مسئلہ نمبر ۶۳۱: از جائس ضلع رائے بریلی محلہ زیر مسجد مکان حاجی ابراہیم مرسلہ ولی اﷲ صاحب
۲ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو شخص ہیں اور دونوں عالم اور پابندصوم و صلٰوۃ کے ہیں مگر ایک رذیل ایک شریف ،دونوں میں سے کس کو ترجیح ہوگی مرتبہ اور امارت وغیرہ میں ۔بینواتوجروا۔
الجواب: امامت میں بعد اس کے دو۲ شخص جامع شرائط ِامامت سُنّی العقیدہ غیرفاسق مجاہر ہوں، قرآن عظیم صحیح پڑھتے حروف مخارج سے بقدر تمایزادا کرتے ہوں،سب سے مقدم وہ ہے کہ نماز و طہارت کے مسائل کا علم زیادہ رکھتا ہو پھر اگر اس علم میں دونوں برابر ہوں تو جس کی قرأت اچھی ہو ،پھر جو زیادہ پرہیزگار ہو شبہات سے زیادہ بچتا ہو ،پھر جو عمر میں بڑا ہو ،پھر جو خوش خلق ہو، پھر جو تہجد کا زیادہ پابند ہو،یہاں تک شرف نسب کا لحاظ نہیں ۔جب ان باتوں میں برابر ہوں تو اب شرافت نسب سے ترجیح ہے۔
فی التنویر والدراَلْاَحَقُّ بالامامۃ الاعلم باحکام الصلٰوۃ بشرط اجتنابہ للفواحش الظاہرۃ ثم الاحسن تجویدا ثم الاورع ثم الاسن ثم الاحسن خلقابالضم الفۃ بالناس ثم اکثرھم تھجدا ثم الاشرف نسبا۱؎اھ مختصرا۔
تنویر اوردرمختار میں ہے امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو احکامِ نماز سے زیادہ آگاہ ہو بشرطیکہ وہ فحش گناہوں سے اجتناب کرنے والا ہو ،اس کے بعد جو قرأت و تلاوت کی تجوید میں زیادہ اچھاہو، پھر صاحبِ تقوٰی ،پھر عمر میں بڑا، پھر جو اخلاق میں سب سے اچھاہو ،شارح نے کہا خُلق ضمہ خاء کے ساتھ لوگوں سے ملنساری کو کہتے ہیں ۔پھر زیادہ تہجد گزار ،پھر خاندانی شرف والا اھ اختصاراً(ت)
(۱؎ ردمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۴۲)
ہاں اگررذیل اس درجہ کا ہے کہ اس کی امامت سے عام لوگ نفرت کرتے ہیں،جماعت میں خلل پڑتاہے تو اس کی امامت نہ چاہئے،
لان التنفیر من اشد ما یحترز عنہ ھھنا وقد قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مطلقا بشروا ولاتنفروا۱؎۔
کیونکہ یہاں سب سے زیادہ جس بات سے بچنا ضروری ہے وہ لوگوں میں نفرت سے بچنا ہے۔سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا(ہرحال میں) خوشخبری دینے والے بنو نفرت پھیلانے والےنہ بنو۔واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب ماکان محمد النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یتخولہم بالموعظۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۶)
مسئلہ نمبر ۵۳۲: ۲۲جمادی الاولٰی ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ میلاد شریف کی مجلس کے حاضر نہ ہونے والے کے پیچھے اور قیام سے کراہت کرنےوالے کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟
