Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۶(کتاب الصلٰوۃ)
125 - 185
مسئلہ نمبر ۶۲۵،۶۲۶:از بسولی ضلع بدایوں    مرسلہ خلیل الرحمن صاحب    ۹شعبان المعظم۱۳۱۹ہجری۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :

(۱) وہ کون کون شخص ہیں مسلمانوں میں جن کے پیچھے نماز درست نہیں؟

(۲) کون سی صورت میں نابینا کے پیچھے نماز درست ہے یا بالکل ناجائز ؟
الجواب

(۱) بہت لوگ ہیں ازانجملہ غیرمقلدین اور رافضی اور وُہ وہابی جن کی بدعت حدِکفر تک پہنچی ہے،سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
الصلٰوۃ خلف اھل الھواء لاتجوز
 (اہل ہواء کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ت)جو قرآن مجید غلط پڑھتا ہو جس سے فسادِ معنٰی ہو ،جس کی طہارت صحیح نہ ہو اگرچہ معذوری کی وجہ سے ،مثلاً جسے معاذاﷲ سلس البول یا ہروقت ریح خارج ہونے کا عارضہ ہے یازخم یا پھوڑے سے خون یا زردآب بہتا ہے۔اسی طرح وہ شافعی المذہب مثلاً جس نے اپنے طور پر طہارتِ صحیحہ کی مگر مذہب حنفی میں صحیح نہ ہوئی ،مثلاً سر کے صرف ایک بال کا مسح کرلیا یا فصد لگوا کر وضو کا اعادہ نہ کیا کہ حنفی کی نماز اس کے پیچھے نہ ہوگی۔ان کے سوا اور بکثرت صوتیں ہیں کہ کتبِ مذہب میں اس کی تفصیل ہے۔

(۲) نابینا کے کپڑے پر اگر نجاست بقدر منعِ نماز لگی ہے اور اسے خبر نہیں یااس کے زخم یاپھوڑے سے خون بہا اوراس نے نہ دیکھا تو اس صورت میں اس کے پیچھے نماز ناجائز ہے ورنہ صرف مکروہ تنزیہی اور خلافِ اولٰی ہے جبکہ سب حاضرین سے زیادہ علم نہ رکھتا ہے ورنہ وہی امام کیا جائے گا۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۲۷: ازگورا بازار    ۲۲جمادی الاولٰی۱۳۱۸ھ

