسق ہے اُسے ہرگز امامت نہ کرنی چاہئے اوراگر ان میں سے کچھ نہ تھا بلکہ عورت کسی طرح معاذاﷲ حرام میں مبتلا ہوئی اور اُسے حمل رہا اُس نے اس کی پردہ پوشی کے لئے اسقاط حمل کروایا جبکہ بچہ میں جان نہ پڑی تھی تواس پر الزام نہیں بلکہ پردہ پوشی امرحسن ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۴۳: ازکلی ناگر پرگنہ پُورن پور ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبر علی خان ۵ جمادی الاخری ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ پیش امام نے اپنے نفس کے واسطے جھوٹ بولا اور یہ کہا میرے گھر آگ لگ گئی ہے تو اس سے پیش امام کی امامت میں فرق تو نہیں آیا اور یہ پیش امام امامت کے لائق ہے یا نہیں؟
الجواب: اگر اس نے جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکہ دیا اُن سے کچھ مال وصول کیا تو وہ فاسق ہے امامت سے معزول کیا جائے اور اگر مراد یہ نہیں تو مراد واضح کی جائے کہ اُس کا جواب دیا جائے ،ایسے گول الفاظ سوال میں لکھنا نادانی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۶۴۴: از پیلی بھیت محلہ منیرخاں مرسلہ جناب مولانا مولوی وصی احمد صاحب محدّث سُورتی رحمہ اﷲ تعالٰی : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱) کیاامامت میں شرعاً وراثت جاری ہے کہ امام مرجائے تو اُس کے بعد اُسی کی اولاد یاخاندان سے امام ہونا ضرور ہے ، غیر شخص امام ہوتو اُن کے حق میں دست اندازی ہو۔
(۲) کیا اہلسنّت کے مذہب میں امامت حق خاندانی ہے کہ امام کے بعد اُس کے خاندان سے باہر جانا اُن کی حق تلفی ہے۔
(۳) امامت اصل حق علمائے دین کا ہے یا جاہلوں کا۔
(۴) اگر امامت کے شرعاً احق والیق علماء ہیں تو جو لوگ عالم دین،صالح ،متدّین ، جامع جملہ شرائط امامت کے ہوتے ہوئے جاہلوں کو امام بنائیں یا بنانا چاہیں یا اس میں کوشش کریں اُن پر شرعاً الزام ہے یا نہیں۔
(۵) امامت پنجگانہ وامامت جمعہ و عیدین کا ایک ہی حکم ہے یا کیا فرق ہے۔
(۶) اگر کسی گھرانے میں سابق سے امامت رہی پھر ان کے ایک شخص سے مسلمانوںنے ناراض ہوکر اسے امامت سے معزول کیاہواور باآنکہ اس خاندان میں دو تین شخص اور اسی کے مثل موجود ہوںاُن کے ہوتے ہوئے ایک عالم دین کو امامت کے لئے منتخب کیا اور برسوں اس عالم یااُس کے نائب نے جمعہ پڑھایا اوراس گھرانے والوں نے بھی بلا نزاع اُس کے پیچھے نمازِ جمعہ پڑھی ہو پھر کئی سال کے بعد دفعۃً وہ لوگ مدعی ہوں کہ امامت ہمارا حق خاندانی ہے اوراس بنا پر عالم کی امامت چھیننا چاہیں تو اُن کا یہ فعل محمود یا مذموم وممنوع ، اور یہ دعوٰی مسموع ہے یاممنوع و مدفوع ،اور اگر اب یہ لوگ زمانہ ریاست اسلام کی کوئی سند مہری ظاہر کریں کہ امامت ہمارے ہی خاندان کی ہے تو وہ سند شرعاً مستند ہے یا نہیں۔
(۷) اگر یہ لوگ اپنے اوپر علمِ دین کی ترجیح دفع کرنے کو حدیث صلواخلف کل بروفاجر (ہر نیک اورفاجر کے پیچھے نماز ادا کرلو۔ت) پیش کریں تو ان کا استدلال صحیح ہے یا باطل۔بینوا توجروا۔
الجواب
(۱) امامت میں وراثت جاری نہیں ورنہ سہام فرائض پرتقسیم ہو اوربحکم آیہ کریمہ
یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل خط الانثیین۱؎
اﷲ تعالٰی تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ دو بیٹیوں کے برابر بیٹے کا حصہ ہوگا۔(ت)
(۱؎ القرآن ۴/۱۱)
دوہراحصہ بیٹوں کو ملے اور اکہرا بیٹیوں کو اور بحکم آیہ کریمہ