الجواب: مجلس مبارک کی عدم حاضری اور قیام سے کراہت اگر بر بنائے وہابیّت نہ ہو مثلاً اس وقت حاضری کی فرصت نہیں کسی امر اہم میں مصروف ہے یا وہاں پڑھنے والاروایات بے اصل یا نظم و نثر خلافِ شرع پڑھے گا یا صاحب مکان سے دینی یا دنیوی مخالفت ہے جس کا الزام شرعاً اسی صاحب مکان پر ہے وغیرذلک من الموانعان کے علاوہ دیگر موانع سے ۔ت) اور قیام سے کراہت صرف اس مسئلے میں خطا کے باعث ہے نہ اصولِ وہابیت ما ن کر، توان صورتوں میں اُس کے پیچھے درست بلا کراہت ہے ،مگر ان بلاد میں صورت انکار و کراہت بے ضلال اصول وہابیت نہیں پائی جاتی مجلس مبارک و مقدس سے یہاں وہی منکرہیں جو وہابی گمراہ خاسر ہیں اور وہابیہ کے پیچھے نماز ناجائز وگناہ ۔
(ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوٰی میں متعدد مقامات پر اپنے رسالے النہی الاکید وغیرہ میں خوب کی ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۳۳۳: ۷ ربیع الآخر شریف۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک حافظ نور باف نماز کے چند مسائل جانتا ہے چند مدّت سے ایک مسجد کا امام ہے لوگوں نے اسے تعزیوں میں مرثیے پڑھتے دیکھا ہے دوسرا حافظ شیخ صدیقی پنجابی کُل مسائلِ نماز سے واقف ہے مگر مسجد میں آتا ہے اور اس کی موجودگی میں اسی معیّن امام کے پیچھے نماز میں کچھ قصور تو نہ ہوگا اور دونوں ہوں تو کون امامت کرے؟
الجواب :تعزیوں اور آج کل مرثیوں کا پڑھنا بدعت یا فسق سے خالی نہیں اور دونوں صورتوںمیں ایسے شخص کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔اور وہ دوسراحافظ اگر بلاعذر شرعی جماعت ِ مسجد میں کبھی آتا ہے کبھی نہیں تو ترکِ جماعت بھی فسق ہے اس کے پیچھے بھی نماز مکروہ ۔ایسی صورت میں تیسرے شخص کو امام کیا جائے جو عقیدۃً پورا سنّی ہو ، قرآن مجید صحیح پڑھتا ہو ،فاسق نہ ہو مسائل نماز وطہارت سے خوب واقف ہو۔اور اگر دوسراحافظ سنّی صحیح العقیدہ صحیح خواں غیر فاسق ہے جماعت کو جس وقت اس مسجد میں نہیں آتادوسری مسجد میں جاتا ہے یا کسی عذر صحیح شرعی کے سبب ترک کرتا ہے تو اس کی اقتداء میں حرج نہیں، اس کے ہوتے ہوئے وہ امامِ مقرر نماز نہ پڑھائے ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۶۳۴: ۲۲ شعبان المعظم ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس مسجد میں امام مقرر موجود ہو اس کی بغیر اجازت دوسرا شخص نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟بینوا تؤجروا۔
الجواب: بے اس کی اجازت کے دوسرے کو امامت نہ چاہئے جبکہ وہ امام معیّن صالح امامت ہو یعنی سنّی صحیح العقیدہ کہ قرآن عظیم صحیح پڑھے اوراس کافسق ظاہر نہ ہو ۔
دُرمختار میں ہے:
امام المسجد الراتب الاولی بالامامۃ من غیرہ ملطقا۱؎ الخ وفی ردالمحتار من التتارخانیۃ مایفید المنع ان ام بلااذن۲ ؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسجد کا مقررہ امام ہر حال میں دوسروں سے افضل ہوتا ہے الخ ردالمحتار میں تتارخانیہ سے جوکچھ مذکور ہے وہ مفید منع ہے اگر دوسرا بلا اجازت امامت کرائے(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎دُر مختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۸۳)
(۲؎ ردالمحتار بحوالہ تاتار خانیہ باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۱۳)
مسئلہ نمبر ۶۳۵: ۲۸ رجب ۱۳۲۱ھ: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مسجد میں رہتا ہے اور امامت پر مقرر ہے اور اس کی حالت یہ ہے کہ امرد لڑکوں سے محبت رکھتا ہے اور ایک لڑکا ضرور رکھتا ہے جب اس کو چھوڑ دیتا ہے دوسرا تجویز کرلیتا ہے،خلوت میں بھی لڑکے اس کے پاس بیٹھتے ہیں،بعض وقت انھیں پیار کرتے دیکھا گیا اس کی شکایت میں شخص مذکور کو پولیس تک بھی پہنچنا ہُوا مگر پولیس کی دھمکی پر بھی باز نہ آیا ،آخر مسلمانوں نے اپنی مسجد سے نکال دیا کہ ہم مسجد میں ایسی ناشائستگی پسند نہیں کرتے۔اب دوسری مسجد میں آیا، یہاں بھی وہی حال ہے ایسی صورت میں اسے امام بنانا اُس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟بینواتوجروا
الجواب : ایسے شخص کو کہ مہتم ہے امام بنانا نہ چاہئے
لان التھمۃ توجب تقلیل الجماعۃ وھوعکس مقصود الشریعۃ
(کیونکہ تہمت جماعت کی قلت کا سبب ہے اور وہ مقصود شریعت کے خلاف ہے۔ت) مسلمانوں کو چاہئے کہ دوسرے شخص سنّی صحیح العقیدہ غیر فاسق وغیر مہتم کو کہ قرآن عظیم صحیح پڑھاتا ہو اور نماز و طہارت کے مسائل سے آگاہی رکھتا ہو امام مقرر کریں،اور یہ شخص کہ کسی طرح اُس عادت سے باز نہیں آتا امامت سے جُدا کردیا جائے،نہ مسجد میں سکونت کرے
لان الخلوۃ القبیحۃ بالامرد اخبث من الخلوۃ بالاجنبیۃ فینزہ المسجد عنہ
(کیونکہ بے ریش لڑکے کےساتھ خلوت قبیحہ ،اجنبیہ خاتون سے بھی بدتر ہے ،لہذا اس سے مسجد کو پاک کرنا ضروری ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۳۶: ازحیدرآباد دکن یاقوت پورہ مسجد کمیلہ مکان ۲۸۹۰ مرسلہ سید عبداللطیف صاحب
بتوسط مولوی ابو المساکین محمد ضیاء الدین صاحب مہتمم تحفہ حنفیہ ۲ربیع الآخر شریف ۱۳۲۲ہجری
کیا فرماتے ہیں علمائے دینِ محمدی ومستفیدانِ شریعتِ مصطفوی وتابعینِ مذہب حنفی اس مسئلہ میں کہ ایک صاحب نواجون ،خوبصورت ،لائقِ امامت،قرأت سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں اور مسائل ماتجوزبہ الصلٰوۃ سے واقف مذہب حنفی کے تابع ہیں،دوسرے صاحب حال میں مذہب حنفی ترک کرکے مذہب حنبلی اختیار فرمائے ہیں ،فنِ قرأت سے بمقابلہ صاحب اوّل کے ناواقف ہیںمگر مسائل ماتجوزبہ الصلٰوۃ اور قدرے ریش بھی رکھتے ہیں پس حالت مندجہ بالا میں حسبِ قواعدِ حنفیہ بغرضِ امامت بلا کسی علّت وکراہت کے ہر دو صاحب میں سے کس کو ترجیح دی جاسکتی ہے جس مقام پر کثرت سے مقتدی تابعین مذہب حنفی کے بوقتِ جماعت موجود ہوں۔السائل حسین خاں حنفی
الجواب: عبارت سوال ابہام واجمال وتعداد احتمال رکھتی ہے دوسرے صاحب فنِ قرأت سے بمقابلہ صاحب اوّل کے ناواقف ہیں ممکن یہ ناواقفی صرف امور زائدہ میں ہو جن پر صحت وفسادِ نماز مبنی نہیں اگرچہ واجباتِ تجوید بلکہ واجباتِ شرع سے بھی ہوں یا شرعاً خواہ تجویداً بھی صرف محسّنات ومستحسنات ہوں جیسے وقف ووصل ومدوقصر و اظہار واخفاء وتفخیم وترقیق وروم واشمام وغیرہا کہ اکثر ان میں واجبات ِتجوید سے ہیں اورامثال ومدمتصل کی رعایت شرعاً بھی واجب اور ترک حرام مگر ان میں کسی کا ترک اصلاً مفسدِ نماز نہیں اور ممکن کہ امور لازمہ میں ہو جیسے تمایزِ حروف جہاں تغیر موجبِ فسادمعنی ہو ، صورت ِثانیہ میں صاحب دوم کے پیچھے نماز باطل وفاسد ہوگی بخلاف صورت اولٰی ،اور دوسرے صاحب قدرے ریش بھی رکھتے ہیں اس میں بھی دو احتمال ہیں ایک یہ کہ ان کے تھوڑی تھوڑی داڑھی نکلی ہے، پہلے صاحب محض امرد ہیں اس تقدیر پر پہلے صاحب کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ہوگی،
فی الدرالمختار تکرہ خلف امرد۱؎ درالمختار میں ہے بے ریش لڑکے کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔
(۱؎ درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۸۳)
فی ردالمحتار الظاہر انھا تنزیہیۃ والظاھر ایضاکما قال الرحمتی ان المراد بہ الصبیح الوجہ لانہ محل الفتنۃ ۲؎۔
ردالمحتار میں ہے ظاہر یہی ہے کہ یہ مکروہِ تنزیہی ہے۔اور یہ بھی ظاہر ہے جیسے کہ شیخ رحمتی نے کہا کہ وہ لڑکا مراد ہے جو خوبصورت چہرے والا ہو کیونکہ وہ فتنے کا محل ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۴۱۵)
دوسرے یہ کہ دوسرے صاحب قدرے ریش باقی رکھتے ہیں اگرچہ زیادہ کتروادیتے ہیں بخلاف صاحب اول کہ اصلاً نہیں رکھتے اس تقدیر پر دونوں کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوگی اور انھیں امام بنانا گناہ کہ داڑھی منڈانا اور کترواکر حدِ شرع سے کم کرانا دونوں حرام وفسق ہیں اور اس کا فسق بالاعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے اور فاسق معلن کی امامت ممنوع وگناہ ہے
کما نص علیہ فی الغنیۃ عن الحجۃ وحققناہ فی فتاوٰنا
(غنیـہ میںحجہ کے حوالے سے اس پر تصریح ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ت) اور مذاہب اربعہ حقّہ سے کسی دوسرے مذہب والے کے پیچھے حنفی کی اقتداء میں بھی چند صورتیں ہیں:
(۱) اس خاص نماز میں معلوم ہو کہ امام نے کسی فرض یا شرطِ وضو یانماز یا امامت مطابق مذہب حنفی کی رعایت نہ کی
وقد المسناببیان بعضہ مع مالہ وعلیہ فی فتاوٰنا
(ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس پر کچھ تفصیل سے اعتاضات مع جوابات ذکر کئے ہیں۔ت)اس صورت میں اُس کے پیچھے حنفی کی نماز محض باطل ۔
(۲) خاص نماز کا حال معلوم نہ ہو مگر اس کی عادت معلوم ہے کہ غالباً امورمذکورہ میں مذہب حنفی کی مراعات نہیں کرتا تواس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے۔
(۳) عادت بھی معلوم نہیں تو اس کی امامت مکروہ ہے اور ارجح یہ کہ اب یہ کراہت تحریمی نہیں۔
(۴) عادت یہ معلوم ہے کہ ہمیشہ مراعات کا التزام کرتا ہے تو صورت سوم سے حکم اخف ہے مگر ایک گُونہ کراہت سے ہنوز خالی نہیں۔
(۵) خاص اس نماز کا حال معلوم ہے کہ اس میںاس نے جمیع امور مذکورہ کی رعایت کی ہے تو اب عندالجمہور کراہت اصلاً نہیں اگرچہ پہلے عادت عدم مراعات رکھتا ہو پھر بھی افضل یہی ہے کہ مل سکے تو موافق المذہب کی اقتداء کرے،
فی الدرالمختار تکرہ خلف مخالف کشافعی لکن فی وترالبحر ان تیقن المراعاۃ لم یکرہ او عدمھالم یصح وان شک کرہ۱؎ اھ وقد فصلنا القول فیہ فیما علی ردالمحتار۔
دُرمختار میں ہے مخالف مذہب کے پیچھے نماز مکروہ ہے مثلاً شافعی المسلک -------بحرالرائق کی وتر کی بحث میں یوں تفصیل ہے اگر مقتدی کو اس بات کا یقین ہو کہ شافعی المذہب دوسرے مسلک کی شرائط وارکان کی رعایت کرتا ہے تو اقتداء میں کراہت نہیں،اور عدم رعایت کایقین ہو تو اقتداء صحیح نہیں ہے اور اگر رعایت اور عدمِ رعایت میں شک ہوتو مکروہ اھ اس بارے میں ہم نے ردالمحتار پر اپنے حاشیہ میں تفصیلاً گفتگو کے ہے۔(ت)
(۱؎ دُرمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۸۳)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فی وتر البحر الخ ھذا ھوالمعتمد لان المحققین جنحوا الیہ وقواعد المذہب شاھدۃ علیہ وقال کثیرمن المشائخ ان عادتہ مراعاۃ مواضع الخلاف جاز والا فلا، قولہ ان تیقن المراعاۃ ای فی الفرائض من شروط وارکان فی تلک الصلاۃ وان لم یراع فی الواجبات والسنن کماھوظاھر سیاق کلا م البحر وظاہر کلام شرح المنیۃ ایضا وفی رسالۃ الملّا علی قاری ذھب عامۃ مشائخنا الی الجواز اذاکان یحتاط فی موضع الخلاف والا فلاوالمعنی انہ یجوزفی المراعی بلاکراھۃ وفی غیرمعھا۲؎ اھ مختصرا
ماتن کا قول فی وترالبحرالخ یہی قول معتمد ہے کیونکہ محققین کااس کی طرف میلان ہے اور قواعد مذہب بھی اسی پر شاہد ہیں اور کثیر مشائخ کا قول ہے اگر اس امام کی عادت موضع اختلاف میں رعایت کرنا ہو تو اقتداء جائز ورنہ جائز نہیں ،ماتن کا قول ان تیقن المراعاۃسے مراد یہ ہے کہ وہ فرائضِ نماز یعنی شروط و ارکان کی رعایت کرتا ہوا اگر چہ واجبات وسنن کی رعایت نہ کرتا ہو اجیسا کہ بحرالرائق کے سیاقِ کلام سے ظاہر ہے شرح المنیہ کی عبارت سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ملّا علی قاری کے رسالے میں ہے کہ جو امام مواضع اختلاف میں احتیاط اوررعایت کرتا ہو تو ہمارے اکثر مشائخ جوازِاقتداء کے قائل ہیں ورنہ اقتداء جائز نہیں اور معنی یہ ہےکہ رعایت کرنے والے کی اقتداء بلا کراہت جائز اور نہ رعایت کرنے والے کی اقتداء کراہت کے ساتھ جائز ہے اھ مختصراً(ت)
(۲؎ ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی ۱/۴۱۶)
امام بحرالرائق (نے) مجتبٰی سے(نقل کیا)ہے:
وذاکان مراعیافالاقتداء بہ صحیح علی الاصح ویکرہ والا فلا یصح اصلا۱؎ اھ (ملخصا)
اگر وہ شافعی المذہب رعایت کرنے والاہو تو اصح قول کے مطابق اسکی نماز صحیح اور مکروہ ہے ورنہ بالکل صحیح نہیں اھ ملخصاً(ت)