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حافظ کریم بخش امام مسجد گورا بازار یتیموں کا مال پوشیدہ لے جانے میں شریک ہوئے اور اقرار بھی کیا اور ماسوا اس کے اور کچھ بھی نہیں اس سبب سے مقتدیوں نے اقتداکرناچھوڑ دیا اور امام دوسرے کی اقتدا کی تب امام اوّل ایک مولوی کو بلا کر لایا اور کچھ دے کر اور یہ بھی سنا گیا کہ آٹھ آنہ ماہواری بھی دینے کا اقرار کیا ،مولوی صاحب سے کچھ بیان کرایا اور اس نے کچھ حق بھی بیان کیااور کچھ طرف داری بھی کی ،آیا مولوی صاحب اس آیت کے حکم میں داخل ہوئے یا نہیںولاتشترو باٰیتی ثمناقلیلا،اورمولوی صاحب نے مقتدیوں کو سمجھایا اوران کی امامت قائم کرادی اور امام نے مقتدیوں سے معافی چاہی مقتدیوں نے دونوں اماموں کو قائم رکھا اورامام اول کی خطا مقتدیوں کے معاف کرنے سے یتیموں کی حق تلفی جو کی وہ بھی معاف ہوئی یا نہیں یا امام اوّل کو یتیموںکا حق دینا پڑے گا اوردلوانا پڑے گا یا نہیں، اور ایک آدمی خوش الحانی کو ضروریات سے جاننے والا ہے امام کی آیایہ شرط ہے ازروئے شرع شریف کے یا نہیں؟اور ایک شخص پابندی نماز نہیں کرتا ہے فارسی میں دخل بہت ہے وہ امام اوّل کو چاہتے ہیں کہ یہ رہے اور دوسرے کو نہیں چاہتے ،اور امام دوسرے کی حقیقت یہ ہے کہ علم حدیث و تفسیر وفقہ واصولِ عربی میں دخل ہے اب اقتدا واسطے مقتدیوں کے کس کی امامت افضل اور بہتر ہے اور عالم کے پیچھے نماز پڑھنا ایسی ہے جیسے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پیچھے پڑھی، آیا اس کا ثبوت شرع شریف میں ہے یا نہیں؟ اور امام اول کی اقتداء ابھی تک بعض لوگ مکروہ جانتے ہیں ۔بینواتوجروامع حوالہ کتاب۔
الجواب: پرایا مال بے اذن شرعی لینا چوری اور گناہِ کبیرہ ہے،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں
لایسرق  السارق حین یسرق وھومومن ۱؎
چور چوری کرتے وقت ایمان سے الگ ہوجاتا ہے ،
 (۱؎صحیح البخاری    کتاب الاشربہ الخ        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی         ۲/۸۳۶)
اور یتیموں کا مال ناحق لینا سخت تر کبیرہ ہے،اﷲ تعالٰی فرماتا ہے:
ان الذین یاکلون اموال الیتامٰی ظلما انمایاکلون فی بطونہم نارا وسیصلون سعیرا۲؎۔
جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں نری آگ کھاتے ہیں اور عنقریب دوزخ میں جائیں گے۔
 (۲؎ القرآن        ۴/۱۰)
یتیموں کا حق کسی کے معاف کئے معاف نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ خود یتیم کا دادا یا ماں کسی نابالغ کے ماں باپ اس کا حق کسی کو معاف کردیں ہر گز معاف نہ ہوگا
فان الولایۃ للنظر لاللضرر
 (کیونکہ ولایت نگرانی کے لئے حاصل ہوتی ہے نقصان دینے کے لئے نہیں۔ت)بلکہ خود یتیم ونابالغ بھی معاف نہیں کرسکتے نہ ان کی معافی کا کچھ اعتبار ہے
للحجرالتام عماھوضرر
 (کیونکہ نقصان دہ معاملہ میں تصرف کرنے سے انہیں مکمل روک دیا گیا ہے۔ت) محض یتیموں کا حق ضرور دینا پڑے گا اور جو نکلوا سکتا ہے اسے چاہیے کہ ضرور دلادے ،ہاں یتیم بالغ ہونے کے بعد معاف کرے تو اس وقت معاف ہوسکے گا۔مقتدیوں نے کہ ایسی حرکات نشائستہ کے باعث امام اول کے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی بہت اچھا کیا انھیں اسی کا حکم تھا
کما حققہ فی الغنیۃ عن فتاوی الحجۃ واقرہ فی ردالمحتار وقد تکر ربیانہ فی فتاوٰنا
 (جیسا کہ فتاوٰی حجہ کے حوالے سے غنیـہ میںاس کی تحقیق کی ہے اور ردالمحتار میں اسے برقرار رکھا۔اس مسئلہ کا بیان ہمارے فتاوٰی میں متعدد جگہ پر موجود ہے۔ت)جس شخص نے کچھ لے کر بعض ناحق باتیں امامِ اوّل کی طرفداری کے حق میںملادیں وہ ضرور آیہ کریمہ
ولا تشترو باٰیتی ثمناً قلیلا ۱؎
اور آیہ کریمہ
لا تلبسوا الحق بالباطل۲؎
کا موردہوا،
 (۱؎ القرآن        ۲/۴۱ )            ( ۲؎ القرآن         ۲/۴۲)
امام کے لئے خوش الحانی کچھ ضرورنہیں جو اسے ضروری و شرط بتائے،شرع مطہر پر افتراء کرتا ہے، بلکہ خوش الحانی بعض وقت مضر ہوتی ہے کہ اس کے سبب آدمی اتراتا ہے یا کم سے کم اتنا ہوتا ہے کہ نماز میں خشوع وخضوع کے بدلے اپنے الحان بنانے کا خیال رہتا ہے۔
فتاوٰی قاضی خان و فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
لا ینبغی للقوم ان یقدموا فی التراویح الخوشخوان ولکن یقد موا الدرستخوان فان الامام اذاقرأبصوت حسن یشغلہ عن الخشوع والتدبروالتفکر۳؎۔
قوم کے لئے ایسے شخص کو تراویح میں امام بنانا جو خوش الحان ہو مناسب نہیں البتہ درست پڑھنے والے کو امام بناسکتے ہیں کیونکہ امام جب قرأت کرے گا تو اس کو اچھی آواز خشوع ،تدبراورتفکر سے غافل کردے گی۔(ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ     فصل فی التراویح    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۱۶)
امامت عالم کاخاص حق ہے اس کے ہوتے ہوئے دوسرے کوترجیح نہیں جبکہ وہ عالم صحیح خواں و صحیح العقیدہ ہو، فاسق نہ ہو۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان سرکم ان تقنل صلاتکم فلیؤمکم علماؤکم فانھم وفدکم فیمابینکم وبین ربکم ۴؎۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن مرثد بن ابی مرثدالغنوی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اگر تمہیں اپنی نمازوں کا قبول ہونا پسند ہو تو چاہئے کہ تمہارے علما ء تمہاری امامت کریں وہ تمہارے واسطہ سفیر ہیں تمہارے اور تمہارے رب عزوجل کے درمیان ۔اس کو طبرانی نے المعجمالکبیر میں حضرت مرثد بن ابی الغنوی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
 (۴؎ المعجم الکبیر    مروی عن مرثد الغنوی    مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۲/۳۲۸)
نوٹ: اصل کتاب میں فلیؤ مکم علماؤکم کی جگہ فلیؤمکم خیارکمہے۔    نذیر احمد سعیدی
خاص یہ لفظ کہ عالم کے پیچھے نماز ایسی ہے جیسے نبی اکرم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے پیچھے کسی حدیث میں نظر سے نہیں گزری ،ہاں یہ صحاح کی حدیث ہے کہ:
العلماء ورثۃ الانبیاء۱؎
 (علماء انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے وارث ہیں)
 (۱؎ صحیح البخاری    باب العلم قبل العلم والعمل الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۶)
اور ہدایہ میں ہے:
من صلی خلف عالم تقی فکانماصلی خلف نبی۲؎
جس نے کسی عالم متقی کے پیچھے نماز پڑھی گویا نبی کے پیچھے پڑھی۔
 (۲؎ الہدایہ        باب الامامۃ    مطبوعہ المکتبۃ العربیہ کراچی        ۱/۱۰۱)
لکن لم یعرفہ المخرجون وقال الزیعلی ھوغریب
 (لیکن اصحابِ تخریج کے ہاں یہ حدیث معروف نہیں امام زیلعی نے اسے غریب قرار دیاہے۔ت)

امام اول اپنی ا ُس حرکت سے ضرور فاسق ہوا اور فاسق کے پیچھے نماز ضرور مکروہ ہے جبکہ سچی توبہ نہ کرے اور مال لینے والے کی توبہ بغیر مال واپس دئے ہرگز صحیح نہیں تو جب تک وہ یتیموں کا حق نہ پھیرے نماز اس کے پیچھے بیشک مکروہ۔
مسئلہ نمبر ۶۲۸:         ۳شعبان المعظم ۱۳۱۸ھ: ندویوں کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟

الجواب ندویوں میں کچھ نیچری ہیں کچھ منکران ضروریاتِ دین رافضی یہ بالاجماع کافر مرتدہیں اور ان کے پیچھے نمازمحض باطل ، کچھ غیرکافررافضی وہابی تفصیلی غیر مقلد وغیرہم بدمذہب ہیں کچھ وہ نئے بگڑے گمراہ ہیں جنہوں نے اب ندوہ جما کے اپنے دین کی بیخ کنی کی،ندوے کی رُودادوں لکچروں میں جن کے کلمات ضلالت چھاپے گئے یہ سب ضال مفضل گمراہ بددین ہیں اور ان کے پیچھے نمازناجائز جیسے عامہ غیر مقلدین، کما حققناہ فی النھی الاکید عن الصلٰوۃ وراء عدی التقلید ۔جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق ''النھی الاکید عن الصلٰوۃ وراء عدی التقلید'' میں کی ہے(ت)  یا گناہ ومکروہ تحریمی،کمابیناہ فی غیرموضع من فتاوٰناا(جیساکہ ہم نے اسے اپنے فتاوی میں متعدد جگہ بیان کیا ہے۔ ت)یوُں ہی وہ خود نہ پہلے بدمذہب تھے اور نہ اب کلمات بدمذہبی کہے مگران لیکچراروں کے اقوال ضلالت سُنے،پسندکئے اور ان پرراضی ہوئے،ان کی اشاعت کی حمایت کی،یہ سب کل بوجہ رضاونصرت باطل اہلِ باطل واربابِ ضلال اوراسی حکم میں ان کے شریک ِحال ہوگئے ،کچھ وہ ہیں جن بیچاروں کو اطلاع نہیں کہ ان ظلمہ نے کیا کہا ہے صرف مولویوں کا جلسہ سُن کر شریک ہوگئے جب تک مطلع نہ ہوئے معذور ہیں بعداطلاع پھرشریک رہے تو اقل درجہ فاسق ضرورہیں اورفاسق کے پیچھے بھی نمازمکروہ۔فتاوٰی حجہ وغنیـہ شرح منیہ وغیرہما میں تصریح فرمائی کہ یہ کراہت تحریم ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ۶۲۹: ازبریلی محلہ سرخہ        ۲۷محرم الحرام ۱۳۱۹ھ

علمائے دین ومفتیان شرع متین کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ گروہ وہابیین یعنی فرقہ غیر مقلدین داخل ہے اہل سنت وجماعت میں خارج ان سے اور فرقوں ضالہ سے اور ہم مقلدوں کو ان کے ساتھ مخالطت اور مجالست کرنا اور ان کو اپنی مساجد میں باوجود خوفِ فساد کے آنے دینا درست ہے یا نہیں،اور ان کے پیچھے نمازپڑھناکیساہے ؟
بینوابالتفصیل توجروا بالاجر الجزیل۔
الجواب: فی الواقع فرقہ غیر مقلدین گمراہ بددین ضالین مفسدین ہیں انھیں امام بنانا حرام ہے ان کے پیچھے نماز پڑھنا منع ہے ، ان کی مخالطت آگ ہے ۔صورۃمذکورہ سوال میں انھیں مساجد میں ہرگزہرگز نہ آنے دیاجائے۔
قال اﷲ تعالٰی:
وعھدنا الٰی ابراہیم واسمٰعیل ان طھرابیتی ۱؎۔
ہم نے ابراہیم واسمٰعیل سے یہ وعدہ لیا کہ وہ میرے گھر کو صاف رکھیں گے۔(ت)
 (۱؎ القرآن        ۲/۱۲۵)
حدیث میں ہے:
امرالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ببناء المساجد فی الدور وان تنظف وتطیب۲؎۔
حضور اکرمصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے محلوں میں مساجد بنانے اور انھیںستھرا ونظیف اور خوشبوداررکھنے کا حکم دیا۔(ت)
 (۲؎ سنن ابو داؤد    باب اتخاذ المساجد فی الدور        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور        ۱/۶۶)
نجاستیں درکنار قاذورات مثل آب دہن و آب بینی باآنکہ پاک ہیں مسجد سے ان کو دور کرنا واجب تو بدمذہب گمراہ لوگ کہ ہر نجس سے بدتر نجس ہیں۔حدیث میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اھل البدع شرالخلق والخلیفۃ ۱؎۔
بد مذہب تمام مخلوق سے بد تمام جہان سے بد تر ہیں۔
 (۱؎ کنز العمال    البدع والرفض من الاکمال     مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت    ۱/۲۲۳

جامع الصغیر مع فیض التقدیر        مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۳/۶۴)
دوسری حدیث میں ہے:
اصحاب البدع کلاب اھل النار۲؎۔
بدمذہب لوگ جہنمیوں کے کُتّے ہیں۔
 (۲؎ کنز العمال     فصل فی البدع     مطبوعہ موسستہ الرسالۃ بیروت        ۱/۲۱۸

جامع الصغیر مع فیض القدیر        مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۱/۵۲۸)
توایسے لوگوں کو خصوصاً بحال فتنہ وفساد وہابیہ کی عادت قدیم ہے باوصف قدرت مساجد میں کیونکہ آنے دیا جاسکتا ہے ۔
قال اﷲ تعالٰی :
والفتنۃ اشد من القتل ۳؎۔
فتنہ قتل سے بھی سخت تر ہے۔
 (۳؎ القرآن        ۲/۱۹۲)
عینی شرح بخاری و درمختار وغیرہما میں تصریح ہے کہ مسجد سے موذی نکال دیا جائے ولو بلسانہاگرچہ صرف زبانی ایذ دیتا ہو۔نجاستیںدھونے سے پاک ہو جاتی ہیں اور بد مذہب
ع  :        ہرچہ شوئی پلید تر باشد
           (جتنی بار دھویا جائے پلید ہی رہتا ہے)
اعاذنااﷲ منھم ومن حالھم وعقائدھم واعمالھم بجاہ نبیہ الکریم علیہ وعلٰی اٰلہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم۔
اﷲ تعالٰی اپنے پیارے نبی علیہ وآلہ افضل الصلٰوۃ والسلام کے صدقے میں ان سے ان کے حال اور عقائد اعمال محفوظ رکھے۔(ت)
مسئلہ نمبر ۶۳۰:    از جائس ضلع بریلی محلہ زیر مسجد مکان حاجی محمد ابراہیم    مرسلہ حاجی ولی اﷲ صاحب

    ۲ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس کی عورت بے پردہ عام عورتوںکی طرح پھرتی ہو اور اس کا شوہر اسے منع نہ کرتا ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور اس کودیوّث کہنا جائز ہے یا نہیں؟ بینواتو جروا۔
الجواب: عورت اگر باہر بے پردہ باریک کپڑوں میں پھرتی ہو کہ ان سے بدن چمکے یا گلے یابازویا پیٹ یا پنڈلیوں یا سر کے بالوں کا کوئی حصہ کھولے پھرتی ہے اور شوہر مطلع ہے اور شوہر باوصف قدرت منع نہیں کرتا تو دیوّث ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ ورنہ نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter